عدل، برابری، مساوات سب رونقیں وہاں ہوتی ہیں جہاں انصاف ہو۔ عدل کے بجائے مفاہمت یا مینجمنٹ نظریہ ضرورت ہے، انصاف نہیں۔ مغرب کی تین سو سالہ بالادستی کی واحد وجہ قانون کا نفاذہے۔ اگرکوئی چا ہے تو امریکہ ، برطانیہ ، یورپی یونین، آسٹریلیا یا کینیڈا میں شہریت حاصل کیے بغیر ساری زندگی رہ سکتا ہے مگر جس نے قانون توڑا ،ٹیکس چوری کی ،کرپشن یا دادا گیری کی تو وہ ایک آدھ بار تو بچ سکتا ہے اور اس کا یہ بچنا بھی معجزہ ہے۔۔۔۔ پھر بھی انصاف کا شکنجہ اُس کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔
2014ء کا سال ویسا ہی تھا جیسا 14اگست 1947ء یا اُس کے بعد گزرنے والے 66 برس۔ قوموں کا سفرکبھی خوشی کبھی غم کا سفر ہوتاہے لیکن سانحے اور صدمے بدقسمت ملکوں کے حصّے میں آتے ہیں۔ پاک سر زمین کے بَخت بھی ایسے ہی ہیں۔
نئے سال کا پہلا مہینہ ہے ، اس لیے سال کا آغاز تو توقعات سے ہونا چاہیے۔ قوم کو توقع ہے کہ اُسے نئے سال میں سستا یا مہنگا انصاف ضرور ملے گا۔ مہنگا کا لفظ میں نے اس لیے استعمال کیا کہ پاکستان میں موت کے سوا زندہ رہنے کا سارا سامان بہت مہنگاہو چکا ہے۔ یوں گزرا ہوا2014 ء کا سال ویسا ہی تھا جیسا 14اگست1947ء سے لے کر ہر گزشتہ سال تھا۔۔۔۔۔سٹیٹس کو سے بھر پور!
اس سال کے پہلے چار دنوں میں چند غور طلب باتیں سامنے آئیں ۔ آئیے آپ سے شیئرکر لیں:
اول : سانحہ پشاور وحشت و دہشت کی ظلم بھری داستان ہے۔ اس کا فائدہ کس کو ہوا؟
دوم: اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ مہاجرین کے نام پر جتنے غیر قانونی افغانی تارکین ِ وطن پاکستان میں مقیم ہیں اتنے ہی ہندوستان کے قانونی تارکینِ وطن مختلف پروجیکٹس کے نام پر افغانستان میں بیٹھے ہیں۔
سوم: 16دسمبرکے سانحے کے بعد فوج اور آرمی چیف قومی اتحاد پر خوش ہوئے۔ نئے سال میں وہی راحیل شریف کہنے پر مجبورکہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے قومی مفاہمت خراب نہ کی جائے۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں کیا ہیں؟
چہارم: اہم معاملہ سانحہ پشاور کے بعد بھارت کی طرف سے ایل او سی اور ہماری مشرقی سرحدوں پراشتعال کے بغیرفائرنگ اور دو پاکستانی اہلکاروں کی شہادت کی تازہ واردات ہے۔کیا یہ سارا کچھ بلا وجہ ہو رہا ہے ؟ یا کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے؟
پنجم: اہم سوال یہ ہے کہ پہلے جھگڑالو عورتوں کی طرح طعنے اورپھر سپیڈی ٹرائل کی عدالتوں کی مخالفت کی رسی کون ہلا رہاتھا ؟
ششم : خیبر پختونخوا کا صوبہ اور فاٹا آگ اور خون میں نہا رہا ہے جبکہ سپیڈی ٹرائل کی عدالتوں کے خلاف ساری آوازیں پنجاب سے کیوںاُٹھتی رہیں ؟کراچی سے اس موضوع پر بولنے والا ایڈونچرسٹ نہ نیا سندھی ہے اور نہ پُرانا، اس کا تعلق آزاد کشمیر کے علاقے پونچھ سے ہے مگر یہ بھارتی حملوں کے خلاف کبھی نہیں بولتا۔
ہفتم: اے پی سی در اے پی سی میٹنگ کے بعد ایک اور میٹنگ اور پھر میٹنگ ، روڈ میپ بنانے کے لیے ہے یاقوم کے اجتماعی شعورکو اُلو بنانے کے لیے؟
ہشتم: نہ نہ کرتے بھی وزیراعظم پندرہ کمیٹیاں بنا چکے ہیں۔ اگر ہرکمیٹی مہینے میں تین اجلاس کرے تو مسلح افواج ،انٹیلی جنس اداروں اور ایکشن ذمہ داروں کو دن رات کمیٹی روم سے نکلنے کا موقع ہی نہیں ملے گا۔ یہ روڈ میپ ہے یا روڈ بلاک ؟
نہم : وزیراعظم سینٹ میں پی ٹی وی والی تقریر کے مسودے میں سے منتخب جملے پڑھ کر دہراتے رہے۔ ایسی تقریریں قوم کو بریف کرنے کے لیے تھی یا ذہنوں کو ڈی بریف کرنے کے لیے؟
دہم: نیا سال نئے اجالوں کے بجائے سکولوں کے کلاس رومز میں لگے تالوں کے ساتھ استقبال کے لیے حاضر ہے۔خوفزدہ ہوکرکو ن سا بہادرانہ پلان بنایا جا سکتا ہے؟
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ گزشتہ حکومت کی دوسری آل پارٹیزکانفرنس تھی جس کی نظامت کا مائیک میرے ہاتھ میں تھا۔ قرارداد کا مرحلہ آیا توعمران خان نے اپنے ساتھیوں کے ٹَف ٹائم کے باوجود کھلے دل کا مظاہرہ کیا۔ باقی سیاسی جماعتیں بھی متفق ہوئیں کہ مشترکہ اعلامیہ میں کیا لکھا جائے ۔ تقریباً سات گھنٹے بعد وزیراعظم ہاؤس کے دربار ہال میں کھانے کی میزسجی جہاں میں نے اُس وقت کے اصلی اپوزیشن لیڈر اور موجودہ وزیراعظم سے پوچھا: آپ آئینی عدالت کے قیام اور دورِ آمریت کی یادگار۔۔۔۔ نیب۔۔۔۔ کو ختم کرنے سے کیوں ہچکچاتے ہیں؟ میاں نوازشریف کی دوسری طرف اسحاق ڈار بیٹھے تھے۔ میاں صاحب نے ان سے کہا بابر صاحب کی بات سُنیں۔ میں نے کہا : ''میاں صاحب سارے نس جان گے ، اَسی وکالتاں وچ پھنس جاں گے تے تُسی عدالتاں اچ‘‘ ( میاں صاحب سارے بھاگ جائیں گے، میں وکالت میں پھنس جاؤں گا اور آپ عدالت میں۔)
نواز شریف صاحب نے پوری توجہ سے ساری بات سُنی اورکہا: میں آپ، چودھری نثار اور اسحاق ڈارکو لاہور بلاؤںگا، اس مسئلے کا حل نکالتے ہیں۔ توقع کے عین مطابق ان کا یہ وعدہ بھی تین ماہ میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے والا ثابت ہوا ۔ آج دورِ آمریت کی یادیں اپنی جگہ موجود ہیں لیکن نئی جمہوریت نہ رویہ تبدیل کر سکی نہ ہی قانون۔
قوم کے لیے یہ وقت تنازعات میں جانے کا نہیں لیکن میرے پاس براہ راست تفصیلات اور تازہ ترین کاغذات موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کِس طرح ہمارے سیاست کار کتنی سہولت کے ساتھ ایک کمرے سے نکل کر دوسرے کمرے تک اپنا ذہن اور بستر بدل دیتے ہیں۔ ایک صاحب آج کل سپیڈی جسٹس کے خلاف ڈٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اندر سے مطالبہ یہ تھا کہ میرے متبادل کاروبار پر لگے داغ، حکومت دھو ڈالے۔ اور تو اور ''بِلّے‘‘ والی تقریر بھی فرمائشی تھی جس نے سپیڈی ٹرائل قانون میں گرفتاری کے خوف میں مبتلا دو پُرانے دوستوں کو اکٹھا کروایا ۔ منیر نیازی سچ کہہ گئے ہیں:
جو باتیں کہہ نہیں سکتا وہ ساری فرض کرتا ہوں
چلو میں فرض کرتا ہوں مجھے تم سے محبت ہے
یہ جاننا آپ کا حق ہے کہ سپیڈی ٹرائل پر اصل کھیل کیا تھا؟کھلاڑی سب ٹیموں سے لیے گئے مگر تاک تاک کر۔ فوج کو مطمئن کرنے کے لیے ایک عدد ہومیو پیتھک قانون تیارتھا جس کی زبان ڈھیلی ڈھالی اورگرفت نہ ہونے کے برابر۔ایسا قانون جِسے کوئی بھی عدالت آئین کے آرٹیکل 4,8,9,10-A سے اور25 میں دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم قراردے کر کوڑے دان میں پھینک دیتی۔ برائے نام اپوزیشن اور بے نام حکومت دونوںکہتے ہم نے تو قانون بنا دیا تھا، یہ عدلیہ بہت بُری ہے، اس نے قانون اُڑا دیا ۔ اس لیے جنہوں نے پہلے دن آئینی ترمیم سے اتفاق کیا وہ ایک ہفتے کے اندر اندر آئینی ترمیم سے بھاگتے نظر آئے۔ لیکن فوج نے مضبوط پاؤں رکھااوراتفاقِ رائے ہوگیا۔ فارمولہ دیوار پر لکھا ہے۔ بڑ ھک بازی کے ذریعے بدنامی کم کرو ۔ جنگی زبان بول کر نظریں نیچی رکھ لو اور تجارتی حکمرانی اور کاروباری میٹنگیں جاری رکھو۔ میں اسی لیے مفاہمت کو نظریہ ضرورت اورمنافقت کہتا ہوں ۔ایسی ہی مفاہمت پر کسی شاعر نے یوں تبصرہ کیا ہے:
عجیب تیری سیاست، عجیب تیرا نظام
یزید سے بھی مراسم، حسین ؑ کو بھی سلام
مفاداتی مفاہمت کا شور مچے تو اس میں سے کئی پرمٹ جنم لیتے ہیں۔ بہت سارے ٹھیکے اور منافع بخش تعیناتیاں بھی۔کراچی میں مجھے وکیلوں کے چارگروپوں نے علیحدہ علیحدہ چائے پر مدعوکیا جس میں متحدہ لائر فورم بھی شامل تھا۔ دیہاتی سندھ کے دو تین مفاہمتی مگر جدید وڈیرے ایسے ہیں جن کے گھرکے نابالغوں کو چھوڑکر باقی پورا پورا خاندان اہم ترین عہدوں پر بیٹھا ہوا ہے۔ غریبوںکی بستیاں تالاب سائزکے گٹر بن چکی ہیں۔ صحت کی سہولتوں اور سکولوں کی حالت کیا ہے؟ آڈیٹر جنرل سندھ کی 450 صفحے والی رپورٹ پڑھ لیں۔ یہ چشم کشا نہیں شرمندہ کر دینے والی رپورٹ ہے۔ اور انصاف کسے کہتے ہیں؟