پاکستان میں کچھ اصطلاحیں ایسی ہیں جن کا لیڈروں نے ستیاناس کر دیا ہے ۔اور کچھ محاورے ایسے ہیں جن کا انہی کے ہاتھوں سے سوا ستیاناس ہو چکا ہے۔ باقی کا تذکرہ بعد میں پہلے دو کا ذکر ہو جائے۔مثال کے طور پر قوم کے خادم ۔یہ لفظ سنتے ہی یوں لگتا ہے جس طرح پھٹی ہوئی قمیض ،میلی شلوار اور ٹوٹے ہوئے سلیپر پہنے کوئی شخص لوگوں کے دروازے پر ہاتھ باندھے خدمت کا موقع ملنے کے انتظار میں کھڑا ہے۔جبکہ دوسرا ہے عوام دوست۔ لفظوں کی اس جوڑی میں رِدھم بھی ہے اور موسیقی بھی۔انہیں جونہی اکٹھا بولا جائے‘ ذہن میں تصور آتا ہے کہ میونسپل کمیٹی کے نلکے پر پینے والے پانی پر لگی لمبی لائن پر اپنی بھری بالٹی آپ کے خالی لوٹے کے ساتھ تبدیل کرنے کا ا میدوار۔
عوام کو غلام ،کمی کمین ،ما تحت اور رعایا سمجھنے والے جب خادم اور عوام دوست کے لفظ بولتے ہیں تو اس کا مطلب آپ سمجھ چکے ہیں اور نتیجہ آپ بھگت رہے ہیں۔پھر بھی کچھ عملی مثالوں سے بات زیادہ واضح ہو جائے گی۔جیسے اس سال کی آخری سہ ماہی میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا حشر اور پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات استعمال کرنے والوں کا حشر نشر ۔آج سے تقریباََ100 دن پہلے عالمی منڈی میں خام تیل تقریباََ 140 امریکی ڈالر فی بیرل کی قیمت پر فروخت ہوتا تھا۔خام تیل سے ہائی اوکٹین،پٹرول،ڈیزل،مٹی کا تیل، پٹرولیم جیلی،تار کول سمیت 60 سے زیادہ دوسری پروڈکٹ حاصل ہوتی ہیں۔خام تیل در حقیقت پتلے کیچڑ کی شکل میں نکالا جاتا ہے۔ پھر آئل ریفائنری اس کے حصّے بخرے کر کے اس میں موجود قدرت کے خزانے کا کھوج نکالتی ہے۔ پاکستان میں تقریباً 30 فیصد تیل ایسا ہے جو ہماری ماں دھرتی ہمیں مفت دیتی ہے۔ویسے ہی جیسے آپ کے صحن یا کھیت کے ٹماٹر، دھنیا، پودینہ، مرچیں یا گونگلُو آپ کے لیے مفت ہیں۔پاکستان اپنی ضرورت کا 70فیصد تیل امریکہ ،برطانیہ اور سعودی عرب کے ریٹ پر باہر سے منگواتا ہے۔ہمارے خادم اور عوام دوست حکمران ہر روز کہتے ہیں کہ مہنگائی عالمی ہے۔ مگر یہ کہتے ہوئے ان کی زبانیںگُونگی ہو جاتی ہیں کہ عالمی منڈی میں تیل‘ کالم چھپنے سے 24گھنٹے پہلے‘ 140سے گِر کر 54ڈالر فی بیرل کے نرخ پر آ چکا ہے۔
لیکن عوام کے خادموں کی پیاس اور بھوک ختم نہیں ہورہی؛ چنانچہ وہ تیل بھی جو پاکستان کے اندر پیدا ہوتا ہے‘ عوام کو عالمی منڈی کے ڈالروں والے ریٹ پر بیچا جاتا ہے ۔پٹرول پمپوں کا منافع اور ڈیلرکمیشن زوروںپر ہے۔ لیکن لنڈا بازار کے بھاؤ ملنے والا تیل اب بھی خادم اور عوام دوست حکمران سُپر سٹور کی قیمت پر پاکستانیوں کو بیچ رہے ہیں ۔
اسی طرح میرے اور آپ کے ان خادموں نے ترقی کا ایک اور فارمولا بھی ایجاد کیا ہے ۔اس فارمولے کے تحت پورے پاکستان میں جوں جوں سردی بڑھتی جا رہی ہے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو رہے ہیں۔فارمولے کا کمال دیکھیے کہ جتنے زیادہ چولہے ٹھنڈے ہو رہے ہیں اتنی زیادہ حکمرانوں کی جیبیں گرم ہوتی جا رہی ہیں۔ سردی سے ٹھٹھرتے اور کھانا نہ پکنے کی وجہ سے بھوکے عوام سڑکوں پر آتے جا رہے ہیں ۔جن کی خدمت کے لیے جمہوریت نے ایک عدد مزید فارمولا نکالا ہے اس ہفتے سے تازہ فارمولے پر عمل درآمد بھی شروع ہو چکا۔ جن عورتوں اور بچوںنے مورگاہ چوک ،جھنڈا چیچی ،راولپنڈی ایکسپریس وے یا سوہان گاؤں میں گھریلو گیس کی بندش کے خلاف مظاہرہ کیا‘ ان پر خادموں نے فوجداری مقدمے درج کروا دیئے۔ اس سے زیادہ عوام دوستی کا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ ان مقدموں کے ملزم جونہی پکڑے جائیں گے اڈیالہ جیل میں انہیں انشاء اللہ سرکار ی خرچ پر پکی پکائی روٹیاں ملیں گی۔ ان خوش نصیبوں کی حدتک یہ وکالت نامہ چھپنے تک گیس کا مسئلہ حل ہو چکا ہو گا۔
اب یہ سوال آپ مجھ سے مت پوچھیں کہ اگر گیس سی این جی سٹیشن پر بھی نہیں‘ چولہوں کی بھی گیس خارج ہو چکی ہے تو آخر یہ گیس بجلی کی طرح گئی کہاں؟میں آپ کو نہیں بتا سکتا کہ حکمرانوں کے کتنے انڈسٹریل یونٹ ،صنعتی یونٹ جو پہلے بجلی پر چلا کرتے تھے۔ گزشتہ 20ماہ میں وہ گیس پر شفٹ یا (convert) ہو چکے ہیں۔ تو پھر گیس جاتی کہاں ہے ؟اس کا جواب کوئی ایسا خادم دے سکتاہے ۔جس کا ٹیکسٹائل یونٹ ہو،سپننگ فیکٹری ہو یا شوگر مِل ۔
چند دن پہلے میں نے اہلِ علم کے اجتماع میں کہا تھا دنیا کی واحد سڑک جو ہر وقت زیرِ تعمیر رہتی ہے اُسے ترقی کی شاہراہ (Road to progress remains always under construction) کہا جاتا ہے۔ لیکن عوام دوست نظام اور خادم حکمرانی میں جو ترقی ہو رہی ہے اسے دیکھ کر میرا دل چاہتا ہے‘ جمہوری سرکار کے وعدوں کی طرح میں اپنی بات بدل لوں ۔اور اب یہ کہا کروں کہ پاکستان میں صرف امیروں اور سرمایہ داروں کی ترقی کی سڑک ہر وقت زیرِ تعمیر رہتی ہے ۔اس کی دو عدد تازہ مثالیں پیشِ خدمت ہیں۔ پہلی مثال پنڈی لاہور موٹر وے ایم 2کی ہے۔اس کے بارے میں عوام دوست خادموں کو غیبی آواز آتی ہے کہ اس سڑک کی طبعی عمر پوری ہو چکی ۔ اب اس پر نئے سروے سے اربوں روپے نہیں بلکہ کھربوں روپے نئے لگا ئے جائیں گے۔ ظاہر ہے لاہور پنڈی موٹر وے کو حسبِ اتفاق نئے جنگلے کی ضرورت ہے۔ یہ اتفاقیہ ضرورت بھی سریے کے ساتھ پوری ہو گی۔
ایک طرف لوگ سی این جی کو حسرت سے یاد کرتے ہیں جو خیر سے اب پنجاب کی حد تک نایاب ہو چکی ہے۔ دوسری طرف بچے ٹھنڈا دودھ اور ٹھنڈی ڈبل روٹی کھا کر سکول جاتے ہیں ۔اس شور شرابے اور احتجاج کے عین درمیان میں خادموں نے آپ کے لیے ایل این جی والے گھریلو سلنڈر بھی پانچ روپے فی کلو مہنگے کر دیئے ہیں۔ آپ احتجاج کرتے جائیے‘ خادم آپ کی خدمت کرتے جائیں گے ۔
پشاور کا سانحہ اُن خونی واقعات کا تسلسُل ہے جو پاکستان کے عوام کا مقدر بنا دیئے گئے ہیں۔ موجودہ سسٹم کے بنتے ہی نیشنل انٹرنل سکیورٹی پالیسی کا شور اُٹھا تھا۔ قوم کو بتایا گیا کہ 2014ء سے لے کر 2018ء تک یہ پالیسی عوام کو وہ سب کچھ دے دے گی جو پچھلے حکمران نہیں دے سکے۔ قوت کے مقابلے میں امن اور بھوک کے جواب میں روٹی کی اہمیت کا اندازہ لگانے کے لیے کسی فلسفی یا مولوی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں۔اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب میں سورۃ القریش اس کا کھل کر اظہار کرتی ہے۔ لیکن ذرا عوام دوست خادموں کی ترجیحات دیکھ لیں۔ 2014ء میں پورے پاکستان کو تحفظ دینے کا کُل خرچہ 20ارب بتایا گیا۔ اس میں ریپڈ ریسپانس فورس سے لے کر نیکٹا تک اور مشترکہ انٹیلی جینس نیٹ ورک سے شروع کرکے سول ملٹری اشتراک تک بہت سی اچھی خبریں شامل تھیں۔لیکن کاروباری جمہوریت کے نزدیک سکولوں کے بچوں اور قوم کے مستقبل کو بچانے سے زیادہ ضروری جنگلہ بس پروجیکٹ ہے۔ جس کے صرف صدر پنڈی تا سیکریٹریٹ چوک اسلام آباد والے پروجیکٹ پر43 ارب لگا دیئے گئے۔ اگلے روز وزیرِ اعظم ہائوس کے ایک ڈھنڈورچی نے کہا بجٹ میں طے شدہ خرچ سے زیادہ دفاع پر کہاں سے لگائیں؟ میں نے کہا وہیں سے جہاں سے جنگلہ بس اور سریا میٹرو بنائی جا رہی ہے۔ ڈھنڈورچی بولا‘ ایسے سوال مت اُٹھائیں ورنہ بات دُور تک جائے گی۔ میں نے جواب دیا جدّہ سے بھی دُور ؟ جہاں دفاعِ پاکستان کے وقت وزیرِ دفاع غائب ہو جائے‘ جہاں خارجی خطروں سے نبٹنے کے لیئے وزیرِ خارجہ ہی موجود نہ ہو اور جہاں سینکڑوں بچوں کی کربلا کے بعد بھی حکومت ایک اور کمیٹی کو مسئلے کا حل سمجھے‘ وہاں لوگوں کو اپنی دھرتی ماں اور اس کے تحفظ کے لیے خود جاگنا پڑے گا۔
اے وطن خون میں ڈُوبے تیرے پرچم کی قسم
تُو نے جینا ہے قیامت کی سحر ہونے تک