اعتراف…؟

سانحہ پشاور کے بعد پشاور ہی میں وزیرِ اعظم کی گفتگو نے کئی باتیں واضح کیں۔ پہلا اعتراف تھا۔ سیدھے لفظوں میں اعتراف کہ پشاور پارلیمانی کانفرنس منعقد ہونے تک حکومت ،ملک کو درپیش خطرات کے حوالے سے کورا کاغذ لے کر بیٹھی تھی۔
دوسرے یہ کہ،پاکستان کے سارے وسائل شہادت کی انگلی کھڑی کر کے پلان ہونے والے میگا پراجیکٹس میں جھونکے جا رہے ہیں۔ پاکستانی جانتے ہیں۔ بلکہ اب تو ساری دنیا کو پتہ ہے۔ ایشیاء اور افریقہ کے ترقی پذیر ملکوں میں میگا پراجیکٹ کا مطلب ہے میگا کِک بیک اور میگا کمیشن۔ کرپشن کے حوالے سے ہر کوئی کہتا ہے ثابت کرکے دکھائو۔ ثابت کرنے والے خود ہمیشہ الزامات کی زد میں رہتے ہیں۔ اگر کسی نے ایسے لیڈروں کا اعتراف پڑھنا ہو تو وہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس موجود کاغذاتِ نامزدگی کی کاپیاں منگوا لے۔ جہاں سیاسی لیڈروں نے روزگار کے خانے میں موٹے لفظوں میں لکھا ہوتا ہے۔ سیاست۔ اس کا نتیجہ قوم کے سامنے ہے۔ آج کل جس کا جتنا بڑا کاروبار ہے وہ اتنا ہی بڑا سیاست دان ٹھہرا۔ کچھ براہِ راست سیاست کی اداکاری کرتے ہیں‘ جبکہ کچھ دوسرے سیاست میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ لیکن ان کو فلمی دنیا کی طرح پروڈیوسر، ہدایت کار، فائٹ انسٹرکٹر یا میک اَپ آرٹسٹ نہیں کہا جاتا۔ یہ بھرپور ادب و احترام سے ''انویسٹر‘ یا پھر بزنس ٹائیکون کہلاتے ہیں۔
سانحہ پشاور کے نتیجے میں ایک اور کمیٹی بن گئی۔ اس سے پہلے بچہ بھی جانتا ہے کہ ہماری جمہوریت میں جو کام نہ کرنا ہو اس پر کمیٹی بنائی جاتی ہے اور جو کام بالکل نہ کرنا ہو اس پر کمیشن تشکیل پاتا ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس کا مطلب ہوتا ہے‘ بہترین جیکٹس، اچھی ٹائیاں، نئے سوٹ اور بم پروف گاڑیوں کے ذریعے سے ایوانِ اقتدار یا فائیو سٹار ہوٹل میں غریبوں کی غربت پر شاندار پرفارمنس۔
اکبر الٰہ آبادی نے ایسی ہی کانفرنسیں اور اجلاس اٹینڈ کرنے والے لیڈروں کو یوں خراجِ تحسین پیش کیا تھا: 
رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ
قوم کے غم میں ڈنر کھاتا ہے حکام کے ساتھ
اگرچہ قومی ایکشن پلان بنانے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے ممبران ذاتی طور پر میرے لیے قابلِ احترام ہیں اور بہت سے پارلیمنٹ میں ساتھی بھی رہے ہیں‘ لیکن قومی معاملات پر تجزیہ کرتے وقت صرف اور صرف قوم کے مفاد کو دیکھنا ہو گا۔ویسے بھی ہماری قوم پہلے ہی مظلوموں کی صف میں آخری نمبر پر کھڑی ہے۔اس لیے وہ بات جسے چھپایا جا رہا ہے وہ کھل کر کہنی پڑے گی۔ اولین سوال تو یہ ہے کہ وطن کے دفاع کے معاملے میں کابینہ ''شرمیلی‘‘ کیوں ہے؟ یادش بخیر کابینہ کے وہ وزیر جو سیاسی مخالفوں اور اپنے قومی اداروں سمیت فوج کو بھی طعنوں ،کو سنوں اور جلے کٹے بیانوں کی زد میں رکھتے تھے وہ کیوں چُھپ گئے ہیں؟ وزیرِ دفاع پشاور سانحے کے پانچویں روز قوم کے سامنے آئے‘ وہ بھی اس انداز سے‘ صاف چُھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔ اطلاعات والوں کو توبالکل سانپ سو نگھ گیا ۔ریلوے والوں کا تو جیسے انجن دھواں دے گیا۔ اسی لہر میں پنجاب کے ڈسمس وزیر اور دو درجن سرکار ی ڈھنڈورچی سب زیرِ زمین چلے گئے۔ ایسے میں حکومت کو ایک تابعدار قسم کا فورم چاہیے جو سرکار کی جگہ بولتا ہوا نظر آئے۔ وزیرِاعظم جس شدید کشمکش میں مبتلا ہیں اُس کا ثبوت دو عدد تصویروں سے ملتا ہے۔پہلی تصویر آرمی پبلک سکول میں قوم کے نو نہالوں کے کرب و بلا کے دوسرے دن کی ہے۔نواز شریف عمران خان کو اپنے پہلو میں کھڑے دیکھ کر اپنی خوشی اور ہنسی قوم سے نہ چھپا سکے۔ جس سے پتہ چلا کہ سرکار کا فوکس ریاست سے بھی بہت پہلے سیاست ہے۔دوسری تصویر جی ایچ کیو والی ہے جہاں وزیراعظم کا چہرہ بلا تبصرہ سب کچھ بول رہا تھا۔فرض کر لیں کہ حکومت نیک نیتی کے ساتھ کمر سیدھی کر کے قوم کے ساتھ کھڑی ہو گئی ہے تو پھر وزیر کیوں چُھپے ہوئے ہیں؟مشیر کیوں غائب ہیں؟اور جمہوریت کے چہرے پر وہ پُروقاراعتماد نظر کیوں نہیں آ رہا جو لمحۂ موجود کی ضرورت ہے۔
پارلیمانی جماعتوں کے ایکشن گروپ پر بات ہو رہی تھی ۔اس کی تشکیل سے ہی پتا چلتا ہے کہ حکومت اپنے ارد گرد سیاسی جماعتوں کا میلہ لگا کر اپنے آپ کو تسلی دینا چاہتی ہے کہ اُسے کوئی خطرہ نہیں۔ حکومت کی یہ خواہش تو پوری ہو گئی لیکن سیاسی کمیٹی کے ذریعے جنگ کی حکمت عملی طے کرنا جنگوں کی ساری تاریخ کے ساتھ ظالمانہ مذاق ہے۔جنگ ہے کیا؟اگر سرکار اس موضوع پر سنجیدہ ہے تو اسے کو ٹلیہ چانکیہ تلاش کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ وزیراعظم اپنی کابینہ کو 'Art of war‘ پڑھا دیں۔ یہ معرکتہ الآراء کتاب Sun Tzu نے 1913ء میں لکھی۔ اس کتاب نے جنگ افیون اوّل اور جنگ افیون دوم ہارنے والے چین کو پہلے جنگی جمہوریہ بنایا اور پھر عالمی طاقتوں کا ہمالیہ بنا ڈالا۔ دراصل موجودہ حالات میں قوم کو سہ جہتی یا تین رُکنی روڈ میپ کی ضرورت ہے۔
پہلا؛ بیس کروڑ بیزار لوگوں کی امن کے لیے جاگی ہوئی خواہش کو قومی قوت میں تبدیل کیا جائے ۔یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے لیڈروں اور عوام کے درمیان بندہ اور آقا جتنا فرق ختم کرنا ہو گا۔عوام کے ٹیکسوں کے پیسے عوام کی ضرورت اور عوام کی خواہش کے مطابق خرچ کیے جائیں ۔کون نہیں جانتا آج پنجاب کے شہروں راولپنڈی، گوجرخان، لاہور، حافظ آباد اور فیصل آباد میں ان لوگوں نے مظاہرے کیے‘ جن کے چولہے ٹھنڈے ہیں ۔سوئی گیس کی نالیاں گیس سپلائی کرنے کے بجائے سیٹیاں بجا رہی ہیں۔ نہ گھروں کے ہیٹر جلتے ہیں اور نہ گیزر۔ٹھٹھرتے شہریوں کو گیس لوڈ شیڈنگ کا عذاب سرد جہنم میں گھسیٹ رہا ہے۔ بچوں کو بغیر ناشتے کے سکول جانا پڑتا ہے۔ سرکاری ملازم گھر سے لڑتے لڑتے دفترپہنچتے ہیں۔ کون نہیں جانتا بھوک اور خوشی اکٹھے نہیں چل سکتے۔ لوڈشیڈنگ کے عذاب کے بعد حکومت کے منصوبہ سازوں نے عوام پر گیس گردی کا حملہ کر دیا ہے۔صرف ایک ہفتے میں الے پی جی پینتالیس روپے فی کلو گرام مہنگی ہو گئی۔ذرا غور کیجیے حکومت نے اس کا علاج کیا ڈھونڈا ؟ جنگلہ بس اور سریا پُل کی دلدادہ سرکار نے پنڈی لاہور موٹر وے کو توڑ کر بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ بھی صرف 200ارب روپے کے معمولی خرچ پر۔آپ جانتے ہی ہوں گے ایک سوارب سو کروڑ کا اور ایک کروڑ سو لاکھ روپے میں بنتا ہے۔عوام سردی اور صفر درجہ حرارت میں ٹھٹھر رہی ہے۔ حکمران انہیں گیس کے بجائے سریا دے رہے ہیں ۔ذاتی اور کاروباری ترجیحات کو تبدیل کیے بغیر کہاں کی جمہوریت اور کہاں کی اچھی حکمرانی؟دنیا بھر کے ڈکٹیٹروںکی حکومت کا ماڈل ہمیشہ یہی رہا کہ بڑے پُل،بڑے پراجیکٹ بناؤ اور حکمرانوں کو اشتہاروں کے ذریعے ''یٹی‘‘ بنا کر پیش کرو۔یٹی برفانی دور کا ایک دیو ہیکل انسان بتایا جاتا ہے۔
دوسرا نکتہ پاکستان کی دفاعی اور فوجی ضروریات کے لیے عسکری بجٹ میں فوری اضافہ ہے۔ وحشت گری کی تازہ لہر نے ثابت کیا کہ بچے اور عورتیں بھی غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔اب میٹرو اور موٹر وے سے زیادہ سکولوں اور ہسپتالوں کے گرد حفاظتی حصارضروری ہوگیا ہے۔
تیسرا نکتہ عوام کے لیے ریلیف ہے۔ جو انہیں مطمئن رکھ سکتا ہے‘ یا دوسرے لفظوں میں کسی حد تک خاموش بھی۔یہ نکتہ سرکار کی سوچ میں ہے ، نہ ہی ایجنڈے پر۔ آج ہم جہاں کھڑے ہیں وہاں جمہوری نظام کے منیجر کس شعبہء زندگی میںقوم کو مطمئن کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب دل دکھا دینے والا ہے۔ معاشی بے اطمینانی، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور نا انصافیوں کے پہاڑوں تلے دبے غریب لوگ تبدیلی کا معجزہ دیکھنا چاہتے ہیں۔انہیں معلوم ہے یہ نظام ان کے لیے کوئی معجزہ کر سکتا ہے نہ کمال دکھا سکتا ہے۔ اسی لیے گرمی اور سردی کی پروا کیے بغیر لوگ 126دن تک دھرنے کا مورچہ لگا کر ڈٹے رہے۔ اب اگر کسی نے اُن کے ساتھ دھوکہ کرنے کی کوشش کی تو مسیحا ڈھونڈنے والوں کے ہاتھ گریبان نہیں گردنیں ناپیں گے۔ قوم کا نیا سفر اُمید سے شروع ہو گا۔ اُمید خرابیوں کا اعتراف کرنے کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں