نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- غلام سرورکیخلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کامعاملہ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:وفاقی وزیرغلام سرورکےوکیل الیکشن کمیشن میں پیش
  • بریکنگ :- اس کیس پردلائل آج مکمل کرلیتےہیں،سکندرسلطان راجہ
  • بریکنگ :- جواب دینےکیلئےمزیدوقت دیاجائے،وکیل غلام سرور
  • بریکنگ :- اتناپیچیدہ کیس نہیں کہ زیادہ التوادیاجائے،چیف الیکشن کمشنر
  • بریکنگ :- ضابطہ اخلاق سیاسی جماعتوں کےاتفاق رائےسےبناہے،چیف الیکشن کمشنر
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن نےسماعت 20 دسمبرتک ملتوی کردی
  • بریکنگ :- کنٹونمنٹ انتخابات،غلام سرورپرضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کاالزام ہے
Coronavirus Updates
"MIK" (space) message & send to 7575

مایا نگری

جانوروں اور بالخصوص گدھوں، گھوڑوں کا بے لگام ہونا تو سُنتے آئے تھے مگر کسی شہر کے بے لگام ہونے کے بارے میں سُنا نہیں تھا۔ اب دیکھ لیا ہے کہ جب کوئی شہر بے لگام ہوتا ہے تو کون سی شکل اختیار کرتا ہے۔ کراچی کو شہرِ قائد یعنی قائدِ اعظم کا شہر کہا جاتا ہے مگر حال یہ ہے کہ اب اِس کا قیادت سے دُور کا بھی تعلق نہیں۔ کسی چلتی گاڑی سے اگر ڈرائیور کود جائے تو؟ بس کچھ ایسی ہی کیفیت سے کراچی آج کل ''ہمکنار‘‘ ہے۔ 
زمانہ آٹومیشن کا ہے۔ فطری علوم پر مبنی فنون کے ماہرین نے بھرپور کوشش کی ہے کہ زندگی آسان سے آسان تر ہوجائے، کسی کو بہتر اور باسہولت زندگی بسر کرنے کے لیے زیادہ محنت نہ کرنی پڑے۔ اب تک تو آپ نے مشینیں دیکھی ہیں جو آٹومیشن کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرتی ہیں۔ اگر کسی شہر کو آٹومیشن کے اُصول کی بنیاد پر کام کرتے ہوئے دیکھنا ہے تو کراچی پر نظر دوڑائیے۔ یاروں کی مہربانی ہے، عنایت ہے کہ کراچی میں تقریباً سبھی کچھ خود بخود ہو رہا ہے۔چند برس پہلے کراچی میں سگنل فری کوریڈور بنائے گئے تھے تب ہمیں حیرت ہوئی تھی کہ کراچی جیسے شہر میں کہ جہاں ٹریفک انتہائی بے ہنگم ہے، گاڑیوں کی آمد و رفت کسی رکاوٹ یا تعطل کے بغیر کیسے برقرار رکھی جاسکے گی۔ سگنل فری کوریڈورز قائم کئے گئے اور اب تک کامیاب ہیں۔ اِس کامیاب تجربے نے شہر کے ذمہ داران کو حوصلہ بخشا اور اُنہوں نے پورے شہر ہی کو سگنل فری کوریڈور میں تبدیل کردیا! 
شہر یُوں سگنل فری ہوا ہے کہ اب کہیں سے کسی سگنل کے موصول ہونے کی فکر ہے نہ حاجت۔ جو اِس شہر کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں وہ چاہتے ہیں کہ سب کچھ اِسی طرح اپنے طور پر چلتا رہے۔ مگر ایسا ہمیشہ سے تو نہیں تھا۔ ایک زمانہ تھا جب کراچی کا کچھ حساب کتاب تھا۔ نظم و ضبط تھا۔ انگریزوں نے اِس شہر کو خاصے سُکون سے ترقی دی تھی۔ منصوبے بھرپور توجہ سے تیار کئے گئے تھے اور اُن پر عمل کے معاملے میں بھی یک سُوئی اب تک محسوس کی جاسکتی ہے۔ آبادی کو بہت عمدگی سے کھپایا جاتا تھا۔ ہر معاملہ نپا تُلا تھا۔ کسی بھی معاملے کو ایک خاص حد سے بڑھنے نہیں دیا جاتا تھا۔ مگر خیر، اب تو یہ سب خواب و خیال کی باتیں ہیں۔ ع 
وہ بادۂ شبانہ کی سَرمستیاں کہاں 
اُٹھیے بس اب کہ لذّتِ خوابِ سَحر گئی 
جب نظم و ضبط، منصوبہ بندی اور حُسنِ انتظام کو خیرباد کہہ دیا تو کسی بھی بات پر حیرت کیوں اور کسی بھی چیز کا ملال کیسا؟ کراچی کی روز افزوں آبادی اِسے بے لگام کرنے والا سب سے بڑا فیکٹر ہے۔ کسی بھی سطح پر اور کسی بھی طرح کی منصوبہ بندی کیجیے، چند ہی برس میں ہر منصوبے کے ٹائر سے ساری ہوا نکل جاتی ہے! کچھ بھی کر دیکھیے، تبدیلی محض چند روزہ ثابت ہوتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پرنالہ پھر وہیں بہنے لگتا ہے۔ 
ہوتے ہوتے شہر تو بڑا ہوگیا ہے مگر یہاں پیدا ہونے یا کہیں سے خوشی خوشی اِسے اپنا مستقل مستقر بنانے والے اب تک بڑے نہیں ہو پائے۔ اُن میں بڑپّن اب تک جنم نہیں لے سکا۔ اِس گائے کا دُودھ دوہنا تو سب کو پسند ہے مگر اُسے بہتر چارا یا دانہ ڈالنے کی توفیق کِسی کِسی کو ہے۔ کراچی صرف سانس ہی نہیں لے رہا ہے، اپنے مکینوں کے سانسوں کا تسلسل بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ہاں، اِس عمل کے دوران اُس پر کیا بیت رہی ہے یہ کہانی پھر کبھی سہی ؎ 
جو تار سے نکلی ہے وہ دُھن سب نے سُنی ہے 
جو ساز پہ گزری ہے وہ کِس دِل کو پتا ہے! 
نصف عشرے سے کراچی کا یہ حال ہے کہ کوئی پُرسان حال نہیں۔ جیسے اچھی طرح چلتے چلتے کوئی اچانک گڑھے میں گِر جائے! لوگ بُنیادی سہولتوں کو اِس قدر ترس گئے ہیں کہ ریاست پر اُن کے اعتماد کی بُنیاد ہِل گئی ہے۔ لوگ بجلی، پانی، گیس اور صحتِ عامہ کی سہولتوں کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ غور و فکر کرنے کو اب یہی کچھ رہ گیا ہے۔ 67 برس میں پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی موثر نظام وضع نہیں کیا جاسکا۔ لوگ روزانہ یُوں کام پر جاتے ہیں کہ شام کو گھر آتے ہیں تو ایک زمانے کی تھکن اُن کے رگ و پے میں سرایت کرچکی ہوتی ہے! زندگی کس بلا کا نام ہے، اُس کے تقاضے کیا ہیں اِتنا سوچنے کی فُرصت کسی کو مل جائے تو اُسے خوش نصیب سمجھیے۔ لوگوں کو یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ پانی کب آئے گا، بجلی کب درشن دے گی، گیس کا پریشر کب بحال ہوگا! بُنیادی سہولتیں زندگی کے بُنیادی اِشوز کی شکل اختیار کرگئی ہیں۔ اِس مایا جال سے نکلیے تو کچھ نیا سوچیے، کچھ نیا کیجیے۔ 
جن سے کسی بھی طرح کے قائدانہ کردار کی آس لگائی جاتی رہی ہے وہ تو اب تک کچھ نہیں کرپائے۔ یاں یُوں کہیے کہ اپنی جیبیں بھرنے ہی سے اُنہیں فُرصت نہیں مل سکی۔ رات دن بڑھتے، پھیلتے شہر بلکہ میگا سِٹی کو مایا نگری میں تبدیل ہونے کی کُھلی چُھوٹ دی جاچکی ہے۔ نظم و ضبط کو طویل رُخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔ حساب کتاب سے کہہ دیا گیا ہے کہ اب زحمت نہ کرے۔ بھرپور اور بے پناہ کوشش کی جاتی رہی ہے کہ کوئی پہلو مکمل نہ ہو، ہر بات ادھوری ہو۔ 
کراچی کی مایا نگری اُن قائدین کی منتظر ہے جو واقعی راہ دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہوں، ڈھنگ سے کچھ ڈلیور کرسکتے ہوں، مایا کے پُجاری نہ ہوں۔ اگر ایسے قائدین کے آنے میں مزید تاخیر ہوئی تو یہ مایا نگری مکمل اندھیر نگری مزید تاخیر سے کام نہیں لے گی۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں