مُلّا محمد قاسم ہندو شاہ فرشتہ نے 1606عیسوی میں ہند کے بادشاہوں کی تاریخ مجبوراَ َ لکھنی شروع کی اور اسے1611ء میں مکمل کیا ۔فرشتہ نے تاریخ فرشتہ میں 32 قدیم تاریخی کُتب کے حوالے بھی دیے ۔تاریخ ِ فرشتہ کی داستان دلچسپ ہے۔ 1560ء عیسوی میں حسین نظام شاہ کے قتل کے بعد فرشتہ ابراہیم عادل شاہ ثانی کا ملازم ہو گیا ۔بادشاہ نے اسے کہا کہ تاریخ ہند لکھو ۔ٹال مٹول سے کام نہ چلا تو اس نے بادشاہ کے حد سے بڑھے ہوئے اصرار پر قلم اٹھایا ۔فرشتہ نے ابتداء میں ہی بادشاہ کے بادشاہ باپ کے قتل کے شرمناک واقعے سے آغاز کیا۔ وہ یہ کہ باد شاہ اول خوبصورت لڑکوں کی قربت کا بہت شائق تھا ۔اسی رُجحان کے باعث اسے ایک باغیرت صاحب ِ جمال کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔یہ وقوعہ سارے جانتے تھے لیکن زبان پر کوئی نہ لاتا تھا ۔سب کو خدشہ تھا بادشاہ کا بیٹا بادشاہ ہے‘ جوباپ کے خلاف ایسی بات کرنے والے کو فوراً قتل کروا دے گا۔
تاریخِ فرشتہ‘ بھائی کے ہاتھوں بھائی کو اندھا کرنے‘ باپ کے ہاتھوں بیٹے کو جلا وطنی دینے‘ بیٹے کے ہاتھوں باپ کا قتل، اور اقتدار و اختیار کے لیے حرم سرا والوں کی کھال کھچوانے، کاٹے گئے سر چوک میں لٹکانے، لاشوں کے انبار لگانے، عیش پرستی، عوامی وسائل پر ڈاکہ زنی کرنے، مال و زر والوں کو برباد کرنے ،رعایا کی خوبروبیٹیاں چھین کر لے جانے اور مال و دولت کے لیے ہنستے بستے شہروں کو برباد کرنے کی داستانوں کا ایک عبرت ناک مجموعہ ہے ۔اس میں کبھی کبھی مُلّا قاسم فرشتہ جیسے کردار بھی نظر آتے ہیں‘ جو جابر سلطان کے سامنے اس کی اجازت کے بغیر ''باپ بادشاہ‘‘ کے کرتوت کھول دینے کی جرأت رکھتے ہیں۔
اسی ہفتے جسٹس انور ظہیر جمالی جیسے درویش صفت اور وکیلوں کے خاندان سے تعلق رکھنے والے قائم مقام الیکشن کمشنر کی سربراہی میںآج کل چلنے والے الیکشن کمیشن سے 2013ء میں ہونے والی الیکشن ڈکیتی واردات کی تفتیشی رپورٹ منظر عام پر آئی ہے ۔یہ رپورٹ پڑھ کر مجھے ایک بار پھر یوں لگا جیسے پاکستان میں آج بھی بادشاہت ہے۔ غور سے دیکھیں اور تعصب کی عینک اتار دیں تو آپ کو امیر کبیر بادشاہ بھی نظرآئیں گے‘ جبکہ فقیر رعایا بھی ۔شاہوں کے خوشامدیوں کے لشکر اور کہیں جے پال جیسے محسن کش اور ایلک خان جیسے کرائے کے غنڈے بھی دکھائی دیں گے ۔ کسی سڑک پر سلطان غیاث الدین تغلق ننگے پاؤں بھاگتا نظر آئے گا‘ جس کے پیچھے اقتدار کی غلام گردشوں کے غلام تلواروں سمیت ''دوڑو پکڑو‘‘ کہتے دکھائی دیں گے ۔تاریخ فرشتہ ایک استعارہ ہے یا آئینہ۔ جو کچھ آج ہو رہا ہے‘ وہ قدیم سلاطین ہندکی سیاست کا ایکشن ری پلے یا دو نمبر ایڈیشن ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج سچ ڈھونڈنے کے لیے تاریخ کسی فرشتے کا انتظار نہیں کرتی۔ جدید تاریخ کے ستم گروں کو منظرِ عام پر لانے کے لیے رپورٹر اور کیمرہ مین ہی کافی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ ساری دنیا نے ماڈل ٹاؤن کا قتلِ عام کھلی آنکھوں سے براہِ راست دیکھا ۔
ذرا تصور کریں... دنیا کی کون سی جمہوریت ہے جہاں ''جمہوری فیصلے‘‘ کے تحت چودہ لاشیں گِرا کر ''ملزمان‘‘ پولیس پروٹوکول کے ساتھ ٹی وی سٹیشنوں پر جا کر انٹرویو دے رہے ہیں۔ کون سا آئینی ملک ہے جس میں صدر ہاؤس،کیبنٹ ڈویژن، عدالتِ عظمیٰ ،فیڈرل شریعت کورٹ ،الیکشن کمیشن اور پارلیمنٹ کے دروازوں کے سامنے لاشیں گرائی جائیں ،گولیوں کی برسات ہو ،لاٹھی چارج اور آنسو گیس چلے لیکن کوئی جوابدہ نہ ہو ۔نہ قوم کے سامنے نہ ہی کسی ایوان ِ انصاف میں ۔اسی طرح دنیا کی کو ن سی منتخب حکومت ایسی ہے جس کو اس کا اپنا الیکشن کمیشن بے ضابطگی، بدنظمی ،بد عملی ،دھونس، ٹھپہ اور جُھرلو کی پیداوار قرار دے اور حکومت مسلسل ایسے الیکشن کو صدی کا شفاف ترین انتخاب کہے۔
1973ء کے آئین میں آرٹیکل 218ذیلی دفعہ 3الیکشن کمیشن کی جو آئینی ڈیوٹی لگاتی ہے اس کے لیے درج ذیل الفاظ استعمال کیے گئے۔
(3)It shall be the duty of the Election commission in relation to an election to organize and conduct the election and to make such arrangements as are necessary to ensure that the election is conducted honestly ,justly ,fairly and in accordance with law ,and that corrupt practices are guarded against.
آئین پاکستان اور عالمی قوانین میں مختلف اداروںکی ڈیوٹی طے شدہ ہے۔ ان کا مینڈیٹ یا دائرۂ اختیار طے کرتے وقت دو لفظ استعمال ہوئے۔ (1)Mayجس کے معنی یہ ہیں کہ یہ ادارہ اگر چاہے تو یہ ڈیوٹی سر انجام دے ۔ ایسے اختیار کو آئینی اصطلاح میں اختیاری (Disctionary) کہا جاتا ہے ۔دوسرا لفظ Shallہے یعنی اس میں ادارے کا اختیار ختم ہو گیا۔ وہ ہر صورت میں اجباراً "Mandatory" کسی فرض کی دائیگی کے لیے پابند ہو جاتا ہے ۔آئین کے آرٹیکل 218ذیلی دفعہ 3کی رو سے الیکشن کمیشن جن فرائض کا ہر صورت میں پابند ہے وہ یہ ہیں ۔
1۔الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ وہ قومی اسمبلی ،صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کے الیکشن کو مکمل طور پر منظم (Organize)کرے۔
2۔الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ وہ مذکورہ انتخابات کا انعقاد (Conduct) کروائے ۔
3۔الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ وہ ایسے انتظامات (Arrangements) کرے جن کے تحت صحیح انتخابات منعقد ہوں۔
4۔الیکشن کمیشن کا سارا عمل دیانتداری سے (Honestly) چلے۔
5۔الیکشن کمیشن کا عمل (Justly) حقیقی طور پر زیر کار آئے۔
6۔الیکشن کمیشن انتخابی عمل کو (Fairly) جانبداری کے بغیر چلائے۔
7۔اور الیکشن کمیشن انتخابی عمل کو صرف قانون کے تحت (In accordance with law)چلائے ۔
8۔الیکشن کمیشن انتخابی عمل میں بد دیانتی والے کام کے خلاف (Corrupt practices are guarded against)چوکیدار کی طرح کھڑا ہو جائے۔
میں نے ایک بڑے انتخابی دنگل کے مقدمے میں Corrupt practicesکی نئی تشریح کی‘ جو اب قانونی نظیر بن چکی ہے۔ عام طور پر corrupt کا مطلب مالی کرپشن ،رشوت اور ناجائز کام کرنے کے لیے پیسے بٹورنے ہی کو سمجھا جاتا ہے ۔اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ کسی کی حمایت کرنے کے لیے یا اسے نفع دینے کے لیے یا کسی کی حمایت میں دوسرے کو نقصان پہنچانے میں جو کوئی ضابطے، اختیار اور قانون کا غلط استعمال کرے اسے انتخابی معاملات میں Corrupt practiceکہا جائے گا ۔
1977ء کے الیکشن میں دھاندلی کے شور کا زور لگایا گیا لیکن بعد میں پتا چلا‘ شور مچانے والوں کو ڈالر امریکہ نے بھجوائے تھے۔ آج الیکشن کمیشن کی رپورٹ نے گو الیکشن گو کا نعرہ لگا دیا ہے۔ اس کے ساتھ درجن بھر بین الاقوامی اور قومی ادارے جنہوں نے الیکشن 2013ء کی مانیٹرنگ کی تھی ان کی تحقیقات بھی الیکشن کے خلاف گو فراڈ گو سے بھی زیادہ ہے۔ اے کاش! اس ارضِ وطن پر وہ دن طلوع ہو جب اقتدار پر قبضہ کرنے یا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے تاریخِ فرشتہ ہمیں بھول جائے۔
دیکھتا ہوں ہر طرف تاریخ کے میدان میں
پھاوڑا کاندھے پہ رکھ کر پھر رہے ہیں گورکن
لفظ و معنی میں تصادم اپنے استعمال پر
ڈھیر لاشوں کا لگا ہو، جیسے بے گورو کفن
کاسہ لیسوں کے تصرّف میں مذاقِ شاعری
سر برہنہ بیچ بازاروں کے، لیلائے سخن
اَن کہی باتوں کے پیچ و خم کو ان ایام میں
میں نے پہنایا ہے یارو، شاعری کا پیرہن