نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی:اسٹاک ایکس چینج میں 467 پوائنٹس اضافہ
  • بریکنگ :- کراچی:100 انڈیکس 43 ہزار 748 پوائنٹس کی سطح پرٹریڈ
Coronavirus Updates
"MIK" (space) message & send to 7575

’’تری مُورتی‘‘

بے راہ روی کس معاشرے میں نہیں؟ ہمارے پڑوس میں اِس کی بہت واضح مثال موجود ہے۔ بھارتی معاشرے کی بے راہ روی کا اندازہ لگانا ہے تو اِس ایک بات سے لگا لیجیے کہ صرف دہلی میں ہر روز خواتین سے زیادتی کے پانچ واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ دیگر بڑے شہروں کے بارے میں قیاس کیا جاسکتا ہے کہ وہاں کیا ہورہا ہوگا۔ اور یہ سب کچھ افسوسناک ہونے کے ساتھ حیرت انگیز بھی ہے کہ بھارتی معاشرے میں قحبہ گری کو صنعت کا درجہ حاصل ہے۔ کال گرلز عام ہیں۔ کسی بھی ہوٹل میں غیر شادی شدہ جوڑے کے قیام پر کوئی پابندی نہیں۔ دہلی جیسے شہر میں ''سہولت کاری‘‘ کی بیسیوں سہولتیں میسّر ہیں۔
مبلّغین کی کامیابی کا ایک اہم راز یہ بھی ہے کہ بھارتی معاشرے میں ہندو عورت شرم ناک حد تک پِسی اور گُھٹی ہوئی ہے۔ معاشرتی ڈھانچے کی نوعیت ایسی ہے کہ وہ محنت بھی کرتی ہے اور متعلقین کی طرف سے جبر و ذلّت بھی سہتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مذہبی تعلیمات اُس کے حقوق کی تصریح کرتی ہیں نہ حفاظت۔ ایسے میں جب اسلام کی تعلیمات موزوں طریق سے اُن تک پہنچتی ہیں تو اُنہیں محسوس ہوتا ہے کہ یہی وہ دین ہے جو انہیں ڈھنگ سے جینے کا حق دے سکتا ہے۔
بھارتی معاشرے کو اخلاق باختہ بنانے میں مرکزی یا کلیدی کردار ٹی وی اور فلم نے ادا کیا ہے۔ ابلاغ کے ان دونوں ذرائع سے وہ سبھی کچھ بے باک و بے لگام انداز سے پیش کیا گیا ہے جو مرد و زن‘ دونوں کو زیادہ سے زیادہ بے لگام کردے اور اخلاقی پابندیوں کی ہر دیوار ڈھادے۔ بھارتی معاشرے میں لڑکیاں عنفوانِ شباب کے دور میں جس طور سے رہتی ہیں، جس آزادی (یا بے حیائی) سے گھومتی پھرتی ہیں، جس انداز کے ملبوسات زیبِ تن کرتی ہیں وہ سب کچھ اس امرکی تشریح کے لیے انتہائی کافی ہے کہ لڑکیوں کو شرم و حیا کے حوالے سے کسی بھی طرح کی تربیت دینے سے ہاتھ کھینچ لیا گیا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ والدین کو اس معاملے سے یکسر لاتعلق کر دیا جائے۔ سوال محض مخلوط تعلیم کا نہیں۔ مخلوط تعلیم سے لڑکے اور لڑکیاں لامحالہ بگڑتے ہیں مگر خیر، پورا ملبہ اِس نوع کی تعلیم پر نہیں ڈالا جا سکتا کیونکہ پورا معاشرہ اخلاقی بگاڑ کو بڑھاوا دینے میں لگا ہوا ہے۔ فلموں اور ٹی وی ڈراموں نے اخلاقی ڈھانچے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے۔
ٹیکنالوجی کی ترقی نے اب جغرافیائی سرحدوں کو خواب و خیال میں تبدیل کر دیا ہے۔ دل و دماغ پر اثر انداز ہونے والی ہر چیز برق رفتاری سے کہیں بھی پہنچ سکتی ہے‘ اور پہنچ رہی ہے۔ پاکستانی معاشرہ بہت سے معاملات میں اب بھی زمانے سے ہم آہنگ نہیں اور اخلاقی اعتبار سے تو اب بھی اچھا خاصا ''پسماندہ‘‘ ہے۔ ہاں، کوشش بھرپور کی جا رہی ہے کہ ''پسماندگی‘‘ دور ہو اور اخلاقی اقدار کو خیر باد کہتے ہوئے ہم ''روشن خیالی‘‘ سے متصف ہو کر کچھ دیکھنے اور دکھانے کے قابل ہو جائیں!
مغرب اور بھارت دونوں کی تقلید میں اب (محسوس ہونے والے) ایجنڈے کے تحت ایسی باتیں عام کی جا رہی ہیں جو معاشرے میں رہی سہی اخلاقی اقدار کی بھی مٹّی پلید کیے بغیر سکون کا سانس نہیں لے سکتیں۔ سب کچھ غیر محسوس طریقے سے سکھانے اور ذہنوں میں ٹھونسنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اِس وقت پاکستانی معاشرے کو، یقینا ایجنڈے کے تحت، تین راستوں سے گھیرنے کی کوشش کی جا رہی ہے:٭ ٹی وی ڈرامے ٭ (اخلاق باختہ)مارننگ شوز٭ ڈرامائی تشکیل ۔بس یوں سمجھ لیجیے کہ بھارت کے کرنسی نوٹوں پر پائی جانے والی تری مُورتی کی طرح یہ ہماری تری مُورتی یا تین سَروں والا ''راکشس‘‘ ہے۔
ایک زمانے سے ہمارے ہاں ٹی وی ڈرامے مختلف نظریات اور طریق ہائے زندگی کی تبلیغ کا ذریعہ رہے ہیں۔ کل تک یہ معاملہ under-current کی حیثیت رکھتا تھا، اب ابھر کر سامنے آ گیا ہے، واضح ہوگیا ہے۔ چار نکاتی بنیادی ایجنڈا آج کے ٹی وی ڈراموں میں قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتا ہے... بنیادی اخلاقی اقدار کو تہس نہس کر دیا جائے، رشتوں کا تقدس ذہنوں سے محو کر دیا جائے، گھر کے بزرگوں کا احترام پامال کر دیا جائے اور نئی نسل کو زیادہ سے زیادہ بے باکی و بے حیائی کی طرف مائل کیا جائے۔ یہ چاروں مذموم مقاصد بخوبی حاصل ہوتے جا رہے ہیں۔ ٹی وی ڈراموں کی کہانی میں ایسے واقعات اور ''ٹوئسٹ‘‘ رکھنا عام ہوگیا ہے جن سے مقدس گھریلو رشتے شکوک و شبہات کی نذر ہوں اور عام آدمی بالخصوص لڑکیوں کا ذہن الجھ کر رہ جائے۔ گھریلو زندگی میں بھی (دیور بھابی، بہنوئی سالی وغیرہ کے درمیان) اِتنے افیئرز دکھائے جاتے ہیں کہ پورے معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھنے لگے ہیں۔ 
ایک عشرے کے دوران مارننگ شوز وبا کی مانند پُھولے پھلے اور پروان چڑھے ہیں۔ تقریبا ہر مارننگ شو چونکہ ناچ گانے اور بھونڈی کامیڈی سے عبارت ہے اس لیے عام آدمی اور بالخصوص خواتین کے لیے اس میں غیر معمولی کشش ہے۔ خواتینِ خانہ مارننگ شوز سے ایسا بہت کچھ اخذ کر لیتی ہیں جس کا انہیں خود بھی اندازہ نہیں ہوتا۔ یہ سوچنا غلط ہے کہ لڑکیاں سکول یا کالج میں ہونے کے باعث مارننگ شوز سے ''مستفیض‘‘ نہیں ہوتیں۔ وہ مارننگ شوز رات کو نشرِ مکرّر میں دیکھتی ہیں اور ایجنڈے کی زد میں آئے بغیر نہیں رہتیں۔ مارننگ شوز میں شدید غیر اخلاقی جملوں اور دیگر چھچھور پن کے ساتھ اب چھوٹی عمر کی لڑکیوں کا رقص بھی عام ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں ملک بھر کی لڑکیاں ابھرتی ہوئی عمر میں جذباتی کیفیت سے مغلوب ہو کر غیر اخلاقی حرکات و سکنات کی طرف تیزی سے لپک رہی ہیں۔ کچی عمر میں لڑکیاں یہی سمجھ بیٹھتی ہیں کہ ہا، ہُو اور چھچھور پن جوانی کی طرف بڑھنے کا لازمی مرحلہ ہے اور اگر اِس مرحلے میں ناچ گانا، ہلّا گُلّا نہ کیا تو پھر کیا جیا!
تیسرے نمبر پر ہے جرائم کے واقعات کی ڈرامائی تشکیل۔ عرفِ عام میں اِسے ''ڈراماٹائزیشن‘‘ اور ''ری اینیکٹمنٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ طریقِ واردات ڈراموں اور مارننگ شوز سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ ڈرامے تو تجربہ کار لکھاریوں کے قلم کی پیداوار ہیں مگر اینیکٹمنٹ کی کاغذی تیاری کا سہرا بالعموم نوجوان یعنی کچے ذہنوں کے سَر ہے جو بہت سے معاملات میں کسی لفظ کے ممکنہ اثرات تک سے واقف نہیں ہوتے۔ عام طور پر اینیکٹمنٹ خاصے بے باک انداز سے لکھی جاتی ہے جس کے نتیجے میں کچے ذہن خطرناک حد تک اِس کی زد میں آتے ہیں۔ مثلاً ایک چینل پر پیش کی جانے والی اینیکٹمنٹ میں لڑکی فون پر بوائے فرینڈ سے کہتی ہے ''آج امّی اور ابّو گھر پر نہیں ہیں۔ تم اگر آ سکتے ہو تو آجاؤ، ہم آج ہی سے 'مشن امپوسیبل‘ شروع کرتے ہیں‘‘۔ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیںکہ اینیکٹمنٹ کے نام پر نیوز چینلز نئی نسل کے ذہنوں میں کس نوعیت کی دھماچوکڑی کا سامان کر رہے ہیں!
جرائم کے واقعات کے تناظر میں لکھی جانے والی اینیکٹمنٹ نئی نسل کو عبرت کا سامان فراہم کرنے سے کہیں بڑھ کر ترغیب و تحریص کا ذریعہ ثابت ہو رہی ہے۔ کسی بھی اینیکٹمنٹ میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ کوئی بھی مجرم کس غلطی کی بنیاد پر پھنستا ہے یعنی کون سی بے احتیاطی اُسے بُرے کام کے بُرے انجام کی طرف لے جاتی ہے۔ نئی نسل ایسے تمام آئٹمز دیکھ کر صرف یہ سیکھتی ہے کہ جو کچھ کرنا ہے‘ وہ کیسے کرنا ہے اور کس طرح قانون یا معاشرے کی گرفت میں آنے سے بچنا ہے!
تین سَروں والے اِس راکشس (ڈرامے، مارننگ شوز اور اینیکٹمنٹ) سے کماحقہ نمٹنے اور نئی نسل سمیت تمام کچے ذہنوں کو اس کی دست برد سے محفوظ رکھنے کے لیے سوچنے والوں کو زیادہ سے زیادہ متحرک رہنا پڑے گا۔ ذرا سی عدم توجہ ہمیں مکمل طور پر قعرِ مذلّت میں گرانے کے لیے کافی ہو گی۔

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں