"KDC" (space) message & send to 7575

کیا پنجاب اسمبلی تحلیل ہو گی ؟

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان تواتر سے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلی کی تحلیل کا عندیہ دے رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے بعض رہنمائوں کے مطابق آج‘ 17دسمبر یا 23دسمبر کو عمران خان اسمبلیوں کی تحلیل کی تاریخ کا حتمی اعلان کر سکتے ہیں۔ایک طرف خان صاحب ہیں جو دونوں صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کی لیے پُر عزم ہیں اور دوسری طرف چودھری پرویز الٰہی ہیں جو بظاہر خان صاحب کے مؤقف کی تائید کر رہے ہیں لیکن اُن کی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کی اسمبلیوں کی تحلیل کے حوالے سے رضامندی مشکوک نظر آ رہی ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ بھی اسمبلی کی تحلیل کے حوالے سے گومگو کی کیفیت کا شکار نظر آتے ہیں‘ اس لیے زمینی حقائق خان صاحب کے حق میں جاتے دکھائی نہیں دے رہے۔ دونوں صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد آئین کے آرٹیکل 105کے تحت نگران سیٹ اَپ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ہی تشکیل دینا ہے کیونکہ موجودہ سیاسی انتشار اور عدم مفاہمت کی وجہ سے لیڈر آف اپوزیشن اور لیڈر آف ہاؤس کے درمیان رابطے کا فقدان ہے اور بالآخر بال الیکشن کمیشن آف پاکستان کی کورٹ میں جائے گی۔ ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ اس ساری صورتحال کے دوران عمران خان کئی ایک مقدمات کی زد میں رہیں گے۔ الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس میں فیصلہ سنانے کے بعد عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کے لیے معاملہ اسلام آباد کی مقامی عدالت کو بھیجا تھا‘ اب جمعرات کے روز اسلام آباد کی مقامی عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کی درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے انہیں نو جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
ان مقدمات سے قطع نظر عمران خان جیسے ہی دونوں صوبائی اسمبلیاں تحلیل کریں گے‘ وہ صوبائی حکومت کی وجہ سے حاصل تمام مراعات سے بھی محروم ہو جائیں گے کیونکہ رولز آف بزنس کے تحت اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد وہ حکومتی پروٹوکول کا استحقاق کھو دیں گے۔ عدم اعتماد کے نتیجے میں وزارتِ عظمیٰ سے سبکدوش ہونے کے بعد وہ رولز آف بزنس کے تحت حکومتی پروٹوکول کے اہل نہیں رہے تھے لیکن چونکہ ان کی دو صوبوں میں حکومت قائم تھی‘ اس لیے وہ اب تک حکومتی مراعات سے لُطف اندوز ہو رہے ہیں؛تاہم نگران سیٹ اَپ ان کو معمول کی سکیورٹی ہی دینے کا مجاز ہوگا۔ سادہ الفاظ میں صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد عمران خان صوبائی حکومتوں کی پناہ گاہوں سے محروم ہو جائیں گے۔
اگر دیکھا جائے تو اپریل میں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں ملک میں نئی حکومت قائم ہونے کے بعد الزام تراشیوں‘ سیاسی انتشار اور خلفشار کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا‘ اس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا گیا۔ خان صاحب آج بھی نہ صرف اپنے مخالفین بلکہ کمان کی تبدیلی کے بعد بھی اداروں کے خلاف جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ خان صاحب نے اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے کے بعد نئے عام انتخابات کے فوری انعقاد کے لیے جو حکمت عملی بنائی تھی‘ وہ ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکی۔ وہ نئے انتخابات کے انعقاد پر اس لیے زور دے رہے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی عوامی مقبولیت کے پیش نظر دوتہائی اکثریت کے ساتھ اسمبلیوں میں واپس آ جائیں گے۔ اسی حکمت عملی کے تحت انہوں نے نئے انتخابات کے لیے اپنے اقتدار کے خاتمہ کے بعد 75سے زائد جلسوں میں احتجاجی تحریک جاری رکھی اور زیادہ سے زیادہ عوام کو ساتھ جوڑے رکھنے کے لیے مقتدرہ کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کیا۔
مقتدرہ کے خلاف جارحانہ رویہ اپنانے کے باوجود وہ ایوانِ صدر میں جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتیں بھی کرتے رہے۔ ان ملاقاتوں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کے بعد تحریک انصاف کی طرف سے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار زور وشور سے شروع کر دیا گیا۔ وہ ایک جانب فوری طور پر نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہے تھے تو دوسری جانب اُنہوں نے نئے آرمی چیف کی تقرری کا معاملہ نئے انتخابات کے انعقاد تک ملتوی کرنے کا مشورہ دیا اور جب حکومت نے آئین کے آرٹیکل 234کے تحت میرٹ کی بنیاد پر آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا تقرر کر دیا تو انہوں نے لانگ مارچ کو ختم کرتے ہوئے دونوں صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان کو بیس روز سے زائد کا وقت گزرنے کے بعد بھی اب تک اسمبلیاں تحلیل نہیں ہوئیں کیونکہ اس معاملے میں ان کے اتحادی چودھری پرویز الٰہی اور صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان تذبذب کا شکار ہیں ۔ چودھری پرویز الٰہی تو ہر روز کسی نہ کسی نئے منصوبے کا افتتاح کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے صوبے میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھا کر آئندہ انتخابات میں اپنی جماعت کو بھاری کامیابی حاصل کرنے کے لیے بنیاد فراہم کر دی ہے۔ دوسری طرف اگر زمینی حقائق کو مدِ نظر رکھا جائے تو پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل ہونے کی صورت میں دونوں صوبوں میں نوے روز میں انتخابات ہوتے نظر نہیں آ رہے کیونکہ جب تک نئی مردم شماری کے حتمی نتائج سامنے نہیں آ جاتے تب تک ان دونوں صوبوں میں نئی حلقہ بندیاں نہیں ہو سکتیں اور مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کے مطابق نئی حلقہ بندیوں کے بغیردونوں صوبوں میں انتخابات کرانا غیر آئینی تصور کیا جائے گا‘ لیکن اگر مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کو نظرانداز کرکے دونوں صوبوں میں الیکشن کرانا مقصود ہے تو پھر اس کے لیے پہلے آئین کے آرٹیکل 51میں ترمیم کرنا ہوگی۔ واضح رہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اس فیصلے کی اُس وقت کے وزیراعظم عمران خان منظوری دے چکے ہیں اور اُس فیصلے پر چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ کے دستخط بھی موجود ہیں۔ مردم شماری کے حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد بھی نئی حلقہ بندیوں کے لیے الیکشن کمیشن کو چھ ماہ کا عرصہ درکار ہو گا‘ لہٰذا ان زمینی حقائق کو بھی عمران خان مدنظر رکھیں کیونکہ ایسی صورت میں اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد نگران حکومت نوے روز میں انتخابات نہیں کرا سکے گی۔
خان صاحب نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیوں کی تحلیل کے اعلان کے بعد تحریک انصاف کے قومی اسمبلی کے123 کے لگ بھگ اراکین کو بھی سپیکر کے روبرو پیش ہو کر اپنے استعفے منظور کرانے کی ہدایت دے دی ہے۔ قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے اراکین کے مستعفی ہونے کے بعد حکومتی جماعتوں کو لامحالہ قومی‘ سندھ اور بلوچستان اسمبلی تحلیل کر کے عام انتخابات کرانا ہوں گے۔اسمبلیوں کی تحلیل کی صورت میں الیکشن کمیشن اور حکومت کو فوری طور پر نگران سیٹ اَپ بھی تشکیل دینا ہو گا۔ اگر ایسے حالات پیدا ہو تے ہیں تو عام انتخابات مئی کے وسط تک منعقد ہو سکتے ہیں جبکہ شنید ہے کہ تحریک انصاف کے بعض اراکین قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کے حق میں نہیں۔
خان صاحب اپنے جارحانہ طرزِ عمل کی وجہ سے نہ صرف مقتدر حلقوں کی حمایت کھو چکے ہیں بلکہ مختلف مقدمات کی زد میں بھی ہیں۔ اُن کی اپنی جماعت کے بعض رہنما ان کے اس طرزِ عمل کو غلط قرار دے چکے ہیں۔ اگر خان صاحب توشہ خانہ ریفرنس‘ توہین الیکشن کمیشن اور ممنوعہ فنڈنگ کیس میں آئین کے آرٹیکل 204‘63 (ون) اور 62 (ون) (ایف) کی زد میں آتے ہیں تو وہ آئندہ الیکشن لڑنے کے لیے نااہل بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کیسوں میں سزا کی صورت میں وہ پارٹی کی چیئرمین شپ سے بھی محروم ہو سکتے ہیں۔ اس صورت میں عمران خان کو صدر عارف علوی کے مشورے پر عمل پیرا ہونا چاہیے جو اُنہیں نہ صرف معروضی حالات سے باخبر رکھتے ہیں بلکہ اُن کا سامنا کرنے کا درست مشورہ بھی دیتے ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں