"IMC" (space) message & send to 7575

مودی‘ شریف ملاقات اور میڈیا

پاک بھارت وزرائے اعظم کی سربراہی ملاقات پر میڈیا‘ بالخصوص الیکٹرانک میڈیا پر ہونے والے مباحثوں نے کافی گرماگرمی پیدا کی۔ ٹی وی چینلز پر دونوں ممالک کے تجزیہ کار، سیاستدان ،ریٹائرڈ فوجی افسر اور سفارت کار ایک دوسرے کے خوب لتے لیتے رہے۔ بسااوقات ر وایتی دشمنی اور نفرت کا ماحول ازسر نو بحال ہوجاتا۔بھارتی دہشت گردی کا رونا روتے اور پاکستانی کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور پاکستان کے حصے کا پانی روکنے پر بھارت کی مذمت کرتے۔ افسوس!ان مکالموں میں مفا ہمت اور مستقبل میں دیکھنے اورمتنازع مسائل کا حل تلاش کرنے پر کم اور گڑے مردے اکھاڑنے پر زیادہ وقت اور توانائی صرف کی گئی۔کیا ہی بہتر ہوتا اگر ماضی کو چھیڑے بغیر مستقبل کی بات کی جاتی تو میڈیا کے پلیٹ فارم کے ذریعے مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملتی۔
چند برس پہلے پاکستان اور بھارت کے مابین اعلیٰ سطحی مذاکرات ہو رہے تھے کہ ایک اینکر دوست نے فون کیا۔ وہ اپنے پروگرام میں دہلی سے دو ایک تجزیہ نگاروں کو شریک کرنا چاہتے تھے۔ کچھ نام پیش کیے تو انہوں نے کہا کہ یہ تو ماٹھے لوگ ہیں۔عقل کی باتیں کرتے ہیںاور دوستی اور مسائل کے حل پر زور دیتے ہیں۔ مجھے کوئی ایسا رابطہ دو جو چیختا چلاتا ہو۔ مخالفین کو بات نہ کرنے دیتاہو۔پاکستان کو گالی دیتاہواور سخت گیر بھارتی ہو۔ایسا شخص جو پروگرام میں شریک مہمانوں کو رسوا کر سکتا ہو۔ مجھے چپ سی لگ گئی۔وہ میری پریشانی کو بھانپ گئے اور سمجھایا: ہر روز شام سات بجے سے رات بارہ بجے تک ٹی وی میزبانوں کے مابین ون ڈے کرکٹ میچ ہوتا ہے۔ جو جیت گیا وہ چھا گیا۔ ہر روز ایک مقابلہ ہوتاہے اور ہاہاکار مچی ہوتی ہے۔ یہی چیز بکتی ہے۔ میں محض مفادعامہ یا دانشوری چمکانے کی خاطر میں اپنا پروگرام خراب نہیں کرسکتا۔
پاکستان اور بھارت کے مابین مذاکرات شروع کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ اسے الیکٹرانک میڈیا کے بے صبر حملہ آوروں سے بچانا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ یہ مسئلہ صرف پاکستان کا ہی نہیں‘ بھارت کا اس سے بھی برا حال ہے۔ بھارت کا کثیرالاشاعت روزنامہ ٹائمز آف انڈیا امن کی آشا کا شراکت دار ہے لیکن اسی گروپ کا ٹی وی چینل پاکستان مخالفت میں ہر حد پھلانگ چکاہے۔ ٹائمز کو دیکھتا ہوں تو کانوں کو ہاتھ لگاتاہوں کہ اکیسویں صدی میں اس قدر نفرت اور اشتعال انگیز گفتگو بھی کی جاسکتی ہے؟
آگرہ سربراہی کانفرنس کے موقع پر صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے میڈیا ڈپلومیسی کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے ایڈیٹروں سے لائیو گفتگو کی۔ بے شمار انٹرویوز دیئے۔ میڈیا نے ان کے دورے کو اس قدر کوریج دی کہ بھارت میں ہر طرف پرویز مشرف کا ڈنکا بجنے لگا۔ حکومت زبردست دبائو میں آگئی۔رائے عامہ اور معاشرے کے فعال طبقات نے اس صورت حال کو قبول نہیں کیا۔تمام تر لچک کے باوجود آگرہ چوٹی کانفرنس ناکام ہوئی۔ مشرف کو ناکام ونا مراد وطن پلٹنا پڑا۔
اب سفارتی کاری اور سیاسی سرگرمیوں میں میڈیا کے دخل یا دخل درمعقولات کو روکنا ممکن نظر نہیں آتا۔ کوئی پابندی اور روک ٹوک بھی ممکن نہیں۔خود بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نہ صرف سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں بلکہ انہوں نے اپنی الیکشن مہم میں سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا۔اس کے لیے کروڑوں روپے کا بجٹ بھی مختص کیا گیا۔ وزیراعظم نوا ز شریف کے ساتھ ابتدائی تبادلہ خیال کے بعد انہوں نے چند جذباتی ٹویٹ بھی کیے۔ جنہوں نے ماحول خوشگوار بنادیا۔نئی دہلی میںپاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط بھی فیس بک کے ذریعے دنیا کو اس دورے کے بارے میں اطلاعات فراہم کرتے رہے۔ایسا لگتاہے کہ سفارت کاری اور اعلیٰ سطحی سیاست میں بھی اب سوشل میڈیا بھرپور انداز میں داخل ہوچکاہے اور اگلے برسوں میں اس کا کردار مزید بڑھ جائے گا۔
پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات سے یہ ضرورت ایک بار پھر سامنے آئی کہ میڈیا بالخصوص سینئر صحافیوں کو بروقت بریفنگ دی جانی چاہیے۔دنیا بھر میں حکومتیں اور ادارے اپنے صحافیوں کے سامنے قومی ترجیحات اور مشکلات رکھ دیتے ہیں۔انہیں مجبور نہیں کرتے کہ وہ سرکاری نقطہ نظر کی ترجمانی کریں لیکن انہیں باخبر ضرور کرتے ہیں۔حکومت پاکستان کے پاس ابھی تک ایسا کوئی میکانزم نہیں۔ہر ادارہ اور سرکاری اہلکار اپنے پسندیدہ صحافیوں کو نوازنے کی کوشش کرتاہے تاکہ وہ ان کا نقطہ نظر قارئین اور ناظرین تک پہنچا سکیں لیکن اس حوالے سے کوئی ٹھوس اجتماعی میکانزم موجود نہیں۔
وزراعظم نریندرمودی کی بدن بولی اور شخصیات میں جو تپاک نظرآیا وہ کافی متاثر کن ہے۔ظاہر ہے‘ ان سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ روایتی بھارتی خدشات کے اظہار کے بجائے محض پیار ومحبت کی پینگیں بڑھانے کی باتیں کرتے۔انہوں نے دہشت گردی بالخصوص ممبئی حملوں میں ملوث افراد کو سزا دینے کا مطالبہ کرنا تھا اور ایسے مطالبات اگلی ملاقاتوں پر بھی چھائے رہیں گے۔ لیکن مودی کو یہ احساس ضرور ہے کہ یہ صرف وزیراعظم نواز شریف ہی تھے جن کی جرأت اور ذاتی دلچسپی کے باعث نریندرمودی کی تقریب حلف برداری ایک تاریخی موقع بن گئی۔خطے کے کئی ایک ممالک کے سربراہوں کا دہلی میں ایک ہی وقت میں جمع ہونا ایک غیر معمولی بات ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں نے دلچسپ تبصرے کیے۔ایک صحافی نے لکھا:دہلی دربار کی تاریخی شان وشوکت لوٹ آئی۔
بھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری کی کوششیں کوئی پھولوں کی سیج نہیں بلکہ بہت ہی مشکل چیلنج ہے جس سے نبردآزماہونا سہل نہیں۔وزیراعظم نوازشریف کو ملک کے اندر بھی اس کے لیے فضا سازگار کرنے کے لیے چومکھی لڑائی لڑنا ہوگی۔ان حلقوں کے خدشات کو دور کرنا ہوگا جو کشمیر اور پانی کے مسائل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔علاوہ ازیں ان مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کی بھی کوشش کرنا ہوگی۔کچھ نہ کچھ کامیابی یعنی قدم آگے بڑھتاہوا نظر آنا چاہیے تاکہ امید کا دیا روشن رہے اور رائے عامہ کو محسوس ہو کہ وہ کچھ حاصل کررہے ہیں۔ دوسری صور ت میں وہ الجھائو کا شکار رہیں گے ۔
پاکستانیوں کو باور کرانا ہوگا کہ جب حریفوں کے مابین مفاہمت ہوتی ہے تو یہ ایک طرح کی سودا بازی کہلاتی ہے۔دونوں ممالک کو کچھ ''لو او دو ‘‘کی بنیاد پر نئے سمجھوتے کی طرف بڑھنا ہوتاہے۔کچھ سبکی بھی ہوتی ہے لیکن امن اور تنازعات کے حل کے لیے ایسی قربانی دینا پڑتی ہے۔خاص کر کشمیر کے مسئلہ پر پیش رفت ناگزیر ہے۔پاکستان میں بہت سارے شکست خوردہ عناصر یہ چاہتے ہیں کہ چونکہ پاکستان بہت ساری داخلی مشکلات کا شکار ہے لہٰذا اسے کشمیر یوں کو بھارت کے رحم وکرم پر چھوڑدینا چاہیے۔یہ ایک بہت ہی خطرناک سوچ ہے جو پورے پراسیس کو ہی خطرے میں ڈال دے گی۔کشمیر امن عمل کا نہ صرف حصہ ہے بلکہ بہت بڑا حصہ رہنا چاہیے۔اسی صورت میں پاک بھارت تجارت بھی ہوگی اور امن کی باتیں بھی اچھی لگیں گی۔
سب سے افسوسناک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ جن کشمیر یوں کی پاکستان اور بھارت بات کرتے ہیں‘جن کے نام پر دن رات ٹریک ٹو اور ٹی وی پر مناظرے ہوتے ہیں‘ ان میں کشمیر یوں کو شریک ہی نہیں کیا جاتا۔پاکستان اور بھارت کے افسراور دانشور بیٹھ کر گفتگو کرتے رہتے ہیں۔سرکاری طور پر رٹائی گئی داستانیں سناتے ہیں۔بے چارے کشمیر ی یہ سب سنتے ہیں اور حیرت اور بے چارگی سے اس سارے عمل سے لاتعلق ہوجاتے ہیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ کشمیرکے لوگوں کو بھی بات چیت کے عمل میں شریک کیا جائے۔ بلاشبہ ان کے لئے مذاکراتی میز پرنشست نہیں رکھی جاسکتی لیکن انہیں اس عمل میں بالواسطہ شریک کیاجاسکتاہے۔کم ازکم ان سے مشاورت تو کی جاسکتی ہے۔ایسا ہو گیا تو پھر نتائج مختلف نکلیں گے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں