"MIK" (space) message & send to 7575

آملیٹ

اگر زور کی، بلکہ زوروں کی بھوک لگی ہو اور کھانے کے لیے کچھ نہ ہو تو سب سے آسان ڈش شاید آملیٹ ہے۔ انڈا توڑیے، پیالی میں پھینٹیے اور فرائی پین میں گرم گھی پر اُنڈیل دیجیے۔ ایک منٹ کے اندر آملیٹ تیار! 
ہماری سیاست بھی اب آملیٹ کی راہ پر گامزن ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ راتوں رات سب کچھ پکا پکایا مل جائے۔ محض پیٹ بھرنے اور باضابطہ کھانے میں تو بہت فرق ہوتا ہے مگر اس فرق کو ذہن سے کھرچ کر پھینک دیا گیا ہے۔ بہت سے دیرینہ اور پختہ نوعیت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہنگامی نوعیت کے اقدامات کو انتہائی کافی سمجھ لیا گیا ہے۔ اِس سادہ سے نکتے پر غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی کہ جو بگاڑ کئی عشروں میں پیدا ہوا ہے وہ بھلا دو تین معمولی اقدامات سے ذرا سی دیر میں کیسے دور ہوگا؟ انگریزی میں اس نوعیت کے اقدامات کو Quick Fix کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک ہتھوڑا ماریں اور مشین چلنے لگے۔ ہم ''کوئِک فِکس‘‘ کے عادی ہوتے جارہے ہیں۔ کسی کا دھیان اِس نکتے کی طرف نہیں جاتا کہ کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کا ایک فطری عمل ہوتا ہے جسے پورا کئے بغیر مثبت نتیجے کی توقع نہیں عبث ہے۔ جب مسئلے کا فطری عمل ہوسکتا ہے تو اُس کے حل کے لیے کسی باضابطہ عمل کا نہ پایا جانا کس طور ممکن ہے؟ 
کھیل ہو یا سیاست، معیشت ہو یا معاشرت یا پھر قومی سلامتی کے امور، ہم نے ہر معاملے میں پلک جھپکتے میں درست کرنے کی روش پر گامزن رہنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ کرکٹ کے دو تین مقابلے جیت لینے پر ہم ساری ناکامیاں اور ذِلّتیں بھول جاتے ہیں۔ اور پھر جب مزید شکست سے دوچار ہوتے ہیں تو فتح کا خُمار بھی ذرا سی دیر میں ذہن سے اُتر جاتا ہے۔ اِس کے بعد وہی کچھ ہوتا ہے جو ہوتا آیا ہے یعنی خرابیاں اور خامیاں چُن چُن کر سامنے لائی جاتی ہیں اور میڈیا پر اُن کا خوب ڈھول پیٹا اور راگ الاپا جاتا ہے۔ 
معیشت کا معاملہ یہ ہے کہ اگر کبھی بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی محنت کی کمائی سے کچھ زیادہ رقوم وطن بھیجیں تو حکومت زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا کریڈٹ لینے کے لیے فی الفور حرکت میں آ جاتی ہے۔ لوگ لاکھ سمجھائیں کہ ترسیلاتِ زر سے معیشت مستحکم ضرور ہوتی ہے مگر اس کا کریڈٹ حکومت لے سکتی ہے نہ اُسے دیا جانا چاہیے۔ اور ترسیلاتِ زر کو زرِ مبادلہ کے ذخائر میں حقیقی اضافہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مگر جناب، ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔ سبھی سرکاری راگ الاپنے میں حصہ ڈالنے لگتے ہیں۔ 
طالع آزما آتے ہیں اور اپنی مرضی کے سارے کھیل کھیلنے کے بعد سُکون سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ اُن کے جانے کے بعد ایک صفِ ماتم بچھتی ہے اور سب مقدور بھر گریہ و زاری کا حق ادا کرنے کوشش کرتے ہیں۔ کوئی لاکھ سمجھائے کہ سانپ کے نکل جانے کے بعد لکیر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں مگر ''کون سُنتا ہے فغانِ درویش‘‘ کے مِصداق ایسی ہر بات بے نتیجہ رہتی ہے اور سماعتوں پر اُس کا ایسا ہی اثر ہوتا ہے جیسا پہاڑوں پر برسات کا۔ 
جو بھی حکومت بناتا ہے وہ برسوں کے مسائل ایک رات میں حل کرنے کے دعوے کے ساتھ عمل کے میدان میں قدم رکھتا ہے۔ راتوں رات پورے نظام کو درست کرنے کی یعنی ''کوئک فِکس‘‘ کی ذہنیت اچانک اُبھر کر سامنے آتی ہے، شدید ہڑبونگ کے عالم میں چند اقدامات کئے جاتے ہیں۔ خاصے نیم دِلانہ انداز سے چند دعوئوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جاتی ہے مگر اِس کے نتیجے میں اچھے خاصے معاملات کے بھی کپڑے اُتر جاتے ہیں! جب یہ سب کچھ ہو تو خرابیاں مزید پروان چڑھنے سے کیوں باز رہیں؟ حالات کو درست کرنے کی ہر نیم دلانہ اور عاجلانہ کوشش بالآخر مزید پیچیدگی پر منتج ہوتی ہے۔ یعنی خرابی برقرار رہتی ہے اور پنپتی جاتی ہے۔ دلاور فگار مرحوم نے خوب کہا ہے ع 
حالاتِ حاضرہ کو کئی سال ہو گئے 
سابق صدر اور سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کے معاملے میں یہی عجلت پسندی بنیادی فیکٹر کی شکل میں دکھائی دی ہے۔ غداری کا مقدمہ جس طریقے سے چلایا جارہا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاملات کو صرف ایک نکتے پر لاکر نمٹانے کی تیاری کی گئی ہے۔ جو کچھ پرویز مشرف نے تقریباً 9 برس میں کیا اس کا مواخذہ محض ایک مقدمے کے ذریعے کرلیا جائے، یہ تو بہت دور کی منزل ہے۔ مگر یار لوگ دور کی کوڑی لانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ کوشش کی جارہی ہے کہ کچھ نہ کچھ نیا ہوتا دکھائی بھی دے اور کسی معاملے کا کوئی سِرا کسی کے ہاتھ بھی نہ لگے! یعنی ''صاف چُھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں‘‘ والی کیفیت برقرار رہے! اب اگر اِس دھما چوکڑی میں قوم کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہتا ہے تو رہا کرے، کس کو اِس بات کا غم ہے؟ ؎ 
جو گزرتی ہے قلبِ شاعر پر 
شاعرِ انقلاب کیا جانے!
سارے مسائل راتوں رات حل کرنے کی نیت سے جو مہم جوئی دو عشروں سے فرمائی جاتی رہی ہے اُسے قوم ''ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم‘‘ کی تصویر بنی دیکھ رہی ہے۔ اب تو داد دینے کا بھی یارا نہیں رہا! کئی ایسے بھی ہیں جنہیں یہ سب کچھ تفنّنِ طبع کی منزل میں دکھائی دیتا ہے اور وہ ایسا لطف کشید کر رہے ہیں کہ داد دینے سے گریز کرتے ہیں کہ کہیں، بقول محسنؔ بھوپالی، تسلسل ٹوٹ نہ جائے! 
جنہیں خاصے صبر آزما انتظار کے بعد اقتدار ملتا ہے وہ ذرا سا اقتدار و اختیار پاکر ایسے اُتاؤلے ہوئے جاتے ہیں کہ مجسّم بے صبری ہوکر قوم کو ڈکار جانے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو آملیٹ کی ذہنیت کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ اور دُکھ اِس بات کا ہے کہ اِس آملیٹ میں سے ایک لقمہ بھی وہ قوم کو دینے کے لیے تیار نہیں۔ قومی خزانے کو یہ لوگ سونے کے انڈے دینے والی مُرغی قرار دے کر اُس کا پیٹ چا کرنے پر تُلے رہتے ہیں تاکہ سونے کے سارے انڈے یک مُشت نکال لیں۔ اور معاملہ یہیں تک نہیں رکتا۔ یہ بے صبرے اِن انڈوں کو یک مُشت ہی ہڑپ بھی کرنا چاہتے ہیں۔ 
مرزا تنقید بیگ کا خیال ہے کہ اب اِس ذہنیت سے چُھٹکارا پانا بہت مشکل ہے۔ ہم نے پوچھا کیا واقعی ایسے لوگوں سے نجات کی کوئی راہ نہیں نکل سکتی جو سب کچھ تیزی سے درست کرنے کے چَکّر میں مزید خرابیاں پیدا کرتے جارہے ہیں۔ مرزا نے کہا، ''بات یہ ہے کہ قوم بھی اِس ذہنی کیفیت کی عادی ہوچکی ہے۔ جس طور قوم کو لوٹنے والے راتوں رات سب کچھ ہڑپ کرنا، ڈکار جانا چاہتے ہیں بالکل اُسی طرح قوم بھی راتوں رات اپنا سب کچھ لُٹانے کے لیے بے تاب رہتی ہے۔ عام آدمی بھی 'کوئِک فِکس‘ ذہنیت کا غلام ہوچکا ہے۔ وہ اِس بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں کہ ہر وقت آملیٹ کھاکر پیٹ بھرنا درست نہیں۔ یا تو باضابطہ کھانا تیار کرنا سیکھنا پڑے گا یا پھر کہیں سے لانا پڑے گا۔‘‘ 
ہم نے بے تاب ہوکر پوچھا تو کیا ہم آملیٹ کی منزل میں پھنسے رہیں گے؟ 
مرزا بولے، ''جہاں گھوم پھر کر صرف یہ ذہنیت پروان چڑھتی رہتی ہو کہ محض پیٹ بھر لینا کافی ہے وہاں آملیٹ ہی بہترین ڈش قرار دی جاتی رہے گی۔ اور جب سبھی اِس انتظام سے خوش ہیں تو کسی کو دِل جلانے کی کیا ضرورت ہے؟ کھاؤ، پیو اور خوشی خوشی جیو۔‘‘ 
مرزا کی یہ بات اب تک ہمارے منہ میں ہے، حلق سے نیچے نہیں اُتری۔ ذہن کے کسی کونے سے کبھی کبھی یہ صدا اُبھرتی ہے کہ مرزا ٹھیک ہی تو کہتے ہیں۔ یعنی پانی اپنی پنسال میں آجاتا ہے اور ہم بھی سُکون کا سانس لے کر کچھ دیر کے لیے مطمئن ہوجاتے ہیں۔ آخر کو ہم بھی تو اِسی قوم سے ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں