"KDC" (space) message & send to 7575

نگران سیٹ اَپ اور الیکشن کمیشن

گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے کاغذاتِ نامزدگی میں اپنی مبینہ بیٹی کا ذکر نہ کرنے پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی نااہلی کی درخواست پر اُنہیں 27جنوری تک اپنا جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ عمران خان کے خلاف دائر درخواست میں درخواست گزار کی طرف سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ عمران خان نے برطانیہ میں اپنی مبینہ بیٹی کی کفالت کے انتظامات کیے لیکن اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں اور الیکشن لڑنے کے حلف نامے میں اس کا ذکر تک نہیں کیا۔ اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما خان کی جانب سے 18نومبر 2004ء کے ڈکلیئریشن پر مشتمل اضافی دستاویز بھی پیش کی۔ اس ڈکلیئریشن کو پٹیشن کا حصہ بنا کر خان صاحب کے خلاف آئین کے آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کے تحت کارروائی ہونے کا امکان موجود ہے۔
دیکھا جائے تو عمران خان بیک وقت توشہ خان کیس‘ نااہلیت کیس‘ توہینِ الیکشن کمیشن کیس اور ممنوعہ فنڈنگ کیس جیسے مقدمات میں گھرے ہوئے ہیں۔ اگر قانونی پہلو کو مدِ نظر رکھا جائے تو عمران خان نے 2018ء میں منعقد ہونے والے انتخابات کے لیے جو کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے تھے‘ اُن میں حقائق چھپانے پر اگر وہ نااہل بھی قرار دیے جاتے ہیں تو اُن کی نا اہلیت موجودہ اسمبلی کی تحلیل کے ساتھ ہی ختم ہو جائے گی؛ تاہم عمران خان کو اصل دقت اُس وقت پیش آئے گی اگر انہوں نے آئندہ الیکشن میں حصہ لیتے ہوئے بھی کاغذاتِ نامزدگی میں یہ حقائق بیان نہ کیے‘ ایسی صورت میں اُن کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد بھی کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن اگر انہوں نے آئندہ انتخابات کے لیے کاغذاتِ نامزدگی میں ٹیریان کا ذکر بھی کر دیا تو پھر ان کے خلاف یہ مقدمہ از خود ختم ہو جائے گا۔ جولائی 2018ء کے الیکشن کے لیے عمران خان کی طرف سے متعلقہ ریٹرنگ افسر کو جمع کروائے گئے کاغذاتِ نامزدگی کو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے بھی چیلنج کیا تھا لیکن پھر یہ مقدمہ خارج ہو گیا‘ یہ تاریخ کا حصہ ہے۔
دوسری طرف دیکھا جائے تو عمران خان عوام کو متحرک کرنے کے لیے ہر روز نئے کارڈز شو کر رہے ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے بعد رواں ہفتے خان صاحب کے حکم کی تعمیل میں خیبرپختونخوا اسمبلی بھی تحلیل ہو چکی ہے۔ اِن اسمبلیوں کی تحلیل سے خان صاحب نے سیاسی فائدہ اٹھانے کے بجائے اپنے سیاسی نقصانات کی بنیاد رکھ دی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ان دونوں صوبائی اسمبلیوں کے لیے انتخابی شیڈول آئندہ دو ہفتوں میں جاری کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اُدھر سپیکر قومی اسمبلی نے گزشتہ روز تحریک انصاف کے مزید 35اراکینِ اسمبلی کے استعفے منظور کر لیے ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی اس سے قبل رواں ہفتے میں ہی شیخ رشید احمد سمیت تحریک انصاف کے 34اراکینِ اسمبلی کے استعفے منظور کر چکے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس وفاق میں اتحادی حکومت کے قیام کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے 123اراکین نے سپیکر قومی اسمبلی کو اجتماعی استعفے پیش کیے تھے لیکن اُس وقت سپیکر نے محض 11اراکین کے استعفے قبول کیے تھے اور باقی استعفوں کا معاملہ مسلسل التوا کا شکار تھا۔ اصل مدعا مگر یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں 80نشستیں خالی ہونے کے بعد کیا الیکشن کمیشن ان خالی نشستوں پر 60 روز میں ضمنی انتخابات کروائے گا؟ میری اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کی ان نشستوں اور آئندہ بھی خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی انتخابات کروانے کی تیاری کر رکھی ہے اور اگر تحریک انصاف کی 123 نشستوں پر بھی ضمنی انتخابات کرانا پڑے تو الیکشن کمیشن اپریل تک ان نشستوں پر بھی انتخابات کرا دے گا۔ یہ بھی خبریں ہیں کہ عمران خان جمہوری روایات کو پس پشت ڈال کر اور آئین کے آرٹیکل 224 کے ابہام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان تمام نشستوں سے خود الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ جمہوریت سے ایک مذاق ہو گا اور جمہوری ممالک پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں اس فعل کو انتہائی غیر مناسب فعل قرار دیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ متعلقہ حلقوں کے ووٹرز بھی عمران خان کے اس فعل میں اُن کا ساتھ دینے سے انکار کر دیں۔ دوسری صورت میں اگر ان نشستوں سے خان صاحب کے مخالفین کامیاب ہو کر اسمبلی میں پہنچ جاتے ہیں تو پھر یہ قوی امکان موجود ہے کہ قومی اسمبلی سے قرارداد کے ذریعے عام انتخابات مؤخر کروانے کے لیے آئین کے آرٹیکل 232کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ اس لیے عمران خان جو کارڈز کھیلنے کے خواہاں ہیں‘ اس کے نتائج ان کے حق میں جاتے دکھائی نہیں دے رہے۔ اُن کی اپنی ذات کے گرد گھومنے والی سیاسی پالیسیوں سے اُن کی جماعت کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا احتمال موجود ہے۔ شنید ہے کہ چودھری پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کے بعد اب پاکستان تحریک انصاف کے صدر بننے کی خواہش رکھتے ہیں‘ یہ عہدہ جاوید ہاشمی کے بعد سے ابھی تک خالی ہے۔ اگر چودھری پرویز الٰہی تحریک انصاف میں یہ عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں اور اُس کے بعد عمران خان صاحب کسی مقدمے میں نااہل قرار پاتے ہیں تو چودھری پرویز الٰہی اپنے حلقۂ اثر کی بدولت تحریک انصاف کے چیئرمین بھی بن سکتے ہیں۔ خان صاحب اپنی جارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے بند گلی میں داخل ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
اُدھر پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نگران وزیراعلیٰ کی بیل ابھی منڈھے نہیں چڑھ سکی۔ پنجاب میں نگران وزیراعلیٰ کے تقرر کے لیے قائم پارلیمانی کمیٹیاں صوبے کے قائم مقام چیف ایگزیکٹو کے نام پر اتفاقِ رائے میں ناکام رہی ہیں جس کے بعد اب نگران وزیراعلیٰ کے نام کا فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا۔ نگران وزیراعلیٰ کے لیے تحریک انصاف کی طرف سے احمد نواز سکھیرا اور نوید اکرم چیمہ جبکہ قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی طرف سے مشیر وزیراعظم اور سابق بیوروکریٹ احد خان چیمہ اور سید محسن رضا نقوی کے نام تجویز کیے گئے تھے۔ دوسری جانب نگران وزیراعلیٰ کا معاملہ الیکشن کمیشن کی کورٹ میں جانے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے نگران وزیراعلیٰ کا انتخاب کیا تو وہ اُسے چلنے نہیں دیں گے اور اُس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ آئین کے آرٹیکل 224 کے تحت نگران وزیراعلیٰ کی تقرری کے حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے اور اسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔اگر چودھری پرویز الٰہی الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہیں تو آئین کے آرٹیکل 224 کے تحت ہی فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر عدالت میں چودھری پرویز الٰہی کا موقف مستردقرار پاتا ہے تو تحریک انصاف کومزید سیاسی نقصان پہنچے گا۔
اس سیاسی کھینچا تانی میں بین الاقوامی میڈیا پر ملک کو درپیش اقتصادی بحران کے حوالے سے چشم کشا رپورٹس جاری کی جا رہی ہیں جو اپوزیشن‘ حکومت اور پوری قوم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ملکِ عزیز کی معیشت کی نازک صورتحال کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب جیسے برادر اسلامی ملک نے 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہماری معاشی اصلاحات سے مشروط کر دی ہے۔ ایک طرف ملک کا معاشی سفینہ ڈوب رہا ہے اور دوسری طرف ہماری اشرافیہ ہے جو اب بھی اقتدار کے لیے باہم دست و گریبان ہے۔ ادھر وزیراعظم صاحب روز بروز اپنی کابینہ کا حجم بڑھا رہے ہیں۔ اس مایوس کن معاشی صورتحال میں حکومت کی کارکردگی مزید مایوس کن رہی ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں ضروری ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈالیں اور ملکی مفادات کو ہی اس وقت اپنی اولین ترجیح بنائیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں