"IMC" (space) message & send to 7575

نریندر مودی کی شخصیت

پانچ دن تک دہلی کی گلیوں اور محلوں میں لوگوں سے تبادلہ خیال کرنے سے یہ خیال پختہ ہوتاگیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی ) کے راہنما نریندر مودی بھارت کے اگلے وزیراعظم ہوسکتے ہیں۔یہ خیال دل ودماغ پر چھایا رہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا اگلا وزیراعظم ایک ایسا شخص ہوگا جو بچپن میںچائے کا کھوکھا چلاتاتھا۔ 
نریندر مودی کے دامن پہ ہزار کے لگ بھگ مسلمانوں کے قتل میں ملوث بلوائیوں کی حوصلہ افزائی کا الزام ہے۔گجرات کے قتل عام نے مودی کو دنیا میں اچھوت بنادیا تھا۔امریکہ نے ان کے ویزے کی درخواست مسترد کی ۔برطانیہ اور یورپی یونین کے راہنمائوں نے ان سے میل جول ترک کردیالیکن اب یہ قصہ رفت گزشتہ ہوتاجارہاہے۔ وہ بھارت کی سب سے طاقتور شخصیت کے طور پر ابھر رہے ہیں۔
یہ سوال ہر ذہن میں کلبلاتاہے کہ مودی نے کس طرح اپنے ماضی سے جان چھڑائی اور قابل قبول راہنما کا امیج پیدا کیا۔مودی کے پاس کوئی راکٹ سائنس نہیں بلکہ صرف سیاسی عزم تھا جس نے ناممکن کو حقیقت بنادیا۔گزشتہ 12 سال میںگجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر انہوں نے اپنے عوام کی قسمت بدلنے کے لیے دن رات ایک کیا۔ مودی کی صنعتی پالیسیوں کے نتیجے میں نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے گجرات پسندیدہ ریاست بن چکی ہے۔ مودی کے انوکھے طرز حکومت اور انتھک محنت کی بدولت گجرات بھارت کی سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرنے والی ریاست بن گئی ۔اچھے منتظم اور بدعنوانی سے پاک ہونے کی بدولت وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی اگلی صفوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ایل کے ایڈوانی اور جسونت سنگھ جیسے قد آور راہنمائوں کو پس منظر میں دھکیل کر مودی کا وزیراعظم نامزد ہوجانا غیر معمولی کامیابی ہے۔
٭مودی گزشتہ بارہ برس سے گجرات کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ ان کی ابتدائی سیاست کا محور مذہب اور فرقہ واریت تھی۔ گجرات فسادات کے ما بعد انہوں نے فرقہ ورانہ سیاست کے بجائے تیز رفتار تعمیر وترقی کو اپنی سیاست کی بنیاد بنایا۔اپنا امیج بہتر کرنے کی خاطر ویشوا ہندو پریشد کے رہنماپراوین توگادیہ کو کابینہ سے برطرف کیا۔دوسو غیر قانونی مندروں کومنہدم کرایا۔اگرچہ مودی نے مسلمانوں کے قتل عام پر معذرت نہیں کی لیکن انہوں نے ہندو انتہاپسندعناصر کو لگام دینے کی کوشش کے ذریعے مسلمانوں کو صلح کا پیغام دیا۔
٭مودی کا طرزحکومت بھی انوکھا اور دلچسپ ہے۔وہ وزراء کے بجائے اہل ماہرین پر انحصار کرتے اورانہیں اہم ذمہ داریاں سونپتے ہیں۔بسااوقات وزراء کو معلوم نہ ہوتا کہ ان کی وزارت میں مودی کی براہ راست نگرانی میں کچھ منصوبوں پر کام ہورہاہے ۔ افسروں کے چنائو کاپیمانہ اچھی ساکھ اور کارکردگی کے سوا کچھ نہیں۔ مودی سیاسی بنیادوں پر انتظامی افسروں کے تبادلوں کی سخت حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ انتہائی ناگزیر وجہ کے بغیر تین سے پانچ سال کے دوران کسی افسر کا تبادلہ نہیں کیاجاتا۔
٭مودی نے سرکاری سطح پر کرپشن کے خاتمہ کے لیے روز مرہ انتظامی معاملات کو آن لائن کر دیا تاکہ افسران کا عوام کے ساتھ غیر ضروری رابطہ ختم ہوسکے۔ سبسڈیز، پنشن، زمین کی رجسٹریشن، خرید و فروخت،پیدائش و انتقال سرٹیفیکیٹس، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس اور ٹینڈرنگ وغیرہ کو مکمل طور پر آن لائن کر دیاگیا۔عوام کی انٹرنیٹ تک رسائی اور آن لائن سروس کی سہولت سے فائدہ اٹھانے کو یقینی بنانے کے لیے پبلک سروس سنٹرز قائم کیے ۔ ان اقدامات کے نتیجہ میں گجرات ریاست کوکئی ای گورننس ایوارڈز ملے۔اس طرح افسروں کے لیے عام لوگوں سے روپیہ ہتھیانے اور رعب جمانے کے مواقع محدود ہوگئے۔ 
٭مودی نے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ترغیب دینے کی خاطر متعدد کانفرنسیں کرائیں۔محض ایک کانفرنس میں دنیا کی اہم ترین کمپنیوں مثلاً ٹاٹا موٹرز، جنرل موٹرز،فورڈز نے 460 ارب ڈالر ز کی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کیے۔
٭مودی نے گجرات انٹرنیشنل فائنانس ٹیک سٹی پراجیکٹ پر کام شروع کرایاجہاں صرف تجارتی اور کاروباری مراکز تعمیر ہورہے ہیں ۔اس منصوبے کی تکمیل کے بعد ممبئی کے بجائے احمد آبادبھارت کا سب سے بڑاکاروباری مرکز بن جائے گا۔
٭انھوں نے سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے سرخ فیتہ نہیں بلکہ سرخ قالین یعنی تعاون اور مدد کی پالیسی اپنائی۔ مودی کافلسفہ حکمرانی بہت مختلف ہے۔وہ کم سے کم حکومت اور زیادہ سے زیادہ خدمت کے علمبردار رہے۔بھارت میں کی گئی کل سرمایہ کاری میں سے تقریباً 15 فیصد گجرات میں کی گئی حالانکہ یہ ریاست بھارت کی کل آبادی کا محض پانچ فیصد ہے۔ان اقدامات کے طفیل گزشتہ سال گجرات میں صنعت نے 13 فیصد اور زراعت نے 10.7 فیصد کی شرح سے ترقی کی۔ بھارت کی کل برآمدات میں گجرات کا حصہ 22 فیصد تک جا پہنچا ہے۔
٭نریندر مودی بھارت کے ان چند سیاستدانوں میں سے ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا سیاسی پیغام عام کیا۔ ان کی اپنی ویب سائیٹ ،بلاگ،نیوزچینل کے علاوہ فیس بک،ٹویٹر اور یوٹیوب پر اکائونٹ ہے۔ وہ سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث اور ہٹس کا خو د بھی جائزہ لیتے ہیں۔پارٹی کے رضاکار انہیں مسلسل آگاہ رکھتے ہیں کہ لوگ ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔علاوہ ازیں وہ سائنسی انداز سے اپنے سیاسی مخالفین بالخصوص راہول گاندھی اور نتیش کمار کی سیاست اور کارکردگی کا مطالعہ بھی کراتے ہیں۔ ان کی سوشل میڈیا ٹیم انہیں اپنی انتخابی مہم بہتر بنانے کے لیے مسلسل تجاویز دیتی ہے۔مودی جانتے ہیں کہ بھارت کا اگلا الیکشن سوشل میڈیا یا سائبر ورلڈ پر لڑا جائے گا ۔اس لیے وہ اس محاذ پر دوسروں سے زیادہ متحرک ہیں۔
دہلی میں عام شہریوں سے بات کرنے کا موقع ملا۔شدت سے محسوس ہوا کہ وہ کانگریس کے طرز حکومت سے بیزار اور تبدیلی کے لیے بے تاب ہیں۔متبادل قیادت کی عدم موجودگی کے باعث مودی کو مخالفین پہ فطری برتری حاصل ہے۔ اگرچہ یہ مشکل ہے کہ وہ تنہا حکومت بناسکیں لیکن کانگریس اور بالخصوص راہول گاندھی میں ان کے سامنے کھڑے ہونے کا دم نہیں۔ 
بھارت میں بہت سارے مبصرین کا خیال ہے کہ مودی کے برسراقتدار آنے سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری آسکتی ہے۔یہ اٹل بہاری واجپائی ہی تھے جوکارگل کی جنگ کے باوجود اسلام آباد تشریف لائے اور پاک بھارت مذاکرات کی داغ بیل ڈالی۔پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور عمران خان نے اپنے حالیہ دورہ بھارت کے دوران کہا کہ مودی وزیراعظم بنتے ہیں تو پاکستان ان کے ساتھ بغیرکسی ہچکچاہٹ کے کام کرے گا۔اگرچہ مودی نے پاکستان اور وزیراعظم نواز شریف کے خلا ف کچھ بیانات جاری کیے ہیںلیکن عمومی خیال یہ ہے کہ پاکستان میں لاہوری وزیراعظم جو کشمیر ی پس منظر رکھتے ہیں اور بی جے پی کے راہنما مل کرپاک بھارت تنازعات حل کرسکتے ہیںکیونکہ انہیں عوام کا اعتماد اور دفاعی اداروں کا تعاون حاصل ہے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں