نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- گورنرپنجاب کی برطانوی اپوزیشن لیڈرکیئراسٹارمرسےملاقات
  • بریکنگ :- چودھری سرورشیڈوسیکرٹری آف اسٹیٹ خارجہ امورڈیوڈلیمی سےبھی ملے
  • بریکنگ :- کیئراسٹارمراورڈیوڈلیمی کی افغان عمل میں عمران خان کےکردارکی تعریف
  • بریکنگ :- گورنرپنجاب کاافغانستان میں بنیادی سہولتوں کیلئےکرداراداکرنےکامطالبہ
  • بریکنگ :- دنیاکوافغانستان کاساتھ دیناہوگا،گورنرپنجاب چودھری سرور
Coronavirus Updates
"MIK" (space) message & send to 7575

بھیڑ ہے قیامت کی پھر بھی ہم اکیلے ہیں

آج کے انسان کو تنہائی کا سامنا ہے۔ تنہائی؟ جی ہاں، ایسی تنہائی جو بھیڑ کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے! صابر ظفرؔ نے خوب کہا ہے ؎
میں ایسے جمگھٹے میں کھو گیا ہوں
جہاں میرے سوا کوئی نہیں ہے!
ہر دور کی طرح فی زمانہ بھی انسان کے لیے ایک بڑا مسئلہ اپنی شناخت اور تشفی کا ہے۔ دنیا ہر اعتبار سے پھیلتی اور متنوع ہوتی جارہی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے بہت کچھ بدل جاتا ہے اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہوا کیا ہے۔ ہر دور کے انسان کو اس نوعیت کے مسائل کا سامنا رہا ہے مگر اب پیچیدگی اور شدت میں ہوش رُبا اضافہ ہوچکا ہے۔ کسی بھی انسان کے لیے زندگی بھر چند معاملات تو تشفی طلب ہی رہتے ہیں۔ ایک واضح معاملہ ذاتی تسکین کا ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ اُس کے دل کو زیادہ سے زیادہ سُکون میسر رہے۔ اس کے لیے وہ زندگی بھر کوشاں رہتا ہے۔ زندگی روز بروز پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتی جاتی ہے۔ ہم چاہیں یا نہ چاہیں‘ دنیا کو الجھتے ہی جانا ہے۔ دنیا اپنی روش تبدیل نہیں کرے گی۔ اِس کی پیچیدگی بڑھتی ہی جائے گی۔ اور دنیا کیا ہے؟ ہم ہی تو ہیں۔ ہم بدلیں گے تو دنیا بھی بدلے گی۔ تو جناب! یہ دنیا تو خود کو بدلنے سے رہی۔ ہاں! اپنے آپ کو بدلنے کا آپشن ہمارے پاس ہر وقت موجود ہے۔ اس آپشن کو بروئے کار لاکر ہم زندگی کا معیار بلند کرسکتے ہیں، زیادہ سُکون کے ساتھ جی سکتے ہیں اور زندگی کو بامقصد بھی بناسکتے ہیں۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہر انسان اوّل و آخر اپنے لیے جیتا ہے۔ وہ دوسروں کے لیے بھی بہت کچھ کرتا ہے مگر زندگی کا بنیادی مقصد ہے اپنی تسکین۔ کون ہے جو اپنے وجود کو نظر انداز کرکے حقیقی سُکھ پاسکتا ہے؟ ہر انسان کی چند ترجیحات ہوتی ہیں۔ اِن ترجیحات کے مطابق زندگی بسر کرنا ممکن نہ رہے تو ذہن الجھتا جاتا ہے۔ اپنے وجود کو ایک طرف ہٹاکر دوسروں کے لیے جینا دور سے اچھا دکھائی دیتا ہے مگر درحقیقت زندگی بسر کرنے کا یہ کوئی اچھا اور معقول طریقہ نہیں۔ اللہ نے ہمیں وجود اس لیے نہیں بخشا کہ اپنے آپ کو نظر انداز کرتے ہوئے جئیں۔ صرف اپنے لیے جینا بھی معقول اور قابلِ ستائش نہیں اور صرف دوسروں کے لیے زندگی بسر کرنا بھی کوئی احسن طریق نہیں۔ زندگی کے ان دونوں پہلوؤں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش ہی زندگی کو زیادہ سے زیادہ بارآور اور سُکون بخش بناسکتی ہے۔ اس حقیقت کو نظر انداز کرنے والے بالعموم خسارے سے دوچار رہتے ہیں۔ آج کے انسان کو جن معاملات میں غیر معمولی چیلنجز کا سامنا ہے اُن میں ذاتی تشفی نمایاں ہے۔ اس بات کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ جب انسان اپنے وجود کو نظر انداز کرتے ہوئے، اپنی خواہشات اور امنگوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دوسروں کے لیے جیتا ہے، اپنی ساری محنت کا ثمر دوسروں پر قربان کرتا ہے تب بھی وہ اپنی ہی تشفی ہی تو چاہ رہا ہوتا ہے۔ دانش کا تقاضا ہے کہ اپنے وجود کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ جو لوگ اپنے وجود کو نظر انداز کرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں وہ بالآخر اپنے تمام معاملات میں خلا اور خسارہ محسوس کرتے ہیں۔ بات سیدھی سی ہے، اللہ نے ہمیں متوازن اور مستحکم انداز سے جینے کا حکم دیا ہے۔ کسی بھی معاملے میں طبیعت کا غیر معمولی جھکاؤ محض خرابی پیدا کرتا ہے۔ اللہ نے اگر دوسروں کے لیے بہت کچھ کرنے کا حکم دیا ہے تو اپنے وجود کو نظر انداز نہ کرنے کی تاکید بھی کی ہے۔ جب ہم اپنے وجود کو بھول کر دوسروں میں گم رہنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایک اعتبار سے اپنے آپ کو دھوکا ہی دے رہے ہوتے ہیں۔ یہ سلسلہ زیادہ دیر تک چلتا رہے تو خرابیاں لاتا ہے۔
ویسے تو ہر دور کے انسان کو نفسی پیچیدگیوں کا سامنا رہا ہے مگر آج کے انسان کا معاملہ زیادہ الجھا ہوا ہے۔ اور حق تو یہ ہے کہ بعض معاملات میں آج کا انسان انتہائی قابلِ رحم حالت میں ہے۔ وقت اور حالات کا دباؤ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ زندگی پیچیدہ تر ہوتی جاتی ہے۔ وقت کا دھارا ایک ہی رفتار کا حامل رہتا ہے مگر ہمیں اُس کی رفتار کبھی کم اور کبھی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ہمارا ذہن کسی بھی معاملے کو جس طور محسوس کرتا ہے اُسی کی مناسبت سے ہم زندگی کو دیکھ اور سمجھ پاتے ہیں۔ یہ دنیا ہمیں اپنی ذہنی کیفیت کے مطابق ہی دکھائی دیتی ہے۔ اگر انسان ذہنی طور پر مستحکم ہو، اپنے وجود کو نظر انداز نہ کرتا ہو، اپنی تشفّی کے ساتھ ساتھ دوسروں کے ضرورتوں اور احساسات کا بھی خیال رکھتا ہو تو زندگی آسان ہوتی جاتی ہے۔البتہ اپنی ذات میں گم رہنے اور اپنی ذات ہی کو سب کچھ سمجھ لینے میں بہت فرق ہے۔ کسی نہ کسی حد تک تو ہر انسان خود غرض ہوتا ہے۔ اپنے مفاد کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا کسی کے لیے بھی آسان نہیں ہوتا۔ ہاں، اس معاملے میں عدم توازن کی راہ پر گامزن رہنے سے معاملات بگڑتے ہیں۔ اپنے مفاد کو مقدم رکھنے اور دوسروں کے مفاد کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے میں بہت واضح فرق ہے جو ہر وقت ذہن نشین رکھنا چاہیے۔ شخصی پسند و ناپسند کے مطابق زندگی بسر کرنے کی خواہش ہر انسان میں ہوتی ہے اور ہونی ہی چاہیے۔ جب انسان اپنی مرضی کے مطابق چل پاتا ہے تبھی حقیقی تسکین کی منزل تک پہنچنے میں بھی کامیاب ہوتا ہے۔ ہاں! اپنے آپ کو اہمیت دینے کی دُھن میں دوسروں کو نظر انداز کرنا معقول نہیں۔ بنیادی طور پر انسان معاشرتی حیوان ہے‘ مل جل کر رہنا اُس کی فطرت ہے۔ اگر وہ فطری یا جبلّی تقاضے کو نظر انداز کرے گا تو گھاٹے کا سَودا کرے گا۔
یہ دنیا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پیچیدہ تر ہوتی جاتی ہے۔ فطری علوم و فنون کے حوالے سے ہوش اڑا دینے والی پیشرفت نے ایک طرف تو بہت سی آسانیاں پیدا کی ہیں مگر دوسری طرف ہر انسان کے لیے ڈھنگ سے جینے کا مرحلہ مزید دشوار کردیا ہے۔ مادّی معاملات آسان تر ہوگئے ہیں مگر ذہنی الجھنوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ وقت کا دریا اپنی رفتار سے بہہ رہا ہے مگر ہمیں رفتار اصل سے زیادہ دکھائی دے رہی ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ذہن پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آج کے انسان کا زیادہ وقت تو دنیا کو سمجھنے اور اُس کے مطابق زندگی بسر کرنے ہی پر صرف ہو رہا ہے۔ اور حق یہ ہے کہ وقت کا بڑا حصہ ضائع ہو رہا ہے۔ ایک بڑی الجھن یہ بھی ہے انسان نے بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ خود کو بدلنے پر متوجہ رہنے کے بجائے محض پریشان ہوتے رہنے کو زندگی کا بنیادی شعار بنالیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ بہت سوں کے پاس وقت تو ہوتا ہے مگر اُسے ڈھنگ سے بروئے کار لانے کا طریقہ وہ نہیں جانتے۔ اس معاملے میں سوچ بنیادی یا کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ مل جل کر رہنے ہی میں زندگی کا حُسن پوشیدہ ہے مگر آج کا انسان فرصت کے لمحات کو بھی تنہا گزارتا ہے اور یہی سوچ سوچ کر کڑھتا رہتا ہے کہ کوئی پوچھتا نہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ اگر آپ اپنے ماحول میں ہم خیال افراد کو ڈھونڈنے نکلیں گے تو لازمی طور پر ناکام نہیں رہیں گے۔ آپ ہی کی طرح اور بہت سے لوگ ہیں جو دوسروں سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔ اگر آپ سوچتے ہی رہیں گے اور گھر سے نکل کر ہم خیال لوگوں کو تلاش نہیں کریں گے تو اندر ہی اندر الجھتے اور کڑھتے رہیں گے۔
اگر آپ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ دنیا بہت الجھ گئی ہے اور آپ کے لیے قلبی سکون کے حصول کی کچھ زیادہ گنجائش نہیں رہی تو ایسا محسوس کرنے والے آپ اکیلے نہیں۔ آج کی دنیا میں کم و بیش ہر دوسرا یا تیسرا انسان یہی سوچ رہا ہے، یہی محسوس کر رہا ہے۔ اس مشکل کا حل یہ ہے کہ اپنی ذات کے خول میں بند رہنے کے بجائے دوسروں تک پہنچئے، اُن میں دلچسپی لیجیے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں