نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- شیخ رشیدنےسعودی عرب سےقیدیوں کی واپسی کی تفصیلات جاری کردیں
  • بریکنگ :- 1100قیدیوں کوپاکستانی جیلوں میں منتقل کریں گے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- منشیات میں ملوث 22قیدیوں کوواپس نہیں لایاجارہا،شیخ رشید
  • بریکنگ :- قتل کےکیس میں ملوث 8قیدیوں کوواپس نہیں لایاجارہا،شیخ رشید
  • بریکنگ :- وزیراعظم سےایک ارب روپےکےفنڈکی درخواست کی ہے،شیخ رشید
"MIK" (space) message & send to 7575

نالج انڈسٹری

قومی معیشت ہم سے بھرپور توجہ کی طالب ہے۔ ایک زمانے سے چلی آرہی خرابیوں نے اب انتہائی خطرناک شکل اختیار کرلی ہے۔ معیشت کسی بھی اعتبار سے توازن کی حالت میں نہیں۔ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کے مصداق جس کا داؤ چل جاتا ہے وہ مزے لوٹتا ہے۔ جو کچھ نہ کر پائے یعنی چکر چلانے والوں کے دام میں پھنس جائے وہ پریشان ہی رہتا ہے۔ معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان آمدنی کا فرق غیر معمولی حد تک بڑھ ہی نہیں گیا بلکہ نمایاں بھی ہوچکا ہے۔ دنیا بھر میں معیشت کو زیادہ سے زیادہ مستحکم رکھنے کا رجحان عام ہے۔ حکومتیں یہ کام قومی فریضہ سمجھ کر انجام دیتی ہیں اور دینا ہی چاہیے۔ ایک ہم ہیں کہ اب تک اس حوالے سے سوچنے پر بھی مائل نہیں ہوئے۔ دوسرے تمام معاملات کی طرح معیشت کو بھی آزاد اور بے لگام چھوڑ دیا گیا ہے۔ حکومتیں معاشی ڈھانچے کو مستحکم کرنے کے فرض سے یوں غافل ہیں گویا کچھ کرنا نہیں پڑے گا‘ یہ کام خود بخود ہو جائے گا۔
ایک صدی سے بھی زائد مدت کے دوران دنیا اتنی بدل گئی ہے کہ معاملات کچھ کے کچھ ہوتے چلے گئے ہیں۔ نصف صدی سے بھی زائد مدت کے دوران فطری علوم و فنون نے انسان کو بہت سے معاملات میں غیر معمولی پیش رفت کے قابل بنادیا ہے۔ یہ پیش رفت انسان کے حق میں بھی گئی ہے اور خلاف بھی۔ ایک طرف آسانیاں پیدا ہوئی ہیں تو دوسری طرف بہت سی مشکلات نے بھی سر اٹھایا ہے۔ یہ قدرت کا نظام ہے۔ ہر آسانی کے ساتھ کوئی نہ کوئی پیچیدگی ضرور ہوتی ہے اور ہر بحرانی کیفیت میں ہمارے لیے کچھ نہ کچھ مثبت ضرور ہوتا ہے۔ معیشتوں کی ہیئت بھی اچھی خاصی تبدیل ہوچکی ہے۔ بہت سے شعبے بالکل ختم ہوچکے ہیں اور دوسرے بہت سے شعبے تیزی سے ابھرے ہی نہیں‘ پنپ بھی رہے ہیں۔ جو لوگ معیشت میں تیزی سے ابھرنے والے شعبوں کو اپنانے کی طرف جاتے ہیں وہی کامیاب رہتے ہیں۔ اس معاملے میں اُن ممالک نے زیادہ کامیابی حاصل کی ہے جنہوں نے کم و بیش ڈھائی صدیوں کی محنت شاقّہ کے نتیجے میں خود کو آنے والے زمانوں اور اُن کی پیچیدگیوں کیلئے تیار کیا تھا۔ امریکا اور یورپ اس سلسلے میں نمایاں ترین مثال کا درجہ رکھتے ہیں۔
ہر دور میں معیشت مختلف شعبوں میں منقسم رہی ہے۔ جسمانی مشقت کے مقابلے میں ذہنی مشقت والے زیادہ کماتے رہے ہیں۔ بڑے کاروباری ادارے ہمیشہ منصوبہ سازوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ انہیں دوسروں سے ہٹ کر کچھ کرنے اور بھرپور کامیابی حاصل کرنے کیلئے ایسے لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے جو محض اچھے ہنر مند ہی نہ ہوں بلکہ سوچنا بھی جانتے ہوں یعنی کچھ نیا سوچ کر ادارے کو ایسی اشیا و خدمات فراہم کرنے کے قابل بنائیں جن کی اُن سے توقع نہ کی جارہی ہو۔ فکشن کی طرح کاروبار کی دنیا میں بھی چونکانے کی بہت اہمیت ہے۔ ہر کاروبار کی کہانی میں چند ڈرامائی موڑ ہی واضح فرق پیدا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ فی زمانہ ذہنی مشقت کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ دنیا بھر میں نمایاں جسمانی مشقت کے ذریعے خود کو آزمانے والے کچھ زیادہ حاصل نہیں کر پاتے۔ ہر شعبے میں ان کی اہمیت ہے جو سوچنے پر یقین رکھتے ہیں اور اس حوالے سے مہارت کا حصول یقینی بنانے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ ترقی یافتہ معاشروں کا باریکی سے جائزہ لیجیے تو اندازہ ہوگا کہ انہوں نے جو کچھ بھی پایا ہے اُس کیلئے منصوبہ سازی ڈیڑھ دو صدی پہلے کی تھی۔ ایک واضح منصوبہ تیار کرکے اس پر کاربند رہنے کی کوشش کی گئی اور یوں پھل مل گیا۔ آج کی دنیا میں کامیاب وہ ہیں جو اپنے علم کی سطح بلند رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ذہنی مشقت کی اہلیت رکھنے والے زیادہ کما رہے ہیں‘ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ دنیا اُنہی کی ہے۔ جسمانی مشقت کی اب وہ وقعت نہیں رہی جو کسی دور میں ہوا کرتی تھی۔ ایسا نہیں کہ جسمانی مشقت کی ضرورت نہیں رہی۔ بہت سے کام آج بھی جسمانی مشقت ہی کے ذریعے ممکن ہو پاتے ہیں مگر یافت کے معاملے میں جسمانی مشقت والے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ علم کی دنیا سے تعلق رکھنے والے اور ذہنی مشقت کے عادی سوچنے کے عمل میں بھی پیش پیش ہیں اور فیصلہ سازی میں بھی اُن کا کردار کلیدی نوعیت کا ہے۔
ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جس میں رابطے کا مسئلہ حل کیا جاچکا ہے۔ لوگ ہزاروں میل کا فاصلہ ہونے پر بھی کسی سے رابطہ کرنے میں کوئی دقّت محسوس نہیں کرتے۔ سوال صرف معاشرت کا نہیں‘ معیشت کا بھی ہے۔ معاشی سرگرمیاں بھی جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے باہم جُڑنے کی سہولت کی بدولت متنوع ہوچکی ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا میں اب ایک دوسرے سے مستقل رابطے میں رہنا ہی زندگی ہے۔ گھر بیٹھے کام کرنے کا رجحان ایسی تیزی سے پروان چڑھا ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ آج اُن کی اہمیت تسلیم شدہ ہے جو جدید ترین ٹیکنالوجیز سے مستفید ہوتے ہوئے آن لائن اور تیزی سے کام کرتے ہیں۔ ایسے لوگ یعنی نالج ورکرز بہت کم محنت میں جسمانی مشقت والوں سے کہیں زیادہ کماتے ہیں اور توقیر بھی زیادہ پاتے ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا میں نالج ورکرز کی طلب بڑھتی جارہی ہے۔ محقققین‘ مصنفین‘ مدیر‘ پروف ریڈرز‘ ٹیچرز‘ ٹیوٹرز‘ ڈیزائنرز‘ ویب ڈیویلپرز‘ سوفٹ ویئر انجینئرز‘ انٹرویوئرز‘ اکاوٹنٹس‘ آڈیٹرز‘ مقررین‘ پروگرام کوآرڈینیٹرز‘ قانون دان ‘ ڈاکٹرز اور دوسرے بہت سے پروفیشنلز کیلئے امکانات کا دریا بہہ رہا ہے۔ جو چاہے سیراب ہولے۔ نالج ورکرز چونکہ ورچوئل ماحول میں یعنی آن لائن کام کرنے کے ماہر اور عادی ہوتے ہیں اس لیے گھر بیٹھے بہت کچھ کرلیتے ہیں اور اُن کی آمدنی بھی عام آدمی سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
ہمارے ہاں نالج انڈسٹری کو اب تک اہم نہیں گردانا گیا۔ اس کا بنیادی سبب یہ بھی ہے کہ معیشت منظم نہیں۔ بہت سے شعبے اب تک عہدِ طفولیت میں جی رہے ہیں اور بعض تو زمانے سے ذرا سی بھی مناسبت اور مطابقت نہیں رکھتے۔ نئی نسل کو یہ بتانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی ہے کہ نالج انڈسٹری میں ان کیلئے غیر معمولی مواقع موجود ہیں۔ کچھ لوگ یہ کام ذاتی حیثیت میں کر رہے ہیں۔ وہ نجی طور پر امریکا اور یورپ میں رابطے کرتے ہیں تاکہ کوئی انہیں کچھ کام دے۔ یہ کام تحقیق کا بھی ہوسکتا ہے اور لکھنے کا بھی۔ بہت سے اشاعتی ادارے کتابوں پر نظرِ ثانی‘ ادارت اور پروف ریڈنگ کا کام بھی دیتے ہیں۔ اگر یہ کام ڈھنگ سے کیا جائے تو عام نالج ورکرز گھر بیٹھے یومیہ آٹھ دس گھنٹے کی محنت سے ماہانہ ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے تک کماسکتے ہیں۔ بعض شعبوں میں یافت یعنی آمدنی اس بھی زیادہ ہے۔ بہت سے لوگ آن لائن کوچنگ کے ذریعے بھی اچھا خاصا کماتے ہیں۔ دنیا بھر میں ورچوئل ماحول میںکام کرنے کا کلچر تیزی سے پروان چڑھا ہے۔ ترقی یافتہ دنیا میں تو اب ہر وہ کام گھر بیٹھے ہی کیا جاتا ہے جو گھر بیٹھے کیا جاسکتا ہے۔ وہاں اب آجر کے ذہن سے یہ گِرہ نکل چکی ہے کہ جس سے کام لینا ہے اُسے سامنے بٹھاکر کام پر لگایا جائے۔ ملازمین کو نظر کے سامنے رکھنے کا خبط ترقی یافتہ معاشروں میں باقی نہیں رہا۔ یہی سبب ہے کہ وہاں لوگ خاصے آزادانہ ماحول میں کام کر رہے ہیں۔ انسان اپنی مرضی سے کام کرنے کی صورت میں صلاحیتوں کو پروان چڑھاتے ہوئے کارکردگی کا گراف بلند کرتا چلا جاتا ہے۔
پاکستان کی نئی نسل میں غیر معمولی اعتماد پایا جاتا ہے۔ اس اعتماد کو بروئے کار لانے کیلئے منصوبہ سازی لازم ہے۔ اگر اچھی منصوبہ سازی کی جائے تو محض دو تین سال میں نالج انڈسٹری کے درخت پر ہمارے نام کے پھل بھی لگنے لگیں گے۔ حکومت کو ایسے ادارے قائم کرنے چاہئیں جو نالج انڈسٹری کیلئے موزوں ترین صلاحیت کے حامل ورکرز یعنی نالج ورکرز تیار کریں۔ یوں افرادی قوت برآمد کرنے کا بھی موقع ملے گا اور ساتھ ہی ساتھ ورچوئل یا آن لائن کلچر میںکام کرنے کی صورت میں بھی ملک کو خطیر زرِ مبادلہ بھی حاصل ہوگا۔ بھارت نے نالج انڈسٹری کو فروغ دینے پر خاصی توجہ دی ہے۔ یہ ایک اچھا ماڈل ہے جس سے ہم بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں مقیم پاکستانی بھی نالج انڈسٹری کو پروان چڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان سے مشاورت کے ذریعے بہت کچھ کرنا ممکن ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں