نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیپرانےکراچی صارفین کیلئےبجلی 3 روپے 75 پیسےمہنگی کردی
  • بریکنگ :- نیپرانےکےالیکٹرک کی درخواست پرفیصلہ جاری کردیا
  • بریکنگ :- بجلی ستمبرکی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مدمیں مہنگی کی گئی
  • بریکنگ :- فیصلےکااطلاق لائف لائن صارفین پرنہیں ہوگا
  • بریکنگ :- اسلام آباد:صارفین کوآئندہ ماہ اضافی ادائیگی کرناہوگی
Coronavirus Updates
"MIK" (space) message & send to 7575

اُستاد کو ’’زندہ‘‘ کرنا پڑے گا

ہر ترقی یافتہ معاشرے میں اُستاد کے لیے غیر معمولی مقام متعین ہے۔ تعلیمی نظام میں اُستاد وہی درجہ رکھتا ہے جو نظامِ شمسی میں سورج کا ہے۔ سب کچھ اُستاد ہی کے گرد گھومتا ہے اور ایسا ہونا ہی چاہیے۔ یہ اُستاد ہی تو ہے جو اپنی لیاقت اور محنت سے نئی نسل کو تابناک مستقبل کے لیے تیار کرتا ہے۔ مغرب کے علاوہ ایشیا کے چند معاشروں میں بھی اُستاد کو فقید المثال اور قابلِ رشک احترام حاصل ہے۔ وہ نئی نسل کو بہتر زندگی کے لیے تیار کرتا ہے اس لیے والدین بھی اُس کا مقام پہچانتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ترقی یافتہ معاشروں میں اُستاد کا معاوضہ بھی معقول ہوتا ہے‘ اِتنا کہ وہ ڈھنگ سے گزر بسر کرنے کے لیے کچھ اور کرنے پر مجبور نہ ہو۔ جب اچھا معاوضہ ملتا ہے اور زندگی آسان ہو جاتی ہے تب اُستاد بھی دل لگاکر پڑھتا اور پڑھاتا ہے۔
ایک زمانے تک پاکستان میں بھی اُستاد کو غیر معمولی درجہ حاصل رہا۔ کم و بیش 1980 کے عشرے تک اُستاد ہی نئی نسل کو بہتر مستقبل کیلئے تیار کرنے کے حوالے سے کلیدی نوعیت کا کردار ادا کرتا تھا۔ یہ تب کی بات ہے کہ جب اُستاد کو کمانے سے زیادہ پڑھانے سے غرض تھی۔ والدین بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اُن کی اولاد کا مستقبل سنوارنے میں اُستاد کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اس لیے انہیں غیر معمولی احترام بھی حاصل تھا۔ یہ احترام ہی تھا جو اُستاد کو معاوضے سے بھی بے نیاز کردیا کرتا تھا۔ اُن کے لیے سب سے بڑی دولت یہ تھی کہ جہاں سے گزریں، لوگ ''سر‘ سر‘‘ کرتے ہوئے سر جھکائیں اور جو کچھ وہ کہیں اُسے پوری توجہ اور احترام سے سُنیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد ابتدائی ڈھائی تین عشروں میں اُستاد کے لیے پورے معاشرے میں غیر معمولی احترام پایا جاتا تھا۔ سبب اس کا یہ تھا کہ اُستاد بھی طلبہ کو اولاد کی طرح برتتا تھا۔ سکول کی سطح پر تو اُستاد سکول کے اوقات سے ہٹ کر بھی محنت کرواتا تھا۔ بالخصوص نویں اور دسویں کے بچوں کو اساتذہ زیادہ توجہ دیتے تھے تاکہ وہ زندگی کے لیے اہم ترین موڑ کا درجہ رکھنے والے ایس ایس سی (میٹرک) کے امتحانات میں نمایاں مارکس لے کر کامیاب ہوں۔
ہمارے ہاں باضابطہ کیریئر کونسلنگ کا نظام تو کبھی موجود رہا نہیں‘ ابتدائی تین چار دہائیوں کے دوران سکول کی سطح کے اُستاد ہی بچوں کو بہتر مستقبل کے لیے تیار ہونے میں کلیدی نوعیت کی مدد فراہم کیا کرتے تھے۔ وہ بچوں کے رجحانات کا جائزہ لے کر انہیں کیریئر کے بارے میں مفید مشوروں سے نوازتے تھے اور والدین کو بھی بتاتے تھے کہ وہ اپنے بچوں کی بہتر عملی زندگی کے لیے کیا کریں اور کیا نہ کریں۔ بعد میں جب کمرشل اِزم نے معاشرے کو لپیٹ میں لیا تو اُستاد بھی اِس کی ضربِ کاری سے محفوظ نہ رہ سکا۔ وہ دور گیا جب اُستاد بچوں کو اپنے جگر گوشے کی طرح برت کر اُن کے لیے مفید اور بارآور عملی زندگی ممکن بنانے پر توجہ دیا کرتا تھا۔ جب موہ مایا نے جال پھیلایا تو اُستاد بھی جلبِ منفعت کے گڑھے میں گرگیا۔ یہ بہت حد تک فطری بھی تھا کیونکہ پورا معاشرہ زر پرستی کی طرف جارہا تھا۔ اُستاد بھی معاشرے کا حصہ اور انسان ہے۔ اُس کی بھی ضرورتیں ہیں جن کا پورا کیا جانا لازم ہے۔
معاشرے میں مجموعی طور پر گراوٹ آئی تو تعلیم و تعلّم کا شعبہ بھی پستی کی نذر ہوا۔ تعلیمی نظام میں اُستاد ہر اعتبار سے بنیادی محور کا درجہ رکھتا ہے۔ اگر وہی اپنے حصے کا کام بھول جائے تو سمجھیے گئی بھینس پانی میں۔ پاکستان میں تعلیم کی بھینس ایک زمانے سے پانی میں ہے۔ یہ ناقابلِ قبول صورتِ حال اس لیے ہے کہ اُستاد اپنے حصے کا کام بھول گیا ہے۔ وہ قصور وار ہے بھی اور نہیں بھی۔ وقت بدل چکا ہے۔ حالات ملک کو اُس مقام پر لے آئے ہیں جہاں تمام اقدار جلبِ منفعت کے گرد گھومتی ہیں۔ اب بیشتر معاملات میں فکر و عمل کا دائرہ مال و زر کے حصول تک محدود ہے۔ تعلیم کا شعبہ بھی زیادہ سے زیادہ مالی منفعت یقینی بنانے کی کوشش تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ تین چار عشروں کے دوران ہر شعبے کی طرح تعلیم و تربیت کے معاملات بھی پیچیدہ تر ہوچکے ہیں۔ نئی نسل کو بہتر عملی زندگی کے لیے تیار کرنا اب آسان نہیں رہا۔ یہ خاصا پیچیدہ عمل ہے۔ ہر شعبہ غیر معمولی پیش رفت سے ہم کنار ہوچکا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عملی زندگی کی ابتدا انتہائی دشوار ہوتی جارہی ہے۔ نئی نسل کو بہت سے معاملات میں واضح رہنمائی درکار ہوتی ہے۔ اور یہ کام حتمی طور پر صرف اُستاد کے بس کا ہے۔ والدین بھی بہت کچھ سوچتے اور کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ عملی زندگی میں کامیابی کا ہنر سکھانے میں اُستاد کا ثانی کوئی نہیں۔
جن معاشروں کو اپنی نئی نسل کی فکر لاحق ہوتی ہے وہ خاصے اہتمام سے اُس کی رہنمائی کا انتظام کرتے ہیں۔ اُستاد کو اس کام کے لیے خاصی توجہ کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے۔ فی زمانہ کیریئر کونسلنگ بھی عام ہے مگر ساتھ ہی ساتھ اُستاد بھی میدان میں رہتے ہیں۔ اُستاد کسی بھی شعبے میں ہونے والی پیشرفت پر نظر رکھتے ہیں اور عملی زندگی کے تقاضوں کو ذہن نشین رکھتے ہوئے نئی نسل کو میدانِ عمل میں ڈھنگ سے قدم رکھنے کے قابل بناتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس وقت ہوتا ہے جب نیتوں میں اخلاص پایا جاتا ہو۔ ہمارے ہاں تعلیم کا شعبہ بھی اب بڑی حد تک کمرشل ہوچکا ہے۔ کمرشل ازم کوئی بہت بُری بات نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس شعبے سے جو کچھ درکار ہے وہ نہیں دے پارہا۔ پاکستان کی حقیقی اور دیرپا ترقی یقینی بنانے کے لیے جن شعبوں کو خصوصی توجہ درکار ہے اُن میں تعلیم سب سے نمایاں ہے۔ تعلیم سے کمرشل ازم کو تو نہیں نکالا جاسکتا مگر ہاں، تعلیم و تعلم کا معیار بلند کرنے کی کوشش ضرور کی جاسکتی ہے۔ اور ایسی ہر کوشش کو کامیابی سے ہم کنار ہونا ہی چاہیے۔
اُستاد کا وہی مقام بحال کرنے کی ضرورت ہے جو کسی دور میں ہوا کرتا تھا۔ یہ کام مشکل ضرور ہے، ناممکن نہیں۔ آج پورا معاشرہ کمرشل ازم کی زد میں ہے۔ کسی اور معاملے کو تو کمرشل ازم کی نذر ہونے دیا جاسکتا ہے، علم کی دنیا کو نہیں۔ علم کا شعبہ کسی بھی معاشرے اور ریاست کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتا ہے۔ اگر کسی قوم کو تباہ کرنا ہے تو گولے برسانے کے بجائے اُس کے تعلیمی نظام کو ٹھکانے لگادینا کافی ہوتا ہے۔ ہر دور میں طاقتور اقوام نے جن ممالک کو زیرِ دام کرنا چاہا ہے اُن کے تعلیمی نظام کو ٹھکانے لگانے پر توجہ دی ہے اور کامیابی کا منہ دیکھا ہے۔
آج کا پاکستانی معاشرہ کم و بیش ہر معاملے میں شدید گراوٹ کا شکار ہے۔ بہت کچھ درست ہوسکتا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ ہم اُستاد کو ''زندہ‘‘ کرنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔ ہمیں ایسے اساتذہ تیار کرنے ہیں جو علم سے حقیقتاً محبت کرتے ہوں اور مال و زر کو ثانوی درجہ دیتے ہوں۔ اساتذہ تیار کرنے کے نظام کی بھی اصلاح لازم ہے۔ اساتذہ رجحان کی بنیاد پر تیار ہونے چاہئیں نہ کہ مارکس کی بنیاد پر۔ تدریس کے مختلف مدارج سکھانے کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی تربیت بھی لازم ہے تاکہ وہ معاشرے میں اپنے مقام کو سمجھیں اور وہ کردار ادا کریں جس کی اُن سے توقع وابستہ کی جاتی ہے۔ معاشرہ بہت بدل چکا ہے۔ تیس چالیس سال پہلے والی ذہنیت اور اخلاص والے اساتذہ تیار کرنا بہت مشکل دکھائی دیتا ہے۔ خیر، یہ کام ناممکن اب بھی نہیں۔ اُستاد کو اب بھی ''زندہ‘‘ کیا جاسکتا ہے، اُس کی فیصلہ کن حیثیت کو اب بھی بحال کیا جاسکتا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ ہمارا حکومتی نظام ایسا کرنے کی نیت رکھتا ہے یا نہیں۔ اس حوالے سے سنجیدگی بھی درکار ہے اور نیت و قوتِ عمل بھی۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں