نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ہوشربامہنگائی،شہبازشریف نےحکومت کوقومی مجرم قراردےدیا
  • بریکنگ :- حکومت کاایک ایک منٹ پاکستان کواربوں ڈالرکانقصان دےرہاہے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- اشیائےخورونوش کی قیمتیں مزیدبڑھادیں،اپوزیشن لیڈرشہبازشریف
  • بریکنگ :- یہ ہےاس حکومت کااحساس اوروعدہ؟اپوزیشن لیڈرشہبازشریف
  • بریکنگ :- حکومت عوام اورآئی ایم ایف دونوں کودھوکادےرہی ہے،شہبازشریف
Coronavirus Updates

میڈیا باکس

''Think out of the Box‘‘ ایک معروف اصطلاح ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں بکثرت استعمال کی جاتی ہے۔ اس کا مطلب کوئی ایسا طریقہ سوچنا یا ایجاد کرنا ہے جس پر اس سے پہلے کام نہ ہوا ہو۔ گویا سادہ بات یہ ہے کہ جب کسی مشکل یا چیلنج کا سامنا ہو تو کوئی ایسی ترکیب سوچی جائے جس کی مدد سے مثبت نتیجہ حاصل ہو سکے۔ دنیا کی ساری ترقی نت نئی ایجادات کی مرہونِ منت ہے۔ انسانی زندگی کا پہلا سنگِ میل زراعت کی ایجاد یا دریافت ہے، اس کی وجہ سے ہی انسان بھوک کی فکر سے آزاد ہوا تھا، مزید یہ کہ وہ کسی ایک جگہ پر مستقل طور رہائش پذیر ہوا تھا، آبادی بڑھنا شروع ہوئی تھی، تجارت کا پیشہ سامنے آیا تھا اور انسان نے قصبے کی شکل میں شہری زندگی کا آغاز کیا تھا۔ اسی کو بعد میں تہذیب (Civilization) کا نام دیا گیا۔ قدیم دنیا کی تہذیبوں میں سب سے اہم تہذیب یونانی تہذیب ہے جو دنیا بھر میں علم و ایجادات کا مرکز بنی۔ اس علم کے مرکز نے پانچ سو سال تک دنیا کی رہنمائی کی۔ اسی سلسلے کو عراق میں بنائے گئے ''بیت الحکمت‘‘ نامی شہر میں مسلمانوں نے دوبارہ شروع کیا، 1258ء میں ہلاکو خان کے حملے میں بیت الحکمت تو اجڑ گیا مگر مسلمانوں کے عروج کا سلسلہ جاری رہا اور مسلم سلطنت کے زوال کے بعد یہ علم کا مرکز یورپ منتقل ہو گیا جہاں علمی تخلیق و تحقیق صنعتی انقلاب کی شکل میں زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آئی۔ یہ اٹھارہویں صدی کے وسط کی بات ہے۔ اس سے آگے یورپ ہی کے لوگوں نے ''آئوٹ آف دا باکس‘‘ سوچا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایجاد کی۔
یورپ کی سربراہی میں جو کچھ ایجاد ہوا‘ اس میں ایک چیز پریس، ریڈیو اور پھر ٹی وی ہے جس کو میڈیا کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا مقصدِ آغاز خبر دینا، لوگوں کو معلومات اور تفریح فراہم کرنا تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس میڈیا نے خود کو اتنا منوا لیا کہ ریاست کا چوتھا ستون کہلوانے میں کامیاب ہو گیا۔ ترقی پذیر ممالک میں تو بعض اوقات میڈیا ریاست کے سب اہم اور طاقتور ستون کا درجہ بھی حاصل کر لیتا ہے کیونکہ میڈیا ملاوٹ والی اشیا کی تیاری، رشوت ستانی، جعلی ادویات اور ظلم و ستم اور ناانصافی وغیرہ کے جائے وقوعہ پر پہنچ کر وہ کام کر جاتا ہے جو اصل میں انتظامیہ کے کرنے کے ہوتے ہیں۔ اسی طرح متعدد بار میڈیا پر خبر چلنے کے نتیجے میں اعلیٰ عدالتیں سوموٹو ایکشن تک لیتی ہیں۔ اس بات کو یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ میڈیا کے باخبر لوگ‘ خفیہ ایجنسیوں کے بعد‘ دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ آگاہ لوگ ہوتے ہیں۔
میڈیا کے بطن سے ہی اگلا انقلاب سوشل میڈیا کا برآمد ہوا، جس کو موبائل فون کی وجہ سے عروج حاصل ہوا۔ اس نے روایتی نیوز فورمز پر بھی کئی بار سبقت لی ہے کیونکہ اگر کسی جگہ پر کوئی آفت آ جائے‘ ایمرجنسی کے حالات پیدا ہو جائیں، کوئی حادثہ پیش آ جائے تو اس علاقے میں موجود لوگوں کی بنائی ہوئی وڈیوز ہی میڈیا کی خبر کا ذریعہ بنتی ہیں، اسی طرح سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی وڈیوز کو میڈیا بعد میں دکھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے ہر اس شخص کو رپورٹر بنا دیا ہے جس کے پاس وڈیو بنانے والا موبائل فون موجود ہے۔ اس کے لیے باقاعدہ اصطلاح سٹیزن جرنلزم وضع کی گئی ہے۔ اس میں ایک انقلابی مرحلہ اس وقت آیا جب کسی شہری نے کسی اہم موقع جیسے کسی سرکاری اہلکار کے جھگڑا یا کسی اہم وقوعے کی وڈیو بنا لی‘ اس صورت میں بڑے میڈیا گروپس بڑی رقم دے کر وہ وڈیو خریدتے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے ایک عجیب طوفان برپا کر دیا ہے، شاید اسی وجہ سے کہا جا رہا ہے کہ خبریں سننے اور پڑھنے والے اب کم ہیں بہ نسبت خبر دینے والوں کے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا کی وبا کا سب سے بھیانک پہلو غیر مستند، جھوٹی، جعلی اور سنسنی خیز خبریں ہیں۔ ہر وقت یہی الفاظ کانوں سے ٹکراتے رہتے ہیں کہ ''چینل کو سبسکرائب کر دیں اور گھنٹی کے بٹن کو دبا دیں‘‘۔
اس وقت دنیا بھر کی بڑی طاقتوں میں جنگ کا ایک بڑا میدان میڈیا فورم بھی ہے۔ اس کو ثقافتی محاذ بھی کہا جا سکتا ہے۔ جنگوں کے حوالے سے یہ پانچویں نسل (ففتھ جنریشن) کی جنگ کا دور ہے، جو دراصل لڑی ہی میڈیا کے ذریعے جا رہی ہے۔ فلمیں، ڈرامے، خبریں حتیٰ کہ کمرشلز کے ذریعے بھی کلچرل جنگ لڑی جا رہی ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ میڈیا کے ذریعے مخالفین پر کلچرل حملہ کیا جا رہا ہے۔ چونکہ اس وقت ہر قسم کی طاقت کا مرکز مغرب ہے‘ اس لیے وہ میڈیا کے بڑے اداروں کے بھی مالک ہیں اور وہ میڈیا ہی کے ذریعے مشرق کے لوگوں کے ذہنوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ اس کو سادہ لفظوں میں ذہن سازی بھی کہا جا سکتا ہے۔ اب مغرب کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ چونکہ ان کے معاشرے میں خاندان اور خدا کا تصور ختم ہو چکا ہے‘ سو مشرقی دنیا کے کلچر میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ اسی تناظر میں میڈیا کی طاقت کے حوالے سے ماہرین کے دو فقرے ملاحظہ کریں: اول، میڈیا ضد پر آ جائے تو مرد کو عورت اور عورت کو مرد ثابت کر سکتا ہے۔ دوم، اگر آپ میڈیا سے خبر لیتے وقت ہوشیار نہیں تو یہ آپ کو ظالم سے محبت اور مظلوم سے نفرت پر آمادہ کر سکتا ہے۔
اب آپ دیکھیں کہ ایک جگہ پر ایک عورت کو گھر پر بلا کر قتل کر دیا جاتا ہے، جبکہ ایک دوسرے کیس میں ایک عورت کی بری طرح تذلیل کی جاتی ہے اور یہ تذلیل اس کے اپنے فینز یا شیدائیوں کے ہاتھوں ہوتی ہے۔ اب یہ بتائیں کہ دونوں جرائم میں بڑا جرم کون سا ہے؟ بلاشبہ قتل سے بڑا جرم کوئی نہیں ہے۔ اب آپ ان دونوں واقعات کو حسابی طریقے سے دیکھیں تو کچھ یہ صورت بنے گی کہ جان لے لی گئی تو یہ جرم کے انڈیکس میں سو فیصد شدت کا جرم ہے۔ جان سے بڑھ کر تو کچھ نہیں۔ امید ہے کہ آپ بھی اس سے اتفاق بھی کرتے ہوں گے۔ دوسرے واقعے کو پوری تفصیل اور پسِ پردہ حقائق کے تناظر میں دیکھیں (جو بہت بھیانک ہیں) تو پتا چلتا ہے کہ تشدد کا شکار ہونے والی خاتون خود بھی کسی حد تک واقعے کی ذمہ دار ہے۔ بھلے اس کا قصور اس پورے معاملے میں پچیس فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ فی الحال تشدد کا شکار ہونے والی خاتون کا قصور ایک طرف کر دیتے ہیں‘ پھر بھی اس کو کرائم انڈیکس میں جانچا جائے تو اس جرم کی شدت قتل کے جرم کی نسبت پچاس فیصد یا شاید اس سے بھی کم ہے۔
اب آ جائیں باکس والی بات پر‘ مگر پہلے ایک صحافی دوست کے تبصرے کا ذکر‘ جس نے Think out of the Box کی ایک پوسٹ پر کہا کہ آپ میڈیا کے بنائے ہوئے باکس سے باہر نہیں جا سکتے۔ مطلب بہت صاف مگر خطرناک ہے۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میڈیا آپ کو وہی سوچنے پر مجبور کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے اور جس طرح وہ چاہتا ہے کہ آپ سوچیں۔ تشدد کا واقعہ ہر طرح سے قابل مذمت ہے مگر چونکہ اس واقعے کی تاریخ اور جائے وقوعہ قومی سطح کے تھے‘ چودہ اگست اور مینارِ پاکستان‘ لہٰذا یہ دو الفاظ اتنی کثرت سے گونجے کہ اعلیٰ ترین عہدوں پر بیٹھے پولیس افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ تشدد کا شکار ہونے والی کس طریقے سے وہاں پہنچی‘ اس سے پہلے وہ کس نوعیت کی وڈیوز بنا چکی تھی، ساتھی لڑکا کون تھا اور اس کا ٹک ٹاکر سے کیا تعلق تھا، اس خاتون نے پولیس کو گھر کا پتا غلط کیوں درج کرایا‘ وغیرہ وغیرہ‘ اور ایک اضافی وڈیو (جس کا ذکر بھی مناسب نہیں) ان سب باتوں کے باوجود یہی خاتون ہر جگہ چھائی ہوئی ہے۔ قتل ہونے والی خاتون، اس جائے وقوعہ کے دردناک مناظر کی وڈیو تاحال کہیں نہیں چلی، قتل ہونے والی لڑکی کے گھر والوں کا کوئی انٹرویو نہیں کیا گیا، سب سے بڑھ کر قتل کے واقعے کی کوریج کا حساب لگائیں تو معاملہ ہی ختم ہو جاتا ہے کیونکہ میڈیا آپ کو اس باکس تک محدود بلکہ قید رکھتا ہے جو اس کا اپنا بنایا ہوا ہے۔ ایک دفعہ تو آئوٹ آف دی باکس سوچ کر دیکھیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں