"IMC" (space) message & send to 7575

بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے

امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کا کہنا ہے کہ طالبان کو شریعت نافذ کرنا ہوتی تو اب تک کرچکے ہوتے۔ نفاذ ِشریعت انتخابات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جماعت اسلامی تبدیلی کا راستہ انتخابات کو ہی تسلیم کرتی ہے۔مولانا فضل الرحمن بھی فرماتے ہیں: ہم زبردستی شریعت کے نفاذ کے خلاف ہیں۔ان دونوں بزرگوں کے بیانات کافی حوصلہ افزا ہیں ۔ بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے ۔چند برس قبل مولانا فضل الرحمن دھمکی لگایا کرتے تھے کہ اگر ان کا راستہ روکا گیا تو خونی انقلاب آئے گا۔انقلاب تو نہ آیا ‘ پورا ملک لہو رنگ ہوگیا۔ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام جمہوری نظام پر یقین رکھنے والی جماعتیں ہیں ۔ افغان جہاد اور بعدازاں طالبان کے افغانستان پر غلبہ نے ان کی سیاسی فکر کو الجھائو کا شکار کیا ۔بتدریج ان جماعتوں پر ان عناصر کی گرفت مضبوط ہوگئی جو شدت پسند گروہوں کے فلسفے اور سیاسی حکمت عملی کے متاثرین تھے۔مصر کے علماء عبدالقادر عودہ اور سّید قطب کی تحریروں نے اسلامی قوانین کے نفاذ اور معاشرے کو اسلامی رنگ میں رنگنے کے لیے انفرادی سطح پر اقدامات کرنے کی سوچ کی تائید کی۔امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے قرآنی اصول کی نت نئی تعبیرات اور تشریحات کی جانے لگیں۔ ہر محلے اور شہر میں ’’پاسداران انقلاب‘‘ کے گروہ وجود میں آتے گئے اور رفتہ رفتہ انہوں نے ریاست کی ذمہ داریاں خود ہی سنبھال لیں۔ ان عناصر کو نظریاتی محاذ پر چیلنج کرنے والا کوئی نہ تھا۔انہیں طاقتور ریاستی حلقوں کی تائید بھی دستیاب تھی لہٰذا ان کے نظریات کو مستردکرنے والوں کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز کی مانند کسی نے نہ سنی۔ علامہ جاوید احمد غامدی کے لیے دل کی گہرائیوں سے دعا نکلتی ہے ۔آج بڑے نامی گرامی عالم فاضل شدت پسندوں کے خوف سے کلمہ حق کہنے سے کتراتے ہیں۔ وہ نہ صرف کھل کر دین کی اعتدال پسندانہ تعبیر وتشریح کررہے ہیں بلکہ پوری جرأت اور استقامت کے ساتھ جہاد وقتال کے باب میں متبادل نقطہ نظر پیش کرتے ہیں۔روزنامہ ’’دنیا‘‘ کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ وہ کچھ عرصے سے علامہ غامدی کے مضامین چھاپ رہاہے۔اپنے حالیہ مضمون میں انہوں نے بڑے متاثر کن انداز میں شدت پسندوں کے نظریات کا ابطال کیا ۔ لکھتے ہیں : نبی کریم ﷺ نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اگروہ جنگ کے کرنے والوں کے ساتھ نکلے بھی ہوں تو بالعموم مقابل نہیں ہوتے۔زیادہ سے زیادہ لڑنے والوں کا حوصلہ بڑھاسکتے ہیں اور زبان سے انہیں لڑنے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔ بے شمار ادق موضوعات پر جاوید غامدی کے خیالات پڑھ اور سن کر یہ احساس ہوتاہے کہ عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق مذہب کی تعبیر کی جاسکتی ہے۔بالخصوص غیر مسلم معاشروں میں رہنے والے مسلمان کیسے زندگی بسرکریں؟بین الاقوامی تعلقات کو کیسے برتا جائے اور مسلم معاشروں یا ملکوں میں آباد غیر مسلموں کے حقوق اور فرائض کیا ہیں؟جہاد وقتال کے اعلان میں ریاست کی ضرورت‘ اہمیت اور انفرادی سطح پر ایسے اقدامات کی ممانعت ۔یہ وہ موضوعات ہیں جن پر روایتی علماء کی آراء اپنی اہمیت کھو چکی ہیں ۔پاکستان یا مسلم دنیا میں ان موضوعات پر بحث ومباحثہ کا مطلب اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی کو خطرات سے دوچار کرنالہٰذا کوئی تازہ خیال یا کلام سامنے ہی نہیں آتا۔ غالباً وہ واحد عالم ہیں جنہوں نے ملالہ یوسف زئی پر حملے کے خلاف آواز اٹھائی ۔یہ بتایاکہ کوئی بھی شخص جو آپ کے نقطہ نظر سے اختلاف کرے واجب القتل نہیں ہوجاتا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ملالہ کو دنیا نے علم اور جرأت کی علامت کے طور پر پیش کیاہے۔ ہمارے معاشرے کی اکثریت اسے یہودیوں اور نصرانیوں کا آلہ کار تصور کرتی ہے۔ سوشل میڈیا معاشرے میں پائی جانے والی سوچ کا حقیقی آئینہ دار ہے۔بہت سے لوگوںکی وال پر ہونے والی بحثوں پر نظر ڈالنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پاکستان کو محض طالبان یا ان کے حامیوں سے خطرہ نہیں بلکہ پڑھے لکھے اور اچھا خاصہ خاندانی پس منظر رکھنے والے افراد کی سوچ بھی اتنی ہی الجھی ہوئی ہے جتنی مدارس کے طلبہ اور اساتذہ کی۔وہ بھی وہی سازشی نظریات اور فلسفہ بگھارتے ہیں جو ’’ڈھوک حسو‘‘ کا امام دین ۔ طالبان کے ترجمان نے فرمایا کہ انہوں نے پشاور کے گرجا گھر پر حملہ نہیں کیا لیکن جس کسی نے بھی کیا اس نے درست اقدام کیا۔اس کے باوجود معاشر ے میں کوئی ہلچل پیدا نہیں ہوئی۔قابل ذکر احتجا ج نہ ہوا۔ اور لوگوں کی طرح میں نے بھی محلے کے مولوی صاحب کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ جمعہ کے خطبے میں اس موضوع پر اظہار خیال کریں ۔ لوگوں کو بتائیں کہ بے گناہ انسانوں کا قتل نہ صرف جائز نہیں بلکہ ظلم ہے۔مولوی صاحب ٹال مٹول سے کام لیتے رہے۔ طوالت کلام کے خوف سے کہا :کیوں غیر مسلموں کی ہلاکتوں کی مذمت کروں کیا مغربی ممالک اور رائے عامہ افغانستان او ر فلسطین میں ہونے والی ہلاکتوں کی مذمت کرتی ہے؟ تصادم پر مبنی یہ سوچ صرف پاکستان ہی میں نہیں پائی جاتی بلکہ مغربی ممالک میں آباد مسلمانوں کا بھی یہی حال ہے۔کچھ عرصہ پہلے لندن میں ایک خاندان نے گھر کھانے پر بلایا۔دونوں میاں بیوی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خوشحال زندگی گزارتے ہیں۔میاں چارٹرڈ اکائونٹنٹ اور بیگم کیمسٹری میں پی ایچ ڈی۔ان کی باتین سن کر دنگ رہ گیا۔ایسا لگا کہ دوردراز کی کسی ’’دیہاتی بڑھیا‘ ‘ سے گفتگو ہورہی ہے۔عرض کیا‘ اگر آپ کا فلسفۂ حیات و ریاست تسلیم کرلیا جائے تو پاکستان پتھر کے زمانے میں چلاجائے گا۔دونوں بیک زبان کہنے لگے‘ صالح معاشرے اور ریاست کی تشکیل کی خاطر ہمیں پتھر کے عہدمیں جانے سے گریز نہیں کرنا چاہیے ۔ برطانوی حکام کہتے ہیں کہ ان کے ملک میں آباد مسلمانوں میں ایسے گروہ پائے جاتے ہیں جو مقامی لوگوں کو واجب القتل تصور کرتے ہیں۔وہ کسی بھی وقت برطانوی شہریوںکے خلاف انتہاپسندانہ اقدامات کرسکتے ہیں۔مذاکرات اپنی جگہ لیکن اس مائنڈ سیٹ کو مسترد کرنے کے لیے ایک ہمہ گیر جدوجہد کی ضرورت ہے ۔مذہبی جماعتوں اور شخصیات کو اس عمل میں جاوید احمدغامدی صاحب کی طرح قائدانہ کردار ادا کرنا پڑے گا۔ورنہ مسلمانوں کی بھاری اکثریت انتہاپسندی کے عفریت کا شکا رہوجائے گی۔ لوگ صوفی محمد کے حامیوں کی طرح اپنا جانی اور مالی نقصان تو کریں گے ہی‘ مسلم دنیا کو بھی ناقابل تصور نقصان سے دوچار کردیں گے۔کیا سّید منور حسن اور مولانا فضل الرحمن کو ان چیلنجوں کا ادراک ہے؟ کیا وہ یا ان کی جماعتیں مسلمان نوجوانوں کو ایسے راستوں پر چلنے سے روکنے کی کوشش کریں گی جن کی منزل سوائے بربادی کے اور کچھ نہیں؟

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں