حاکم کون ؟

پاکستان ایک آزاد ملک ہے۔بلاشبہ آئینی طور پر اور بین الاقوامی حیثیت سے وطنِ عزیز کی خود مختاری تسلیم شدہ۔ اصل سوال پھر بھی موجود ہے۔ وہ یہ کہ کیا ہمارے حکمران بھی خود مختار ہیں؟اپنی معا شی ترجیحات طے کرنے کے لیے؟یا حاکم کوئی اور ہے؟؟
تفصیلات میں جانے سے پہلے تازہ مثال دیکھ لیجیے ۔وزارتِ نہ پانی نہ بجلی کے انچارج کو وزیرِدفاع بھی کہا جاتا ہے۔ سوال یہاں بھی منہ کھولے کھڑا ہے۔کِس کا دفاع اور کہاں کا دفاع؟جو وزیر ، اپنی درسگاہ پر حملے کے بعد جائے واردات پر نہ پہنچے‘ جو اپنی وزارت کا سامنا کرنے سے کتراتا نہیں بلکہ گھبراتا ہو‘ جس کا دفاعی کانفرنس میں کردار تو دور کی بات ، چہرے کی رو نمائی تک ناقابلِ برداشت‘ جو دفاع ِ وطن کے قومی ایکشن پلان کے اجلاسوںمیں بھی غیرموجود‘ جس کی ترجیحات سے قوم بے خبر ہے‘ جس کے پاس مظلوموں کے آنسو پو نچھنے کے لیے نہ وقت ہو‘ نہ ان کی داد رسی کی اہلیت یا جرأت‘ آپ اُسے وزیرِ دفاع کہیں یا دفاعی کھلاڑی‘ آپ کو اس آزاد وطن میں آزادانہ مذاق کرنے سے کون روک سکتا ہے؟
کاروباری سرکار کی ٹھیکہ دار پالیسیاں ہم سب کو معلوم ہیں۔ اگلے پچاس سال تک میگا پراجیکٹس کے تیز رفتار افتتاحی ماحول سے اندازہ ہوتا ہے کہ جمہوریت کا ماٹو یہ ہے: 
سامان سو برس کا ہے، پل کی خبر نہیں 
اِس کے ساتھ ساتھ ٹھیکیدار بھی طے شدہ ہیں ۔ قانونی اصطلاح میں شِکمی ٹھیکے لینے والے کنٹر یکٹرز دن رات جاگتے ہیں۔ بیس کروڑ مظلوم عوام منافع خوروں، چور بازاروں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں کے رحم وکرم پر ہیں۔ طائرِ لاہوتی آج دور دور نظر نہیں آ رہا۔ ایک دور تھا جب طائرِ لاہوتی پرواز میں کوتاہی والے رزق کے خلاف تقریریں کرتا تھا۔ ایسی ہر تقریر میں ''اینٹی فلائٹ رزق‘‘ پر موت کو ترجیح طائرِ لاہوتی کی پسندیدہ ڈش تھی۔ہاں البتہ طائرِ لاہوتی نے یہ کبھی واضح نہیں کیا کہ غلط رزق سے بہتر کون سی موت ہے ؟خود کشی یا خود کش والی؟ سب جانتے ہیں قدرتی موت توقدرت کی طرف سے آتی ہے ۔ شکر ہے طائرِ لاہوتی مزید رزق کی تلاش کی فکر سے آزاد ہوا ۔اسی لیے اُس کے آ شیانے سے غریبوں کو کوئی خوش کن آواز سنائی نہیں دیتی۔کسی زمانے میں شاعر نے کہا تھا ؎ 
بدھو میاں بھی حضرتِ گاندھی کے ساتھ ہیں
گو، مشتِ خاک ہیں مگر آندھی کے ساتھ ہیں 
اس خود مختار وطن میں حکمران ٹولہ آئی ایم ایف کی تابعداری کو پالیسی نمبر ایک اور دو نمبرپالیسی بھی سمجھتا ہے۔بڑے امیرزادوں اور نو دولتیوں کی طرح۔جن کے پاس نمبر ایک بیوی،خاندانی کزن، مکمل با پردہ اور نقاب پوش۔دو نمبر شادی ''کارپوریٹ‘‘ فیصلہ ہے۔پارٹیوں میں پذیرائی کے لیے۔کارپوریٹ دنیاتو چلتی ہی تعلقاتِ عامہ سے ہے۔
پاکستان کی ریاست کے معاشی فیصلے گورے کرتے ہیں۔ ایسے فیصلوں کے لیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک برانڈ فرنگی پاکستان آنا توہین سمجھتے ہیں۔ہماری وزارتِ قرضی خزانہ یا خالی خزانہ کے میر مُنشی کشکول سر پر رکھ کر‘ بستہ بَغل میں دبائے ہر مہینے دوبئی بھاگ کر جاتے ہیں۔وہاں حکمرانوں کے محلّات میں مذاکرات ہوتے ہیں۔
خود مختاری کے لیے ریاست کا کردار کون ادا کرے ؟ کسی شاہراہ پر تعمیر کوئی شاندار بلڈنگ ؟ بیوروکریٹ کی میز پر گرد میں ڈوبی کوئی سرکاری فائل؟ وسائل پر قابض مافیاز ؟ یہ تینوں ایک جتنے مُردے ہیں، خاص طور پر قومی معاملات میں۔ کسی بھی قوم کا حکمران آزادی کے موضوع پر تقریر کرنے سے آزاد نہیں ہو جاتا۔ اُسے اپنے شخصی کاروبار اور خاندانی مفادات کی ہتھکڑیوں سے آزاد ہونا پڑتا ہے۔ جہاں ایسے آزاد لوگ ریاست کے منیجر ہوں اُسے تُرکی کہتے ہیں یا ملائشیاء پچھلے عشرے میں مہاتیر محمد آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور مغربی بینکوں سے بلیک میل نہ ہوا۔ ملائشیا کی معیشت دو بار کریش ہوئی‘ لیکن قوم دونوں بارزمین پر ہاتھ رکھ کر کمر سیدھی کرکے پھر کھڑی ہوگئی۔ 
ابھی ستّر گھنٹے پہلے ترکی کو مغرب نے دھمکی دی۔ ترکی کی خود مختار ریاست کے آزاد سربراہ نے سرکاری ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے مغرب کو پیغام دیا ''ترکی وہ ملک نہیں جسے ڈکٹیٹ کیا جا سکے‘‘۔ اب ذرا پاکستانی حکمرانوں کی خود مختاری کا سٹائل دیکھ لیں۔ عالمی ہومیو پیتھک ایسوسی ایشن عرف یو این او کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ہمارے وزیرِ اعظم کو فون کیا۔ وہی وزیرِ اعظم جو وزیرِخارجہ بھی ہیں‘ وزیرِ دفاع بھی اور وزیرِ قانون بھی۔ وزیرِ اعظم موصوف نے مودبانہ طور پر پاکستان کے شرعی قانون اور تعزیراتِ پاکستان پر بان کی مون کے ارشاداتِ عالیہ سُنے۔ شکریہ کے ساتھ فون بند کیا۔ جب یہ خبر قومی میڈیا پر بریک ہوئی تو وزارتِ خارجہ کا طائرِ لاہوتی ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھا۔ قوم کو لالی پاپ نما بیان سے نوازا۔ نہ کہا گیا کہ ہم خود مختار ملک ہیں جہاں انصاف کا طریقہ آئین اور قانون میں لکھا ہے‘ نہ بان کی مون سے یہ کہا کہ ہماری خود مختاری کا احترام کرو‘ نہ ہی عالمی ہومیو پیتھک ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل کو یہ یاد دلایا گیا کہ افضل گرو کی پھانسی سے بنگلہ دیش میں سیاسی مخالف ضعیف بزرگوں کی پھانسی تک یو این کا ضمیر کیوں نہیں جاگا؟
حکمران کہتے ہیں آئندہ کسی کو امن و امان سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ کسی کو بچے مارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ کسی کو ذاتی لشکر رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کوئی عوام کے جان و مال سے نہیں کھیل سکے گا۔ یوں لگتا ہے جیسے پہلے یہ سارے کام ہماری سرکار کی اجازت سے ہوتے رہے۔ اب سرکار جاگ گئی ہے۔ لہٰذا قومی جرائم کے سارے اجازت نامے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ ایسے بیان دینے والے شیر سے زیادہ بہادر لیڈروں سے کوئی یہ پوچھے ۔ گیس چوری کی سزا 12سال ہے۔ چور کی نانی کو کیا سزا ملے گی؟ جہاں اتنے سارے کاموں کی ''اجازت‘‘ حکومت نے بند کر دی‘ وہاں لوڈ شیڈنگ کی اجازت کب منسوخ ہو گی؟ غریبوں کے چولہے ٹھنڈے کرنے کی اجازت کون دیتا ہے ؟ اوگرا یا حکومت؟ اب تو خود مختاری کا درس دینے والے راہنمائی کے لیے لاہوتی عالمی انسٹیٹیوٹ کھول لیں۔ مگر پہلے اپنے ''مُرشدِ ثانی‘‘ آئی ایم ایف سے ضرور پوچھیں انسٹیٹیوٹ کے لیے وہ کتنا قرضہ دے گا؟ کوئی مانے نہ مانے مجھے جمہوریت پر یقین ہے کہ وہ خود مختاری کا سودا نہیں کرے گی۔ کچھ نالائق اور نا اہل آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن کا پرا پیگنڈا کرتے ہیں۔ یہ عوام دشمن لوگ آئی ایم ایف کے برادرانہ مشوروں کو ڈکٹیشن سمجھ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف نے سرکار کو بتایا گندم ، آٹے، دودھ اور دوائی پر سبسڈی سے پاکستان میں سرمایہ داری بڑھ رہی ہے۔ حکومت نے غریبوں کی خدمت کے لیے سبسڈی کی سازش ہی ختم کر دی۔ اس طرح معاشی مساوات کا عالمی ریکارڈ قائم ہو ا۔ آج انڈا سستا اور آلو مہنگا ہے۔ آئی ایم ایف نے کہا بینک بیچ دو‘ ہم نے بیچ دیئے۔ آئی ایم ایف کہتا ہے سٹیل مل فروخت کرو ہماری تیاری مکمل ہے۔ آئی ایم ایف کہتا ہے قومی ائر لائن پی آئی اے کی سیل لگا دو۔ ہمارا جواب ہے حاضر جناب۔ آئی ایم ایف بولا منافع بخش او جی ڈی سی ایل کی نج کاری کرو۔ ہم نے کہا ہم پہلے سے تیار ہیں۔ آپ جانتے ہیں د نیا گلوبل ویلج ہے‘ جہاں مسلم برادری کے ممالک ہماری مدد نہیں کرتے ۔ تیسری دنیا بھٹو، شاہ فیصل ، یاسر عرفات اور کرنل قذافی کے ساتھ دفن ہو گئی۔ غیر وابستہ ممالک کی تحریک ماضی کا قصّہ ہوئی۔ چین اپنے کاروبار میں مصروف ہے‘ جبکہ روس کو گورباچوف کے زخم چاٹنے سے فرصت نہیں۔ 
لے دے کر ساری دنیا میں ہمارے دو ہمدرد ہی باقی ہیں۔ ایک آئی ایم ایف‘ دوسرا ورلڈ بینک۔ جن کا برادرانہ مشورہ میگا پراجیکٹ چلاتا ہے۔ اب یہ پراپیگنڈا بند ہونا چاہیے کہ ہماری حاکمیت اعلیٰ خو د مختار نہیں۔ جسے یقین نہ آئے وہ وزیرِاعظم ہائوس کے چیف کُک سے پوچھے یا صدر ہائوس کے طبّاخِ اعلیٰ سے۔ ہم ہر معاملے میں خود مختار ہیں اور ہمارا کچن اور اس کی کیبنٹ سب سے زیادہ خود مختار۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں