نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:فیصل واوڈانااہلی کیس کی الیکشن کمیشن میں سماعت
  • بریکنگ :- چیف الیکشن کمشنرکی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نےسماعت کی
  • بریکنگ :- اسلام آباد:میرےوکیل کےاہلخانہ بیمارہیں،فیصل واوڈا
  • بریکنگ :- ممکن ہےوکیل کواہلخانہ کےعلاج کیلئےباہرجاناپڑے،فیصل واوڈا
  • بریکنگ :- اسلام آباد:الیکشن کمیشن کےاحترام میں خودآیاہوں،فیصل واوڈا
  • بریکنگ :- میری والدہ کاانتقال بھی اسی بیماری سےہواتھا،فیصل واوڈا
  • بریکنگ :- خود آنےکامقصدیہی ہےکہ ہم کیس کوسنجیدہ لےرہےہیں، فیصل واوڈا
  • بریکنگ :- وکیل کےآنےکی ضرورت نہیں،تحریری دلائل بھجوادیتے،چیف الیکشن کمشنر
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن کی فیصل واوڈاکےمعاون وکیل کی سرزنش
  • بریکنگ :- اسلام آباد:آپ کیس فائل لےکرآئےہیں؟ممبرسندھ نثاردرانی
  • بریکنگ :- اسلام آباد:کیس فائل سینئروکیل کےپاس ہے،معاون وکیل
  • بریکنگ :- آپ طےکرکےآئےہیں کہ کیس چلنےنہیں دینا،ممبرسندھ نثاردرانی
  • بریکنگ :- کسی نےتحریری دلائل دینےہیں توجمع کرادے،چیف الیکشن کمشنر
Coronavirus Updates
"MIK" (space) message & send to 7575

’’میں‘‘ سے ’’ہم‘‘ تک

کسی بھی انسان کیلئے سب سے خطرناک رجحان اگر ہے تو بس یہ کہ وہ کسی بھی سطح کی کامیابی کو اپنا ذاتی یا شخصی کارنامہ قرار دے۔ غور کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ ہر کامیابی اوّل و آخر انفرادی نوعیت ہی کی ہوتی ہے مگر اس کے باوجود اُس میں دوسروں کے کردار کو بھی تسلیم کرنا ہی پڑتا ہے۔ حتمی تجزیے میں ہر معاملے کی بہتری کیلئے اپنے وجود کو کریڈٹ دینا انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ کوئی لکھاری اگر کامیاب ہوتا ہے تو اپنی شاندار تحریر کی بدولت۔ تحریر کی خوبی کسی بھی حوالے سے ہوسکتی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کامیابی کا سارا کریڈٹ خود لے۔ کسی بھی لکھاری کو کامیابی سے ہم کنار کرنے والے بہت سے لوگ ہوسکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کسی نے اُس کی اچھی تربیت کی ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ دوسروں کے خیالات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی تحریر کو زیادہ جاندار بنانے میں کامیاب ہو پایا ہو۔ اور سب سے بڑھ کر تو اُسے اُن تمام لوگوں کا شکر گزار ہونا چاہیے جو اُس کی تحریریں پڑھتے ہیں۔ قارئین ہی تو کسی بھی انسان کو لکھاری بناتے ہیں۔ حُسن کہاں کا حُسن ہے اگر دیکھنے والی آنکھیں نہ ہوں! 
1966ء میں ''ارمان‘‘ ریلیز ہوئی تھی۔ یہ پاکستان کی پہلی پلاٹینم جوبلی فلم تھی۔ اس فلم نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ ملک بھر میں اسے بے حد پسند کیا گیا۔ کیا تھا جو اس فلم میں نہیں تھا؟ وحید مراد اور زیبا کی جوڑی‘ کہانی‘ موسیقی‘ آوازیں‘ نغمہ نگاری ‘ سبھی کچھ تو تھا۔ اور سب سے بڑھ کر پرویز ملک کی شاندار ہدایت کاری۔ وحید مراد‘ پرویز ملک‘ سہیل رعنا‘ مسرور انور‘ احمد رشدی ‘ کیا ٹیم تھی! اس ٹیم نے ''دو راہا‘‘ اور ''احسان‘‘ جیسی شاندار فلمیں بھی دیں۔ پھر سب کچھ بکھر گیا۔ کیوں؟ ایسا کیا ہوا کہ ایسی شاندار ٹیم تتر بتر ہوگئی؟ کہا جاتا ہے کہ یہ ٹیم وحید مراد مرحوم کی ذرا سی نادانی سے ٹوٹی۔ ہوا یوں کہ وحید مراد نے کامیابی کا پورا کریڈٹ لینا شروع کردیا! سہیل رعناکی صلاحیتوں سے کون واقف نہیں؟ مسرور انور کی نغمہ نگاری کے اعلیٰ معیار پر کسی کو شک ہے؟ پرویز ملک فلم میکنگ سیکھ کر وطن واپس آئے تھے۔ احمد رشدی بھی مقبولیت کے بامِ عروج پر تھے۔ وحید مراد نے اِن سب کے ساتھ مل کر شاندار فلمیں دیں۔ محنت سب کی تھی مگر پتا نہیں کیوں وحید مراد کے ذہن میں یہ بات کیل کی طرح ٹُھنک گئی کہ جو کچھ بھی ہے اُن کے دم سے ہے۔ یوں ایک شاندار ٹیم کا سفر ہی ختم نہیں ہوا بلکہ وہ ٹیم بھی ختم ہوگئی! 
جب بھی کوئی اپنی کامیابی کو صرف اپنی ذات کا کارنامہ گردانتا ہے تب ایسا ہی ہوتا ہے۔ سارا کریڈٹ اپنے کھاتے میں ڈالنا انسان کو تنہا کردیتا ہے۔ وحید مراد کے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا۔ ٹیم کے ٹوٹنے کے بعد وہ اپنے بینر تلے کوئی بڑی فلم نہ دے سکے۔ ''ارمان‘‘ پاکستان کی فلم انڈسٹری میں سنگِ میل کا درجہ رکھتی ہے‘ مگر اب یہ محض خواب کی بات معلوم ہوتی ہے۔ کچھ ہی دیر میں آنکھیں کھلیں اور سپنا ٹوٹ کر بکھر گیا۔ 
بہت سے انتہائی باصلاحیت افراد محض اس لیے زیادہ نہیں چل پاتے کہ اُن کی انا پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہے۔ کسی جواز کے بغیر خود کو بہت بڑا سمجھنا اور دوسروں کو کمتر گردانتے ہوئے اُن کی صلاحیتوں کا اعتراف کرنے سے گریزاں رہنا ناکامی کی راہ ہموار کرتا ہے۔ بالی وڈ میں ایسے کئی اداکار گزرے ہیں جو اپنی انا پرستی کے ہاتھوں ہمیشہ پریشان اور ناکام رہے۔ راج کمار بھی ایک ایسا ہی اداکار تھا جو ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتا تھا اور یہ گھمنڈ بلا جواز تھا۔ تکبرانہ رویے نے اُسے لوگوں سے اور لوگوں کو اُس سے دور رکھا۔ اُس کی باتوں میں طنز کا تناسب زیادہ تھا۔ کسی کی صلاحیت اور کامیابی کو خندہ پیشانی سے قبول اور تسلیم کرنا اُس کے مزاج میں نہ تھا۔ یہی معاملہ راجیش کھنہ کا بھی تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ اُس کی فلمیں صرف اُس کی اداکاری کی بدولت کامیابی سے ہم کنار ہوتی ہیں۔ ایسا نہیں تھا۔ راجیش کھنہ کی شاندار کامیابی میں کشور کمار کی آواز کا بھی نمایاں کردار تھا۔ موسیقار اور نغمہ نگار بھی اپنے حصے کا کام پوری دیانت اور جاں فشانی سے کرتے تھے۔ کامیابی کا ساراس کریڈٹ اپنے کھاتے میں ڈالنے کی روش راجیش کھنہ کو ناکامی کی طرف لے گئی۔ 
کامیاب وہی رہتے ہیں جو اَنا کے دائرے سے نکل کر زندگی بسر کرتے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک میں بہت سی صلاحیتیں پائی جاتی ہیں ‘مگر تمام صلاحیتیں تو بہرحال نہیں پائی جاتیں۔ جب ہم دوسروں کو تسلیم کرتے ہوئے ٹیم کی حیثیت سے کام کرتے ہیں تب کچھ نیا اور بہتر کرنے کی راہ نکلتی ہے۔ بہت سے لوگ کمتر صلاحیتوں کے باوجود زیادہ کامیاب محض اس لیے ہو پاتے ہیں کہ وہ کسی کو نیچادکھانے کی کوشش نہیں کرتے اور دوسروں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اُن کی گڈ بک میں رہتے ہیں۔ بالی وڈ میں دھرمیندر اور جتیندر اس کی نمایاں ترین مثال ہیں۔ دونوں بہت بڑے اداکار نہ تھے مگر ہر پروڈکشن ٹیم کے ساتھ مل کر چلتے تھے۔ پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز انہیں پسند کرتے تھے کیونکہ یہ دونوں ہی اشتراکِ عمل پر یقین رکھتے تھے۔ ٹیم ورک کی اہمیت کو تسلیم کرنے سے یہ سب کے لیے قابلِ قبول رہتے تھے۔ اس کے برعکس شتروگھن سنہا جیسے اداکار زیادہ کام نہ کرسکے کیونکہ وہ بہت حد تک اپنی انا کے دائرے میں گھومتے رہتے تھے۔ کچھ زیادہ نہ ہوتے ہوئے بھی خود کو بہت کچھ سمجھنا انتہائی خطرناک‘ بلکہ تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ بہت سے انتہائی باصلاحیت فنکار محض اس لیے برباد ہو جاتے ہیں وہ ٹیم ورک کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے اور خود کو برتر ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو کمتر ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔ بالی وڈ کے موسیقار سجاد حسین کا بھی یہی کیس تھا۔ وہ غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل تھے مگر ساتھ ہی بے حد نک چڑھے بھی تھے۔ گلوکاروں اور گلوکاراؤں کے حوالے سے اُن کی طرزِ فکر و عمل انتہائی ہتک آمیز ہوا کرتی تھی۔ کشور کمار کو وہ''شور کمار‘‘ اور طلعت محمود کو ''غلط ...‘‘ کہا کرتے تھے! ایک بار وہ لتا منگیشکر کو کسی گانے کی ریہرسل کرا رہے تھے‘ جب وہ کسی مقام پر کچھ اٹک گئیں تو سجاد حسین نے کہا ''لتا جی! یہ نوشاد کا گانا نہیں ہے ذرا دھیان دیجیے۔‘‘ اس ہتک آمیز طرزِ فکر و عمل ہی نے سجاد حسین کو بڑھنے نہیں دیا اور وہ 33 سال میں صرف 17 فلمیں دے پائے! 
''میں‘‘ کو ایک طرف ہٹاکر ''ہم‘‘ کو ترجیح دینے کی روش نے امیتابھ بچن کو فن اور کامیابی کی بلندی تک پہنچایا۔ اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ وہ انتہائی باصلاحیت واقع ہوئے ہیں۔ اگر وہ قدرے گھمنڈی بھی ہوتے تو کوئی بات نہ تھی مگر امیتابھ بچن نے دوسروں کو بڑا ماننے میں کبھی بخل سے کام نہ لیا۔ وہ ٹیم ورک پر یقین رکھتے ہیں۔ اپنی کامیابی کا پورا کریڈٹ انہوں نے کبھی صرف اپنے کھاتے میں نہیں ڈالا۔ ایسا کرنے کی کچھ خاص ضرورت بھی نہیں کیونکہ دنیا سب کو اچھی طرح جانتی ہے۔ کوئی بھی باصلاحیت فرد کیا ہے اِس کا تعین دوسرے ہی بہتر طور پر کرسکتے ہیں۔ 
بہتر نتائج اشتراکِ عمل ہی سے یقینی بنائے جاسکتے ہیں۔ جب چند باصلاحیت افراد ٹیم تشکیل دیتے ہیں تب مجموعی کارکردگی بڑھ جاتی ہے۔ ٹیم ورک ہی سے بڑے کام ہو پاتے ہیں۔ کسی بھی ادارے کو کامیابی سے ہم کنار کرنے میں ٹیم ورک کا کردار بہت نمایاں ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو نظر انداز کرنے یا نظر چرانے والوں کے کھاتے میں صرف پریشانیاں رہ جاتی ہیں۔ ہر بڑی ناکامی انا پرستی کے بطن سے جنم لیتی ہے۔ ''ہم‘‘ کو چھوڑ کر ''میں‘‘ کی روش پر گامزن رہنے والے الجھنوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ اپنی برتری کا راگ الاپنے سے صرف بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں اُن کے ساتھ پورے خلوص اور لگن کے ساتھ کام کرنے والوں کی تعداد گھٹتی چلی جاتی ہے۔ کسی ٹیم میں جب سبھی اپنی ''میں‘‘ کو چھوڑ کر ''ہم‘‘ کی طرف آتے ہیں تب عام ڈگر سے ہٹ کر کچھ کرنے میں کامیابی مل پاتی ہے۔ اس راز کو تسلیم نہ کرنے والے لوگوں کے حافظوں میں زیادہ دیر نہیں رہتے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں