عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمن دسمبر 1970ء کے انتخابات سے قبل لاہور کی دومعروف سیاسی شخصیات برکت علی سلیمی‘ جو مغربی پاکستان میں عوامی لیگ کے صدر تھے اور ملک حامد سرفراز کی دعوت پر اگست 1970ء میں لاہور آئے۔ ان کے دورے کے تمام اخراجات برکت علی سلیمی نے برداشت کیے تھے۔ شیخ مجیب کے ہمراہ عوامی لیگ کے تقریباً پندرہ اعلیٰ عہدیداران بھی تھے جن میں مشتاق کھنڈر‘ تاج الدین‘ کمال حسین‘ نذر الاسلام اور طلبہ رہنما طفیل احمد بھی شامل تھے۔ طفیل احمد سے میرے ذاتی مراسم تھے‘ انہی کی وساطت سے میری شیخ مجیب الرحمن سے لاہور میں ملاقات ہوئی۔ اس دورے کے دوران شیخ مجیب الرحمن نے 14 اگست 1970ء کو لاہور کے گول (ناصر) باغ میں ایک جلسے کا انعقاد کیا تاہم یہ جلسہ جماعت اسلامی کی یوتھ فورس کی مزاحمت کے باعث ناکام رہا۔ جلسے میں محض ہزار کے قریب لوگ شریک ہوئے۔ اپنے خطاب میں شیخ مجیب نے الزام عائد کیا کہ مولانا مودودی نے ان کے جلسے کو ناکام بنانے کی کوشش کی ہے اور دھمکی دی کہ اگلے سال مولانا پاسپورٹ کے ذریعے ہی ڈھاکہ آ سکیں گے۔ مغربی پاکستان میں عوام کی سرد مہری اور جلسے کی ناکامی نے شیخ مجیب کو یہ احساس دلایا کہ یہاں ان کی پذیرائی نہیں ہو سکتی؛ شاید یہی وہ لمحہ تھا جب مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی سکیم پر کام شروع کیا گیا۔
گزشتہ برس اگست میں جب بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو وہاں شیخ مجیب کے مجسمے گرائے گئے اور ان کے ایک گھر کو آگ لگا دی گئی۔ چند ہفتے قبل ان کے ایک اور گھر کو نذرِ آتش کر دیا گیا ہے اور نصاب میں شیخ مجیب کی جگہ ضیا الرحمن کو ''بابائے قوم‘‘ کے طور پر شامل کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں بہت سے لوگ ان خبروں پر حیرت اور الجھن کا شکار ہوئے اور کچھ لوگ اب بھی بنگلہ دیشی معاشرے‘ خاص طور پر پاکستان سے علیحدگی کے حوالے سے بنگلہ دیشیوں کے جذبات کو خوش فہمی یا مغالطے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس پس منظر کو تاریخی تسلسل میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ چونکہ شیخ مجیب الرحمن کو بنگلہ دیش کا بانی اور بابائے قوم کہا جاتا رہا‘ اس لیے یہ تاثر عام تھا کہ بنگلہ دیش میں ان کی حیثیت بھی ویسی ہو گی جیسی امریکہ میں جارج واشنگٹن یا پاکستان میں قائد اعظم محمد علی جناح کی ہے۔ یعنی وہ قوم کی وسیع اکثریت کے نزدیک نہایت محترم ہوں گے اور تمام مکاتبِ فکر میں یکساں مقبول ہوں گے۔ مگر حقیقت مختلف رہی۔
شیخ مجیب کے قائد بننے میں ان کی ذاتی صلاحیت سے زیادہ ریاست‘ بالخصوص ایوب خان کے مارشل لاء کا کردار نمایاں تھا۔ بنگال کے اصل لیڈر تو حسین شہید سہروردی اور اے کے فضل الحق تھے۔ مگر ایوب خان کے مارشل لا کے دوران جب ملک میں بروقت انتخابات نہ کروائے گئے اور تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی تو عوامی لیگ اور کرشک سرامک پارٹی جیسی جماعتوں کے اصل رہنما منظر سے ہٹ گئے۔ اس خلا میں جب یہ دونوں قائدین اس دنیا سے رخصت ہوئے تو قیادت کیلئے میدان خالی تھا جسے شیخ مجیب نے پُر کیا۔ شیخ مجیب کسی بھی لحاظ سے نہ تو کرشماتی شخصیت تھے اور نہ ہی سیاسی طور پر جناح‘ نہرو یا بھٹو جیسے ذہین تھے۔ تاہم جب بنگالیوں کے احساسِ محرومی کے پس منظر میں اگرتلہ سازش کیس میں ان پر مقدمہ چلا اور وہ جیل گئے تو اس سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ اگر پاکستان میں جمہوری عمل جاری رہتا تو شاید وہ اس مقام تک نہ پہنچ پاتے۔
1970ء کے انتخابات کے نتائج دراصل بنگالیوں کے احساسِ محرومی کے غماز تھے۔ الیکشن سے صرف ایک ماہ قبل 'بھولا‘ طوفان نے بنگال میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی اور حکومت مشرقی پاکستان کے عوام کی مدد کرنے میں بری طرح ناکام رہی تھی۔ شیخ مجیب نے اس ماحول میں بنگال میں کلین سویپ کیا‘ لیکن بعد کے واقعات میں حکمرانوں کی ہٹ دھرمی‘ بنگال کے مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنا اور وہاں عسکری آپریشن نے بنگالیوں کے وقتی غصے کو مستقل نفرت میں بدل دیا۔ ان حالات میں بظاہر بغیر کسی بڑی سیاسی جدوجہد کے شیخ مجیب بنگال کے ''بابائے قوم‘‘ بن گئے۔ اصل کہانی سقوطِ ڈھاکہ کے بعد شروع ہوئی جس سے پاکستان میں لوگ کم واقف ہیں۔ یہاں سے بنگلہ دیش کی تاریخ کا پہلا دور شروع ہوتا ہے۔مغربی پاکستان سے علیحدگی کے بعد شیخ مجیب کی حکومت شدید آمرانہ اور نااہل ثابت ہوئی۔ شیخ مجیب کے دور میں معیشت کو سہارا نہ دیا جا سکا‘ سیاسی مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن ہوا‘ اظہارِ رائے پر پابندیاں لگ گئیں اور ہزاروں لوگ سیاسی قیدی بنا لیے گئے۔ سقوطِ ڈھاکہ کے صرف ساڑھے تین برس بعد‘ اگست 1975ء میں بنگلا دیش میں مارشل لاء لگ گیا اور شیخ مجیب اپنے پورے خاندان سمیت ختم کر دیے گئے‘ لیکن بنگلہ دیش کے عوام کی طرف سے کوئی مزاحمت سامنے نہ آئی۔ 1975ء سے بنگلہ دیش کی تاریخ کا دوسرا باب شروع ہوتا ہے جو 1991ء میں ختم ہوا۔شیخ مجیب کی ہلاکت کے بعد بنگلہ دیش میں فوجی آمریت کا دور شروع ہوا جس میں جنرل ضیاء الرحمن اور جنرل حسین ارشاد حکمران رہے۔ جنرل ضیا الرحمن آمر ہونے کے باوجود جمہوریت پسند سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر پابندیاں ختم کر دیں‘ معیشت کو بہتر بنایا اور لسانیت کے بجائے قومیت کو فروغ دیا۔ 1981ء میں جنرل ضیا الرحمن کے قتل کے بعد 1982ء میں جنرل ارشاد نے اقتدار سنبھال لیا اور 1990ء تک اقتدار میں رہے۔
اس کے بعد بنگلہ دیش کی تاریخ کا تیسرا دور شروع ہوتا ہے جسے عمومی طور پر جمہوری دور کہا جاتا ہے۔ جنرل ارشاد کے اقتدار کے بعد فروری 1991ء میں جنرل ضیا الرحمن کی اہلیہ خالدہ ضیا بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔ 1996ء میں شیخ مجیب کی بیٹی شیخ حسینہ واجد پہلی بار برسرِ اقتدار آگئیں۔ 2001ء میں پھر سے خالدہ ضیا وزیراعظم بن گئیں اور 2006ء تک اقتدار میں رہیں۔لیکن موروثی ''جمہوریت‘‘ کے اس 15سالہ دور میں بنگلہ دیش ترقی نہ کر سکا اور یہ دونوں جماعتیں کرپشن اور بری حکمرانی کی وجہ سے بدنام رہیں۔ پھر 2006ء میں بنگلہ دیش میں نگران سیٹ اَپ آیا جس نے مقررہ مدت میں انتخابات کرانے کے بجائے دو سال تک اقتدار سنبھالے رکھا۔ اسی دور میں بنگلہ دیش میں صنعتی ترقی کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں اس کی معیشت نے تیزی سے ترقی کی۔ 2008ء کے الیکشن میں کامیابی کے بعد حسینہ واجد دوبارہ اقتدار آگئیں اور اگست 2024ء تک اقتدار میں رہیں‘ جب طلبہ احتجاج نے ان کے اقتدار کا تخت اُلٹ دیا۔ اب بنگلہ دیش کی تاریخ کے پانچویں دور کا آغاز ہو رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی تاریخ اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ بنگلہ دیش 1971ء سے آگے بڑھ چکا ہے جبکہ بدقسمتی سے ہم آج بھی اسی مقام پر کھڑے ہیں جہاں 1971ء میں تھے۔ گویا بنگالی پیچھے نہیں جا رہے‘ ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔
دوسری طرف ہماری بدقسمتی یہ بھی ہے کہ آج کے مباحث میں تحقیق کے بجائے محض رٹے رٹائے جملے دہرائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر بلوچستان کا حالیہ مالی سال کا بجٹ 956 ارب روپے ہے‘ جس میں سے محض 13 فیصد (یعنی 125 ارب روپے) صوبے کے اپنے وسائل سے حاصل ہو گا۔ پورے بلوچستان سے بمشکل 48 ارب روپے ریونیو اکٹھا کیا جاتا ہے جبکہ وفاق کی طرف سے بلوچستان کو 831 ارب روپے دیے گئے ہیں‘ جن میں 162 ارب گیس اور تیل کی رائلٹی اور 73 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کیلئے علیحدہ مختص کیے گئے ہیں۔ گویا یہ تقریباً800 ارب روپے دوسرے صوبوں‘ بالخصوص پنجاب کی کمائی سے بلوچستان کو فراہم کیے جاتے ہیں‘ اس کے باوجود تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ ''پنجاب سب کھا گیا‘‘۔ بلوچستان میں بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی سے سالانہ 100 ارب روپے سے زائد کا نقصان الگ ہے۔ لہٰذا اصل سوال یہ ہے کہ یہ ہزار ارب روپے بلوچستان میں کہاں خرچ ہوتے ہیں اور کون ان میں خورد برد کرتا ہے؟