نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکےول سمیڈکی 97 رنزکی شانداراننگز
  • بریکنگ :- کراچی:احسن علی نے 73 رنزبنائے
  • بریکنگ :- کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکا پشاورزلمی کو 191 رنز کاہدف
  • بریکنگ :- کوئٹہ گلیڈی ایٹرزنےمقررہ اوورزمیں 4 وکٹوں پر 190 رنز بنائے
Coronavirus Updates

ٹیکس گوشوارے کیسے حاصل کریں؟

اگرچہ پچاس ملین سے زائد پاکستانی ایڈوانس انکم ٹیکس ادا کررہے ہیں لیکن انکم ٹیکس فائلز جمع کرنے والوں کی تعداد میں بتدریج اور پریشان کن کمی کا رجحان جاری ہے۔ ایف بی آر کی طرف سے حال ہی میں جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق 282,180 افراد، جن پر انکم ٹیکس کی ادائیگی واجب تھی، کو نوٹس بھجوائے گئے لیکن ان میں سے صرف54,790 افراد نے فائلز جمع کرائیں ۔ ان کی طرف سے ادا کردہ انکم ٹیکس کا حجم محض 442 ملین روپے تھا۔ تاہم ایف بی آر کی طرف سے اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ انکم ٹیکس فائلز جمع کرانے والوں کی تعداد میں ہوشربا کمی کیوں واقع ہورہی ہے؟ 2011ء میں یہ تعداد 1,443,414 تھی جو 2014ء میں کم ہو کر 856,229 رہ گئی۔ موجودہ تعداد کو ایک قومی سانحہ قرار دیا جاسکتا ہے لیکن قومی سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی ترجیحات ہی کچھ اور ہیں۔
ایف بی آر کا دعوی ہے کہ وہ ٹیکس کے نیٹ ورک کو وسیع کرنے جارہا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف کھوئے ہوئے نیٹ ورک کو ہی واپس لانے کی کوشش میں ہے۔ ایک وقت تھا جب ایف بی آر دو ملین سے زیادہ ریٹرن فائلز وصول کیا کرتاتھا۔ موجودہ معمولی سی تعداد کو سامنے رکھتے ہوئے بہت سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسی کیا کوتاہی ہوئی جو ٹیکس فائلز جمع کرانے والوں کی تعداد میں اتنی خوفناک کمی واقع ہوگئی۔ کیا ایف بی آر کے افسران اس بات کی وضاحت کرسکتے ہیں(یا کسی اتھارٹی نے ان سے پوچھا ہے؟)کہ کم و بیش 65,000 رجسٹرڈ کمپنیوں میں سے صرف 24,188 نے ہی ٹیکس فائلز کیوں جمع کرائی ہیں؟ 2013ء میں ٹیکس فائلز جمع کرانے والی کمپنیوں کی تعداد 25,152 تھی۔ کیا یہ ٹیکس کے دائرہ ٔ کار کو بڑھانے کی کوشش ہے ؟ ابھی تو اُن سے ٹیکس وصول کرنے کے لیے ہاتھ پائوں مارے جارہے ہیں جو ٹیکس ادا کیا کرتے تھے، یا جن پر ٹیکس ادا کرنا لازمی ہے۔ قانون کے مطابق ہر کمپنی کو ٹیکس ریٹرن فائل جمع کرانا لازمی ہے، چاہے اس کو آمدن ہوئی ہو یا نہیں، ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے کی نوبت تو بہت بعد میں آئے گی۔
مندرجہ ذیل پریشان کن حقائق اور اعدادوشمار ایف بی آر کی کارکردگی کا پول کھولنے کے لیے کافی ہیں۔
2014ء میں ریٹرن فائل جمع کرانے والے 8,56,229 افراد میں سے اڑتیس فیصد(3,22,439) نے کوئی ٹیکس ادانہیں کیا۔
٭ 5,20,290 افراد کی طرف سے دس ہزار روپے سے کم ٹیکس ادا کیا گیا۔٭7,21,046 افراد نے ایک لاکھ روپے تک ٹیکس ادا کیا۔٭ 1,323 افراد کی طرف سے ٹیکس کی ادائیگی 1-99 روپوں کے درمیان رہی۔ ٭8,454 افراد نے 100-500 کے درمیان ٹیکس اد ا کیا۔٭ 251,111افراد نے 501-20,000 کے درمیان ٹیکس ادا کیا۔ ٭136,953 کی طرف سے ٹیکس کی ادائیگی 20,001-100,000 کے درمیان رہی۔ ٭82,801 نے 100,001-500,000 کے درمیان ٹیکس ادا کیا۔ ٭32,031 نے 1,000,000 یا اس سے زائد ٹیکس ادا کیا۔ دس ملین سے زائد ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد 3,663 رہی۔ 2014ء میں 40,763 ایسوسی ایشنز آف پرسنز نے ٹیکس ادا کیا جبکہ 2013ء میں ان کی تعداد 42,749 تھی۔
یہ اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ قانون سازوں اور ٹیکس وصول کرنے والے افسران کی ملی بھگت نے پاکستان کو ٹیکس چوروں اور قومی دولت لوٹنے والوں کی محفوظ جنت بنادیا ہے۔ ٹیکس چوروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے پارلیمنٹ خود اُنہیں اجازت دے رہی ہے کہ وہ جتنی رقم چاہیں نارمل بنکنگ کے ذریعے پاکستان لے آئیں اور اُن سے رقم کے حصول کے ذرائع کی بابت کوئی سوال نہیں پوچھا جائے گا۔ اُن کا یہ دعویٰ ہے کہ معیشت کی ترقی کے لیے یہ اقدام ضروری ہے۔ معیشت کو ترقی دینے کے ایسے مہلک ''نسخوں ‘‘ کی وجہ سے گزشتہ کئی عشروں سے معاشرہ بہت سی خوفناک بیماریوںکا شکار ہو کر گھائل ہو چکا۔ اس مرض کی تشخیص بہت آسان ہے۔۔۔۔ چونکہ ہمارے ہاں کوئی ٹیکس کلچر نہیں، اس لیے معاشی گروتھ بھی نہیں۔ اس سادہ سی بات کو سمجھنے کے لیے بہت بڑا معاشی محقق ہونے کی ضرورت نہیں۔
اس بات کی پہلے بھی متعدد بار نشاندہی کی جاچکی ہے کہ ایف بی آر بزنس سے ترقی کرتے کرتے سیاست اور پھر حکمرانی کے مزے لوٹنے والے افراد کا آلہ کار بنتے ہوئے انہیں اور ان کے دیگر قبیلے کو ایس آر اوز کے ذریعے فائدہ پہنچاتا ہے۔ ملک اُس وقت تک معاشی بحران سے نہیں نکل سکتا جب تک ایس آر او کلچر کو مکمل طور پر ختم نہیں کردیا جاتا۔ اگر ایف بی آر کوئی موثر اور خودمختار ادارہ ہوتاتو وہ ضرورتمام افراد، جن کی آمدن اور وسائل قابلِ ٹیکس ہیں، کو ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کرتا۔ اس کی توجہ ریٹرن فائلز جمع نہ کرانے والوں پر مرکوز ہوتی ۔ یقینا مہنگی گاڑیوں ، محل نما بنگلوں اور وسیع جائیدادوں کے اس ملک میں بہت سی بڑی مچھلیاں ہیں۔ یادرہے کہ وسائل کے اعتبار سے نہ تو پاکستان غریب ملک ہے اور نہ ہی تمام بزنس مین اور جاگیردار درویشانہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ عام آدمی کے لیے ان کی شاہانہ زندگی کاتصور ہی محال ہے۔ اگر ملکی خزانہ خالی ہے تو اس کی وجہ صرف یہ کہ ان افراد تک ایف بی آر کے ہاتھ نہیں پہنچتے۔
وفاقی سطح پر پاکستان کا ٹیکس پوٹینشیل سات ٹریلین روپے تک ہے۔پاکستان بیور آف سٹیٹسٹکس کے 2011-12ء کے ''ایچ آئی ای ایس‘‘ (Household Integrated Economic Survey)
کے مطابق پانچ ملین افراد کی سالانہ آمدن اتنی ہے کہ وہ پندرہ لاکھ روپے ٹیکس ادا کرسکیں۔ اگر یہ تمام افراد ٹیکس فائلز جمع کراتے ہیںتو ان سے 1650 بلین روپے حاصل ہوسکتے ہیں۔ اگر کاروباری تنظیموں اور ایسے افراد جن کی آمدن چارلاکھ سے دس لاکھ کے درمیان ہے، سے وصول کردہ ٹیکس کو ملایا جائے تو 4500 بلین روپے آسانی سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے برعکس 2013-2014ء میں ایف بی آر نے صرف 880 بلین روپے وصول کیے۔ اسی طرح سیلز ٹیکس، وفاقی ایکسائز اور کسٹم ڈیوٹی میں ہونے والے ضیاع کی وجہ سے ان کا حصول پچاس فیصد تک کم رہتا ہے۔ ایف بی آر نے 2013-14ء سیلز ٹیکس کی مد میں 1002 بلین روپے، وفاقی ایکسائز کی مد میں139 بلین روپے اور کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 241 بلین روپے حاصل کیے، حالانکہ ان کی مد میں2500 بلین روپے کا ہدف حاصل کرنا مشکل نہیں۔
سات ٹریلین روپے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے معاشرے کے طاقت ور طبقوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے ، سیلز ٹیکس اور ڈیوٹیز میں ہونے والے ضیاع کو روکنے اور دی گئی ٹیکس چھوٹ کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ پی ٹی اے(پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی ) کی ویب سائٹ کے مطابق تیس مارچ 2015ء تک ملک میں 134,907,976 موبائل صارفین تھے۔ اگر ان میں سے معطل شدہ موبائل اکائونٹس اور کثیر اکائونٹ رکھنے والے افراد کو نکال دیں تو بھی ایک محتاط اندازے کے مطابق پچاس ملین صارفین چودہ فیصد انکم ٹیکس اور 19.5 فیصد سیلز ٹیکس ادا کررہے ہیں، تاہم 2014ء میں ان افراد میں سے صرف 856,229 افراد نے ٹیکس فائلز جمع کرائیں۔ اب ہو سکتا ہے کہ تمام موبائل فون صارفین کی قابلِ ٹیکس آمدن نہ ہو لیکن ان پر اس بھاری ٹیکس کا بوجھ ڈالا گیا ہے۔اس کے برعکس دولت مند
افراد ٹیکس فائلز جمع کرانے کی زحمت بھی نہیں کرتے۔ اس طرح غریب افراد سخت ٹیکسز کو برداشت کرتے ہیں ، لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ریاست ان افراد کی فلاح سے مکمل طور پر لاتعلق ہے۔
پاکستان میں ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات درکار ہیں۔ (1) بنک ایسے افراد کے اکائونٹس نہ کھولیں جو ٹیکس فائلز جمع نہ کرائیں۔ جن کے اکائونٹس پہلے سے ہی موجود ہیں، اُنہیں دو ماہ کا وقت دیا جائے اور اگر وہ ٹیکس فائل جمع کرانے میں ناکام رہیں تو ان کے اکائونٹس بند کردیے جائیں۔ (2)فائل جمع نہ کرانے والوں کو کوئی یوٹیلٹی کنکشن نہ دیا جائے۔ جن کے پہلے سے موجود ہیں، فائل نہ کرانے کی صورت میں دو ماہ کے بعد اُنہیں منقطع کردیا جائے۔ (3)ٹیکس فائل جمع نہ کرانے والوں کو پاسپورٹ جاری نہ کیا جائے۔ اگر پہلے سے ہی جاری کیا جاچکا ہے تو فائل جمع نہ کرانے کی صورت میںدو ماہ کے بعد معطل کردیا جائے۔ (4)جن موبائل فون صارفین کا بل فی کنکشن بیس ہزار روپے سالانہ سے تجاوز کرجائے، تو انہیں اُسی سال ٹیکس فائل جمع کرانے کے لیے مجبور کیا جائے۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو اُن سے موبائل فون کی سہولت چھین لی جائے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹیکس کے نظام کو آسان بنایا جائے۔ ایف بی آر کو چاہیے کہ وہ موبائل فون apps اور ڈیسک ٹاپ apps پر انکم ٹیکس ریٹرن فائل بھرنے کی سہولت متعارف کرائے۔ اس ضمن میں بنکوں اور موبائل فون کمپنیوں سے کہا جائے کہ وہ صارفین کو گائیڈ کریں۔ ایف بی آر ان کمپنیوں اور بنکوں کو سروسز اور سہولت کی مد میں کچھ رقم بھی ادا کردے۔ چونکہ ایف بی آر فائل جمع کرانے والے ہر شخص کے بنک اکائونٹ کا جائزہ لے سکتا ہے، اس لیے اُس کی طرف سے ادا کردہ زیادہ رقم کو ریفنڈ کیا جاسکتا ہے۔ اس سے شہریوں کا اعتماد بحال ہوگا اور وہ فائل جمع کرانے کی طرف راغب ہوںگے۔ امیدکی جانی چاہیے کہ ایف بی آر اپنی قومی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے ایسے اقدامات کرے گا جو پاکستان کو حقیقی معاشی ترقی کی طرف لے جائیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں