Coronavirus Updates
"IGC" (space) message & send to 7575

ایران، پاکستان، کشمیر اور بھارت

مارچ 1994ء۔۔۔۔۔ جموں کشمیر میں حقوق انسانی کی ابتر صورت حال کے حوالے سے تنظیم اسلامی کانفرنس (او آئی سی) نے اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن میں ایک قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس میں کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بھارت کی زبردست سرزنش اور اس کے خلاف اقدامات کی بھی سفارش کی گئی تھی۔ منظوری کی صورت میں یہ قرارداد براہ راست اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سپرد کردی جاتی، جہاں بھارت کے خلاف اقتصادی پابندیاںعائد کرنے کے قواعد تقریباً تیار تھے۔ مگر اس دوران کوہ البرزکے دامن میں واقع تہران ایئر پورٹ پر شدید سردی میں بھارتی فضائیہ کے ایک خصوصی طیارے نے برف سے ڈھکے رن وے پر لینڈنگ کی۔ یہ طیارہ اس وقت کے وزیر خارجہ دنیش سنگھ اور تین دیگر مسافروںکو انتہائی خفیہ مشن پر لے کر آیا تھا۔ دنیش سنگھ ان دنوں دہلی کے ہسپتال میں زیر علاج تھے اور بڑی مشکل سے چل پھر سکتے تھے۔ وہ اسٹریچر پر ایرانی صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے نام وزیر اعظم پی وی نرسمہا رائو کا اہم خط لے کر آئے تھے اور ذاتی طور پر ان کے حوالے کرنا چاہتے تھے۔ سوئے اتفاق کہ 'راجہ صاحب‘ دنیش سنگھ کا یہ آخری سفارتی دورہ ثابت ہوا کیونکہ اس کے بعد وہ دنیا سے کوچ کرگئے۔ اس وقت بین الاقوامی برادری میں بھارت کی پوزیشن مستحکم نہیں تھی اور آج کے شائننگ انڈیا کے برعکس اقتصادی صورت حال انتہائی خستہ تھی، حتیٰ کہ سرکاری خزانہ بھرنے کے لئے حکومت نے اپنا سارا سونا بیرونی ملکوں میںگروی رکھ دیا تھا۔ ادھر سوویت یونین کے منتشر ہو جانے سے اس کا یہ دیرینہ دوست اپنے زخم چاٹ رہا تھا۔
چند سال قبل ایک خلیجی ملک میںٹریک ٹو کانفرنس کے موقع پر ایک سینئر بھارتی سفارت کار نے راقم الحروف کو یہ واقعہ سنایا کہ کس طرح ایران نے اس مشکل گھڑی میں بھارت کی لاج رکھی۔ وزیر اعظم نرسمہا رائو نے بڑی چالاکی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کو آمادہ کرلیا کہ وہ او آئی سی میں مذکورہ قرارداد کی منظوری کے وقت غیر حاضر رہے۔ جہاندیدہ رائو کا خیال تھا کہ ایران کے غیر حاضر رہنے کی
صورت میں یہ قرارداد خود بخود ناکام ہو جائے گی کیونکہ او آئی سی دوسرے کئی الاقوامی اداروںکی طرح ووٹنگ کے بجائے اتفاق رائے سے فیصلے کرتی ہے۔ جس وقت بھارتی فضائیہ کا خصوصی طیارہ ایرانی ہوائی اڈے پر اتر رہا تھا، ایرانی حکام کو ذرا سا بھی اندازہ نہیں تھا کہ بھارتی وزیر خارجہ اچانک تہران میںکیوں نازل ہو رہے ہیں۔ ایرانی حکام اتنے حیرت زدہ تھے کہ وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی پروٹوکول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خود ہوائی اڈے پر پہنچے اور جب راجہ دنیش سنگھ کو صبح سویرے سردی سے ٹھٹھرتے وہیل چیئر اور ڈاکٹروں کے ہمراہ ہوائی جہاز سے برآمد ہوئے دیکھا تو ان سے پہلا سوال ہی یہ کیا کہ آخر اس وقت اور اتنے ہنگامی طریقے سے اپنی جان جوکھم میں ڈالنے کی کیا ضرورت آن پڑی۔ دنیش سنگھ مسکرائے اور ایک سفارتی مکتوب ڈاکٹر ولایتی کو دیا۔ اگلے کچھ گھنٹوںکے دوران زبردست سفارتی سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں۔ دنیش سنگھ نے صدر ہاشمی رفسنجانی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ناطق نوری سے ملاقات کی اور اسی دن شام کو دہلی کے اسپتال میں اپنے بیڈ پر دوبارہ دراز دکھائی دیئے۔ بہر حال ان کا مشن کامیاب رہا۔ وہ دہلی لوٹنے سے قبل صدر ہاشمی رفسنجانی سے یہ یقین دہانی حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکے تھے کہ ایران بھارتی مفادات کا پورا خیال رکھے گا۔ اس پورے معاملے میں ایران کوکیا ملا، یہ اب تک ایک راز ہے۔ کہتے ہیں، اگر پاکستان کو اس واقعے کی بھنک پڑ جاتی تو معاملہ کچھ اور ہوتا۔ ادھر ایرانی دبے لفظوں میںکہتے ہیں کہ بھارت نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے سلسلے میں ان سے ایک وعدہ کیا تھا، جس پر انہوں نے یقین کرلیا تھا۔ بھارت نے ایران سے درخواست کی کہ وہ مغربی ممالک کی مداخلت روکنے میں اس کی مدد کرے اور ایران نے ایسا ہی کیا۔ 
اس کے ایک سال بعد رائو نے برکینا فاسو میں نا وابستہ ممالک کی سربراہ کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ کشمیر کے سلسلے میں بھارت مکمل آزادی کے سوا کسی بھی حل کے لئے آمادہ ہے۔ دنیش سنگھ کی واپسی کے بعد 72 گھنٹے بھارت کے لئے کافی تذبذب بھرے تھے؛ تاہم ایران نے اپنا وعدہ ایفا کرتے ہوئے کشمیر سے متعلق او آئی سی کی قرارداد کو بڑی حکمت سے ویٹوکردیا۔ چونکہ سبھی نگاہیں اس وقت جنیوا پر ٹکی ہوئی تھیں، اس لئے کسی کو اتنی فرصت نہیں تھی کہ یہ جان سکتا کہ تہران میںکیا پک رہا ہے۔ مجھے یاد ہے، نئی دہلی میں اس وقت کے پاکستانی ہائی کمشنر ریاض کھوکھر خاصے تنائو بھرے ماحول میں کشمیری لیڈروں سید علی گیلانی اور عبدالغنی لون کو بتا رہے تھے کہ ایران اس انتہائی اہم قرارداد کی حمایت سے ہاتھ کھینچ رہا ہے؛ حالانکہ صرف ایک ہفتہ قبل نئی دہلی میں ایرانی سفیر نے دونوں کشمیر ی رہنمائوںکی اپنی رہائش گاہ پر پرتکلف دعوت کی تھی اور انہیں باورکرایا تھا کہ مظلوم مسلمانوں کی حمایت کرنا ایران کی خارجہ پالیسی کا اہم جز ہے۔ 
قابل ذکر بات یہ ہے کہ جنیوا میں منعقدہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں شرکت کے لئے بھارتی وفد کی قیادت اس وقت کے اپوزیشن لیڈر اٹل بہاری واجپائی نے کی تھی اور ان کے ساتھ مرکزی وزیر سلمان خورشید اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ موجود تھے۔ اس وفد کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ 72 گھنٹے قبل وزیر خارجہ دنیش سنگھ ایک ایسا کارنامہ انجام دے چکے ہیں جس کے دور رس اثرات مرتب ہونے والے تھے۔ بعد کے حالات و واقعات نے اسے درست ثابت کیا۔ واجپائی اور ڈاکٹر عبداللہ اب تک اس کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھتے پھرتے ہیں اور نرسمہا رائو نے بھی مرتے دم تک ان سے یہ سہرا واپس لینے کی کوشش نہیں کی تھی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس واقعے کے بعد سے پاکستان نے کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں لے جانے کی کبھی ہمت نہیںکی۔
اس واقعے کے بعد ایران اور پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہوتے گئے؛ حتیٰ کہ افغانستان کے سلسلے میں دونوں نے متضاد موقف اختیار کیا۔ ایران نے بھارت کے ساتھ مل کر ناردرن الائنس کو تقویت پہنچائی جو پاکستانی مفادات کے بالکل خلاف تھا۔ پاکستان کو اس رویے سے زبردست صدمہ پہنچا جسے اس نے پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا۔ آہستہ آہستہ ایران کشمیرکی تحریک آزادی سے بھی کنارہ کش ہو گیا، ورنہ اقوام متحدہ ہو، ناوابستہ ممالک کی کانفرنس ہو یا کوئی بھی دوسرا ملٹی نیشنل فورم، میں نے خود دیکھا ہے کہ ایرانی مندوبین منیر اکرم اور دیگر پاکستانی سفارتکاروں کے آگے پیچھے دوڑتے پھرتے تھے اور ان سے ہر ایشو پر مشورہ لینا ضروری سمجھتے تھے۔ پاکستان کی طرح ایران بھی کشمیر کی تحریک آزادی کی سیاسی اور سفارتی مدد میں پیش پیش تھا۔ ایرانی انقلاب کے لگ بھگ ایک سال بعد امام خمینی کے نمائندے کی حیثیت سے آیت اللہ خامنہ ای سرینگر کے دورہ پر آئے، جہاں تاریخی جامع مسجد میں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ فضا خمینی رہبر اور شیعہ سنی اتحاد کے نعروں سے گونج رہی تھی۔ خامنہ ای کے ایک اردو بولنے والے ساتھی نے سوپورکے اقبال پارک میں جلسہ عام سے خطاب کیا جس کا انعقاد جماعت اسلامی سے منسلک اسلامک اسٹڈی سرکل نے کیا تھا۔
پچھلی دو دہایئوں میں جب ایران مشکلات سے دوچار تھا، مغربی طاقتیں اسے تباہ کرنے کے درپے تھیں، اس پر پابندیاں عائد کی جارہی تھیں،کیا بھارت نے اس احسان کا بدلہ چکایا؟ جو ایک تبدیلی سامنے آئی وہ یہ تھی کہ بھارت اور ایران کے مابین 2003ء میں ''چاہ بہار‘‘ میں گہرے پانیوں کی ایک بندرگاہ تعمیر کرنے پر اتفاق ہوا۔ معاہدے کے تحت اس بندرگاہ کی دو اہم برتھیں بھارت کو دی جائیں گی اور بھارت سے ایران تک جانے کے لیے خصوصی بحری جہاز بھی بھارت تیارکرے گا۔ اس بندرگاہ کا سالانہ ہدف ایک کروڑ بیس لاکھ ٹن رکھا گیا ہے۔ بھارتی کابینہ نے چاہ بہار کے لیے85۔12ملین ڈالر منظورکیے ہیں جس سے اس کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے گا۔ بھارت ہر سال 22 ملین ڈالر اس کے انتظام پر بھی خرچ کرے گا۔ یہ منصوبہ بھارت کو ایران کے راستے افغانستان اور وسطی ایشیا سے ملانے کا ایک اہم جز ہے۔ بھارت نے کثیر لاگت سے افغانستان میں دلارام شہر سے ایرانی سرحدی شہر زرنج تک موٹروے پہلے ہی بنا دی ہے۔چاہ بہار سے 900 کلو میٹر ریلوے لائن بھی بچھائی جا رہی ہے جو افغان صوبہ بامیان تک جائے گی، جہاں کے آئرن اور آئرن کور کو بھارت کی سٹیل ملز تک پہنچایا جائے گا۔ بھارت چاہ بہار تک رسائی کے لیے افغانستان میں 220 کلومیٹر طویل ہائے وے بھی تعمیر کر چکا ہے۔ 7 مئی 2015ء کو ایرانی وزیر ٹرانسپورٹ عباس احمد آخوندی اور بھارتی وزیر جہاز رانی و ٹرانسپورٹ نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت بھارت دس سال کے لیے یہ بندرگاہ استعمال کرے گا جس کے بعد اس پر کی گئی تمام تعمیرات اور مشینری ایرانی ملکیت تصور ہو گی۔ 
اب ایران اور پاکستان اپنے تعلقات دوبارہ استوار کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔ ایرانی صدر حسن روحانی حال ہی میں اسلام آباد میں تھے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ بھی اپنے معاملات سلجھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ایران پر لازم ہے کہ بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات اور اثر و رسوخ کو بروئے کار لا کر نئی دہلی کو اپنے 1994ء کے وعدوں کی یاد دہانی کرائے۔ اگر یہ وعدہ ایفا ہوتا ہے تو نہ صرف پاکستان مستحکم ہوگا، بلکہ اس خطے میں امن اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا جس میں بھارت، پاکستان، افغانستان اور ایران اسٹیک ہولڈرز ہوںگے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں