"IMC" (space) message & send to 7575

صدرممنون حسین کی سفارت کاری

صدر ممنون حسین چین کے تین روزہ دورے پر ہیں ۔ چند ماہ قبل انہوں نے سعودی عرب کا نجی دورہ کیا، مقصد فریضہ حج کی ادائیگی تھی لیکن سعودی حکومت نے انہیں سرکاری مہمان قراردیا تھا۔ غیر متوقع طور پر سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن العزیز نے صدر ممنون حسین سے طویل ملاقات کی حالانکہ ان کی شاہ عبداللہ سے سرکاری سطح پر ملاقات طے نہ تھی ۔ واپسی کا قصد کیا تو پاکستانی سفارت خانے نے خانہ پری کے لیے علامتی سی ملاقات کی خواہش ظاہر کی ، محض اس لیے کہ کوئی یہ نہ کہے کہ صدر پاکستان حجاز مقدس آئے اور حکومت نے ملاقات کی زحمت تک گوارانہ کی۔
جونہی ملاقات کی خواہش سعودی حکومت تک پہنچی ، پیغام آیا کہ شاہ عبداللہ جدہ میں مقیم ہیں اور اسی شام ملاقات کے خواہش مند ہیں۔ اگرچہ ایسی بے تابی کی امید نہ تھی۔ سابق صدر آصف علی زرداری کے عہد اقتدار میں دونوں ممالک میں سردمہری بہت گہری تھی ۔ زرداری صاحب نے اس برف کو پگھلانے کے جتن کیے لیکن کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ ہوئی۔ نون لیگ کیلئے سعودی عرب میں روایتی نرم گوشہ پایا جاتا ہے۔ یہ سعودی ہی تھے جنہوں نے میاں محمد نوازشریف کو اٹک جیل کی کال کوٹھری سے نکال کر جدہ کے سرورپیلس میں پہنچایا ۔ بعد میں کچھ تلخی بھی پیدا ہوئی۔ نوازشریف برطانیہ سے پاکستان پہنچے توانہیں پرویز مشرف کی حکومت نے زبردستی واپس جدہ روانہ کردیا۔ سعودی خفیہ ادارے کے سربراہ شہزاہ مقرن بن عبدالعزیز پرویز مشرف کی کمک کوپہنچے۔ فضا میںایک کاغذ لہرایااورکہا : نواز شریف نے وعدہ کیا تھا کہ وہ دس سال تک 
واپس پاکستان نہیں آئیں گے ، انہیں اپنے عہد کی پاسداری کرنا ہوگی۔ نون لیگ والے تلملا بہت مگر بے بسی سے یہ دکھ پی گئے۔
نواز شریف وزیراعظم منتخب ہوئے تو سعودی عرب جانے سے کنی کتراتے رہے مبادا شاہ عبداللہ پرویز مشرف کو رہاکرنے کی فرمائش کردیں ۔ سعودی حکومت کو مختلف ذرائع سے باورکرایا گیا کہ وہ پرویز مشرف کی رہائی پراصرار نہ کرے تاہم یہ یقین دہانی ضرورکرائی گئی کہ ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کرے گی ۔ یہ پیغام سعودی عرب کو ہضم کرنے میں وقت لگا لیکن جیسے کہاجاتاہے کہ ریاستوں کی دوستی شخصیات کی مانند نہیں ہوتی ، ریاستیں اپنے تعلقات کو ملکی مفادات کی آنکھ سے دیکھتی ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات کو ماپنے کی کسوٹی قومی مفاد ہوتا ہے ؛ چنانچہ اب سعودی بھی پرویزمشرف کی رہائی کا براہ راست ذکر نہیں کرتے۔
صدرممنون حسین جدہ کے شاہی محل پہنچے تو ان کاپرتباک استقبال کیا گیا۔ شاہ عبداللہ نے دیر تک ان کا ہاتھ تھامے رکھا ، اظہار محبت کا یہ انداز پاکستانی وفد ہی نہیں بلکہ سعودی میزبانوں کے لیے بھی انوکھا تھا۔ شاہ عبداللہ علیل ہیں ، غیر ملکی مہمانوں سے رسمی سی ملاقات کرتے ہیں ، امور مملکت ولی عہد شہزادہ سلمان انجام دیتے ہیں ، لیکن معمول کے برعکس شاہ عبداللہ دیر تک صدر ممنون حسین کے ساتھ گفتگو کرتے رہے۔انہوں نے صدر کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں کا ذکر بھی کیا۔ایسا لگا کہ ایک بزرگ شخصیت زندگی کے آخری حصے میں سعودی عرب اور پاکستان کے کمزور پڑتے رشتوں کو نئی جہت دیناچاہتی ہے۔ حیر ت انگیز طور پر شاہ عبداللہ کو معلوم تھا کہ ممنون حسین کا تعلق اردو بولنے والے ایک مذہبی خانوادے سے ہے جنہوں نے محنت اور ریاضت کو متاع حیات جانا اوراسی کے نتیجے میں ترقی کے زینے طے کیے اور صدارت کے منصب تک پہنچے۔صدر ممنون حسین کے ساتھ ہونے والی ملاقات نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں ازسر نوگرم جوشی پیدا کی ۔ بعدازاں دوروں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔
پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے سعودی عرب کا تفصیلی دورہ کیا ، یہ ایک غیر معمولی دورہ تھا۔اس کے فوراً بعد سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز ایک بھاری بھرکم وفد 
کے ہمراہ پاکستان تشریف لائے۔ان کے ہمراہ وزراء کی جماعت ہی نہیں بلکہ سرمایہ کار بھی تھے۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے ان کے سامنے دوبڑے مسائل پیش کیے اور اعانت کی درخواست بھی کی۔انہیں بتایا گیا کہ دہشت گردی کا وسیع نیٹ ورک وجود پاچکا ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو سعودی عرب کی سرگرم حمایت درکار ہے۔ یہ نیٹ ورک محض جنوبی وزیرستان تک محدود نہیں بلکہ جنوبی پنجاب میں مدارس اور انتہاپسندوں کے مضبوط گڑھ موجود ہیں۔ مولانا مسعود اظہر اور ان کے بھائی ازسر نو سرگرم ہوچکے ہیں ، جماعت الدعوۃ جسے خلیجی ممالک کے خیراتی اداروں اورعلماء کی اعانت دستیاب ہے اگرچہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کا درد سر نہیں لیکن اس کے ہمدردوں اور سابق وابستگان کی ایک معقول تعداد وزیرستان جاچکی ہے جو ریاست کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ پاکستان چاہتا ہے کہ سعودی عرب ہی نہیں بلکہ دیگر عرب ممالک انتہاپسندی کے عفریت کو قابو کرنے میں اس کی مدد کریں ، ایسے اقدامات کریں کہ عرب ممالک سے پاکستان میں رقوم کی ترسیل کے غیر قانونی ذرائع کی حوصلہ شکنی ہوسکے۔
لاکھوں پاکستانی عرب ممالک میں روزگار اورکاروبار کی غرض سے مقیم ہیں اس لیے یہ ممکن نہیں کہ مالیاتی ترسیل کے پورے نظام کی نگرانی کی جاسکے۔کم از کم مشکوک عناصر کو قانون کا پابندکیاجاسکتا ہے۔ محض حالیہ چھ ماہ میں 34ارب روپے مختلف بینکوں میں جعلی کھاتوںاور ترسیل زرکی کمپنیوں کے ذریعے کوئٹہ اور پشاور منتقل کیے گئے۔ حکومت انتہاپسندوں کو ملنے والے غیر ملکی عطیات کو پوری طرح کنٹرول کرنے میں بھی بری طرح ناکام رہی ہے۔ 2010ء میں پارلیمنٹ کے ایکٹ کے تحت حکومت نے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (Financial Monitoring Unit) قائم کیا لیکن ابھی تک یہ ادارہ پوری طرح فعال نہیں ہوسکا ، نہ ہی اپنی ذمہ داریاں سنبھال سکا۔ یہ 34 ارب روپے شدت پسندوں کی منظم سرگرمیوں میں صرف ہوئے ہیں۔
توانائی کے مسائل پر قابو پانے کے لیے دونوں ممالک کے مابین کچھ معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں لیکن اس میدان میں بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ پاکستان ایران سے گیس پائپ لائن کے منصوبے پر عمل درآمد کا خواہاں ہے مگر عرب ممالک اور امریکہ نہیں چاہتے کہ یہ منصوبہ مکمل ہو۔ پاکستانیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے چولہے بجھ چکے ہیں اور سی این جی اسٹیشنوں پر دن رات گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں ۔عام پاکستانی جو سٹریٹیجک کھیل کو سمجھتاہے اور نہ ان جھمیلوں میں پڑنے کا روادار ہے‘ وہ توانائی کی بلاتعطل فراہمی چاہتا ہے ۔ سعودی عرب پاکستان کی اس طرح مدد کر سکتا ہے کہ اسے ایران سے گیس خرید نے دے اور یہ احساس کرے کہ پاکستان اپنے دوستوں کی خوشنودی کی خاطر اپنا جغرافیہ تبدیل نہیں کرسکتا ، اسے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ نباہ کرنا ہوگا۔
شہزادہ سلمان کے دورے کے نتیجے میں پاکستان نے شام کے حوالے سے موقف بدل لیا ہے ۔ مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں پاکستان اپنا دامن بچا کر چلے تو اس کے حق میں بہتر ہے ورنہ یہ آگ اس کے گھر کو بھی خاکستر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں