"DRA" (space) message & send to 7575

پاکستان کا سیاسی اور آئینی بحران

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین مرکز اور بلوچستان میں حکومت سازی کے معاملات طے ہونے کے بعد اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ حالیہ انتخابات میں پہلی کے بجائے‘ دوسری اور تیسری پوزیشن پر آنے والی جماعتوں پر مشتمل ایک مخلوط حکومت مرکز میں اقتدار سنبھالے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں باقی تمام سیاسی پارٹیوں کے مقابلے میں انفرادی طور پر سب سے زیادہ سیٹیں جیتنے والی جماعت‘ پاکستان تحریک انصاف نے مرکز میں بڑی پارلیمانی جماعتوں کو ساتھ ملا کر حکومت بنانے کے بجائے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تین بڑی پارلیمانی جماعتوں میں سے کوئی پارٹی بھی حالیہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی اتنی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی کہ تنہا حکومت بنا سکتی‘ اس لیے تین میں سے کوئی دو جماعتوں کے اتحاد پر مبنی مخلوط حکومت ہی واحد حل ہے مگر پی ٹی آئی نہ تو پاکستان مسلم لیگ (ن) اور نہ ہی پیپلز پارٹی سے ہاتھ ملانے پر تیار ہے۔ چند دن پیشتر جب جیل میں بانی پی ٹی آئی سے پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے بارے سوال کیا گیا تو ان کا جواب تھا کہ جس دن میں (آصف علی) زرداری سے ہاتھ ملائوں گا‘ وہ یومِ قیامت ہو گا۔ ایک ٹی وی پروگرام میں جب صوبہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے ترجمان بیرسٹر سیف علی سے پوچھا گیا کہ جمہوریت میں سب سیاسی پارٹیوں کے وجود اور کردار کو ایک بنیادی اصول کی حیثیت سے تسلیم کیا جانا چاہیے تو ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا اصولی موقف یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کو جن برے اقتصادی اور سیاسی حالات کا سامنا ہے وہ ان دو پارٹیوں یعنی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے گزشتہ تقریباً 40 برس سے باری باری برسر اقتدار رہنے کا نتیجہ ہے‘ (لہٰذا ان سے بات چیت نہیں ہو سکتی)۔ ایسی صورت میں اس کے سوا کہ دیگر جماعتیں مل کر حکومت کی تشکیل کریں‘ کوئی اور آپشن باقی نہیں رہ جاتا۔ البتہ یہ مخلوط حکومت نہ صرف اقلیتی حکومت ہو گی بلکہ ملکی اور غیر ملکی مبصرین کی رائے میں ایک کمزور حکومت بھی ہو گی کیونکہ پہلی پارلیمانی پوزیشن حاصل کرنے والی جماعت پی ٹی آئی نے (بقول اس کے) اپنا ''چوری شدہ‘‘ مینڈیٹ حاصل کرنے کے لیے ملک بھر میں احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس طرح عام انتخابات کے بعد ملک سیاسی غیر یقینی اور عدم استحکام کے ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن)‘ پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پر مشتمل مخلوط حکومت کو اپنے آغاز ہی سے نہ صرف کے پی اور پنجاب میں پی ٹی آئی جیسی بڑی اپوزیشن بلکہ سندھ میں جماعت اسلامی‘ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جی ڈی اے اور بلوچستان میں چار قوم پرست جماعتوں بی این پی‘ نیشنل پارٹی‘ پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پر مشتمل اپوزیشن کی احتجاجی تحاریک کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کیا یہ تحریکیں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکیں گی‘ اس بارے میں مختلف حلقوں کی طرف سے مختلف آرا پیش کی جا رہی ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ چونکہ گزشتہ 16 ماہ کے دورِ حکومت کے برعکس نئی حکومت‘ جسے پی ڈی ایم سیزن ٹو کا نام دیا جا رہا ہے‘ کو اس دفعہ صرف پی ٹی آئی نہیں بلکہ دیگر جماعتوں کی طرف سے بھی ایجی ٹیشن کا سامنا کرنا پڑے گا‘ اس لیے اس حکومت کا مستقبل مخدوش نظر آ رہا ہے۔ اسے جلد یا تو نئے انتخابات کا اعلان کرنا پڑے گا یا عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگرچہ انتخابات پر اعتراضات اور تحفظات ظاہر کرنے والی کوئی پارٹی نہ تو اسمبلیوں کا بائیکاٹ کر رہی ہے اور نہ نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے بلکہ تمام جماعتوں نے اسمبلیوں میں بیٹھنے اور حکومت سازی کے عمل میں شریک ہونے کا فیصلہ کیا ہے‘ جبکہ دھاندلی کے خلاف آئینی طریقہ کار کے مطابق عذر داریاں دائر کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے اور اب تک 80 سے زیادہ عذر داریاں الیکشن کمیشن میں دائر ہو چکی ہیں جن میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ (الیکشن ایکٹ 2017ء کے مطابق انتخابات میں کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن کے 45 دن کے اندر عذر داری دائر کی جا سکتی ہے) اس لیے زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ آنے والے دنوں میں اسمبلیوں کے اندر اور اسمبلیوں کے باہر‘ سیاسی تنائو کے علاوہ اپوزیشن تحریک کا فوکس قانونی جنگ پر ہو گا۔ اس کی دو وجوہات ہیں: موجودہ حالات میں اعلیٰ عدلیہ نے آئین اور قانون کی سختی سے پاسداری کا مظاہرہ کیا ہے اس لیے الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 139 کے تحت الیکشن ٹریبونلز کے فیصلے پر عدم اطمینان کی صورت میں امیدواروں کو اعلیٰ عدلیہ سے انصاف ملنے کی امید زیادہ ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی جن اداروں یا ممالک کی جانب سے پاکستان کی حالیہ سیاسی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا‘ انہوں نے بھی مسئلے کے حل کے لیے آئینی و قانونی طریقہ کار کو استعمال کرنے ہی پر زور دیا ہے۔
اگر پی ٹی آئی کی طرف سے متنازع قرار دیے گئے نتائج کے بارے میں دائر کردہ تمام عذرداریاں قبول کر لی جاتی ہیں تو یہ مرکز میں تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے اور یوں مسئلہ ختم ہو جائے گا لیکن اگر تمام قانونی مراحل طے کرنے کے بعد بھی پی ٹی آئی کے ہاتھ اتنی سیٹیں نہیں آتیں کہ وہ تنہا حکومت بنا سکے تو اسمبلی کے اندر اور باہر ایجی ٹیشن جاری رہے گی‘ کیونکہ وہ باقی دو اکثریتی پارٹیوں میں سے کسی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانے پر کبھی تیار نہیں ہو گی۔
بعض تجزیہ کاروں کی رائے میں پی ٹی آئی نے مرکز میں حکومت بنانے کے بجائے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کر کے غلطی کی ہے کیونکہ وہ حالیہ انتخابات میں اپنے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کے ذریعے قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی پارٹی کی حیثیت سے ابھری ہے اور حکومت سازی پر پہلا حق اسی کا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتیں اس کا یہ حق تسلیم کرتی ہیں۔ شہباز شریف تو اسے حکومت بنانے اور خود اپوزیشن میں بیٹھنے کی دعوت بھی دے چکے ہیں لیکن پی ٹی آئی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مخلوط حکومت نہیں بنانا چاہتی۔ اسے ملک کے آئین اور سیاسی نظام میں بنیادی تبدیلیاں لانے کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔ بانی پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ عوام نے ان کی پارٹی کو دو تہائی اکثریت کے ساتھ کامیاب کرایا مگر دھاندلی کے ذریعے انہیں اس کامیابی سے محروم کر دیا گیا؛ تاہم جب تک وہ آئین اور قانون کے مطابق اپنے دعوے کو سچ ثابت نہیں کرتے‘ انتخابی نتائج کی موجودہ حیثیت برقرار رہے گی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت ایک جائز‘ قانونی اور نمائندہ حکومت متصور ہو گی اور بین الاقوامی برادری اور عالمی ادارے اس کے ساتھ اسی بنیاد پر تعلقات استوار کریں گے۔ دنیا کا کوئی ملک یا مالیاتی ادارہ کسی سیاسی پارٹی کے مطالبے پر اس حکومت کے ساتھ لین دین سے انکار نہیں کر سکتا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے پاکستان کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سازی ہر ملک کا اندرونی معاملہ ہے اور امریکہ پاکستان کی طرح دیگر تمام ممالک کے بارے میں اسی پالیسی پر کارفرما ہے۔ لہٰذا اگر کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جمہوریت کی خاطر امریکہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے گا یا مالیاتی اداروں کو پاکستان میں کام کرنے سے روک دے گا تو یہ محض خام خیالی ہے۔
دوسری عالمگیر جنگ کے بعد سے اب تک امریکہ کا اس معاملے میں کردار سب کے سامنے ہے۔ اس اصول کے تحت امریکہ‘ یورپ اور مالیاتی اداروں کو سب سے پہلے اسرائیل سے ناتا ختم کرنا چاہیے تھا جہاں آدھی آبادی یعنی فلسطینیوں کو کسی قسم کے سیاسی‘ قانونی اور سماجی حقوق حاصل نہیں ہیں اور اب غزہ میں ان کی منظم نسل کشی کی جا رہی ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں