نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ن لیگ،پیپلزپارٹی والےووٹنگ مشین سےخوفزدہ ہیں،حسان خاور
  • بریکنگ :- دونوں جماعتیں ٹھپہ مافیاکی ماسٹرمائنڈہیں،ترجمان پنجاب حکومت
  • بریکنگ :- ن لیگ،پیپلزپارٹی نےہمیشہ دھاندلی کےذریعےالیکشن جیتے،حسان خاور
  • بریکنگ :- اپوزیشن کی دھاندلی زدہ سیاست ہمیشہ کیلئےدفن ہوجائےگی،حسان خاور
  • بریکنگ :- اپوزیشن 3سال سےرورہی ہےاورآئندہ بھی روتی رہےگی،حسان خاور
  • بریکنگ :- اپوزیشن کواگلے 5سال بھی اسی تنخواہ پرکام کرناپڑےگا،حسان خاور
Coronavirus Updates
"MIK" (space) message & send to 7575

تخریب کے بھاری پتھر

جو لوگ دوستی اور امن کے نام پر سب کچھ داؤ پر لگانے کے لیے بے تاب ہوئے جاتے ہیں اُن کی آنکھوں سے غفلت کے پردے ہٹانے کے لیے سربجیت سنگھ کا کیس کافی ہے۔ جس ملک سے دوستی کی پینگیں بڑھانے اور مفاہمت کو پروان چڑھانے کی باتیں ہو رہی ہیں اُس نے مُصدّقہ و تسلیم شدہ دہشت گرد کو نہ صرف own کیا بلکہ اُسے ہیرو کا درجہ دے کر پرلوک بھیجا! اور ساتھ ہی ساتھ ثنائُ اللہ کو شہید کرکے حساب بھی چُکتا کردیا۔ بھارت کے ایک انٹیلی جنس افسر نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ’’سربجیت سنگھ مرکزی خفیہ ادارے ’را‘ کا ایجنٹ تھا۔ اُسے دھماکوں کے لیے پاکستان بھیجا گیا تھا۔ ’مشن‘ کی کامیاب تکمیل پر (یعنی دھماکے کرنے اور درجنوں پاکستانیوں کو موت کی وادی میں دھکیلنے کے بعد) وہ بھارت میں داخل ہوا ہی چاہتا تھا کہ سرحد پر پاکستانی فورسز نے دَھر لیا۔‘‘ آپ حیران ہوں گے کہ بھارت کا کوئی انٹیلی جنس افسر اِتنی بات کہہ سکتا ہے۔ کبھی کبھی سچائی خود کو ہونٹوں تک لے آتی ہے۔ مزید حیرانی آپ کو یہ جان کر ہوگی کہ اِسی بھارتی انٹیلی جنس افسر نے خفیہ اداروں کے لیے ایجنٹ یعنی جاسوس اور تخریب کار کی حیثیت سے کام کرنے والوں کا انجام بھی بتایا ہے۔ وہ کہتا ہے: ’’1990ء کے عشرے میں ’را‘ نے بہت سے ایجنٹ دھماکوں اور دیگر وارداتوں کے لیے پاکستان بھیجے۔ اِن میں سے کئی ایک ایجنٹوں کا تو کوئی خاص مِشن بھی نہ تھا، نہ اہداف واضح تھے۔ مقصود صرف یہ تھا کہ پاکستان کی سرزمین پر گڑبڑ پھیلائی جائے، خرابیاں پیدا کی جائیں۔ جو ایجنٹ پاکستان میں پکڑے جاتے ہیں ان کے اہلِ خانہ کو بھاری قیمت چُکانی پڑتی ہے۔ اُنہیں واجبات کے لیے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔ سربجیت سنگھ کے اہلِ خانہ خوش نصیب تھے کہ یہ کیس میڈیا نے بہت اُچھالا۔ اب اُنہیں بہت کچھ آسانی سے مِل جائے گا۔‘‘ جو بات من میں ہو وہی کوئی اور کہہ دے اور ہمیں کہنے کی زحمت سے بچالے تو اُس پر فِدا ہونے کو جی چاہتا ہے۔ آپ نے ایسے مواقع پر پیش کیا جانے والا یہ شعر ضرور سُنا ہوگا۔ ؎ مُوذّن مرحبا‘ بر وقت بولا تِری آواز مَکّے اور مدینے! بھارتی انٹیلی جنس افسر نے بھی کچھ ایسا ہی کام کیا ہے۔ جو امن کی آس کے نعرے کا سہارا لے کر بھارت سے کسی بھی قیمت پر دوستی کے لیے بے تاب بلکہ اُتاؤلے ہوئے جاتے ہیں اُن کے لیے سربجیت سنگھ کے بارے میں اُسی کے ملک کے انٹیلی جنس افسر کی گواہی تازیانے سے کم نہیں۔ کیا اب دوستی کی قیمت تسلیم شدہ دہشت گردوں اور جاسوسوں کو رہا کرکے چُکانی پڑے گی؟ مذکورہ انٹیلی جنس افسر نے جو کچھ کہا اُس پر غور تو کیجیے۔ کئی جاسوسوں کو تخریب کاری کا مشن سونپ کر بھیجا گیا۔ یعنی اُنہوں نے جی بھر کے تباہی پھیلائی اور دوستی کی بنیاد رکھی! جس طرح کسی عمارت کو مستحکم کرنے کے لیے اُس کی بنیاد میں مضبوط ترین پتھر رکھے جاتے ہیں‘ بالکل اُسی طرح بھارت نے بھی دوستی کا محل تعمیر کرنے کے لیے بنیادوں میں تخریب کے بھاری پتھر رکھے ہیں! دوستی کے نام پر کرکٹ کو نُورا کشتی میں تبدیل کرنے والوں نے قومی مفادات کو بھی بُھلادیا اور ہمسائیگی کا حق ادا کرنے کا راگ ہی الاپتے آرہے ہیں۔ اِس ماحول میں معاملات نے ایسا رُخ اختیار کیا کہ جاسوسوں اور دہشت گردوں کو بھی چھوڑنے کا عندیہ دیا جانے لگا۔ بھارتی انٹیلی جنس افسر کا بیان بروقت ہے۔ اِس بیان کو دُنیا کے سامنے نمایاں انداز سے پیش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سب کو اندازہ ہو کہ مہا راج کیا گُل کِھلاتے آئے ہیں! جو لوگ میڈیا کے نقصانات گنواتے نہیں تھکتے اُنہیں اپنی سوچ تھوڑی سی تبدیل کرنی چاہیے۔ سربجیت کے کیس میں میڈیا کی بدولت اُس کے اہل خانہ کا بھلا ہوگیا! لگے ہاتھوں بھارت کی کم ظرفی بھی طشت از بام ہوگئی کہ وہ دُشمن کو نقصان پہنچانے والوں کوبھی واجبات ادا نہیں کرتا! اب سوچیے کہ دُشمنوں کی طرف سے دوستی کا راگ الاپنے والوں کو وہ کیا دے گا؟ ہم تو سمجھے تھے کہ وطن سے محبت اور اُس کے لیے جان کی بازی لگانے والوں کی ناقدری کے معاملے میں ایک ہم ہی منفرد ہیں۔ اب اندازہ ہوا کہ اِس معاملے میں بھی پاکستان اور بھارت کی ’’ثقافت‘‘ ایک ہے! یہ بھی خوب رہی کہ جو دوستی کے نام پر باضابطہ طریقے سے بھارت جائے، تِھرک تِھرک کر ناچے گائے اُس کے قدموں پر تو دولت واری جاتی ہے اور شہرت سے بھی نوازا جاتا ہے مگر جو بھارتی جان کی بازی لگاکر دُشمن کی سرزمین پر قدم رکھے، تباہی پھیلائے، قتل و غارت کا بازار گرم کرے اُسے پورا ’’محنتانہ‘‘ بھی ادا نہیں کیا جاتا! اور اُس کے اہلِ خانہ کے لیے واجبات کی وصولی مسئلہ بن جاتی ہے۔ یہ روش تو خاصی جانی پہچانی لگتی ہے۔ یہی سب کچھ ہمارے ہاں بھی تو ہوتا ہے۔ لگتا ہے بھارت اِس شعبے میں بھی ہمیں ٹف ٹائم دینے پر تُل گیا ہے! ہمارے ہاں بھی وطن کے لیے جان کی بازی لگانے والوں کو اپنا ’’محنتانہ‘‘ وصول کرنے کے لیے پھر جان کی بازی لگانی پڑتی ہے! اِس کا مطلب یہ ہوا کہ کئی شعبوں میں بہت آگے نکل جانے والا بھارت اب تک متعدد شعبوں میں پاکستان ہی کی سطح پر ہے! دوستی کِسی بھی اعتبار سے کوئی ناقابل قبول وصف یا کیفیت نہیں۔ امن کی آس بہت بھلی سہی مگر اِس دیوی کے چرنوں میں سبھی کچھ تو قربان نہیں کیا جاسکتا، ہر معاملے کی تو بَلی نہیں چڑھائی جاسکتی! امن کی آس کے نام پر اور دوستی کی آڑ میں مہاراج ایڈوانٹیج لے رہے ہیں اور پاکستان میں اثرات کا دائرہ وسیع کرتے جارہے ہیں۔ اور ہمارے ہاں ایسے امن پرستوں کی کمی نہیں جو دوستی اور مفاہمت کو دیوی بناکر اُس کی آرتی اُتارنے کے نام پر بھارت کی حاشیہ برداری کا حق ادا کر رہے ہیں۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہر معاملے میں دوستی اور مفاہمت کو اپناکر معاملات درست کئے جاسکتے ہیں تو وہ ذرا پاکستان کے حالات ہی پر غور کرے۔ مفاہمت کی سیاست ہی نے ہمیں آج پھر تباہی کے دہانے تک پہنچادیا ہے۔ حقیقت کو تسلیم نہ کرنے اور ہر جھوٹ کی بدبو چھپانے کے لیے مفاہمت کا چھڑکاؤ ایسے ہی حالات کو جنم دیا کرتا ہے۔ ریاست کا اندرونی معاملہ ہو یا کِسی دوسری ریاست سے تعلقات کا، سچائی سے چشم پوشی خرابیوں میں صرف اضافہ کرتی ہے! امن کی آس تیرتھ دھام رہے تو اچھا ہے۔ اور جنہیں اِس تیرتھ کی یاترا کرنے کا شوق ہے وہ اپنا شوق بہت شوق سے پُورا کرتے رہیں۔ مگر ہاں، اِس تیرتھ دھام کو مرگھٹ نہ بنایا جائے۔ ایسا مرگھٹ جس میں خوشامدی مزاج رکھنے والے بعض بھارت نواز پاکستانی قومی مفادات کو حاشیہ برداری کی چتا میں ڈال کر اگنی دان پر تُلے ہوں! جو دیش 80 سال کے ڈاکٹر خلیل چشتی پر ترس کھانے کو تیار نہ ہوا اور جس نے سربجیت سنگھ جیسے مُصدّقہ و تسلیم شدہ دہشت گرد کو ہیرو بنانے میں شرم محسوس نہ کی اور اُس کے بدلے محض سرحد پار کرنے والے ثنائُ اللہ کو موت کے گھاٹ اُتار دیا اُس سے دوستی کے لیے سب کچھ داؤ پر لگانا پرلے درجے کی حماقت کے سِوا کچھ نہیں۔ سربجیت سنگھ کی آخری رسوم کا سرکاری اعزاز کے ساتھ انجام دیا جانا کیا کوئی ایسی بات ہے جسے سمجھنے کے لیے ذہن پر زیادہ زور دیا جائے؟ ہر موڑ پر امن کی آس کا راگ الاپنے والے ہی بتائیں کہ دوستی نبھانے میں وہ کہاں تک جاسکتے ہیں؟ دوستی کے جواب میں ایڈوانٹیج لیتے رہنے کی روش کو کِس حد تک برداشت کیا جاسکتا ہے؟ اور کیوں؟ ایسی دوستی کے مرگھٹ پر اپنا سب کچھ بھسم کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ ہم نام نہاد امن کی آس سے جُڑی سطحی خواہشات ہی کا کریا کرم کر ڈالیں! کیا پتہ ایسا کرنے سے ہمارے پُرکھوں کی آتما کو تھوڑی سی شانتی مِل جائے!

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں