جج کے لیے چار باتیں لازمی ہیں۔!
پہلی: غور سے سنیں۔
دوسری: عقلمندی سے جواب دیں۔
تیسری: سنجیدگی سے سوچیں
چوتھی: غیر جانبداری سے فیصلہ سنائیں۔
اپنے آپ کو خالص عالم سمجھنے والے جاہل گروہ نے سقراط کے ایسے ہی خیالات کو توہین عدالت کا مجرم بنا دیااور اسے اپنے خداؤں کا باغی قرار دے کر زہر کا پیالہ پِلا دیا۔سقراط یونان کے شہر ایتھنز میں پیدا ہوا۔سقراط نے اپنی جنم بھومی میں ہی زہر کا پیالہ نوش کیا۔اسے سزائے موت دینے والے خود پرست احمقوں کے نام تک کوئی نہیں جانتا‘ نہ ہی کوئی ان کے نام پہ اپنے بچوں کے نام رکھنا چاہے گا‘ لیکن سقراط نے سچ کی خاطر موت کو گلے لگا کر رہتی دنیا تک اپنے آپ کو امر کر دیا۔یوں معلوم تاریخ میں سقراط توہینِ عدالت کا اولین ملزم ہے۔
بہت سارے لوگ برطانیہ کو جمہوریت کی ماں کہتے ہیں ۔یہ بھی سچ کا قتل ہے ۔تاریخی سچائی یہ ہے کہ جمہوریت کا آغاز، ولادتِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سات سو سال پہلے ایتھنز کے شہر میں ہی ہوا‘ جہاں مشہور سیاستدان سولون نے مختلف عوامی طبقوں کے حقوق پر ایک تحریر ی دستاویز تیار کی جو جمہوریت کا نقطۂ آغاز ہے۔ ایک اور جمہوریت پسند سیاسی رہنما کلینز نے اس جمہوریت کو مضبوط کر کے اس طرزِ حکمرانی کو دوام بخش دیا۔
عوامی راج اورخلقِ خدا کے اختیار نے زمینی خدائوں کے محلات میں زلزلہ برپا کیا۔ اس کے نتیجے میں ایتھنز میں ہی دنیا کی پہلی بڑی طبقاتی جنگ چھِڑگئی ۔ بات اتنی بڑھی کہ 431قبل از مسیح ایتھنز اور سپارٹا کے درمیان سیاسی قیادت کے سوال پر پہلے پھوٹ پڑی اور پھر ایک لمبی مگر خون ریز لڑائی ہوئی۔ اسے پیل پو نیز کی جنگ کہا جاتا ہے ۔سقراط نے اس جنگ کی تین فوجی مہموں میں خود حصہ لیا‘ لیکن جب سال 415قبل از ولادت مسیح مشہور شہر سسلی پر حملہ کیا گیا تو سقراط نے نہ صرف اس حملے کی مخا لفت کی بلکہ ایتھنز کے لیڈروں کو پیشینگوئی کی شکل کا پیغام پہنچایا کہ تمہیں سسلی میں شکست ہو گی ۔ چنانچہ سقراط کی پیشین گوئی کے عین مطابق ایتھنز نے دس سال تک میدانِ جنگ میں رہنے کے باوجود 404ق م میں فیصلہ کُن شکست کھائی۔
اسی سقراط نے جو کچھ تب کہا‘ اسے پڑھ کر یوں لگتا ہے جیسے اس کا مخاطب کوئی اور نہیں بلکہ پاکستانی سماج تھا۔ مثال کے طور پر وہ کہتا ہے ''اے ایتھنز والو ! تم ہر ممکن کوشش کرتے ہو کہ دولت، شہرت، مقام و مرتبہ میں خوب سے خوب تر ہو جائو‘ لیکن تم نے سچائی، دانش اور اپنے نفس کے لیے کبھی کوشش و محنت کی ضرورت کو محسوس نہیں کیا ہے۔ میں تم لوگوں کو احساس دلاتا ہوں کہ تم نے محبت جیسی قیمتی چیز کے لیے بہت کم تردّد کیا ہے‘ جبکہ معمولی چیزوں کے لیے زبردست تگ و دو میں مصروف ہو‘‘۔
سقراط علم کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ ہم ایک ایسا ملک ہیں جس کے ایوانوں میں علم‘ سرکار اور دربار دونوں کی ترجیح ہی نہیں‘ اسی لیے معلّم کو خیرات سے کم تنخواہ ملتی ہے اور فُٹ کانسٹیبل سے بھی کم عزت۔ اس موضوع پر سقراط نے کہا ''نیکی علم ہے اور تزکیہ نفس کے راستے خفیہ اور سِرّی نہیں بلکہ ، انہیں علم کے ذریعے جانا جا سکتا ہے‘‘۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ علم مومن کی گم شدہ میراث ہے۔ سقراط اسی علم کی فضیلت اور برتری کو یوں بیان کرتا ہے ''عقل و جذبات کی کشمکش میں عقل کو برتر اور خواہشات و جذبات کو علم و عقل کے تابع رکھنا چاہیے۔ عقل حاکم ہے۔ انسانی شخصیت میں مرکزی اہمیت اس کے ذہن، عقل یا روح کی ہے جبکہ جسم کی اہمیت ثانوی ہے جسے دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لیے عقل اور روح استعمال کرتی ہے‘‘۔
سقراط ایک خدا کا ماننے والا تھا۔ خدا کی وحدانیت کا اظہار کرتے ہوئے سقراط کہتا ہے ''تمہیں یقین کرلینا چاہیے کہ کائنات میں ایک ایسی ہستی موجود ہے جس کی آنکھ کائنات کے ہر ذرے کو دیکھ سکتی ہے‘ جس کے کان مکان و زماں کی ہر آواز کو سُن سکتے ہیں اور جس کی شفقت و رحمت کی کوئی حد نہیں۔ خدا کی نظریں ہمیں ہر وقت مسلسل دیکھ رہی ہیں‘ اس لیے ہمارا کوئی کام اس سے پوشیدہ نہیں ہے، لہٰذا ہمیں تنہائی میں بھی بُرا، غلط اور گناہ کا کام نہیں کرنا چاہیے‘‘۔
نفسِ مطمئنہ کے بارے میں سقراط کے خیالات یہ ہیں ''ہمیں اپنے نفس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ اسی میں سکون و راحت ہے۔ انسان آخرت میں اپنے اعمال کا جوابدہ ہے۔ اصلاحِ نفس ہی کے ذریعے انسان خود کو مطمئن کر سکتا ہے‘‘۔
سقراط نے جمالیات کو نئی تعریف دی۔ اس تعریف کی روشنی میں سبھی لوگ خوبصورت ہیں۔ وہ کہتا ہے ''بدصورت اپنی بدصورتی کو نیکیوں سے دور کریں اور خوبصورت، اپنی خوبصورتی پر برائیوں کے دھبے نہ پڑنے دیں‘‘۔
سقراط نے سب کے لیے برابری کا تصور پیش کرتے ہوئے وہی کچھ کہا جو آج پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 25اور آرٹیکل 3کہتا ہے۔ سقراط نے کہا ''ہر شخص میں‘ چاہے وہ غلام ہو‘ یکساں صلاحیت ہوتی ہے ۔ اس لیے سب لوگ برابر انصاف کا حق رکھتے ہیں۔ حریتِ فکر ایک لازمی شے ہے‘‘۔ لیڈر کون ہوتا ہے اور اسے کیسا ہونا چاہیے؟ سقراط نے یہ مسئلہ بھی حل کیا۔ وہ کہتا ہے ''ملک چلانے کے لیے ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو رموزِ سیاست سے واقف ہو اور ملک کی کشتی کو وقت کے طوفانی دھارے سے باحفاظت نکال سکے۔ سیاست ایک فن ہے جس کے لیے اس خداداد صلاحیت کے علاوہ وسیع مطالعہ اور مہارت درکار ہوتی ہے‘‘۔
جمہوریت کے بارے میں سقراط نے کہا ''جمہوریت ایک طے شدہ حماقت ہے‘‘۔ اسمبلی پر سقراط کا تبصرہ انتہائی دلچسپ ہے۔ ''اسمبلی احمقوں، ذہنی معذوروں، موچیوں، ترکھانوں، لوہاروں، کسانوں، دکانداروں اور منافع خوروں پر مشتمل ہے جو ہر وقت یہ سوچتے رہتے ہیں کہ کیسے کوئی چیز سستی لے کر مہنگی بیچی جائے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے عوام کے مسائل پر ایک دفعہ بھی نہیں سوچا‘‘۔
صلاحیت کیسے استعمال کی جائے اور صلاحیت کس طرح سے معاشرتی ترقی کا انجن بنتی ہے؟ سقراط جیسا فلسفی یہ کہہ گیا ''فکر کو صرف اپنی ذات اور جائیداد کے لیے استعمال نہ کرو بلکہ تمہارا اولین اور بالاترین فرض اپنی روح کی نگہداشت کرنا ہے۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ دولت سے فضیلت حاصل نہیں ہوتی بلکہ ہمیں فضیلت سے ہی دولت اور ہر قسم کی ذاتی اور اجتماعی بھلائی حاصل ہوتی ہے‘‘۔
سقراط کو مقتولِ جہالت اور شہیدِ فلسفہ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ جہالت دور کرنے کے لیے جنگ کے میدان میں بھی ہتھیار نہیں پھینکتا۔ جی ہاں ایک ایسی جنگ‘ جو اُس کی زندگی کا آخری معرکہ تھا۔ سقراط نے کہا ''ہر شخص فطرتاً خیر کا طالب ہے لیکن جہالت کی وجہ سے شر کو خیر سمجھ لیتا ہے‘ اس لیے جہالت کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ لوگ خیر اور شر میں امتیاز کر سکیں۔ جو شخص پختہ طور پر کسی بات کو خیر سمجھے گا‘ وہ ضرور اس کے مطابق عمل کرے گا‘‘۔
توہینِ عدالت کے اوّلین ملزم نے اپنا مقدمہ خود لڑا۔ وہ انتہائی بہادر وکیل بھی تھا۔ اُس نے اپنے قاتلوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ''جج صاحبان کو انصاف کو بطور عنایت کسی کی جھولی میں ڈالنے کی بجائے قانون کے مطابق انصاف کرنا چاہیے۔ دوسروں کو بدلہ لینے کی خاطر نقصان پہنچانا ظلم اور نا انصافی کرنے سے مختلف نہیں۔ کبھی کسی چیز کو دلیل کے مقابلے میں اہمیت نہ دی جائے۔ قابلِ رحم ہے وہ شخص جس کے مشورے دینے والے جاہل ہوں‘‘۔
آج کا وکالت نامہ میرا نہیں سقراط کا ہے۔ سقراط اگر آپ کے دل پر چوٹ لگائے تو سمجھ جائیے کہ آپ جاگ رہے ہیں۔ بے حسی کے اس سمندر میں دوسروں کے لیے جاگنا بھی جہاد ہے ؎
تھے لوگ بے حسی کے سمندر میں غوطہ زن
اور اس پہ یہ ستم کہ خدا بے نیاز تھا