اکیلے نہ جانا… ہمیں چھوڑ کر تم…

پاکستانی وفادار لوگ ہیں ۔چونڈ ہ کا میدان گواہ ہے۔ 1965ء میں بھارت نے اسی جگہ ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی چھیڑی۔ قوم کے وفادار جوان، چھاتی پر بم باندھ کر ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئے۔ پاکستان کے بچے بھی اتنے ہی وفادار ہیں ۔ ابراہیم زئی سکول ڈسٹرکٹ ہنگو کے اعتزاز کی مثال سامنے ہے ۔ مادرِ علمی کا یہ بیٹا جانتا تھا وہ زندہ نہیں رہے گا۔ یہ وفاشعار اپنے کلاس فیلوز اور اساتذہ کو بچانے کے لیے موت سے بغل گیر ہو گیا۔
ایسی مثال پہلے ایشیاء میں صرف جاپان کے کامی کاری جنگی پائلٹوں نے پیش کی‘ جو دوسری جنگِ عظیم کے دوران وطن پر قربان ہو گئے۔ان پائلٹوں نے اتحادی اورا مریکی بحری بیڑوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ہمارا پائلٹ یونس حسن شہید بھی کسی سے کم نہ تھا۔ہلواڑہ ایئرپورٹ نذر ِآتش کر کے بمباری کے ذریعے آگ میں دھکیل کر وہ اپنے ہمراہی پائلٹ رفیقی کے ساتھ محفوظ طور پر بھارتی فضاؤں سے نکل سکتا تھا‘ مگر مشن مکمل کرنے کے فوراً بعد اُسے بم اور بارود سے بھرے دشمن کے جہاز لائن بنا کر اُڑنے کے لیے تیار نظر آئے۔ اس کی غیرت اور وفاجاگ اُٹھی اور یونس حسن شہید کے مقدس خون نے دشمن کا جنگی جنون بم سے اُڑا دیا۔یہ ایک ایسا بم تھا جس کے اوپر بیٹھ کر جیٹ سپیڈ کے ساتھ یونس شہید نے اپنا طیارہ نیچے کھڑے جہازوں میں دے مارا۔
ہماری قوم کا ہر طبقہ وفا کا پُتلا ہے۔پاکستان کے سیاسی کارکن اپنے قائدِ عوام پر قربان ہوئے۔ ہمارے شہری بھڑکتی آگ لگی دیکھ لیں تو اُسے آتش نمرود سمجھ کر کود پڑتے ہیں ۔مگر اس قوم کے سیاسی منیجروں کو کیا سونگھ گیا ہے؟ اُن خادموں اور مخدوموں سے بہتر تو پتھر ہیں یا اُس کے صنم جو جھوٹا لارا لپا تو نہیں لگاتے۔انہیں ہلاؤ، دھکا لگاؤ تو چل پڑتے ہیں یا لُڑھک جاتے ہیں ۔
ستم گر سردی والا، دسمبر 2014ء گواہ ہے۔ پنجاب میں حکمرانوں سمیت اقتدار کے پجاریوں کے دل اور کلیجے سرد جہنم بن چکے ہیں۔میڈیا ہر روز ٹھٹھرے ہوئے غریبوں کا احتجاج دکھاتا ہے۔ کبھی فیصل آباد، کسی دن پنڈی میں۔ کبھی اسلام آباد میں یا گوجرانوالہ‘ تختِ لاہور کے سائے میں یا شاہینوں کے شہر سرگودھا میں۔ سرائیکی وسیب کی بیٹیاں یا پھر پوٹھوہار کی مائیں۔ ملک کا کوئی شہر یا قصبہ ایسا باقی نہیں بچا، جہاں سلنڈر گیس کی قیمت والی ڈکیتی پر ڈکیتی نما مہنگائی اور سوئی گیس کی بند سپلائی کے خلاف احتجاج نہیں ہو رہا ۔
خواتین اس ملک کی آبادی کا تقریباََ 52فیصد اکثریتی حصہ ہیں۔ بچے اور نوجوان کُل آبادی کا 65فیصد ۔یعنی پاکستان کے عوام کی دو تہائی اکثریت پر مشتمل یہ دونوں طبقے سڑکوں پر ہیں۔ عورتوں کے ہاتھوں میں خالی ہانڈیاں، ٹھنڈے تَوے جبکہ بچوں کے ہاتھوں میں آگ جلانے والی لکڑیاں ہیں ۔یہ ایسا خُفیہ احتجاج نہیں جس کی خبر سیاسی لیڈروں کو آج کا وکالت نامہ پہنچائے گا۔کبھی جڑانوالا روڈ بند ہوتی ہے ،کبھی کبیر والا چوک میں احتجاج۔ کیا آپ کو معلوم ہے ؟ مہنگائی اور چور بازاری کی سر پر ستی کرنے والے حکمرانوں نے کبھی سوچا؟ مہنگائی کا تحفظ کرنے والی بیورو کریسی نے کبھی احساس کیاکہ عوام کس عذاب سے تنگ آ کر سڑک پر ہیں؟ لیکن اس بات سے بھی پہلے سوچنے کی ایک ضروری بات سن لیں!! وہ بات یہ ہے کہ عوام سڑکوں پر ہیں مگر اُن کے لیڈر کہاں ہیں؟ عوام کو طاقت کا سر چشمہ کہنے والے راہ نما کیوں چھپ کر بیٹھے ہیں؟
درباری پروٹوکول کے ساتھ کھیل کے میدانوں میں۔ سرکاری پروٹوکول کے سائے میں اکیلے نہ جانا... ہمیں چھوڑ کر تم... لہرا لہرا کر اور لہک لہک کر گانے والے۔ پھرگردن جھکا کر داد وصول کرنے والے خادم کدھر گئے؟ 
کون نہیں جانتا یہی غریب عوام انقلاب کا ایندھن ہیں ۔یہی عورتیں اور بچے تبدیلی کا اصل پہیہ ۔انہی خواتین کو شریعت کاسِمبل بنانے کے دعوے کیے جاتے ہیں ۔ہر طرح کا سودا فروش گروہ ا نہی لوگوں کو طاقت کہہ کر اپنے کھوٹے سِکّے کیش کرواتا ہے۔سیاسی جماعتیں‘ دایاں بازو،مذہب کے نام پر بننے والے اقتداری گروہ‘ انسانی حقوق کی این جی اوز‘ بنیادی حقوق کے ٹھیکے دار‘ صارفین کی سوسائٹیاں اور اُن غریب لوگوں کے ووٹوں پر انسان سے شیر کا روپ دھارنے والے، سرخ ،سبز،نیلے،پیلے ،کالے، دھاری دار چمکیلے اور رنگیلے پرچم لہرا کر پبلک کو رو رو کر خطاب کرنے والے۔ زبان، علاقے، فرقے، قومیت سمیت ہر طرح کی عصبیت پر دکان چمکانے والے۔ عوام کی زندگی آسان بنانے کے لیے جدو جہد کے دعویدار وں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو عوام کی طرف سے شروع اس اصلی احتجاج کی قیادت کرنے باہر نکلا ہو۔ ظلم کی نگری میں غریب اکیلے سِسک رہے ہیں۔
کچھ سال پہلے آبپارہ کمیونٹی سینٹر میں سوال ہوا کہ پاکستان کے لوگوں کے لیے شرعی لیڈر اچھا یا سوشلسٹ ؟میں نے جو جواب دیا اُسے جانے دیں ۔آج دنیا کو جنت ، گڑھی شاہو کو پیرس بنانے کے دعویدار ۔ ان میں سے کوئی گروہ تو باہر نکلے ؟ہرجتھہ اپنے ایجنڈے کی مارکیٹنگ کو انقلاب سمجھتا ہے۔ اصل فریق یعنی غریب ،محنت کش، مزدور یا جمہوری سرکار کی گیس گردی کے متاثرین کا ایجنڈا بالکل علیحدہ ہے۔ یہ ا یجنڈا ہے تھوڑی سی رعایت یا سانس لینے کے لیے ہلکا سا ریلیف۔ باقی ہر طرح اور ہر رنگ کے لیڈروں کا ایجنڈا اپنا اپنا۔ اپنا اپنا سے مُراد کبھی ذاتی ہے کبھی بین الاقوامی نمبر دار کا تفویض کردہ۔
ہر کوئی کہتا ہے قوم متحد ہو گئی ۔ملک کے سب سے بڑے دانشور ، وہی اپنے وزیر اعظم نے تو دانش کا آخری موتی پھینکا۔ اے پی سی کے بعدکل سے پاکستان بدل جائے گا!میرا دل چاہامیںبدلے ہوئے پاکستان میں آ نکھ کھولنے کے لیے وزیراعظم سے کہوں اکیلے نہ جانا... ہمیں چھوڑ کر تم... لیکن اگلے روز پنجاب کے 21 شہروں میں حکومت کی گیس گردی کے خلاف عورتیں اور بچے سڑکوں پرآ گئے ۔ دوسرے دن وہاڑی اور سرگودھا میں بجٹ بنانے والوں نے سریاا ور جنگلہ تو بچا لیا مگر مزیدبچے مار دیئے۔تیسرے دن خبر آئی اوگرا کا دایاں ہاتھ پیچھے مروڑ کر بائیں ٹانگ کے ساتھ‘ اور بایاں ہاتھ کھینچ کر دائیں ٹانگ کے ساتھ باندھ دیا گیا ہے۔ سرکاری دانش کے مہاتما یعنی چیف ایگزیکٹو نے ایک اور نوٹس لے لیا۔اپنے عقل بردار وزیرِ پیٹرولیم کو بلایا اوریوں سوال داغا... یہ کیا ہو رہا ہے؟؟... بھائی یہ کیا ہو رہا ہے؟؟ وزیرِ اعظم کی تقریر سے پہلے میں نے سینیٹ میںکہا جمہوریت نے سال کے آخری دن پیٹرولیم مصنوعات پر 22فیصد مہنگائی کا گفٹ قوم کو دیا ہے۔ مجھے پتہ تھا اپوزیشن مفاہمت کر کے سینیٹ میں آئی ہے۔ میرے غیر مفاہمتی سوال پر مفاہمتیوں کے چہرے دیکھنے والے تھے۔ چیئرمین نے کہا، تشریف رکھیے کَل بات ہو گی۔ جواب دیا اس حکومت کی کون سی کَل سیدھی ہے؟ وزیرِ خزانہ موجود ہے‘ وزیرِ اعظم اِسے کیوں نہیں کہتے مہنگائی واپس لو۔یہ دستوری، مذہبی ،علاقائی ایجنڈے دھرتی ماں کو نہ امن دے سکے‘ نہ روزگار‘ تعلیم فراہم کرسکے‘ نہ صحت مہیا کی ۔یہ دھرتی ماں بھی کیا یاد رکھے گی؟ اس کے بیٹے اس سے کیا سلوک کر تے ہیں ؟یہ بیٹے مدر ڈے پر ٹی وی پر میک اپ کروا کر بھر پور ایکٹنگ فرماتے ہیں۔ مارننگ شو سے ٹاک شو تک آ نسو ؤںکا سیلابی نالہ لئی بہایا جاتا ہے۔ مگر گھروں میں بیٹھی ہوئی بیچاری مائیں حُسنِ سلوک کی منتظر رہتی ہیں۔ اکثر مائیں اپنے بیٹوں کی شکل دیکھنے کے لیے بھی ترستی ہیں۔ بیٹوں کی ستائی ہوئی اس دھرتی ماں کی ایک ماں جائی نے اصلی آنسو نکا ل دینے والی حقیقت یوں بیان کی ؎
وہ کُتّا پال سکتا ہے، مگر ماں بوجھ لگتی ہے 
اُسے کتے نے کیا کچھ بھی وفاداری نہ سکھلائی؟
اب تو جی چاہتا ہے بُلھے شاہ کو یاد کر کے آ نسو بہائیں‘ جس نے اورنگزیب عالمگیر کے زمانے میں ہی کہہ دیا تھا ''بازی لَے گئے کُتے‘‘۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں