نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- میں نےہمیشہ کہااین آراونہیں دوں گا،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- چھوٹےڈاکوسےلوگ تنگ ہوتےہیں لیکن ملک تباہ نہیں ہوتا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- حکمرانوں کی کرپشن سےملک تباہ ہوجاتاہے،وزیراعظم عمران خان
"MIK" (space) message & send to 7575

دوست ’’جیتنے‘‘ پڑتے ہیں

رشتے بنے بنائے ملتے ہیں۔ پسند و ناپسند کا سوال ہی نہیں اٹھتا، یہ تو بہت حد تک بیگار والا معاملہ ہے کہ مرضی ہو یا نہ ہو‘ کرنا ہی پڑتی ہے۔ ع
جو مل گیا اُسی کو مقدر سمجھ لیا
کے مصداق رشتوں کو قبول اور برداشت کرنا پڑتا ہے۔ دوستی البتہ قائم کرنا پڑتی ہے۔ یہ کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ دوست بننے اور بنانے میں ایک عمر لگتی ہے۔ اور یہ بھی کمال کی بات ہے کہ دوستی کے تعلق کو سمجھا تو جاسکتا ہے، سمجھایا نہیں جاسکتا۔ لوگ زندگی بھر دوستی نبھاتے ہیں مگر کبھی کسی کو بتا اور سمجھا نہیں سکتے کہ دوستی ہوتی کیا ہے اور کیوں کی جاتی ہے۔ دوستی سمجھنے کا معاملہ ہے نہ سمجھانے کا۔ یہ صرف قائم کرنے اور نبھانے کی بات ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ دوستی نبھانے سے بھی زیادہ برتنے کا معاملہ ہے۔ بھارت معروف فلم میکر اور مکالمہ و نغمہ نگار گلزار نے کہا ہے ع
پیار کو پیار ہی رہنے دو، کوئی نام نہ دو
دوستی کا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں کہ اگر اُن کی تشریح نہ کی جائے، اُنہیں توضیح کے دائرے میں نہ لایا جائے تو ہی اچھا۔ بعض اشعار اس قدر سادہ و پُراثر ہوتے ہیں کہ سنتے ہی دل میں اتر جاتے ہیں۔ حسرتؔ موہانی نے کہا ہے ؎
شعر دراصل وہی ہیں حسرتؔ
سنتے ہی دل میں جو اُتر جائیں
دوستی بھی اچھے شعر کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ سادہ و پُراثر ہوتی ہے اور دل میں اُترنے میں زیادہ وقت نہیں لیتی۔ ہاں! جس طور تشریح سے بعض اشعار کا حُسن متاثر ہو جاتا ہے بالکل اُسی طور دوستی بھی تشریح و توضیح کے دائرے میں لائے جانے سے اپنا تاثر و تاثیر کھونے لگتی ہے۔ عمر کے ہر مرحلے کی دوستی اپنا الگ مفہوم اور لطف رکھتی ہے۔ سب سے زیادہ پائیدار و یادگار اور پُرکیف و پُرلطف دوستی بچپن کی ہوتی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ انسان بچپن کے دوستوں کو کبھی بھول نہیں پاتا۔ معاملہ ہے بھی ایسا کہ بھلائے نہ بھولے۔ اوّل تو یہ کہ بچپن ہوتا ہی بہت خوبصورت ہے جو بھلائے نہیں بھولتا۔ اُس پر دوستی‘ یہ تو سونے پہ سہاگا والی بات ہوئی۔ بچپن کی دوستی مرتے دم تک یاد ہی نہیں رہتی، تنہائی کے لمحات میں بے مثال سہارے کا کردار بھی ادا کرتی ہے۔ انسان اُس زمانے کو یاد کرکے دل بستگی کا سامان کرتا رہتا ہے۔
ڈیل کارنیگی کا شمار اُن مصنفین اور مقررین میں ہوتا ہے جنہوں نے زندگی بھر لوگوں کو معیاری اور پُرجوش زندگی بسر کرنے کی تحریک دی اور اُن کی تحریروں اور تقریروں سے متاثر ہوکر کروڑوں افراد نے اپنی زندگی کا رُخ تبدیل کیا، محنت کرنے کی لگن پروان چڑھائی اور معیاری زندگی بسر کرنے کے قابل ہوئے۔ ڈیل کارنیگی کی دو کتابیں بہت بڑی تعداد میں فروخت ہوئیں۔ ایک تو تھی ''ہاؤ ٹو اسٹاپ وَریئنگ اینڈ اسٹارٹ لِوِنگ‘‘ یعنی کس طور پریشان ہونا چھوڑکر جینا شروع کیا جائے اور دوسری تھی ''ہاؤ ٹو وِن فرینڈز اینڈ انفلوئنس پیپل‘‘ یعنی کس طور دوست ''جیتے‘‘ جائیں اور لوگوں کو متاثر کیا جائے۔ اس کتاب کا اردو میں کئی بار ترجمہ کیا گیا۔ کامیاب ترین ترجمہ معروف ڈراما نگار و اداکار کمال احمد رضوی مرحوم نے کیا جو ''میٹھے بول میں جادو ہے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ ہر زبان اپنا منفرد مزاج رکھتی ہے۔ انگریزی کے مزاج کے مطابق دوست بنائے نہیں، جیتے جاتے ہیں۔ یعنی یہ کہ اگر کسی کو دوست بنانا ہے تو اُس کا دل جیتنا پڑے گا۔ دوستی دل جیتنے ہی کا تو نام ہے۔ دل جیتنے کے کتنے طریقے ہوسکتے ہیں یہ کوئی نہیں جانتا مگر ہاں! بہت سے طریقوں سے دل ہمیشہ کے لیے جیتا جاسکتا ہے۔
دو افراد کے درمیان دوستی کے قائم ہونے اور پروان چڑھنے کا مدار مختلف عوامل پر ہے۔ ان میں سرِفہرست ہے خلوص۔ دوستی ہو اور خلوص نہ ہو‘ ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا۔ خلوص کسی بھی شکل میں ہوسکتا ہے۔ دوستی کی طرح خلوص کو بھی تشریح و توضیح کے دائرے میں مقیّد نہیں کیا جاسکتا۔ کسی کے فکر و عمل میں اِخلاص کا تناسب کیا ہے یہ جانچنے کا ہمارے پاس ایک ہی پیمانہ ہے ؛ عمل اور صرف عمل۔ رسول اکرمﷺ کا ارشاد بھی ہے کہ نیت کا مدار اعمال پر ہے۔ کسی بھی انسان نے اس دنیا میں جو کچھ بھی کیا ہوگا قیامت میں اُسے پرکھنے کے لیے نیت کو دیکھا جائے گا۔ دوستی کا معاملہ بھی نیت کے اخلاص کا ہے۔ جس کی نیت میں جتنا اخلاص ہوتا ہے وہ اُتنا ہی اچھا اور وفا شعار دوست ثابت ہوتا ہے۔
ہر انسان اپنے بعض معاملات میں کسی نہ کسی کو شریک کرنا چاہتا ہے، رازدار بنانے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ اِس مرحلے سے کامیاب و بامراد گزرنے میں مدد دینے کے حوالے سے کلیدی کردار دوست ادا کرتے ہیں۔ دوست کسی بھی مشکل مرحلے میں سب سے زیادہ مدد کرنے والے انسان ہوتے ہیں۔ پریشانی اور مایوسی کے لمحات میں دوست ہی کام آتے ہیں۔ دوستی کی بنیاد پر باقاعدگی سے ہونے والی ملاقاتیں معاملات کو درست رکھنے میں بہت مدد دیتی ہیں۔ انسان جب ہم مزاج دوست سے ملتا ہے تو دل کھل کر پھول کی سی شکل اختیار کرتا محسوس ہوتا ہے۔ رشتوں کی بنیاد پر قائم ہونے والے تعلق میں یہ بات نہیں ہوتی۔ رشتے بالعموم وضعداری، پردہ داری، تکلف اور تذبذب کے حامل ہوتے ہیں۔ دوستی کا معاملہ اِس سے بہت مختلف ہے کیونکہ اُس میں بے تکلفی نمایاں عنصر ہے۔ بے نیازی بھی دوستی کی ایک نمایاں علامت ہے۔ دوستی میں خود غرضی، موقع پرستی اور طمع کا حصہ بہت کم ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ انسان دوستوں میں زیادہ راحت محسوس کرتا ہے۔ دوسری طرف رشتوں کے دائرے میں جینے والے بالعموم پریشان رہتے ہیں کیونکہ یہ ایک الگ دنیا ہے جس میں بہت کچھ ایسا ہے جو انسان کی مرضی کا ہوتا ہے نہ مفاد کا۔ ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ جن سے کوئی رشتہ ہو اُن سے معاملات بگڑنے کی صورت میں بہت کچھ جھیلنا پڑتا ہے۔ دوستوں کے معاملے میں ایسا نہیں ہوتا۔ یہاں معاملہ بگڑ جائے تو کنارہ کرنے میں زیادہ دشواری پیش نہیں آتی۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ معاملات بالعموم تیزی سے اور زیادہ نہیں بگڑتے۔
دوستی وہ حسین تعلق ہے جو آج کے خالص مادّہ پرست ماحول میں بے لوث اور بے غرض رہتے ہوئے ایک دوسرے کا احترام کرنا اور کام آنا سکھا سکتا ہے۔ آج کا انسان تنہائی کا رونا روتا رہتا ہے۔ تنہائی کے خلاف دوستی بہترین تریاق کا کردار ادا کرسکتی ہے۔ دوستوں کا مل بیٹھنا وقت کا بہترین مصرف ہے کیونکہ ایسا کرنا دل بستگی کا سامان کرتا ہے۔ فی زمانہ ہر وہ عمل قابلِ تحسین ہے جو انسان کو تنہائی اور اُس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غیر ضروری بیزاری سے محفوظ رکھے۔ ایسے میں دوستی کو بہترین آپشن کے طور پر بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ اس ایک تعلق کی بنیاد پر انسان نئی زندگی پاسکتا ہے۔ لوگ ڈھلتی ہوئی عمر میں دوست بنانے سے گریزاں رہتے ہیں۔ گھر کی حدود تک محدود رہنے اور بیزاری محسوس کرتے رہنے سے کہیں بہتر یہ ہے کہ علاقے میں اپنے ہم مزاج لوگ تلاش کیے جائیں، اُن سے تعلق قائم کرکے پروان چڑھایا جائے تاکہ وقت اچھی طرح گزرے۔ اچھا وقت وہی ہے جو ہم خیال و ہم مزاج افراد کے ساتھ گزرے۔ ڈھلتی ہوئی عمر کی دوستی میں وہ بے تکلفی اور لطف نہیں ہوتا جو بچپن اور اٹھتی جوانی کی دوستی میں ہوتا ہے مگر پھر بھی دوستی تو دوستی ہے۔ جہاں چار یار مل جائیں وہیں رات ہو گلزارؔ۔
دوستی کس طور پروان چڑھنی چاہیے اس کا مدار بہت حد تک مزاج پر ہے۔ انسان اپنے مزاج کی بنیاد پر دوستی کو تیزی سے پروان چڑھاسکتا ہے۔ غیر ضروری طور پر تکلف برتنے سے دوستی میں گہرائی و گیرائی پیدا نہیں ہوتی۔ فی زمانہ سوشل میڈیا پر دوستی عام ہے۔ باریکی سے دیکھیے تو اِسے حقیقی دوستی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ دوستی وہ تعلق ہے جو آن لائن رابطوں کی بھول بھلیوں میں گم نہیں ہو جاتا بلکہ طبعی میل جول کے ذریعے پروان چڑھتا ہے۔ آج بھی آپ کو اپنے ماحول میں ایسے بہت سے لوگ مل جائیں گے جو روزانہ ملتے ہیں اور گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ گپ شپ لگاکر دل کا بوجھ عمدگی سے ہلکا کرتے ہیں۔ کڑھن اور بیزاری سے بچنے کیلئے یہ طرزِ فکر و عمل آپ بھی اپناسکتے ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں