جو بات چکری کے الپیال راجپوت نے پہلے دن کھل کر کہہ دی وہ وزیرِاعظم کے گلے کی پھانس کیوں بن گئی ہے...؟
پٹرول کے بحران کے ذمہ داروںکو ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔ اگر نوازشریف قوم کی جیبیں کاٹنے والے پٹرول چوروں کے وزارتی گروہ کو پکڑنے میں سنجیدہ ہوتے تو اُنہیں گرفتار کرنے کا اِختیار وزیرِ داخلہ کے حوالے کر دیتے۔اس نئی بلیک مارکیٹ کے کردار چیف ایگزیکٹو کی چارپائی کے نیچے ہیں ۔ وزیرِاعظم جب چاہیں ''منجی تھلے ڈانگ‘‘ پھیر کر چور پکڑ لیں۔
آئیے، آپ کو اِس بحران سے اربوں ڈالر بنانے والے بے رحم کرداروں کا کُھرا (Foot Print) دکھاتے ہیں۔ کھر ا وکالت نامہ میں دیکھئے‘ نام اور پتے خود بخود آپ کے سامنے آجائیں گے۔ بظاہر وزارتِ پٹرولیم کا وزیر ایک ہے لیکن انچارج بہت سارے‘ جن میں پنجاب حکومت کے تین بڑے سرِ فہرست ہیں۔ پھر آتے ہیں وزیرِاعظم کے سمدھی کے پڑوسی ۔ یہ پڑوسی لاہوروالے نہیں بلکہ دُبئی کے پڑوسی ہیں۔ نام ہے زاہد مظفر۔ سمدھی صاحب کو زاہد مظفر نے دُبئی میں ایسی ادائیں دکھائیںکہ وہ ان ادائوں پر قربان ہو گئے۔ زاہد مظفر کو پہلا اعزاز دُبئی کی مبینہ جائیدادوں والے کاروبار میں پارٹنر والا مِلا۔ دوسرا اعزاز حضرت شاہ لطیف امام بریؒ کے مزار کی تعمیراتی کمیٹی کا ممبر بننے کا۔زاہدکو اس کمیٹی میں ڈالنے والے ہمارے اپنے اسحاق ڈار ہی ہیں‘ جووزارتِ خزانہ کے علاوہ ہر حکومتی اور کاروباری کمیٹی کے انچارج ہی نہیں، امام بری کمپلیکس تعمیراتی کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں۔
سرکاری و اقتداری تاجروں کے پرستان اور ہمارے ایٹمی پاکستان میں زاہدکے لیے طلسمِ ہوش رُبا کا ایک اور دروازہ کھلتا ہے۔ یہ دروازہ تب کھلا جب اس کو وزیرِ اعظم نے پٹرولیم منسٹری کا ایڈوائزر/ کنسلٹینٹ بنا دیا۔
جن دنوں شہباز شریف قومی اسمبلی کے رکن تھے، تب انہوں نے اپنے خاندانی کاروبار کی ترقی کا راز قوم کو بتایا ۔ حالیہ وزیرِاعلیٰ پنجاب کے کہنے کے مطابق ان کے خاندان نے خلوص ِ نیت سے صرف ''پانچ ہزار روپے‘‘ سے جو کاروبار شروع کیا، اس پر اللہ کے فضل و کرم کی بارش ہونے لگی۔راوی کہتے ہیں اب یہ کاروبار سات سمندر پار ہی نہیں پانچ برِاعظموں تک پھیلا ہوا ہے۔ کاش بڑے میاں یا چھوٹے میاں یا پھران سے بھی کوئی چھوٹے میاں اپنے کاروبار کی ترقی والا راز قوم کو بھی بتائیں۔ پھر آپ دیکھیں گے ہم بھی چین، جاپان، کوریا، ملائیشیا، تھائی لینڈ اور تُرکی کی صف میں جا کھڑے ہوں گے۔
زاہد کی ترقی کی داستان ''ہزار داستان‘‘ سے کسی طرح کم نہیں۔ اسے بیان کرنے کے لیے یا تو ہزار صفحے لکھنا پڑیں گے‘ یا ہزار رات جاگ کر اس داستان کوسنا ناپڑے گا۔وہ بھی شب بیداری کی حالت میں۔جی ہاں یہی والے زاہد او جی ڈی سی ایل کے چیئرمین بھی بن چکے ہیں۔ وہی او جی ڈی سی جس کو حکومت نے قومی اداروں کی لوٹ سیل میں بیچنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔اس سے بھی زیادہ لطف کی بات یہ کہ سیکرٹری پٹرولیم او جی ڈی سی بورڈ کے بلحاظِ عہدہ سیکرٹری ہیں‘ جبکہ زاہد سیکرٹری پٹرولیم کے اوپر اس کا چیئرمین ہے۔ سیکرٹری پٹرولیم بھی کسی سے کم نہیں۔ موصوف وزارتِ کیڈ کے وزیر کے بھانجے نکلے۔
ہمارے وزیرِ اعظم اُمورِ مملکت میں سادہ ترین مگر ذاتی کاروبار میں تیز ترین دماغ رکھتے ہیں۔ وہ تیل کے بحران کے ذمہ داروں کو پکڑنے کے لیے زیادہ تکلیف نہ کریں۔صرف حاضر ملزم کو پکڑنے کے لیے غائب کوتوال کو پکڑ کر لانا ہو گا۔
پاکستان کی گورننس کا ایک کردار محمد شاہ رنگیلے سے کم نہیں۔ یہ تھا ایک سابق ''سیاسی‘‘ چیف جسٹس‘ جس نے حال ہی میں اپنے لیے چالیس صفحے کا قصیدہ لکھا۔ اس کے دور میں آلو، ٹماٹر،چینی، مشروبِ مغرب کی چھوٹی شیشیاں، وزیرِ اعظم کی خط و کتابت سمیت دنیا کے ہر موضوع پر نوٹس لیا گیا۔یہ نوٹس اتنے مؤثر تھے جن کے نتیجے میں اس کے گھرمیں لکشمی کی بارش پھر فوراً سیلاب آ گیا۔ اس سیلاب میں کروڑوں روپے کی کاریں بہہ کر اس کے بند دروازے سے اندر آ کر ''پارک‘‘ ہو گئیں۔ باپ بیٹا ایک ہی گھر میں رہتے تھے لیکن بیٹے نے کاروں پر سلیمانی ٹوپی ڈال دی۔ اسی لیے ہیما مالینی والی آنکھوں نے اسی گھر میں رہتے ہوئے کاروں کو نہ دیکھا۔
اسی طرح،محتاط اندازے کے مطابق چھوٹے خادم اب تک چونسٹھ کروڑ اٹھارہ لاکھ نو ہزار420 نوٹس لے چکے ۔ ان کا آخری نوٹس تین دن پہلے کا ہے۔ بھاٹی گیٹ سکول میں ان کی ذاتی پنجاب پولیس کے ''گُلو بٹوں‘‘ نے پہلی، تیسری، پانچویں اور چھٹی جماعت کے طالب علموں پر مردانہ وار حملہ کیا۔ ٹیچروں پر وہ لاٹھیاں چلا دیں جو کچھ ہفتوں پہلے لاہور پریس کلب کے باہر معذوروں پر برسائی گئیں ۔ اقتدار کی لمبی اُنگلی پھر کھڑی ہوئی۔ پرائمری سکول کے بچوں پر تشدد کا نوٹس لیا گیا۔ اس معجزانہ نوٹس کی پہلی رات کو ہی ایک زیادہ زخمی بچے کے باپ نے لکھ کر دے دیا کہ میرا بچہ گِر کر زخمی ہوا‘ جبکہ بچہ اس سے کئی گھنٹے پہلے پاکستان بھر کے چینلز کی لائیو رِپورٹنگ میں بتاتا رہا،کہ پولیس نے بچوں کو بے رحمی سے مارا۔ ساتھ یہ بھی کہا، ہم تمہیں انسان بنانے آئے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ کے سب سے بڑے صوبہ کی دلیر پولیس نے بچوں کے خلاف اس تاریخی آپریشن کا آغاز نعرۂ تکبیر لگا کر کیا ۔ اس عظیم کارنامے پرملک کے سب سے بڑے صوبے کے سب سے طاقتور شخص کی سب سے لمبی اُنگلی کو سلام۔اسی کے اشارے پر ماڈل ٹائون کے شہداء کو انصاف کے رنگ میں رنگ دیا گیا۔ مفاہمتی سیاست سو رہی ہے۔ انقلاب اونگھ رہا ہے۔ لیڈر عوام کو تین طلا ق دے چکے۔اسلامی نظریاتی کونسل کا مسئلہ نہ انصاف ہے، نہ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم۔ وہ نئی شادیوں اور طلاقوں کی اہم بحث میں مصروف ہیں۔ شکیل جعفری نے عوام کو کیا خوب مشورہ دیا:
ابھی سوتے رہو بھائی!
ابھی سے کیوں پریشاں ہو؟
ابھی بے روزگاری نے
تمہارے در پہ دستک بھی نہیں دی ہے
تمہارے بچے کی بوتل میں ابتک دودھ باقی ہے
تمہارے گھر میں راشن ہے، ابھی فاقے نہیں ہوتے
تمہارے اہلِ خانہ رات کو بھوکے نہیں سوتے
ابھی سوتے رہو بھائی!
ابھی سے کیوں پریشاں ہو؟
تمہارا کچھ نہیں بگڑا
تمہاری والدہ ہیں محترم اب بھی
کہ ان کی کوئی شَب اب تک نہیںگزری ہے تھانے میں!
تمہاری بہن کو اب تک کوئی ''کاری‘‘ نہیں کہتا
شریکِ زندگی کے کھلتے چہرے پر، کسی ظالم نے کب ،تیزاب پھینکا ہے؟
ابھی سوتے رہو بھائی!
ابھی سے کیوں پریشاں ہو؟
تمہارا کچھ نہیں بگڑا
بتائو، کیا کبھی لختِ جگر اغوا ہوا ہے؟
اور کبھی تم سے کسی نے آج تک تاوان مانگا ہے؟
دھماکے ہوتے رہتے ہیںمگر اب تک
تمہارا بھائی مسجد سے بخیر و عافیت گھر میں پہنچتا ہے
بھتیجا اب بھی ان گلّیوں میں کر کٹ کھیلتا ہے
اور ابھی تک تو کسی نے بھی اسے الٹا نہیں ٹانگا
نہ اس کی لاش گلیوں میں گھسیٹی ہے
ابھی سوتے رہو بھائی!
ابھی سے کیوں پریشاں ہو؟
تمہارا کچھ نہیں بگڑا
ابھی اس ظلم کے عفریت میں اور تم میں
تھوڑا فاصلہ ہے!
اور ابھی تم تک پہنچنے میں
اسے کچھ وقت لگنا ہے!!
ابھی سوتے رہو بھائی!!