"IMC" (space) message & send to 7575

قصّہ برائون شوگر کی سمگلنگ کا

کم ہی لوگوں کو معلوم ہے کہ مظفرآباد سے سری نگر جانے والے ایک ٹرک سے تقریباً سو کروڑروپے مالیت کی برائون شوگر پکڑی گئی ہے۔جس کے بعد بھارت اور پاکستان نے فوری طور پر75 ٹرک ڈرائیوروں کو گاڑیوں سمیت اپنے اپنے علاقے میں روک لیا۔ پاکستانی حکام نے نہ جانے کس منطق کے تحت بس سروس بھی معطل کردی ؛ حالانکہ یہ 2005ء کے تباہ کن زلزلے اور ممبئی حملوں کے باوجود بھی نہیں روکی گئی تھی۔
سمگلنگ کے اس واقعے نے نہ صرف پاک بھارت تعلقات میں تنائو پیدا کیا بلکہ کنٹرول لائن پر اعتماد سازی کے اقدامات کو بھی زبردست دھچکا لگایا۔کہاجاتاہے کہ برائون شوگر سے ہیروئن یا اس سے ملتی جلتی مضر صحت نشہ آور اشیا تیارکی جاسکتی ہیں۔اس سارے ڈرامے کے پس منظر میں کسی بڑے مافیا کا ہاتھ کارفرما نظر آتاہے ۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ برائون شوگر کی آخری منزل سری لنکا تھی جہاں سے اسے یورپ سمگل کیاجانا تھا۔اگرچہ یہ خطرناک کام ہے لیکن بہت سے لوگوں نے یہ خطرہ مول لیا اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے ارب پتی بن گئے۔ نہ جانے کیوں میڈیا نے اس واقعے کو نظرانداز کیا؟اگر یہی واقعہ ملک کے کسی دوسرے حصے میں رونما ہوا ہوتاتو آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا۔حالیہ برسوں میں پاکستان اور بھارت کے مابین کوئی بڑی پیش رفت نہ ہوسکی۔ کنٹرول لائن پر ہونے والی تجارت کے مناسب ''سکین‘‘ کا بندوبست نہیں ۔ یہ تجارت بارٹرتجارت یعنی مال کے بدلے مال کے فرسودہ فارمولے پر چلتی ہے۔اگرچہ کنٹرول لائن کا شمار دنیا کے ان چند خطوں میں ہوتاہے جہاں سب سے زیادہ فوج تعینات ہے، اس کے باوجود ایسے سنگین واقعات کو روکنے کا کوئی معقول انتظام نہیں۔ 
سرحدوں پرسمگلنگ یا غیر قانونی اشیا کی فروخت دنیا بھر میں ہوتی ہے۔ واہگہ ، جہاں سے پاکستان اور بھارت کئی عشروں سے تجارت کرتے ہیں ، وہاں بھی اس طرح کے واقعات رونما ہوجاتے ہیں ، لیکن اس کے نتیجے میں تجارت روکی جاتی ہے اورنہ ہی شہریوں کی آمد ورفت کا سلسلہ بند کیا جاتا ہے۔ کنٹرول لائن پر بھی ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔ مقبوضہ کشمیر کے حکام کو چاہیے تھا کہ وہ متعلقہ ڈرائیورکو حراست میں لیتے اور تفتیش کرتے، پھر پاکستانی حکام کو مطلع کرتے، جہاں تک ممکن ہوتا معلومات کا تبادلہ کرتے۔ برائون شوگرکی سمگلنگ میں ملوث گروہ جس قدر بھارت کو مطلوب ہیں اس سے زیادہ پاکستان کو ہیں۔ وہ محض سمگلنگ نہیں کررہے بلکہ پاکستان کا امیج بھی تباہ کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اب کیا کیاجانا چاہیے؟ دونوں ممالک کو فوری طور پر ڈرائیوروں کورہا کرنا چاہیے۔ اچھا ہوا کہ بس سروس بحال کردی گئی ؛ البتہ یہ تحقیق کی جانی چاہیے کہ آخر کس کے حکم سے، وزارت خارجہ کی اجازت تو درکنار اسے مطلع کیے بغیر، بس سروس معطل کی گئی؟ بس سروس کی معطلی سے بہت سارے افراد دونوں طرف پھنس گئے تھے۔ مستقبل میں ایسے واقعات کا تدارک کرنے کے لیے کنٹرول لائن پر چیکنگ کا نظام بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ مظفرآباد میں تجارت اور ٹریولنگ کو منظم کرنے کے لیے حکومت نے ایک ادارہ ٹریڈاینڈ ٹریول اتھارٹی کے نام سے قائم کیا ہے۔اس ادارے کو مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے ۔ آج تک بریگیڈئیر (ر) اسماعیل خان نے تمام ذمہ داریاں تن تنہا نبھائی ہیں۔ حالیہ واقعے کے بعد وہ مستعفی ہوچکے ہیں۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کو ایسے مواقع پردوسرے اداروں کی طرف رہنمائی کے لیے دیکھتے رہنے کے بجائے خود قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ کنٹرول لائن پر جو بھی سرگرمی ہوتی ہے اس میں وزارت خارجہ کا عمل دخل فطری ہوتاہے۔ 2008ء میںتجارت کو منظم کرنے کے لیے پاک بھارت ورکنگ گروپ قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد کنٹرول لائن پر جاری تجارت کو زیادہ سے زیادہ آسان بنانااور تاجروں کے مسائل کا حل تلاش کرنا تھا ، لیکن بدقسمتی سے ورکنگ گروپ کے چند ایک ہی اجلاس ہوسکے؛ حالانکہ طے پایاتھا کہ سہ ماہی اجلاس ہوا کرے گا۔ علاوہ ازیں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے فیصلہ کیا تھا کہ کنٹرول لائن پر گروپ ٹورازم شروع کیا جائے گا ۔کشمیر کے دونوں حصے کے لوگوں کو ایک دوسرے کے علاقوں میں تین ماہ تک رہنے کی اجازت ہوگی۔ان اقدامات پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوسکا۔
کم ہی لوگوں کو معلوم ہے کہ کنٹرول لائن کو تجارت اور سفر کے لیے کھولنے سے عام شہریوں کو بڑی حد تک راحت ملی ہے۔اسلام آبادمیں بھارتی ہائی کمیشن جانا یا دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن جاکر ویزہ حاصل کرنا اور پھر اپنے رشتے داروں سے ملنے کشمیر جانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔اسلام آباد میں درجنوں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار بھارتی ہائی کمیشن کے اردگرد گھیرا ڈالے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ یہی حال دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن کا ہے۔
کنٹرول لائن کے ذریعے سفر سہل کام نہیں۔اس خاکسار نے دوسال قبل ڈاکٹرظفرحسن ظفرؔ کے ہمراہ کنٹرول لائن سے سفر کا اجازت نامہ حاصل کرنے کی عرضی جمع کرائی تھی ۔ ٹریڈ اینڈٹریول اتھارٹی نے بتایا کہ کاغذات سری نگر روانہ کردیے گئے ہیں۔سری نگر سے انگریزی روزنامہ رائزنگ کشمیر کے ایڈیٹر شجاعت بخاری نے تمام فائلیں چیک کرائیںتو کوئی پتا نہ چلا؛ حالانکہ بتایاگیا تھا کہ آپ کے کاغذات سری نگر بھیجے جاچکے ہیں۔ان مشکلات کے باوجود 23ہزار سے زیادہ شہری بس کے ذریعے کنٹرول لائن عبور کرکے اپنے رشتے داروں سے مل چکے ہیں۔مصدقہ اعدادوشمار کے مطابق ابھی تک کنٹرول لائن کے ذریعے34 ارب سے زیادہ کا کاروبار بھی ہوچکاہے۔اس طرح اس خطے میں اسٹیٹس کوئی اعلان کیے بغیر مسلسل تحلیل ہو رہاہے۔
دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ چھوٹے چھوٹے واقعات یا حادثات کی سزا پورے خطے کو نہ دیں۔اس طرح کے مسائل کا حل الزام تراشی کا سلسلہ شروع کرنے کے بجائے اشتراک عمل سے تلاش کریں ۔کنٹرول لائن کے دونوں جانب موجود حکام کو زیادہ سے زیادہ بااختیار بنایا جائے،ان پر اعتماد کیا جائے تاکہ وہ بروقت فیصلہ کرسکیں۔دہلی اور اسلام آباد ہر چھوٹے موٹے مسئلے کو عالمی مسئلہ بنانے سے گریز کریں گے تو کشمیریوں کے حق میں بہتر ہوگا۔اسلام آباد اور دہلی میں گرم جوشی برقرار رکھتے ہوئے سری نگر اور مظفرآباد میں کشیدگی کو ہوا دینا دانش مندی نہیں ۔کشمیر یوں کو بھی ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ پرامن طریقے سے اپنے مستقبل کاتعین کرسکیں۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں