ٹائی ٹینک جہاز غیر محسوس طریقے سے آہستہ آہستہ ڈوب رہا تھا۔اس کا چیف ایگزیکٹیو وی آئی پی عرشے پر کھڑا ہو کر ڈوبنے والوں کو صور تِ حال انڈر کنٹرول بتا رہا تھا۔ وہ بد بخت مسافروں کو کہہ رہا تھا کہ فکر کی کوئی بات نہیں۔ہمارے معاشی ٹائی ٹینک کو چلانے والے کیپٹن کانام اگرچہ ایڈورڈ جے سمتھ نہیں پھر بھی ہمارے ساتھ بالکل ویسا ہی سلوک ہو رہا ہے۔لوکل ٹائی ٹینک کے خادم سمجھتے ہیں اونچا ڈھول بجانے سے ڈوبنے کا شور کسی کو سنائی نہیں دے گا ۔اسی لیے سارا زور ڈھول بجانے پر جبکہ ساری توجہ ڈھولی فنکاروں کی ترقی پر ہے۔
ذرا دیکھئے ہماری معیشت کے ٹائی ٹینک کا کیا حال ہے۔ صرف چند شعبے ڈوبتے جہاز کا مستقبل بتانے کے لیے کافی ہیں۔ وہ بھی سرکاری اداروں کے تیار کردہ اعدادوشمار کی روشنی میں ۔آئیے اس کی شعبہ وار جھلکیاں دیکھ لیتے ہیں۔
1۔موجودہ حکومت کے گزشتہ ایک سالہ اقتدار میں نان ٹیکسٹائل پراڈکٹس میں 17.20فیصد کی کمی آئی۔ 2013جولائی میں اس شعبے کی ایکسپورٹ 3.14بلین روپے سے گر کر 2.60بلین روپے پر آ گئی۔حالانکہ تاجر حکمرانوں نے بجٹ 2014-15میں نان ٹیکسٹائل سیکٹر کی 9 قسم کی اشیاء پر ''کیش سبسڈی‘‘ پیکج کا اعلان کیا تھا۔جب لوگوں کو یقین ہو جائے کہ حکمران اپنی کمائی کو پاکستان میں رکھنا خطرے سے خالی نہیں سمجھتے تو پھر ریاست کا کوئی کاروبار کیش بانٹنے سے بھی نہیں چلتا۔
2۔دوسرا شعبہ سٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ کا ہے۔ جس میں اس ہفتے ٹریڈنگ 13پوائنٹس نیچے آئی۔ پانچ بڑے سمجھے جانے والے گروپس کو واضح مالی نقصان اٹھانا پڑا ۔
3۔تیسرا شعبہ پاکستان سٹیٹ آئل ہے جس کے منافع میں جولائی تا ستمبر 33فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔جبکہ سرکار نے قوم کو یہ بھی نہیں بتایا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت تقریباً 125ڈالر فی بیرل سے نیچے آ کر ایسی سلائیڈنگ پوزیشن پر ہے کہ اس میں مزید کمی کو نہیں روکا جا سکتا۔ یہاں ریفرنس کے لیے تیل کی تینوں عالمی منڈیوں کے تازہ ترین ریٹس پیش ہیں۔ دوبئی کروڈ آئل 84.45ڈالر فی بیرل، برٹش برینٹ 85.95ڈالر فی بیرل، یو ایس wti 81.14ڈالر فی بیرل اور سعودی عرب کا راس تنورا اس سے بھی ذرا کم۔ اسی ہفتے کابینہ کی کمیٹی برائے اقتصادی رابطہ نے تیل کی قیمتوں میں اپنے دوست تاجروں کو فائدہ دینے کے لیے ان کے کمیشن کو آسمان پر پہنچا دیا۔ جس کی تفصیل یہ ہے۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کا کمیشن فی لٹر 1.89روپے سے بڑھا کر 2.05 روپے کیا گیا۔ اضافہ 19پیسے فی لٹر۔ ڈیلر کمیشن 2.30فی لٹر سے اٹھا کر2.70روپے فی لٹر۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی تازہ تحقیق کے مطابق آئل کمپنیوں اور آئل ڈیلروں کا منافع 30فیصد تک بٹھایا گیا۔ یہ اقدامات ایسے ہیں جن کے ذریعے اگلے 6ماہ میں تیل کے صارفین پر قیامت آنے سے کوئی معجزہ ہی روک سکتا ہے۔
4۔چوتھا شعبہ ٹیکسٹائل ہے۔ اس کا حال سیکٹر کے بڑوں کی زبانی سُن لیجیے۔ پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سہیل پاشا نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے یونٹس بند ہو جانے کی پیشگوئی کر دی ہے۔آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن اور کھڑریاں والا انڈسٹریل سٹیٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نوید گلزار،احمد کمال،رانا عارف توصیف نے بھی ایسے ہی خوفناک خدشات ظاہر کیے ۔جن کے مطابق تاجر راہنمائوں کی قیادت میںملک کی ایکسپورٹس کے شعبے میں حال ہی میں 10.16فیصد کی کمی آئی ہے۔
5۔پانچواں شعبہ او جی ڈی سی ایل ہے۔ جس کو حال ہی میں قومی اداروں کی نج کاری کے نام پر ہونے والی ''حسبِ منشاء‘‘ لوٹ سیل کا ٹیکہ لگایا گیا۔ او جی ڈی سی ایل نے ہمیشہ پاکستان کو منافع دیا لیکن اس ماہ اس کے منافع میں 27فیصد کمی سامنے آئی۔ او جی ڈی سی ایل کے مزدوروں نے اس دھاندلی کے خلاف آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ اس پارلیمنٹ کی طرف چل پڑے جس میں ان کے ووٹوں اور ٹیکسوں پر چلنے والے لمبی تان کر بیٹھتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ ہماری سرکار آج کل ہر کسی کو ہر روز بھاشن دیتی ہے کہ مسائل کا حل پارلیمنٹ کے پاس ہے ۔ لیکن شہرِ اقتدار کے وہ مزدور جو دو سال سے لیبر پالیسی کا اعلان سننے کے انتظار میں بیٹھے تھے انہیں اسی پارلیمنٹ کے پالتو ڈنڈا برداروں نے پارلیمنٹ سے ایک کلو میٹر دور روکا۔ یہاں مسائل کے حل کے لیے آنے والے نہتے مزدوروں کا جمہوری استقبال ہوا۔ پہلے ان پر لاٹھیوں کی بارش ہوئی۔ پھر ان پر آنسو گیس شیلز کے اولے پڑے اور آخر میں ان پر گولیاں برسائی گئیں۔
محسنِ انسانیت ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔ اسلام کو ڈھال بنا کر اقتدار میں آنے والے کئی سالوں سے او جی ڈی سی ایل کے مزدوروں کو سٹاک آپشن سکیم کے 12فیصد شیئرز دینے سے انکاری ہیں۔ اب وہ انہیں نوکریوں سے فارغ کرنا چاہتے ہیں تاکہ نہ کوئی مزدور رہے، نہ کوئی تنخواہ میں اضافہ مانگے، نہ کسی کو بونس دینا پڑے، نہ گریجویٹی کا خرچہ ہو، نہ میڈیکل الائونس کا جھنجھٹ، نہ ٹرانسپورٹ کا رولا گولا، نہ پینشن کی ٹینشن، نہ سوشل سیکورٹی اور نہ ہی اولڈ ایج بینیفٹ سکیم کے مطالبے۔
6۔چھٹا ادارہ ریلوے ہے۔ جس میں گریڈ بائیس کے دو سیکرٹری کام کر رہے ہیں۔ ایک سیکرٹری سرکاری ملازم ہے اس لیے وہ ایک حد سے زیادہ آگے نہیں جا سکتا۔ دوسرا درباری آداب سے واقف کاروباری مقاصد کے لیے لگایا گیا۔ ریلوے سے پوچھیے کہ اس کی بے وارث زمینوں، سکریپ اور جائیدادوں کی وراثت کہاں کھڑی ہے۔
7۔ساتواں شعبہ پنجابی صنعتکار ہیں۔ ان کی خدمت کے لیے ان کی پسندیدہ جمہوریت نے وہ بندوبست کیا جسے وہ سالوں نہیں زمانوں تک یاد رکھیں گے۔ پنجاب کی صنعتوں کے لیئے تین مہینے کے لیئے گیس بند کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ ایک طرف ہماری شاہی جمہوریت کی فیصلہ سازی ہے دوسری طرف سویڈن جیسا چھوٹا سا ملک جس کے خادم اعلان نہیںکرتے کہ وہ اسے یورپی ٹائیگر بنائیں گے مگر اسی ہفتے سویڈش سنٹرل بینک نے اپنی معیشت میں سُود کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔ جی ہاں سویڈش سنٹرل بینک نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک میں شرح سود کو صفر کر رہے ہیں۔ میں پاکستان کے غریبوں سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس جمہوریت کو بچا کر بلکہ سنبھال کر رکھیں جس کی وجہ سے ان کی قوتِ خریداری صفر تک پہنچنے والی ہے۔آپٹما کے صدر نے کیا کہا یہ پھر سہی ؎
اوج پر ہے کمالِ بے ہنری
باکمالوں میں گِھر گئے ہیں ہم
روشنی روشنی کی دشمن ہے
کن اجالوں میں گِھر گئے ہیں ہم...؟