نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:راول ڈیم چوک کےقریب شہری بجلی کےپول پرچڑھ گیا
  • بریکنگ :- شہری کو 100 فٹ اونچےپول سےاتارنےکیلئےریسکیوٹیمیں پہنچ گئیں
Coronavirus Updates
"MIK" (space) message & send to 7575

پھر دل میں کیا رہے گا …

انسان جو چیزیں روز دیکھتا ہے، اور وہ بھی ایک طویل مدت تک، وہ سب اُس کی نفسی ساخت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ ہمارے ماحول میں بھی ایسا بہت کچھ ہے جو رفتہ رفتہ ختم ہوتا جارہا ہے یا ختم کیا جارہا ہے۔ کبھی کبھی یہ سوچ کر دل میں ہَول سا اُٹھتا ہے کہ ہم جن چیزوں کے عادی ہیں وہ اگر نہ رہیں تو کیا ہوگا۔ 
مرزا تنقید کئی دن، بلکہ کئی ماہ سے پریشان ہیں۔ اور سچ پوچھیے تو اُن کی پریشانی اُس وقت شروع ہوئی تھی جب وفاقی حکومت نے شمالی کراچی سے جنوب میں ٹاور تک گرین لائن بس منصوبہ شروع کیا تھا۔ منصوبے پر کام جاری ہے۔ ستون کھڑے کرکے اُن پر بیم بھی رکھے جاچکے ہیں یعنی اچھا خاصا ٹریک مکمل کیا جاچکا ہے۔ یہ ٹریک جیسے جیسے بنتا جارہا ہے، مرزا پٹڑی سے اترتے جارہے ہیں۔ کوئی جیسے ہی ان کے سامنے گرین لائن بس منصوبے کا ذکر کرتا ہے وہ ہتھے سے اکھڑنے لگتے ہیں اور ''بے فضول‘‘ کی مغلظات کا ایک طوفان سا اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ ہم گرین لائن بس منصوبے کی ممکنہ افادیت کے معترف ہیں اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس منصوبے کی تکمیل سے شہر کو بہت کچھ ملے گا مگر مرزا کا استدلال ہے کہ بہت کچھ چِھن بھی جائے گا! 
ہم نے ایک دن مرزا سے پوچھ لیا کہ آخر وہ کیا ہے جو گرین لائن بس منصوبے کے ہاتھوں ہمارے ہاتھ سے جاتا رہے گا۔ مرزا نے ہماری کلاس لینے کے انداز سے سمجھانا شروع کیا ''دیکھو میاں! ہم نے اِس شہر میں بہت سی چیزوں کو اور 'روایات‘ کو بہت محنت سے پیدا کیا ہے۔ ترقی کے نام پر اُن تمام 'سماجی اثاثوں‘ کو رخصت کرنا کوئی خوشی یا فخر کی بات نہیں۔ اب یہی دیکھ لو کہ سڑکوں کو چوڑا کرکے پتھاروں کی گنجائش ختم کی جارہی ہے۔ بھائی، شہر کی ساری رونق اِنہی پتھاروں سے تو ہے۔ اِس دنیا کا کون سا آئٹم ہے جو پتھاروں پر دستیاب نہیں؟ اب تو موبائل فون اور لیپ ٹاپ کمپیوٹر بھی فٹ پاتھ اور ٹھیلے پر دستیاب ہیں۔ ترقی کی اِس 'معراج‘ کو ہم خود ختم کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ گرین لائن منصوبے ہی پر بات کرلو۔ بہت سے رہائشی منصوبوں کا حُسن تو غارت ہوا سو ہوا، اُن کے سامنے کی سڑکیں بھی 'پتھارا آرائی‘ کے قابل نہ رہیں! خریداری کے لیے اب دکانوں میں جانا پڑتا ہے۔ ہم تو عادی ہوچکے ہیں کہ قدم گھر سے باہر رکھیں اور کسی بھی گزرتے ہوئے ٹھیلے یا پتھارے سے من پسند چیز خرید لیں۔ اب تم ہی بتاؤ ایسی ترقی کس کام کی جو ہماری آسانیاں گھٹاکر مشکلات بڑھائے؟‘‘ 
ہم نے اختلافی دلیل کا کارڈ کھیلنے کی کوشش کرتے ہوئے عرض کیا کہ یہ سب تو ہماری سہولت کے لیے ہے۔ اگر گرین لائن بس جیسے منصوبے مکمل ہوں گے تو کام پر آنے جانے میں آسانی رہے گی۔ اس پر مرزا نے پھٹ پڑنے کے سے انداز سے کہا ''یہ تو تم سمجھ رہے ہو، ہم کچھ اور سوچ رہے ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ ہم گاڑی میں بیٹھیں، گھررر سے کام پر جائیں اور پُھررر سے واپس آجائیں۔ اِس میں بھلا کیا مزا آئے گا؟ 
اب ہم مرزا سے کیا بحث کرتے؟ ایک تو اُن کا مزاج اور پھر اپریل میں مئی جُون والی گرمی کی لہر! ماحول سے پیدا ہونے والی ہیٹ ویو تو ہم جیسے تیسے برداشت کر بھی لیں مگر مرزا کے ''دلائل‘‘ سے اُٹھنے والی ہیٹ ویو کو جھیلنے کا جگرا کہاں سے لائیں؟ ایسے میں خاموش ہو رہنے کے سوا چارہ نہ تھا۔ ویسے مرزا کا دکھ انوکھا نہیں۔ اہل کراچی ایسی بہت سی چیزوں کے عادی ہوچکے ہیں کہ اگر وہ نہ رہیں تو زندگی سے بہت کچھ نکل جائے گا۔ 
شہرِ قائد کے مکین کئی نظاروں کے عادی، بلکہ ''دَھتّی‘‘ ہیں۔ اگر ترقیاتی منصوبوں کو تیزی سے تکمیل کی منزل تک پہنچایا گیا تو کئی ''دل کش نظارے‘‘ ٹھکانے لگ جائیں گے۔ شہر میں فٹ پاتھ تجاوزات سے پاک کرنے کا عمل شروع کیا جارہا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ لوگ سڑکوں پر چلنے کے عادی ہوچکے ہیں یعنی فٹ پاتھ پر چلنے کی اُنہیں باضابطہ تربیت دینا پڑے گی! شنید ہے کہ ٹریفک پولیس اب سخت تر اقدامات کی طرف جارہی ہے۔ ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر فور وھیل یا ٹو وھیلر چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ بھیجے میں ڈرائیونگ سینس یا جیب میں ڈرائیونگ لائسنس نہیں پایا جاتا اور گاڑی میں فٹنس نام کی کوئی چیز نہیں ملتی! نمبر پلیٹ اور بیک لائٹ ہونی چاہیے مگر یہ سب تو اُس وقت ہو جب موٹر سائیکل میں مڈ گارڈ ہو اور اِتنا گلا سڑا نہ ہو تو اُس میں سے پہیہ جھانک رہا ہو! 
میگا سٹی کو ترقی سے ہم کنار کرنے کی کوششیں قابل ستائش سہی مگر بھئی شہر کی ''شناخت‘‘ بن جانے والی باتوں کا کیا ہوگا! جو کچھ لوگوں کی گُھٹّی، بلکہ نفسی ساخت کا حصہ بن چکا ہے اُسے بھی کوئی ٹھکانہ ملے گا یا نہیں؟ چاہتے تو ہم بھی یہی ہیں کہ ترقی اور جدت طرازی کا پہیہ خوب تیزی سے گھومے مگر یہ بھی سوچیے کہ اس پہیے کی لپیٹ میں آکر بہت کچھ مٹ کر رہ جائے گا۔ دل میں بہت سی حسرتیں ہیں۔ ذہن نے خدا جانے کیا کیا دیکھنے، کرنے اور پانے کا سوچ رکھا ہے۔ مگر جب ترقی کے ممکنہ نتیجے کے طور پر ''شہری ثقافت‘‘ کا بڑا حصہ ہاتھ سے جاتا دکھائی دیتا ہے تو دل لرز اُٹھتا ہے۔ خواہشیں پوری ہوں، یہ اچھی بات ہے مگر ذہن پھر ذہن ہے کہ سوچنا ہی اِس کا کام ہے۔ اور یہ سوچ سوچ کر لرز اٹھتا ہے کہ ع 
پھر دل میں کیا رہے گا جو حسرت نکل گئی!

 

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں