جناب سراج الحق جماعت اسلامی کے امیر کے منصب پر فائز ہو چکے ہیں۔ وہ مولانا ہیں نہ مسٹر بلکہ ایک متوسط مذہبی گھرانے کے فرزند ہیں۔ جماعت سے طویل وابستگی، شبانہ روز محنت اور ریاضت کی بدولت وہ اس منصب تک پہنچے۔ جماعت اسلامی کے جیّد اکابر کی موجودگی میں شاید ہی انہوں نے پارٹی کی سربراہی کا خواب دیکھا ہو۔ وہ سیّد ابوالاعلیٰ مودودی ہیں نہ کوئی ان سے سیّد مودودی کے پائے کے علم و فضل یا بصیرت کی توقع کرتا ہے۔ وہ قاضی حسین احمد بھی نہیں، قاضی صاحب مخصوص ماحول اور فضا میں ابھرے۔ افغانستان کے جہاد اور مجاہد رہنمائوں کے ساتھ قربت نے انہیں ملک گیر شہرت دی۔ ذاتی تحرک، لچک دار رویے اور عوامی مزاج نے قاضی صاحب کو مخالف حلقوں میں پذیرائی اور مقبولیت عطا کی۔ انہوں نے اتحادوں کی سیاست اور ذاتی کوششوں سے جماعت اسلامی کو قومی منظرنامے پر فعال ترین سیاسی قوت کے طور پر زندہ رکھا۔
سیّد منور حسن نے جماعت اسلامی پر لگی اسٹیبلشمنٹ کی مہر مٹا دی اور اسے عسکریت پسندوں کی پشت پر لاکھڑا کیا۔ قاضی حسین احمد نے جہادی تحریکوں اور زیرزمین سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے ساتھ جن تعلقات کی بنیاد رکھی تھی‘ منور حسن نے اسے اپنے انجام تک پہنچایا۔ فرق صرف یہ ہے کہ قاضی صاحب اس میں متوازن تھے اور اپنی شناخت بطور ایک پاکستانی سیاسی مذہبی رہنما بچا کر رکھتے تھے، منور حسن اس نازک توازن کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے۔ وہ سیاست میں حکمت کے قائل نہیں تھے۔ گزشتہ چند برسوں میں ان کی شخصیت پر مکالمہ اور دعوت کے بجائے شدت پسندی غالب آ گئی تھی، وہ میڈیا کے جال میں آسانی سے پھنس جاتے اور اپنی کتھا بیان کرنے کے بجائے ابلاغی بحث و مباحثہ کا سامان بن جاتے۔
سراج الحق نے ایک ایسے وقت میں جماعت کی قیادت سنبھالی ہے جب وہ بری طرح سیاسی تنہائی کا شکار ہے اور روزانہ اس کا میڈیا ٹرائل ہوتا ہے۔ گزشتہ تیرہ برسوں میں عنفوان شباب کو چھونے والی نسل کو اس کا ایک چہرہ یاد ہے اور وہ ہے ایسے لوگوں کی حمایت جن کے دامن پر ہزاروں پاکستانی شہریوں کے خون کے چھینٹے ہیں۔ لوگ جمعیت علمائے اسلام (ف) کو طالبان کا حامی نہیں بلکہ جماعت اسلامی کو قرار دیتے ہیں۔ جماعت کے حامیوں کے گھروں سے القاعدہ کے لوگوں کا پکڑا جانا ایک غیرمعمولی خبر تھی۔ جماعت نے ہر کڑے وقت میں طالبان کی حمایت کرکے عام پاکستانیوں کو ناراض اور دکھی کیا۔
سراج الحق ایک نوجوان سیاستدان ہیں۔ وہ جماعت اسلامی کے پہلے امیر ہیں جنہیں براہ راست حکومت کا تجربہ حاصل ہے۔ وہ متحدہ مجلس عمل کی حکومت میں لگ بھگ پانچ برس تک وزیر خزانہ اور سینئر وزیر رہے۔ تحریک انصاف کی حکومت میں بھی اسی عہدے پر فائز ہیں۔ ان کا عمومی تاثر دیانت دار اور باوقار وزیر کا ہے۔ اگر درست ترجیحات طے کر سکیں تو اپنے منفرد پس منظر اور تجربے کی بدولت وہ جماعت کو درپیش چیلنجوں سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں۔ سراج الحق کو جماعت اسلامی پر چسپاں دہشت گردوں کی حامی جماعت ہونے کا لیبل اتارنے کے لیے خصوصی جدوجہد کرنا پڑے گی۔ یہ کام محض مصنوعی بیانات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے تبدیلی کو دل سے قبول کرنا ہو گا۔
سرکاری تعلیمی اداروں کو تشدد سے پاک کرنے کے لیے بھی سراج الحق کو دیگر سیاسی جماعتوں کے اشتراک کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ سرکاری جامعات کا عالم یہ ہے کہ سوائے غریب شہریوں اور متوسط طبقے کے بچوں کے کوئی ان کا رخ نہیں کرتا۔ معیار تعلیم کا حال یہ ہے کہ ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے والے نوجوان درخواست یا خط بھی نہیں لکھ سکتے۔ معمولی دفتری کام بھی ان کے بس کا روگ نہیں۔ تعلیمی اداروں کو اس حالت تک پہنچانے میں دیگر جماعتوں کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کا بھی ہاتھ ہے۔ اس نے اسلامی جمعیت طلبہ کی غیرنصابی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی نہیں کی۔ اب بھی وقت ہے کہ جمعیت کو ایسے عناصر سے پاک کیا جائے جو سرکاری تعلیمی اداروں پر انتظامی بالادستی کے آرزومند ہیں اور جو تشدد کو سیاسی عزائم کی تکمیل کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
سراج الحق عوام کو اپنا ہمنوا بنانے کے لیے پُرامن سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لیے بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ قاضی حسین احمد نے ملی یکجہتی کونسل کے قیام میں اساسی کردار ادا کیا تھا۔ ملی یکجہتی کونسل نے تمام مکاتب فکر کی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر فرقہ وارانہ جنگ و جدل کو کم کرایا تھا۔ سراج الحق کو بھی اس اہم کام کو اپنے ایجنڈے کا حصہ بنانا چاہیے۔ یہ بھی پیش نظر رہے کہ اگلے چند برسوں میں مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کے منصوبے بنائے جا چکے ہیں۔ امکانی جھگڑوںکی ابھی سے روک تھام کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔
میرے خیال میں جماعت اسلامی کی داخلی سیاست پر ہمیشہ خارجہ پالیسی یا عالمی موضوعات کا غلبہ رہتا ہے۔ یہ طرز سیاست پوری طرح غلط نہیں لیکن داخلی معاملات سے لاتعلقی اور بیرونی محاذوں پر مسلسل معرکہ آرائی سے عملاً کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ افغانستان میں جماعت اسلامی کا کردار ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔ جن مجاہدین رہنمائوں کے ساتھ جماعت کے مراسم تھے وہ اب تاریخ کی کتابوں میں دفن ہو چکے۔ افغانستان میں حالیہ انتخابات کے بعد جوہری تبدیلی آ رہی ہے، اس جمہوری تبدیلی کو کھلے دل سے تسلیم کیا جانا چاہیے۔ جماعت اسلامی کو کابل کی منتخب حکومت اور پارلیمنٹ میں اپنے حلیف تلاش کرنے ہوں گے۔ جمعیت اسلامی اور حزب اسلامی کے لوگ پارلیمنٹ کا حصہ ہیں، ان کے ساتھ روابط استوار کیے جائیں نہ کہ پہاڑوں میں روپوش عناصر کے ساتھ۔ افغانستان سے امریکی اور غیرملکی انخلا کو سہل بنانے میں مدد دینی چاہیے تاکہ داخلی کشمکش کا بنیادی محرک ختم ہو سکے۔
ہر داخلی اور خارجی مسئلے میں امریکہ کوگھسیٹنے اور احتجاج کرنے کی حکمت عملی پر بھی ازسر نو غور کرنا چاہیے۔ امریکہ کی پالیسیوں پر نکتہ چینی سمجھ میں آتی ہے لیکن ایک سپرپاور کے ساتھ مکالمے کے دروازے بند کر دینے سے جماعت کی سیاسی قوت تحلیل ہوئی ۔
جماعت کوکسی کے ساتھ کٹی کرنے یا اس کا طفیلی بننے کے بجائے اس کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے چاہئیں۔ آج کل جماعت اسلامی اور اسٹیبشلمنٹ دونوں ایک دوسرے کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔کچھ عناصر دونوںکو لڑانے کے بھی درپے ہیں۔ جماعت کو دکھ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنمائوں کو بچانے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ سراج الحق سیاسی نظام اور جماعتوں کو منظم اور موثر بنانے کے لیے دیگر سیاسی قوتوں کے اشتراک سے میثاق جمہوریت کے طرز پر کسی معاہدے پر اتفاق رائے حاصل کرانے کی کوشش کر سکتے ہیں تاکہ جمہوری نظام کا تسلسل برقرار رہے۔