کمپنی بہادر کی حکومت

اــس وقت بھی صرف ایسے لوگ ہی خوش تھے جو کمپنی بہادر کے تنخواہ دار ملازم تھے۔
باقی سارا ہندوستان کمپنی بہادر کے طرزِ حکومت سے پریشان تھا اور بدحال بھی۔ کمپنی بہادر کے ملازموں کے دو گروہ تھے ۔ ایک وہ جو ایسٹ انڈیا کمپنی سے باقاعدہ تنخواہ وصول کرتا تھا ۔جبکہ دوسرا وہ طبقہ تھا جو کمپنی بہادر سے تمغے، انعامات، اعزازات، درباری عہدے نکالنے کا ماہر تھا ۔ جبکہ صاحب بہادر کا قصیدہ سنا کر جو زمین کا ٹکڑا ملتا ،اسے تب جاگیر کہا جاتاتھا ۔اب اسے پلاٹ کہتے ہیں۔
کمپنی ،کمپنی ہوتی ہے دیسی ہو یا فرنگی۔ اگر پرکھنے کا یہ معیارہو توآج بھی پاکستان کا طرزِ حکمرانی کمپنی بہادر والا ہی ہے‘ جس کا انگریزی نام ایسٹ انڈیا کمپنی تھا۔ یہ کمپنی لچے لفنگے، بھگوڑے، مچھندر، ٹیکس چور، گنڈ کپ اور بدقماش گوروں نے تشکیل دی۔ جس کے پاس لوٹے ہوئے وسائل کا ڈھیر لگا ہوا تھا اورتا جِ برطانیہ کی سرپرستی اس کے علاوہ۔ راولپنڈی کا وہ بدبخت باغ جو ہمارے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کا مقتل و شہادت گاہ ہے‘ یہ باغ کبھی کمپنی باغ کہلاتا تھا۔ شہیدِملت لیاقت علی کے قتل کا نہ کوئی ملزم پکڑا گیا‘ نہ تفتیش ہوئی‘ نہ ٹرائل‘ لیکن کمپنی باغ کا نام لیاقت باغ ہو گیا۔ آزادی کے 67 سالوں میں پاکستان کو اکثر رنگیلے حکمران ملے‘ جن کی حکمرا نی کی تاریخ رنگ برنگی ہے‘ جس میں عوام کے لئے پِدّی کا شوربہ اور حکمرانوں کے لئے بٹیر مصالحہ۔ 
آج کا دور ہی دیکھ لیں۔ وزیرِخارجہ ایک نہیں تین ہیں جن میں سے پہلا خود وزیرِ اعظم۔ اس سے اگر کچھ خارجی امور بچ جائیں تو پھر دو ریٹائرڈ سینئر سِٹیزن حاضر ہیں‘ جن کے آپس کے تعلقات بہترین مشرقی سوکنوں والے ہیں۔ دوسری وزارتِ دفاع۔ وزیرِاعظم نے کہا ہم جنگ لڑ رہے ہیں۔یہ دنیا کی پہلی جنگ ہے جس میں دفاعی وزیر کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔ تیسرا... قانون کی حکمرانی کی صدی میں پاکستان وہ پہلی اور آخری ایٹمی ریاست ہے جس میں دو سال بعد بھی وزیرِ قانون موجود نہیں۔ یہ سب سے اونچے درجے پر گڈ گورننس کا ماڈل ہے۔ اس سے تھوڑا سا نیچے آیئے... جن تین وزارتوں نے قوم کے ہر مرد، خاتون، بزر گ اور بچے کو پٹرول کا بھکاری یا لمبی لائن کا کھلاڑی بنا دیا‘ ان میں سے پٹرول کی بلیک مارکیٹنگ کا ذمہ دار وفاقی سیکرٹری بھی وزیر کی طرح سے صاف بچایا جا رہا ہے‘ جبکہ سزا ایڈیشنل سیکرٹری کو دی گئی ۔وہ بھی نا کردہ گناہ کے لئے۔وہ وفاقی سیکرٹری جس کی وجہ سے وزیرِ پٹرولیم اتنا طاقتور ہواکہ بحران پیدا کر کے ایک وزارتی گروپ کو پاکستان میں تیل کی بلیک مارکیٹ پیدا کرنے کا موقع فراہم کرسکے۔ جس وفاقی سیکرٹری کی بات میں کر رہا ہوں وہ ایک وفاقی وزیر کا بھانجا ہے۔ 
اسلامی جمہوریت کے نام پر خاندانی کمپنی بہادر کے لئے کاروبار چلانے والے لوگ دیکھ لیں۔ آدھے سے زیادہ اس ڈکٹیٹر کے گورنر، وفاقی وزیر، صوبائی عہدیدار اورپارلیمنٹرین تھے جو شریف حکومت کا ٹارگٹ نمبرایک ہے۔ یادش بخیر... جی ہاں آپ درست سمجھے میں۔ اسی مشرف ڈکٹیٹر کی بات کر رہا ہوں جسے نِجی محفلوں میں شریف حکومت کئی بار پھانسی گھاٹ پہنچا چکی ہے۔ سرکاری وکیلوں کے میلے میںسے ایک صاحبِ فراست نے مجھے ایسے کہانی سنائی جسے بغدادیا پشاور والے قصہ خوانی بازار کے ''داستان گو‘‘ سنیں تو داستان گوئی سے پکّی توبہ کر لیں۔ 
کمپنی بہادر میں دوسرا گروہ تاجروں کا ہے۔ پاکستانی ریاست کی فیصلہ سازی میں ان کے اثرو رسوخ کے چند نمونے ملاحظہ ہوں۔ نمبر ایک‘ ہر سرکاری دورے میں وزیرِ اعظم ہائوس کوشش کرتا ہے کہ کوئی ایسا دماغ بیرونِ ملک نہ جا سکے جس میں نجی کاروبار کے منصوبوں کے علاوہ قوم، ملک ،سلطنت اور عوام کے لئے کوئی خیال پیدا ہو سکے۔ شارٹ ٹرم میگا پروجیکٹ کے ماہرین جہازکی اگلی سیٹوں پر بیٹھے نظر آتے ہیں۔ ایک گروہ وہ ہے جو کمپنیوں سے انگوٹھے سمیت شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی کے نشان بنا بنا کر گفتگو کرتا ہے۔ ایک گروپ اور بھی ہے جس کا نہ ریاستِ پاکستان سے کوئی تعلق ہے نہ حکومتِ پاکستان میں کوئی عہدہ‘ نہ وہ سرکاری ملازم ہے‘ نہ اس کا رکن کسی اسمبلی یا پارلیمنٹ کا ممبر ۔ اس گروپ کی ذمہ داری سرکار کی جانب سے بیرونِ ملک معاہدوں پر بحیثیت فریق دستخط کرنا ہے۔ اب شاید آپ سمجھ جائیں کہ کمپنی بہادر میں وزیرِ خارجہ، وزیرِ قانون ، وزیرِ دِفاع کی گنجائش کیوں نہیں؟ اور ریاست کے یہ تینوں اہم ترین عہدے کمپنی بہادر کے چِیف ایگزیکٹو کی جیب میں کیوں پڑے ہیں ؟ کمپنی بہادر کی حکومت نجی اور ذاتی کاروبار کے علاوہ بھی ایک معاملے پر سخت فِکر مند ہے۔ فی الحال حکومت کرائے کی ٹانگوں پر چل رہی ہے اس لیے اُس موضوع پر گفتگو چھیڑنے کے قابل نہیں رہی۔ وہ ہے دنیا بھر میں ہمارے حکمرانوں کی "grave isolation" یعنی شدید تنہائی ۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ پاکستان کا آرمی چیف پہلے افغانستان جائے اور اُنہیں اپنی سرزمین کو پاکستان مخالف سرگرمیوں سے باز رکھنے کا کھلا پیغام دے۔ پھر وہی آرمی چیف برطانیہ جا پہنچے اور برطانوی وزیرِاعظم سے وہی گفتگو کرے جو اس نے افغان صدر سے کی۔ پھر سعودی عرب کے شاہ عبداللہ سے بھی ون آن ون ملاقات ہو۔ کیا یہ سب کچھ بین الاقوامی تائید و حمایت کے بغیر ممکن ہے؟ جی نہیں... دنیا جان گئی ہے کہ پاکستان کے حکمران نہ تو ملکی اور علاقائی چیلنجز قبول کرنے کی ہمت رکھتے ہیں نہ ہی دلچسپی۔ دنیا کو یہ بھی معلوم ہے کہ مخصوص چائینز کمپنیوں اور تُرک ٹھیکیداروں کے ساتھ ہونے والے کاروبار کا منافع کہاں کہاں جمع ہو رہا ہے۔ اگر فِلپائن کی ''امیلڈا مارکوس‘‘ـــ اپنے جوتوں کا ذخیرہ تک نہیں چھپا سکی تھی اور نہ ہی شہنشاہِ ایران کے اکائونٹس چھپے تو آج کون ایسا جادوگر ہے جو لوٹی ہوئی رقم، کمِشن اور کِک بیک کی دولت کو محنت کی کمائی ثابت کر سکے۔ وہ بھی یورپ کے بینکوں میں۔ اس طرح کی آسان دولت کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب وہ حد سے بڑھ جاتی ہے تو پھر کوئی نہ کوئی بہانہ لگا کر عالمی بینکار اسے ضبط کرتے ہیں یا ہڑپ۔
یہ سارے اسباب کھلی کتاب ہیں‘ اسی لیے ہمارے وزیرِاعظم یا صدر کو تو چھوڑ دیں‘ دنیا جس قدر ڈی جی‘ آئی ایس پی آر کو توجہ سے سنتی ہے وہ توجہ نہ ہمارے حکمران حاصل کر سکے ہیں اور نہ ہی پارلیمنٹ۔ رہا کوئی تھِنک ٹینک یا سوچ بِچار کرنے کا ادارہ تو اس کی ہمیں ضرورت ہی نہیں۔ کمپنی بہادر ٹھیکہ دینے سے پہلے میگا پروجیکٹ کی فِزیبلیٹی تک نہیں بناتی۔ اِدھر مشہورِ زمانہ اُنگلی بلندہوئی اُدھر پسندیدہ ٹھیکیدار ٹھیکے کے ٹینڈر پر پُول کر لیتے ہیں۔ ٹھیکیداری نظام میں پُول کا مطلب ہے ٹھیکہ جس کو چاہے ملے اس میں ٹھیکہ دینے والا اور سارے ٹھیکیدار شریک ہو جائیں گے۔ اس وقت یہ بات بھی بلا خوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ عرب شہزادوں کے بعد کسی دوسرے ملک کا کوئی بھی سیاستدان ہماری حکمران اشرافیہ کے غیر ملکی اکائونٹس کے سائز اور وزن کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
کمپنی بہادر کا تازہ کمال دیکھیں۔ تیل کا بحران نہ بلوچستان میں آیا‘ نہ سندھ میں۔ کے پی کے کا وہ علاقہ اور بیچارے پنجاب میں جہاں پر کمپنی بہادر کا فل کنٹرول ہے وہاں تیل کی بلیک مارکیٹ بنائی گئی۔ جو پٹرول ہمیں 45 روپے ملتا ہے وہ78 روپے لٹر پمپ پر اور 175 روپے لٹر سرکاری بلیک مارکیٹ میں چل رہا ہے۔ آج بحران کا بارہواں دن ہے مگر کمپنی بہادر اور اس کے اتحادیوں کو کوئی چیخ سنائی نہیں دے رہی۔ اپوزیشن تو ہے ہی کمپنی کی جیب کی گھڑی۔ 
اَج آکھاں وارث شاہ نوںکتے قبراں وِچوں بول 
تے اَج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول 
اِک روئی سی دھی پنجاب دی، تو لِخ لِخ مارے وین 
اَج لکھاں دھیاں روندیاں تینوں وارث شاہ نو کہن 
اُٹھ درد منداں دیا دردیا، تے ویخ اپنا پنجاب 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں