نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نومبرمیں سب سےزیادہ برآمدات 2.9 بلین ڈالرریکارڈ،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- برآمدات گزشتہ سال نومبرسے 34 فیصد،2018سے 47 فیصدزیادہ ہیں،فرخ حبیب
Coronavirus Updates
"MIK" (space) message & send to 7575

خواجہ صاحب کا جوش و خروش

وزیر اعظم کی واپسی نے ملک کی سیاست کو کچھ دیا ہو یا نہ دیا ہو، وفاقی کابینہ کے ارکان میں تھوڑی بہت چُستی ضرور پیدا کردی ہے۔ وہ ہڑبڑاکر اٹھ بیٹھے ہیں اور کچھ کر دکھانے کی تیاری میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔ چند ایک وزراء خاص طور پر ہشّاش بشّاش نظر آتے ہیں۔ عابد شیر علی اور خواجہ سعد رفیق جیسے رفقائے کار میں جوش و خروش برقرار رکھنے کے لیے وزیر اعظم کا ملک میں ہونا کچھ لازم نہیں۔ ہاں، وزیر دفاع خواجہ آصف اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید کچھ بُجھے بُجھے سے تھے۔ اللہ بھلا کرے عمران خان کا جنہوں نے خاصی جاں فشانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے حالات پیدا کر رکھے ہیں کہ کابینہ کے بیشتر ارکان کا زیادہ وقت وزیر اعظم کے دفاع میں گزرتا ہے اور جو تھوڑا بہت وقت بچ رہتا ہے وہ پارٹی کو سلامت رکھنے کی کوششوں میں صرف ہو جاتا ہے! رہ گیا ملک ... تو اُس کے لیے کچھ کرنے کا بھی کبھی نہ کبھی سوچ ہی لیا جائے گا۔
خواجہ صاحب بہت فارم میں دکھائی دے رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک ان کے بیانات میں دم تھا نہ خطابات میں۔ کمنٹس بھی دیتے تھے تو نیم دلانہ۔ ٹی وی پر بولتے تو یوں لگتا جیسے نہ چاہتے ہوئے بول رہے ہوں یعنی با دِلِ ناخواستہ۔ جیسے (مشہور فلم ''گائڈ‘‘ میں دیو آنند کے بقول) زندگی کی ہر آرزو، ہر امنگ کہیں راستے میں چھوڑ آئے ہوں۔ اللہ بھلا کرے میاں صاحب کا۔ جب سے لَوٹ کے آئے ہیں، خواجہ صاحب میں گویا کوئی نئی قسم کی توانائی در آئی ہے۔ وہ بجلی اور پانی کے بھی وزیر ہیں مگر ویسی بجلی یا توانائی ہمیں کبھی اُن کی کارکردگی میں دکھائی نہیں دی جیسی اِس وقت اُن کے بیانات اور خطابات میں دکھائی دے رہی ہے۔ وہ شاید مخالفین پر بجلی گِرا گِرا کر اُنہیں پانی پانی کرنے کے مِشن پر نکلے (یا نکالے) گئے ہیں! 
ہفتے کو سیالکوٹ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ صاحب ایسے مغلوب الجذبات ہوئے کہ اُنہیں سُننے والا ہر ''منڈیا سیالکوٹیا‘‘ جُھوم اُٹھا ہو گا۔ خواجہ صاحب نے ایک ہی سانس اور ایک ہی ہلّے میں ترکی، عمران خان، پاناما لیکس ... سبھی کا، اپنی دانست میں، حساب چُکتا کردیا۔ وفاقی وزیر ہونے کے باوجود خواجہ صاحب میں تھوڑی بہت وضع داری (یعنی احتیاط پسندی) رہ گئی ہے جو ہمارے لیے خوشگوار حیرت کا باعث ہے۔ موصوف نے خطاب میں عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ سیاسی لاوارث نواز شریف کی شہرت سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ اِس ایک جملے میں دو باتیں تھیں جو ہم بمشکل حلق سے اُتار پائے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم نے بہت سے لاوارث دیکھے ہیں مگر خیر سے سیاسی لاوارث ایسے ہیں کہ اُنہیں ڈھنگ کا لاوارث بھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عام طور پر لاوارث جب دیکھتے ہیں کہ اُن کا کوئی نہیں تو اپنے دم قدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یعنی ع 
جس کا کوئی نہیں اُس کا تو خدا ہے یارو! 
ہمارے سیاسی لاوارث تو ایسے بے آسرا ہوکر جیتے ہیں کہ اُنہیں لاوارث قرار دینے پر حقیقی لاوارثوں سے شرم سی محسوس ہوتی ہے! 
اور دوسری بات یہ کہ خیر سے اب وزیر اعظم کی کون سی شہرت باقی رہ گئی ہے جس سے حریف خوفزدہ ہوں گے! صورت حال کچھ ایسی ہے کہ غالبؔ کا کہا برحق معلوم ہوتا ہے ع 
ہرچند کہیں کہ ہے، نہیں ہے! 
خواجہ صاحب پاناما لیکس کی تحقیقات اور وزیر اعظم کے احتساب کا مطالبہ کرنے والوں کو لتاڑتے ہوئے فرمایا کہ چور اُچکّے کون ہوتے ہیں وزیر اعظم کا احتساب کرنے والے؟ ہم ایک بار پھر ہاتھ اُٹھاکر ''آبجیکشن، مائی لارڈ‘‘ کی صدا لگانے پر مجبور ہیں۔ خواجہ صاحب نے جن کی طرف اشارا کیا ہے وہ سیاسی میدان کے ہیں اور جہاں تک ہمارے اُصولی موقف کا تعلق ہے، اِنہیںایسا کہنا اس دھندے کی توہین ہے کیونکہ چوری اور ڈاکے کے بھی چند ایک آداب اور اُصول ضرور ہوتے ہیں۔ یقین نہ آئے تو پُرانی پاکستانی فلموں میں پائے جانے والے چوروں (بالخصوص اسلم پرویز) اور ڈاکوؤں (بالخصوص محمد علی) کے اُصولوں کا جائزہ لیجیے جو کسی بھی حال میں بے اُصولی سے یکسر گریز کرتے تھے! 
خواجہ صاحب کا خطاب ترکی میں منعقد کی جانے والی ناکام بغاوت کے موقع پر تھا اِس لیے اُنہوں نے سوچا کیوں نہ ترکی کے حالات پر تبصرہ فرماکر عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کیا جائے کہ اُن کی نظر ملک ہی کے نہیں بلکہ بیرونی حالات پر بھی ہے! جوشِ خطابت کے دریا میں بہتے ہوئے خواجہ صاحب نے کہا کہ ترکی میں رجب طیب اردوان فتح یاب ہوئے ہیں بالکل اُسی طرح ہمارے ہاں نواز شریف غالب رہیں گے۔ خواجہ صاحب عمر کے اُس مرحلے میں ہیں جہاں کسی خاص کوشش کے بغیر بھی انسان ڈھنگ سے سوچنا اور بہت سوچ سمجھ کر بولنا سیکھ ہی جاتا ہے۔
جوشِ خطاب کے دریا میں غوطہ زنی کے دوران خواجہ صاحب نے شیخ رشید کا سا انداز اختیار کرکے ایک لطیفہ بھی جڑ دیا۔ یہ کہ یہ تو وزیر اعظم کی شرافت ہے کہ خود کو احتساب کے لیے پیش کر رہے ہیں! ہم پھر معترض ہونے پر مجبور ہیں۔ میاں صاحب نے خود کو احتساب کے لیے پیش کب کیا ہے؟َ جب احتساب کے مطالبے نے زور پکڑا اور پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے کی بات چلی تو اُس کے سامنے پیش ہونے کے بجائے میاں صاحب نے ولایت کی راہ لی اور لندن پہنچ کر خود کو ڈاکٹرز کے سامنے پیش کردیا! جو چیر پھاڑ یہاں مخالفین خاصے بے ڈھنگے انداز سے کرنا چاہتے تھے وہ میاں صاحب نے لندن میں ذرا ترتیب اور ڈھنگ سے کرالی اور ''بعد از چیر پھاڑ‘‘ آرام کا استحقاق بھی بحسن و خوبی avail کیا! مخالفین کے غبارے سے اچھی خاصی ہوا ویسے ہی نکل گئی کہ ایک صاحب اوپن ہارٹ سرجری کرا رہے ہیں تو اب اُن سے کیا اُلجھنا! 
خواجہ صاحب پانی و بجلی کی وزارت بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔ ایسے میں یہ کیونکر ممکن تھا کہ وہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے متعلق کوئی ہنسانے والی بات نہ کہتے؟ شکر خورے کو کہیں نہ کہیں سے شکر مل ہی جاتی ہے۔ ہماری مراد بھی یوں بر آئی کہ خواجہ صاحب نے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی کوئی ڈیڈ لائن دینے سے یکسر گریز کرتے ہوئے براہِ راست یہ ''انکشاف‘‘ کیا کہ لوڈ شیڈنگ تقریباً ختم ہوچکی ہے! اور اِس ''انکشاف‘‘ کی لاج رکھنے کے لیے ایک اور ''انکشاف‘‘ کر ڈالا ... یہ کہ اب تو جنریٹرز کی فروخت بھی دم توڑ چکی ہے! یہ انکشافات پڑھ کر ہمیں جو ہنسی آئی وہ بہت دیر تک دم توڑنے سے گریز کرتی رہی! خواجہ صاحب بھی کمال کرتے ہیں۔ اُن کی اور اُن کے ''کابینائی‘‘ احباب کی پیشانی پر پشیمانی کے قطرے نمودار ہوں یا نہ ہوں، یہاں تو پورا ملک بادلوں کے ہاتھوں پانی پانی ہوچلا ہے۔ ایسے میں ہوائیں بھی ٹھنڈی ٹھار ہوگئی ہیں۔ جب اِتنا کچھ ہوچکا ہو تو بجلی کا استعمال ویسے ہی معقول حد تک گھٹ جاتا ہے۔ ایسے میں جنریٹرز کا کم کم فروخت ہونا بھی فطری امر ہے۔ ایک فطری امر کو بھی اپنی سیاسی اور انتظامی کامیابی شمار کرنا کچھ خواجہ صاحب ہی کا خاصہ ہے! 
خواجہ صاحب کا جوش و خروش دیکھ کر طلال چوہدری بھی میدان میں نکل آئے۔ ترکی کی صورت حال پر عمران خان کے تبصرے کو طلال چوہدری نے فوج کو ''تحریک‘‘ دینے کی کوشش قرار دیتے ہوئے اُن کی مذمت کی اور کہا کہ عمران خان کو فوج کی عزت کا کچھ تو خیال کرنا چاہیے۔ ہم خلوص کے ساتھ طلال چوہدری کی خدمت میں عرض کریں گے کہ فوج کو اپنی عزت کا خیال رکھنا خوب آتا ہے! اور ساتھ ہی یہ کہہ دینا بھی لازم سا ہے کہ عمران خان اب تک اپنی توقیر سلامت رکھنے کا ہنر بھی نہیں سیکھ پائے ہیں۔ اب یہی دیکھ لیجیے کہ سیاست میں تو کچھ کمایا نہیں ... اور وہ سب کچھ بھی کھو بیٹھے ہیں جو اچھا خاصا دم لگاکر کرکٹ میں کمایا تھا! 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں