عورت۔۔۔۔۔صرف سرخی پاؤڈر؟

عورت وہ ماں ہے جس کے پیروں تلے جنت ہے، وہ بیٹی ہے جو مرتے دم تک باپ کو بابل سمجھتی ہے، وہ بہن ہے جو بھائی پر قربان ہو جاتی ہے، وہ نرس ہے جو گندے ذہنوں ، پراگندہ سوچ ، مکروہ آنکھوں کی پروا کیے بغیر رستے زخموں اور پیپ زدہ جسموں سے گند صاف کرتی ہے۔ وہ لیڈی ڈاکٹر نہیں مسیحاہے، ایسے وقت میں جب ہر باعزت شخص زچہ کو ہسپتال پہنچاتا ہے اور چاہتا ہے عورت کو عورت ہاتھ لگائے۔ وہ عورت ہی ہے جو اپنے جسد روح اور جگر کے اندر ہمیں تخلیق کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن حکیم کی سورہ بقرہ میں آیت نمبر 223‘ آیت نمبر 282‘ سورہ آل عمران 195‘ سورہ نسا کی آیت نمبر 1‘ سورہ نسا کی آیت نمبر 34‘ سورہ نسا 128,129سورہ توبہ کی آیت نمبر 172‘ نحل کی آیت97‘ سورہ روم کی آیت نمبر 21‘ سورہ فتح کی آیت نمبر 6‘ سورہ نسا کی آیت نمبر 19میں عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک ، ان کی نسوانیت کے تحفظ اور ان کے مقام اور مرتبہ کے بارے میں کھلے احکامات دیے گئے ہیں ۔سورہ توبہ کی آیت نمبر 72 عالم ِ انسانیت میں عورت کے سماجی رُتبے اور خدا کے ہاں مقام کو یوں بیان کرتی ہے: 
ترجمہ: ''خدا نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے بہشتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور بہشت ہائے جاودانی میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے) اور خدا کی رضا مندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے یہی بڑی کامیابی ہے‘‘۔
محسنِ انسانیت حضرت محمدﷺ کے دربار میں اس صنفِ نازک کی نسوانیت کتنی اہم تھی‘ صحیح مسلم شریف میں اس کا ذکر یوں آیا ہے۔ ایک مرتبہ ایک انتہائی سریلی آوازوالا بدوقافلے کے اونٹوںکو ہانک کر لے جا رہا تھا جس میں عورتیںشامل تھیں۔ صحرا کی روایت کے مطابق خوش گُلوآواز سن کر اونٹ مست ہو جاتے ہیں لہٰذا تیزچلنا شروع کر دیتے ہیں ۔ قافلے میں محترم خواتین تھیں ؛ چنانچہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے ساتھ شیشے ہیں، انہیں احتیاط سے لے کر جاؤ کیونکہ خواتین مردوں اوراونٹوںکی رفتار سے نہیں چل سکتیں۔ اس لیے آپﷺ نے عورتوں کے ادب میں دھیمی اور آہستہ رفتار سے چلنے کی ہدایت فرمائی۔
حضورمحترم ﷺخواتین کے مسائل اور مقدمات کی سماعت خود فرمایا کرتے تھے اور ان کی مشکلات ذاتی طور پر سن کر حل فرماتے تھے ۔ یہ آپ ﷺ ہی تھے جنہوں نے دنیا کی قوموں کی تاریخ میں عورتوں کو بطور انسان اہمیت دلوائی ۔1973 ء کا آئین اسی اسلامی اصول کے مطابق عورتوں کو ہر شعبہ ِزندگی میں سوسائٹی کے فعال رکن کی حیثیت دیتا ہے ، ہر طرح کے استحصال کا راستہ روکتا ہے۔ مثال کے طور پر آرٹیکل 25کے ذیلی آرٹیکل 3میں کہا گیا ہے کہ خواتین اور بچوںکو تخفظ فراہم کرنے کے لیے ریاست خصوصی قانون بنائے ۔اسی تناظر میں آئین کا آرٹیکل 32بھی بہت اہم ہے جس میں ریاست کے رہنما اصول کے طور پر یہ طے کر دیا گیاکہ بلدیاتی اداروں میں کسانوں اور مزدوروں کے علاوہ خواتین کو خصوصی نمائندگی دی جائے گی۔ یہ دوسری بات ہے، پاکستان کی جمہوریت کے رکھوالے کہلانے والے اپنی کابینہ میں خواتین وزیر نہیں بٹھاتے۔ اس کا جواب وہی دے سکتے ہیں کہ 52 فیصد آبادی کو نظر اندازکرنے کاقانونی جواز کیا ہے؟ہو سکتا ہے گلو بٹ برانڈ جمہوریت خواتین سے شرماتی ہو یا پھر خواتین سے ڈرتی ہوکیونکہ اکثریت تو انہی کے پاس ہے۔
پاکستان کا آئین دستور سازی کی تاریخ میں اس لیے بھی ممتاز ہے کہ اس میں ایک علیحدہ آرٹیکل 34کا عنوان ہی اس کا متن اور نفسِ مضمون ہے۔
Article 34:(Full participation of women in national life. "steps shall be taken to ensure full participation of women in all spheres of national life")
یعنی قومی زندگی میں خواتین کی بھرپور نہیں مکمل شرکت (full participation) چاہیے۔ پاکستان کی خواتین نوٹ کر لیں، ان کا آئین ان کی ریاست اور حکومت دونوں کو پابند بناتا ہے کہ وہ عملی اقدامات کے ذریعے گارنٹی فراہم کریں، وہ یہ کہ قومی زندگی کے ہر شعبے میں خواتین بھرپور طریقے سے اپنی کارکردگی دکھاسکیں۔اسی آئین کے آرٹیکل 35 میں خاندان کے تخفظ کی گارنٹی بھی شامل ہے۔
Article 35:(Protection of family, etc ."The state shall protect the marriage ,the family ,the mother and the child")
آئین کا تقاضا ہے کہ ریاست ہر حال میں شادی، خاندان، ماں اور بچے کو عملی اقدام اٹھاکر محفوظ بنائے۔
اس ہفتے ملک کے سب سے بڑے صوبے کے سب سے بڑے خادم نے قومی زندگی کے سب سے بڑے شعبے سیاست ،ریاست، سلطنت اور حکومت کے امور میں خواتین کی بھرپور شرکت کو طعنہ بنا کر پیش کیا ۔ اور اصلی شیرکی طرح بہو ، بیٹیوں کو للکارتے ہوئے یہ بھی فرما دیا '' سر خی پاؤڈر باقی نہیں بچے گا‘‘ یادش بخیر۔۔۔۔۔! خادمِ اعلیٰ کے پسندیدہ وزیرذاتی اطلاعات اور سرکاری نشریات نے بھی کچھ ماہ پہلے ''غُلیل‘‘ والوںکو دھمکی دے کر ڈرایا تھا۔ اب ملکی آبادی کی واضح اکثریت کو بازآ جانے کادوسرا سرکاری حکم دیا ۔ پنجاب سرکار کے ہر حکم کی طرح، خواتین کو جلسوں میں جانے سے ڈرانے کا فوری نتیجہ نکل آیا۔ اس دھمکی کے چوبیس گھنٹوں کے اند اندر بھکر ،میانوالی اور کالا باغ کی عورتوں نے شہید بی بی کے جلسوں کی یاد تازہ کر دی۔ میانوالی میں میرے قبیلے کے لوگ ہی نہیں بلکہ رشتہ دار بھی رہتے ہیں۔ اس علاقے میں خالص قبائلی ڈسپلن پایا جاتا ہے جس کے مطابق خواتین کو چھت پر چڑھنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی۔ میانوالی کی ہزاروں خواتین جن میں سے اکثریت باپردہ تھیں نے دھمکی دینے والوں کے منہ پر سرخی پاؤڈر مل دیا۔ اب وہ چاہیں تو فوراً سرخی پاؤڈر دھو ڈالیں اور اگر دیوار پر لکھا پڑھ لیں تو نسوانیت کی توہین اور آئین کی تذلیل پر مبنی بیان کو عیدکی چھٹیوں کے دوران خاموشی سے واپس لے لیں ۔
پاکستان میں عورت کی شرکت کے بغیر نہ سیاسی تاریخ مکمل ہوتی ہے نہ ہی جمہوری جدوجہد۔ یہ تاریخ میرے پیدا ہونے سے بہت پہلے شروع ہو گئی تھی جس کا اولین روشن چہرہ بانی پاکستان حضرت قائداعظم کی فاطی اور ہم سب کی مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح ہیں۔ فاطمہ جناح اور تحریک پا کستان لازم و ملزوم تھے۔ اگر محترمہ فاطمہ جناح قائداعظم کے ساتھ نہ ہوتیں تو پاکستان کا نقشہ شاید نقشہ ہی رہتا کیونکہ قائداعظم کے بقول مسلم لیگ کی جھولی کھوٹے سِکّوں سے بھری ہوئی تھی ۔اسی لیے بنیادی جمہوریت کے خادم اول ایوب خان نے جوانوں پرگولیاں برسائیں تو حبیب جالب نے وہی کہا جو میں آج کہہ رہا ہوں :
بچوں پہ چلی گولی 
ماں دیکھ کے یہ بولی
یہ دل کے مرے ٹکڑے
یوں روئیں میرے ہوتے
میں دُور کھڑی دیکھوں؟
یہ مجھ سے نہیں ہو گا
میں دُور کھڑی دیکھوں؟
اور اہلِ ستم کھیلیں
خوں سے میرے بچوں کے 
دن رات یہاں ہولی۔۔۔۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں