ہاتھی کے دانت اور پاکستانی جمہوریت کے منصوبے ایک جیسے ہیں۔کھانے کے اور، دکھانے کے اور۔ آپ یہ مت سمجھ لیں کہ آج میں وزیراعظم کے اثاثوں پر بات کروں گا جن میں سالانہ اضافہ اربوں کے حساب سے ہوتا ہے۔ ارب سے مراد ہمارے دوست عرب نہیںہیں۔ ان عربوں کا نظامِ ِحکومت ایسا ہے جہاں بانس اور بانسری دونوں کی گنجائش نہیں۔ اثاثوں کے گوشوارے جمع کروانے والا بانس تب کھڑا ہوتا ہے جب پارلیمنٹ اور الیکشن کی بانسری موجود ہو۔
بظاہر نواز حکومت 20 نکاتی قومی ایکشن پلان پر مصروف نظر آتی ہے جس سے یہ غلط فہمی پیدا ہونے کا قوی امکان ہے کہ کاروباری حکمران کاروبار کے علاوہ کسی دوسرے کام میں بھی سنجیدہ ہو سکتے ہیں۔ شہرِ اقتدارکی اصل خبر یوں ہے، اس غلط فہمی کو صرف خوش فہمی سمجھا جائے۔ آج کل حکومت کی میز پر صرف اور صرف ایک ایکشن پلان موجودہے جس کے بارے میں پوری سنجیدگی سے میٹنگ اور فیصلے ہوئے ہیں، مگر یہ ایکشن پلان 20 نکاتی نہیں بلکہ یک نکاتی ہے ، اس لیے صرف ایک نقطے کے ارد گرد گھومتا ہے۔ اس پلان کے مطابق حکومت نے اگلے ساٹھ دن تک خاموش رہنے کا فیصلہ کیا ۔ پلان کی رُو سے حکومت شادی کے جھوٹے وعدوں کی طرح دھرنے والوں کے ساتھ کمیشن کمیشن کی بازی کھیلے گی۔ یہ وکالت نامہ 12جنوری کو آپ کے ہاتھوں میں ہے ۔ بیس دن کے اندر یعنی 12فروری تک ایوان ِ بالا کے الیکشن کا شیڈول قوم کے ہاتھوں میں ہو گا اور پھر 12مارچ تک سینٹ میں ن لیگ کا چیئر مین اور ڈپٹی چیئرمین بیٹھ جائیں گے۔ اس طرح نواز حکومت کے پاس اقتدار کی تین ٹانگوں میں سے ڈھائی عدد ٹانگیں مکمل ہو سکتی ہیں۔ ملک کے دستور کی دو علیحدہ علیحدہ شقیں بلدیاتی اداروں کو نظامِ حکومت کی تیسری ٹانگ کہتی ہیں ، لیکن ہماری تاجرانہ جمہوریت کی عادتیں آسٹریلیا کے قومی جانور کینگرو جیسی ہیں جس کو دُم پر کھڑا ہونے کا بڑا شوق ہے۔ اسی لیے کینگرو دُم کو تیسری ٹانگ ہی سمجھتا ہے جبکہ تجارتی ڈیمو کریسی بلدیات کے جمہوری اور آئینی اداروں کو آدھی ٹانگ جتنی اہمیت دینے پر بھی تیار نہیں۔
آج نجانے کیوں یادِ رفتگان کی طرح الیکشن کمیشن کی یاد آئی ۔ ساتھ ہی پوٹھوہار کے'' باوا بگّے ‘‘ کی ہٹی کا قصہ بھی۔ باوا بگا بھی تاجر تھا اور پورے موڑہ ، نگیال میں صرف ایک ہٹی ۔ ایک مائی باوا بگّے کی دکان پر پہنچی جس کا بیٹا بنگال سے چھٹی آیا تھا۔ مائی نے ہانڈی پکانے کے لیے باوے بگّے سے کہا کہ کوئی بھی سبزی دے دو ۔ باوا بولا سبزی ابھی ختم ہوئی ہے۔ مائی نے کہا پھر دال ،کہنے لگا وہ کل سے لا نہیں سکا۔ مائی نے کہا دو انڈے دے دو ۔ باوا کہنے لگا مرغیوں کے کُڑک بیٹھنے کا موسم ہے۔ مائی عاجز ہو کر بولی گُڑ اور پتی ہی دے دو، دودھ گرم کر کے بیٹے کو روٹی کھلادوں گی۔ باوا کہنے لگا دونوں ڈبے خالی ہیں ۔ باوے بگّے نے ہر سودے کے بعد کہا یہ ختم ہو گیا باقی سب کچھ ہے۔ اس جمہوریت کے پاس بھی عوام کو دینے کے لیے ریلیف کے علاوہ باقی سب کچھ موجود ہے۔
پچھلے دو سال میںدو عدد بھاری بھرکم احتجاجی تحریکوں کو بھگتانے کے ساتھ ساتھ دو درجن شہریوں کی لاشیں بھی دفنائی گئیں۔ اب حکومت کا خیال ہے ، ان کے چیلنجز رخصت ہوئے؛ البتہ چھوٹے چیلنجز میں سے ایک چیلنج آنے والے 60 دن کا وقت گزارنا ہے۔ اس کے لیے معتبر اداروں اور پارلیمنٹ سے باہر اصلی اپوزیشن کو رابطے اور مذاکرات کے ذریعے مصروف رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ؛ البتہ یہ طے ہے کہ ن لیگ کی سرکار کسی قیمت پر دھاندلی کے الزام کے نتیجے میں ایک نشست بھی سرنڈر نہیں کرے گی۔ باقی بچتا ہے دوسرا محاذ ۔۔۔۔۔اس محاذ کو حکومت کے پسندیدہ مگر عادی پٹیشنر آئینی پٹیشنوں کے ذریعے سنبھا لیں گے۔ حکومت کا خیال ہے، اگر کسی عدالت نے موجودہ ترامیم میں مداخلت کی تو غصے کا رُخ حکومت کی طرف نہیں ہوگا بلکہ اس کا لازمی نشانہ عدلیہ ہوگی۔ سابق سیاسی چیف جسٹس آج کل اسی کام میں مصروف ہیں۔ پہلے انہوں نے ایسی ہی کاغذی کارروائی کے ذریعے براہ راست وزیراعظم نواز شریف کو فائدہ پہنچایا ۔ ان کا خیال ہے ایسی حرکتوں کے نتیجے میں وہ سیاست کے متعلقہ کھلاڑی بن جائیں گے‘ لیکن سیاست کا اناڑی یہ نہیں جانتا کہ سیاست کے سینے میں دل کے بجائے بِل ہوتا ہے۔
حکومت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ مشورے دینے والوں کی خوشامد پرستی اور بے عملی ہے۔ موجودہ نظامِ ریاست کو میں نے اندر سے بھی اچھی طرح دیکھا اور پرکھابھی۔ اور سیاستدان (ماسوائے چند کے) خدا کی پناہ ۔ میں نے یہ کیوں کہا۔۔۔۔؟ ایک واقعہ سُن لیجیے ، بات واضح ہو جائے گی۔ یہ 2007ء کاسال تھا۔18 اکتوبر کے خون آشام دن شہید بے نظیر بھٹو پاکستان پہنچ چکی تھیں ۔ سب متعلقہ لوگوں کو معلوم تھا ، میں اور بی بی کئی دنوں سے انتخابی مہم کی نوک پلک درست کر رہے ہیں۔ اسی دوران محترمہ شہید نے پارٹی کی مرکزی مجلسِ عاملہ کا دو روزہ اجلاس طلب کر لیا۔ بلاول ہاؤس میں بی بی کے دفترکے ساتھ کھلے کمرے میں پارٹی سی ای سی کا میز سجا تھا۔ پچھلے دور کی تقریباََ90 فیصد کابینہ سنٹرل ورکنگ کمیٹی کی ممبر تھی اور میٹنگ میں موجود بھی۔ انتہائی سینئر دوستوں کی خاصی تعداد نے مجھ سے درخواست کی ، الیکشن سر پر ہے، آپ بی بی سے اپیل کریں کہ وہ میٹنگ کا ایک دن کم کر دیں، ہمیں گھروں کو جانے دیں ورنہ ہماری مہم متاثر ہوگی۔ تھوڑی دیر بعد بی بی میٹنگ میں پہنچی تو میں نے کہا دوستوں کی اکثریت کا خیال ہے سی ای سی کی میٹنگ کا دورانیہ دوکے بجائے ایک دن کر دیا جائے۔ پھر جوکچھ ہوا وہ آپ کے لیے زور دار جھٹکا ہوگا اس لیے اسے سُننے کی تیاری کر لیں۔۔۔۔۔ وہ یہ کہ مجھے بی بی سے سفارش کا کہنے والے بڑے لیڈر وں نے بیک آوازکہا ، اِن کوگھر جانے کی جلدی ہے ، ہم تو دو دن کیا دو مہینے میٹنگ چلانے کو تیار ہیں۔
ن لیگ کابینہ میں خواہ وہ کچن والی ہو یا ایچکن والی کوئی ایک بھی مائی کا لال ایسا نہیں جو ظلِ الہٰی کے سامنے جی جناب جی اور جی سر جی کے علاوہ کوئی دوسرا لفظ کہہ سکے۔ یہ پاکستان کے لوگوں کی بہت بڑی بد بختی ہے کہ ان حالات میں بھی حکمران ان سیاسی دوستوں کو بھی نہیں سنبھال سکے جنہوں نے قومی یکجہتی کی خاطر تین دن آل پارٹیزکانفرنسوں میں مشترکہ موقف کا ساتھ دیا۔ میں قابلِ یقین اطلاعات کی بنیاد پر کُھل کر کہہ رہا ہوںکہ کابینہ قومی امور پر بُری طرح سے تقسیم ہے۔کابینہ کے ن لیگی مایوس وزراء نجی محفلوں میں اپنے جن خیالات کا اظہار کرتے ہیں اس کے لیے انہیں ہر مرتبہ پنجابی زبان بولنی پڑتی ہے ۔ ایک وزیر نے تو حدکر دی ، پارلیمنٹ کے پچھلے سیشن میں موصوف نے درجن بھر لوگوں کی موجودگی میں یہ کہا: بھا جی! ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ 100کا نوٹ آئے تو وہ بھی مالکوں کو معلوم ہوتا ہے۔ ہم سے ہاتھ ملائیں ، گلے ملیں اور دل کو سکون دینے کے لیے فوٹو بنوا لیں۔
آپ خود فیصلہ فر ما لیں ، جو لوگ ایکشن پلان نمبر 2 میں اس قدر مصروف اور غرق ہیں ، ان کے پاس 20 نکاتی قومی ایکشن پلان کے لیے وقت کہاں؟