"IMC" (space) message & send to 7575

کوالالمپور میں چند روز…(2)

ملائیشیا نے حیرت انگیز تیزرفتاری سے اقتصادی ترقی کی۔ خاص طور پر مہاتیر محمد کے دور حکومت میں انفراسڑکچر کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی گئی۔سرخ فیتے کی روایتی سستی کو کارکردگی اور اہلیت میں بدلاگیا۔سرکاری حکام کی ترقی کاپیمانہ اہلیت قرارپائی نہ کہ حکمرانوں سے قربت ۔نوکر شاہی میں مسابقت کا ماحول پیدا کیاگیا ۔حکومت نے بڑی کمپنیوں کی بھرپورحوصلہ افزائی کی تاکہ وہ اپنے کاروبار کو بلاخوف وخطر وسعت دے سکیں۔جیسا کہ گزشتہ کالم میں ذکر کیا گیاکہ ملائیشیا کے پہلے دس امیر ترین لوگوں میں سے نو چینی اور ایک ہندو ہے۔ دوسرے الفاظ میں ایک بھی مقامی باشندہ نہیں۔پھر بھی یہ اعتراض نہیں کیاجاتا کہ چینی ہی کیوں امیر ہورہے ہیں؟شہریوں نے شعوری طور پر یہ حقیقت تسلیم کرلی ہے کہ مسلمان زراعت، چینی آباد کار صنعت اور ہندو آباد کار پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لیتے ہیں۔
مہاتیر محمد کی حکومت ہویا اس کے بعد آنے والی حکومتیں، ان کا ہدف ملائیشیا کو محض مشرقِ بعید ہی نہیں بلکہ دنیا کی بڑی اقتصادی طاقت میں بدلنے کاہے۔ اس وقت ملائیشیادنیا کی 29 ویںبڑی معیشت بن چکا ہے۔ اس کا کل جی ڈی پی 305 بلین ڈالر کے برابر ہے۔ ایک تجزیہ کے مطابق 2050ء تک دنیا کی 21 ویں بڑی معیشت بن جائے گی اور یہ سلسلہ رکنے والا نہیں۔ 2020 ء تک ملائیشیا صنعتی طور پر خودکفیل ملک بننے کا اعلان کر چکا ہے۔ یہ ویژن مہا تیر محمد نے 1991ء میں دیا تھاجسے ویژن 2020ء کا نام دیا گیا۔ ملک کی شرح ترقی بالعموم 6.5 فیصد کے آس پاس رہی ہے۔ اسی اور نوے کی دہائی میں یہ 8 فیصد سے بھی اوپر چلی گئی تھی۔ زراعت اور کان کنی ملکی صنعت کی بنیاد تھے۔ ربڑ،ٹین، پام آئل وغیرہ کا ملائیشیا کی برآمدات میںبڑا حصہ رہا ہے۔ساٹھ کی دہائی میں حکومت نے صنعتی ترقی کو ہدف بنایا۔رفتہ رفتہ ملائیشیا کی بنی ہوئی اشیا نے دنیا میں اپنی منفرد پہچان حاصل کرنا شروع کر دی۔ جلد ہی وہ الیکٹریکل اشیا، سولر پینل اور آلات وغیرہ برآمدکرنے والے چند نمایاں ممالک میں شامل ہو گیا۔
حکومت نے بھاری صنعتوں میں بڑے پیمانے پر ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی ۔ نوے کی دہائی میں یہ صنعت ملائیشیا کی معیشت کا انجن بن گئی۔ ا س ضمن میںجاپان نے ملائیشیا کی بہت معاونت کی۔جاپانی سرمایہ کاروں نے اپنی صنعتیں ملائیشیا منتقل کیں اور اس ملک کو حقیقی معنوں میں اقتصادی ٹائیگر بنادیا ، جہاں ان کے سرمائے کو نہ صرف مکمل تحفظ حاصل ہے بلکہ انہیں مزید سرمایہ کاری کی ترغیب دی جاتی ہے۔جاپانیوں نے الیکٹرونکس میں اس قدر سرمایہ کاری کی کہ لوگ ملائیشین اور جاپانی اشیا میں امتیاز کرنا بھول گئے۔
آزادی کے بعد بھی ملائیشیا نے انگریز حکمرانوں کی طرح پانچ سالہ منصوبے کی روایت کو آگے بڑھایا۔طویل المیعاد منصوبے بنائے گئے۔ حکومت نے معاشرے کے پس ماندہ اور محروم طبقات کو ترقی اور خوشحالی کی دوڑ میںشامل ہونے کے قابل بنانے کی خاطر 1971ء تا1991ء میں ملائیوں کے لیے ملازمتوں اور کاروبار میں 30 فیصد کوٹہ مقرر کیا تاکہ انھیں چینی اور ہندوستانی آباد کاروں کے ہم پلہ بنایا جاسکے۔اس پالیسی کی بدولت مقامی لوگوںکو ملازمتوں میں زیادہ حصہ ملا اور انہیں تعلیم کے میدان میں بھی زیادہ مواقعے دستیاب ہوئے۔ 
1997ء میںایشیا میں معاشی بحران آیا۔جس نے انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور سنگاپور جیسے ایشین ٹائیگرز کی چولیں ہلادیں۔ملائیشیا بھی اس سے متاثر ضرور ہوا لیکن مہاتیر محمد نے بے نظیر بہادری اور حکمت کے ساتھ اس بحران کا مقابلہ کیا۔انہوں نے بحران سے نکلنے کے لیے آئی ایم ایف کی مالی ا مدا دکی پیشکش مسترد کردی۔ بیرونی ممالک یا مالیاتی اداروں سے قرض لینے کے بجائے حکومت نے مختلف شعبوں کواضافی سرمایہ فراہم کیا تاکہ وہ معاشی مشکلات پر قابو پاسکیں۔ خاص طور پر الیکٹرونکس اور بجلی کے سامان کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیاگیا۔
یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ ملائیشیا کاشمار دنیا کے بڑے اسلامک بینکنگ اور فنانشل سنٹر میں ہوتاہے۔ملائیشیا میں گزشتہ تیس برس سے اسلامک بینکنگ میں کامیاب تجربات کیے گئے جن سے باقی دنیا بھی استفادہ کررہی ہے۔ملائیشیا میں بینک اسلام ایک کامیاب اور معتبر ادارہ ہے۔سیاحت کا شعبہ اس وقت آمدن کا تیسرا بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ مسلمان ممالک خاص کر عرب دنیا سے سیاحوں کو ملائیشیا لانے کے لیے منظم کوششیں کی جاتی ہیں۔ایک جائزے کے مطابق مسلم دنیا میں ملائیشیا میں چھٹیاں گزارنے کو ترجیح دی جاتی ہے ۔حلال پکوان دستیاب ہیں اور لوگوں کو اپنائیت کا ماحول ملتاہے۔علاوہ ازیں کوالالمپور جیسے بڑے شہر وں میں سیاحوںکی تفریح طبع کے تمام ''لوازمات‘‘ دستیاب ہیں۔خاص کر غیر مسلموں کے لیے کوئی پابندی نہیں، صرف انہیں مخصوص حدود وقیود کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔
یہ جان کر خوشی ہوئی کہ پاکستان سے ہر سال پچاس ہزار کے لگ بھگ سیاح ملائیشیا کی سیر کرتے ہیں۔ایک لاکھ سے کچھ اوپر پاکستانی ملائیشیا میں موجود ہیں،جو زیادہ تر صنعتی شعبے میں خدمات سرانجام دیتے ہیں۔اب ریستورانوں اور سیاحت کے شعبہ میں پاکستانیوں کا حصہ بڑھ رہاہے۔ملائیشیا میں عمومی طور پر پاکستانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے لیکن حالیہ کچھ برسوں سے اخبارات میں چھپ رہاہے کہ پاکستانی نوجوان آسانی سے مافیا کے ہتھ چڑھ جاتے ہیں۔تعلیمی اداروں میں بھی پاکستانی طلبہ نظرآتے ہیں، خاص کر ملائیشیا کی اسلامک یونیورسٹی میں پاکستانی طلبہ اور اساتذہ کی اچھی خاصی تعداد پائی جاتی ہے۔
پاکستان میں تعینات رہنے والے ایک سفارت کار سے ملاقات ہوئی ۔ موصوف پاکستان کے داخلی، سیاسی اور سماجی حالات سے اس قدر باخبر تھے کہ ہر موضوع پہ شرح صدر کے ساتھ گفتگو کرتے۔ یہاںعمران خان کو بطور کھلاڑی اور سیاستدان بہت محبت کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے۔مہاتیر محمد نے جس طرح عمران خان کی پزیرائی کی اور چند سال قبل اسلام آباد میں ان کی اقامت گاہ پر تشریف لائے،مہاتیر کے عمران خان سے اس اظہار محبت نے ملائیشین کو عمران خان کا گرویدہ بنادیا۔وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کو ایک ایسا لیڈر ملے جو اسے فرش سے اٹھا کر عرش پر لے جائے ۔عمران خان میں انہیں مہاتیر محمد کی جھلک نظر آتی ہے۔ (جاری)

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں