نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- قوم سےاپیل ہےماسک پہنیں اورسماجی فاصلہ رکھیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- پاکستان میں کیسزمیں تیزی سےاضافہ نہ ہوناخوش آئندہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کوروناایس اوپیزپرعمل کریں تاکہ لاک ڈاؤن نہ کرناپڑے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کوروناکی پہلی اوردوسری لہرمیں قوم نےایس اوپیزپرعمل کیا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کوروناکی تیسری لہرخطرناک ہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- عیدکی چھٹیوں میں سخت احتیاط کی ضرورت ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- بھارت میں لوگ سڑکوں پرمررہےہیں،آکسیجن کی کمی ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- بھارت میں 22 کروڑلوگ غربت کی لکیرسےنیچےہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- تیسری لہرمیں بھارت کےحالات سب کےسامنےہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- لاک ڈاؤن سےزیادہ نقصان غریب طبقےکوہوتاہے،وزیراعظم
"DRA" (space) message & send to 7575

بھارت کی مائو نواز اور کمیونسٹ تحریکیں

بھارت کی مشرقی اور وسطی ریاستوں میں گزشتہ تقریباً 50 سے زائد برسوں سے گوریلا جنگ اور طبقاتی جنگ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں اور کسی نہ کسی سطح پر جاری ہے۔ یہ جنگ ملک کے غیر منصفانہ اور جابرانہ سماجی‘ سیاسی اور اقتصادی نظام کے خلاف پسے ہوئے عوام کی طرف سے لڑی جا رہی ہے اور اس میں حصہ لینے والے جنگجو گھنے جنگلوں یا دشوار گزار وادیوں کے باسی قبائلی اور کسان لوگ ہیں۔ ان سے برسر پیکار بھارت کی سرکار اور میڈیا انہیں ''نکسل باڑی‘‘ ''مائو نواز‘‘ یا ''کمیونسٹ باغیوں‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں‘ مگر حقیقت میں ان ''باغیوں‘‘ کا نہ تو چین کے آنجہانی رہنما مائوزے تنگ یا چین سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی ان کی جدوجہد بھارت کے معروضی سیاسی اور سماجی حالات کی عکاس ہے‘ بلکہ جس طرح چین نے 1980 کی دہائی میں اپنے ہمسایہ ممالک خصوصاً جنوب مشرقی ایشیا کے چند ممالک میں جاری ''کمیونسٹ بغاوتوں‘‘ کی حمایت اور مدد سے ہاتھ کھینچ لیا تھا‘ اسی طرح بھارت میں کمیونسٹ سیاست میں بنیادی تبدیلی آ چکی ہے اور اب وہ صرف مارکس (Marx) ہی نہیں بلکہ ''مارکس اور مارکیٹ‘‘ دونوں پر انحصار کر کے بھارت کے موجودہ آئینی فریم ورک میں پارلیمانی سیاست کا راستہ اختیار کر چکی ہیں۔ اس کی ایک مثال کمیونسٹ پارٹی کی سرکردگی میں مغربی بنگال پر 35 برس تک حکومت کرنے والا ''لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ‘‘ ہے‘ اور دوسری مثال کیرالا کی موجودہ کمیونسٹ حکومت ہے‘ جس نے اپنی ریاست (صوبے) کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر بھی اوپن مارکیٹ سے فنڈز اکٹھے کر کے ریاست کو مثالی ترقی سے ہمکنار کیا ہے‘ لیکن1969 میں بھارت کی ریاست مغربی بنگال کے ایک گائوں ''نکسل باڑی‘‘ میں شروع ہونے والی اس تحریک کی باقیات اب بھی بھارت کے مشرقی اور وسطی حصوں پر واقع ریاستوں یعنی آندھرا پردیش‘ بہار‘ چھتیس گڑھ‘ جھاڑ کھنڈ‘ مہاراشٹر‘ اڑیسہ اور تلنگانہ میں نہ صرف موجود ہیں بلکہ اکا دکا بم حملوں اور کائونٹر انسرجنسی دستوں کے ساتھ مقابلوں کی صورت میں قومی اور عالمی میڈیا میں اپنے وجود کا احساس دلاتی ہیں۔
1960 اور 1970 کی دہائیوں کے رومانوی انقلاب کے دور کو گزرے کئی دہائیاں بیت چکی ہیں۔ نکسل باڑی میں کسانوں کی بغاوت پر مبنی اشتراکی انقلاب کے نظریے کو نہ صرف پاکستان اور بھارت کی بائیں ہاتھ کی پارٹیاں ترک کر چکی ہیں بلکہ چین بھی ان انقلابی تحریکوں سے لا تعلقی کا اعلان کر چکا ہے‘ مگر بھارت کی کل ریاستوں (صوبوں) میں سے تقریباً آدھی تعداد میں مسلح جدوجہد کی راہ کو اپنائے ہوئے اب بھی نام نہاد ''مائو نواز اور نکسل باڑی‘‘ کمیونسٹ تحریکی نہ صرف موجود ہیں بلکہ اس حد تک سرگرم ہیں کہ بھارت کے ایک سابقہ وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے 2009 میں ان تحریکوں کو ملک کی داخلی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا‘ حالانکہ 1971 میں اندرا گاندھی نے فوج اور پولیس کی مدد سے ایک بہت بڑے آپریشن کے ذریعے ان عناصر کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس آپریشن میں سینکڑوں جنگجو مارے گئے تھے‘ ہزاروں کو جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ اسی آپریشن میں بے شمار قبائلیوں کو اپنے گھر بار بھی چھوڑنے پڑے تھے‘ لیکن تحریکیں ختم نہیں ہوئیں‘ بلکہ ان کی طرف سے فوج اور پولیس کے دستوں پر مسلح حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ 2010 میں ایک ایسے حملے میں چھتیس گڑھ کے علاقے میں ''مائو نواز‘‘ باغیوں نے سرکاری فوج اور پولیس کے 76 جوانوں کو ہلاک اور 50 سے زیادہ کو زخمی کر دیا تھا۔ حالیہ حملہ‘ جس میں سنٹرل ریزرو پولیس اور کائونٹر انسرجنسی فورس کے 23 جوان ہلاک ہوئے‘ بھی چھتیس گڑھ کے ایک علاقے بیجا پور میں وقوع پذیر ہوا ہے۔ بھارتی حکام کے لئے یہ حملہ نہ صرف اس لئے پریشان کن ہے کہ اس میں فوج اور پولیس کا بھاری جانی نقصان ہوا‘ بلکہ ایک عرصے سے اس علاقے میں باغیوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ یہاں تک کہ چھتیس گڑھ کی کانگریس حکومت کی طرف سے دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ کائونٹر انسرجنسی آپریشن اور حکومت کے دیگر اقدامات کی وجہ سے ''مائونواز اور نکسل باڑی‘‘ تحریکیں دم توڑ چکی ہیں۔ بھارتی حکام کے دعووں کے مطابق باغیوں کے باہمی اختلافات اور حکومت کی طرف سے دبائو کی وجہ سے بہت سے لیڈر اپنی تنظیموں سے علیحدہ ہو چکے ہیں اور وہ حکومت کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہیں۔
کچھ عرصہ پیشتر باغیوں کی طرف سے حکومت کو اس شرط پر بات چیت کی پیشکش کی گئی تھی کہ باغیوں کے خلاف فوج اور سنٹرل ریزرو پولیس کی کارروائیاں روک دی جائیں‘ جو باغی جیلوں میں بند ہیں‘ انہیں رہا کر دیا جائے‘ لیکن چیف منسٹر بوپیش بھاگل کی کانگریس حکومت نے باغیوں کی اس پیشکش کو مسترد کر دیا اور بات چیت سے پہلے باغیوں کی طرف سے تشدد اور مسلح جدوجہد کو ترک کر کے ہتھیار حکومت کے حوالے کر کے ملک کے آئین اور قانون کے مطابق زندگی گزارنے کے اعلان پر اصرار کیا تھا۔ باغیوں کی طرف سے جنگ بندی اور بات چیت کی پیشکش کو حکومت نے ان کی کمزوری سمجھتی ہے لیکن 4 اپریل کے حملے سے ثابت ہوتا ہے کہ ''مائو نواز‘‘ باغی اب بھی ایک موثر طاقت کی حیثیت سے موجود ہیں‘ بلکہ سرکاری فوجوں پر کامیاب اور ہلاکت خیز حملوں کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اس وقت ان باغیوں کا مرکز چھتیس گڑھ کی ریاست ہے‘ مگر یہ ارد گرد کی باقی ریاستوں میں بھی موجود اور سرگرم ہیں۔ مرکزی حکومت متعدد آپریشنز کے باوجود ان کو ختم نہیں کر سکی‘ اور نہ اس بات کا امکان ہے کہ مرکزی حکومت کی اس حکمت عملی سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا‘ کیونکہ فوج اور پولیس فورس کے مشترکہ آپریشنز میں بے گناہ اور غیر مسلح شہریوں‘ جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں‘ پر ظلم‘ زیادتی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ چھتیس گڑھ میں مائو نواز باغیوں کا حملہ سرکاری فوجوں کی ان ماہرانہ کارروائیوں کے خلاف رد عمل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس پُرانے تنازع میں طبقاتی جدوجہد کے علاوہ دیگر مقامی اور قومی عوامل بھی شامل ہو چکے ہیں۔ ریاست چھتیس گڑھ کو بطور ایک مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ بھارت کے مشرقی اور وسطی حصے میں واقع دیگر ریاستوں یعنی اتر پردیش‘ جھاڑ کھنڈ‘ اڑیسہ‘ تلنگانہ‘ مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش میں مختلف سمتوں سے گھری ہوئی آبادی اور رقبے کے لحاظ سے نسبتاً چھوٹی سی یہ ریاست معدنی اور قدرتی دولت سے مالا مال ہے‘ لیکن بھارت کے 1950 کے آئین کے تحت اس دولت پر حق مقامی لوگوں کے بجائے مرکزی حکومت کا ہے۔ صرف چھتیس گڑھ میں نہیں بلکہ بھارت کے پورے شمال مشرقی اور وسطی علاقوں میں جہاں قبائلی آباد ہیں‘ وسائل کی یہ غیر منصفانہ تقسیم تنازع کی اصل جڑ ہے اور جب تک اسے اکھاڑ کر باہر نہیں پھینک دیا جاتا‘ تنازع موجود رہے گا۔
ریاست چھتیس گڑھ کی اکثریتی آبادی کا مذہب ہندو ازم ہے‘ لیکن مسلمانوں‘ عیسائیوں‘ سکھوں‘ جین مت اور بدھ مت کے پیروکاروں کی بھی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ سب سے اہم یہ کہ چھتیس گڑھ کی تقریباً ایک تہائی آبادی شیڈول کاسٹ یعنی ہریجن (Untouchables) پر مشتمل ہے۔ اس لئے ذات پات پر مبنی اس معاشرے میں تشدد کی جڑیں کافی گہری ہیں‘ لیکن اپنی پیش رو حکومتوں کی طرح بی جے پی کی حکومت بھی ان سماجی نا ہمواریوں اور معاشی محرومیوں کو ختم کرنے پر مائل نظر نہیں آتی بلکہ ان برائیوں کے خلاف جدوجہد کو طاقت کے ذریعے کچلنے پر تیار نظر آتی ہے۔ اس کا انجام کیا ہو سکتا ہے؟ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں!

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں