چلیے سرکار کی بات مان لیتے ہیں ۔ پھر بھی سوال اپنی جگہ باقی ہے ۔ اگر فوج اور حکومت ایک ہی صفحہ پر ہیں تو وہ صفحہ کہاں ہے ؟
انگریزی کا مشہور محاورہ ہے bad cop good cop, یعنی اچھا پولیس والا اور بُرا پولیس والا ۔اردو کا مقولہ انگریزی سے بھی وا ضح ہے‘ جامع ہی نہیں مختصر بھی ''چور سپاہی‘‘۔ پاکستانی سیاست کے کھیل میں آج کل جمہوریت نے دو علیحدہ علیحدہ سیاسی بٹالین بنا لی ہیں ۔ پہلی بٹالین میں اچھے سپاہی جبکہ دوسری میں بُرے پُلسئیے ۔وزیراعظم کا شمار اچھی بٹالین میں کیا جائے تو ان کے نیچے وزارت بے منصوبہ بندی ،وزارت دفاعِ لوڈشیڈنگ، وزارت چائنہ ریلوے اور آج کل پنجاب کے وزیر بے محکمہ جو کچھ فرما رہے ہیں ان کے فتووں کو اُن کے لفظوں میں ہی پڑھ لیا جائے، تب بھی چور با آسانی پکڑا جا سکتا ہے ۔
اس سلسلے کی تازہ ترین واردات داد دینے کے قابل ہے۔ مبینہ طور پر صرف 2 دنوں میں چیف ایگزیکٹونے مسلح افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے چار ملاقاتیں کیں ۔ بے قراری کے ان 2 دنوں پر شاعر نے بڑی چابک دستی سے عمرِ رائیگاں کا لیبل یوں لگایا: ؎
چھ دنوں تک شہر میں گھوما وہ بچوں کی طرح
ساتویں دن جب وہ گھر پہنچا تو بوڑھا ہو گیا
چل دیئے پاشیؔ تیری دنیا کو ہم تو تیاگ کر
اور اس کے ساتھ ہی اِک دور پورا ہو گیا
اس دوران شہرِ اقتدار کی اطلاع کہتی ہے کہ حکومت کا صفحہ کالا شاہ کالا ہے‘ جبکہ فوج والا پیج کورا سفید ۔ جس طرح کالے سیاہ صفحے میں پڑھنے کے قابل عبارت دریافت کرنا کے۔ٹو کی چوٹی سر کرنے کے مترادف ہے‘ اسی طرح سے چٹّا سفید کاغذ وہی دِکھائے گا جو کچھ اس پر لکھا جائے گا۔ ابدی سچائی کے مطابق معافی مانگ لینے سے مالکِ ارض و سما بھی خوش ہوتا ہے اوربھلے لوگ بھی۔ لیکن معافی تومعافی ہوتی ہے۔ اُسے مانگ کر من پسند منصف سے معافی کے خلاف ڈگری لے لینے کو معافی نہیں کہہ سکتے۔ اسے چالاکی کہتے ہیں ۔کوئی حکمران ہو یا نادان،پریشان ہو یا پُر ہیجان یا اپنی ذات میں انجمن کی طرح ''شہنشاہ ِچالاکی‘‘ ہی کیوں نہ ہو وہ کچھ لوگوں کو کچھ وقت کے لیے بیوقوف بنا سکتا ہے‘ شاید کچھ وقت کے لیے سارے لوگ بھی بیوقوف بن جائیں لیکن سب زمانوں کے لیے سب لوگوں کو نہ چالاکی سے شہ مات دی جا سکتی ہے نہ ہی سب کو ہمیشہ بیوقوف بنایا جا سکتا ہے ۔
جس دن چیف ایگزیکٹو کالے سیا ہ بیانات والا صفحہ لے کر گونگلوئوں سے مٹی جھاڑ رہے تھے عین اُسی روز بے محکمہ اور عدم منصوبہ بندی والے وزیروں نے ایک ہی زبان بولی۔ بے محکمہ نے تان لگائی گڑبڑ کے پیچھے خفیہ ہاتھ ہے ۔جس پر بے منصوبہ بندی کی قوالی سنائی دی ہمیں جنرل مشرف کے معاملے پر سجدہ سہو کروانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ سوچنے کی بات ہے دونوں کا سیدھا سیدھا مخاطب کون تھا؟ ذرا غور تو کیجیے! یہاں آپ کو فوج اور حکومت ایک ہی صفحے پر نظر آتے ہیں؟ ظاہر ہے ایسا ممکن نہیں لیکن غالب کو دل بہلانے سے کون روک سکا۔ ان حالات میںاگر وزیراعظم سے صرف اتنا پوچھ لیا جائے کہ یہ بیان آپ کی مرضی سے آتے ہیں یا خواہش سے تو اس کا جوب نہ ہاں میں ہو گا اور نہ ہی نہ میں ۔اچھے سپاہی برے سپاہی کا یہ سیریل اس بھی آگے جاتا ہے۔
آج سے چند روز پہلے بھی اس ڈرامے کی ایک قسط چلی۔ ایک طرف حکومت کے مِنی سپیکر اور سرکار کے لائوڈ سپیکر شور مچا رہے تھے کہ فوج حکومت ایک ہی صفحے پر آ گئے ہیں۔ عین اسی وقت ایک سرکار دوست ٹیلی وژن کی خوشی کی خاطر حکومت نے شکایت کنندہ فریق کو بے یارومددگار چھوڑ دیا۔ پیمرا کے ڈھیلے ڈھالے اور ماورائے قانون فیصلے کے خلاف آٹھ گھنٹے والے میراتھان میڈیا ٹرائل کی لاوارث اپیل سرکاری دفتروں کے چکر کاٹتی رہ گئی۔ کیا حکومت اور فوج اس بارے میں بھی ایک ہی پیج پر ہیں؟
جن دنوں میں نے وزارتِ قانون سے استعفیٰ دیا میرے انتہائی مہربان کالم نگار نے لکھا کہ بابر اعوان کو کسی کی دعا لگی‘ وہ بچ گئے۔ گزشتہ شام وہی کالم نگار وزیرِاعظم کے مددگار اور مشیر کی حیثیت سے غیر ملکی میڈیا سے کہہ رہے تھے کہ مشرف کو اس کے انجام تک پہنچائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غداری کیس کا فیصلہ وزیرِ اعظم ہائوس نے کرنا ہے یا وہاں بیٹھے مشیروں نے۔ دوسرا پہلو بھی بہت اہم ہے۔ کیا عدالتی کارروائی کے ذریعے محض رسمِ دنیا پوری ہو رہی ہے۔ کیا ایک سابق آرمی چیف کے مقدمے کا فیصلہ ماورائے عدالت ہو گا۔ اگر ایسا ہے تو کیا نواز شریف اور راحیل شریف پھر بھی ایک ہی صفحے پر ہیں یا دونوں نے ایک دوسرے سے ڈائری کا یہ والا صفحہ چھپا رکھا ہے؟
کراچی میں بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرز اور جرائم سینڈیکیٹ کے خلاف ''لیڈ رول‘‘ بذریعہ رینجرز فوج ادا کر رہی ہے۔ اسی ہفتے آئی ایس پی آر نے نئے ڈی جی رینجرز کی تعیناتی کا اعلان کیا۔ دوسری جانب وفاقی حکومت ابھی تک آئی جی سندھ لگانے کا مسئلہ حل نہیں کر سکی۔ حکومت کراچی ایکشن پر بھی فوج والے پیج پر ہوتی تو یہاں سرکاری جماعت کی تنظیمِ نو میں مددگار بننے والا آئی جی تلاش کرنے کی بجائے ڈی جی رینجرز اور چیف ایگزیکٹو سندھ کے مشورے سے یہ مسئلہ حل ہو جاتا۔ اور تو اور اندرونِ ملک ہجرت کرنے والے فاٹا کے آئی ڈی پیز کے معاملے پر حکومتی صفحہ ابھی تک مشکوک ہے جبکہ فوج کا صفحہ مصروف۔ ایک جانب جنگ دوسری جانب امن کے ذریعے فاٹا کے لوگوں کی عزتِ نفس اور معیشت کی بحالی کا ٹاسک فوج کے پاس ہے۔ معقول سوچ ہوتی تو حکومت وسائل فوج کی جھولی میں ڈالتی اور کے پی کے کی حکومت کو ساتھ مِلا کر ان کے صفحے پر آجاتی جنہوں نے کیمپ لگائے، میڈیکل کور کے ذریعے وبائی بیماریاں پھیلنے سے روکیں‘ جو متاثرین کا کیمپ چلاتے بھی ہیں اور اُن کا تحفظ بھی کرتے ہیں۔ اس سے پہلے یہ تجربہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے کیا‘ جو بہت کامیاب رہا۔ تب یہ فیصلہ کروانے میں میری رائے بھی شامل تھی۔ اب سات لاکھ متاثرین کیمپوں تک آئے ہیں‘ تب سوات کے متاثرین 25لاکھ تھے۔ اُس وقت کی سرکار نے سارے وسائل فوج کے حوالے کیے اور فوٹو سیشن کی پالیسی ترک کر دی۔ آج کون ہے جو کہہ سکتا ہے حکومت یہاں بھی فوج والے پیج پر ہے۔
کشمیر ایک اور ہاٹ سپاٹ ہے جس کے بارے میں جنرل راحیل نے کھل کر اظہارِ خیال کیا ۔ فوج نے کشمیر کے مستقبل پر پاکستانی عوام کی توقعات کے عین مطابق روڈ میپ اپنایا۔ موجودہ حکومت کی وزارتِ خارجہ کے دو عدد بزرگوں، کُل وقتی ترجمان اور وزیرِ اعظم نے آج تک نہ کشمیر پر بات کی نہ کشمیری قیادت سے۔ جس پارلیمنٹ کا عشق ان دنوں حکومت کے سر چڑھ کر بول رہا ہے اس کی پارلیمانی کشمیر کمیٹی جس کا میں بھی ممبر ہوں‘ کا موجودہ حکومت نے اس کا ایک اجلاس بھی نہیں بلوایا ۔ نہ کشمیری وزیرِ اعظم کی ابھی تک اس کشمیر کمیٹی سے رسمی علیک سلیک بھی ہوسکی۔
یہ خبر بھی سُن لیں! بھارت کو پسندیدہ ترین قوم قرار دینے کا سرکاری ڈرافٹ فائنل ہو چکا ہے۔ عوامی ردِ عمل سے بچنے کے لیے پہلے والے ڈرافٹ میں چند لفظوں کا ہیر پھیر کیا گیا۔ یہاں بھی حکومت عوام اور فوج اپنے اپنے صفحے پر ہیں۔ جسے ایک صفحے والی ڈائری مل جائے وہ صفحہ ہمیں بھی بھجوا دے۔