نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کوئٹہ:بلوچستان اسمبلی کااجلاس آج شام 4 بجے ہوگا
  • بریکنگ :- اجلاس میں وزیراعلیٰ جام کمال کیخلاف تحریک عدم اعتمادپیش کی جائےگی
  • بریکنگ :- تحریک عدم اعتمادپربی اےپی کے14 ارکان کےدستخط ہیں
  • بریکنگ :- جام کمال کےدورمیں بدامنی،بےروزگاری اوراداروں کی کارکردگی متاثرہوئی،متن
Coronavirus Updates
"MIK" (space) message & send to 7575

تقدیر جگانے کی ایک اور کوشش

ایک بار پھر کراچی کی تقدیر جگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ شہرِ قائد کے مکین ایک مدت سے باتوں، وعدوں اور دعووں کے جھولے جھول رہے ہیں۔ ہر حکومت نے چند وعدے اور دعوے ضرور کیے؛ تاہم اُن پر عمل کی توفیق شاذ ہی مل پائی۔ بعض منصوبوں کے نصیب میں صرف اتنا لکھا ہے کہ وہ شروع ہوں اور بیچ میں اٹک جائیں‘ اھورے رہ جائیں۔ گرین لائن بس منصوبے کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی رہا ہے۔ اب کہا جارہا ہے کہ یہ منصوبہ دو ماہ کے اندر آپریشنل کردیا جائے گا یعنی بسیں چلنے لگیں گی۔ اس منصوبے پر سینکڑوں ارب روپے خرچ ہوئے ہیں جبکہ شہریوں کو الگ سے پریشانی سے دوچار ہونا پڑا۔ ایک طویل روٹ پر بالائی گزر گاہ بنائی گئی ہے۔ اس گزر گاہ کی تعمیر کے دوران شہریوں کو گوناگوں مسائل کا سامنا رہا۔ بنیادی ڈھانچا مزید کمزور ہوگیا۔ برساتی نالے بھی متاثر ہوئے۔ چالیس بسیں لائی جاچکی ہیں اور اُنہی کے ذریعے یہ منصوبہ آپریشنل کیا جانے والا ہے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ گرین لائن بس منصوبے سے شہریوں کو کس حد تک فائدہ پہنچے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس نوعیت کے منصوبوں سے شہرِ قائد میں ماس ٹرانزٹ سے متعلق بنیادی مسائل حل کرنے میں زیادہ کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی۔
وزیر اعظم عمران خان نے کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کے فیز ون کا سنگِ بنیاد رکھ دیا ہے۔ یہ ٹرین 29 کلومیٹر کے ٹریک پر چلے گی اور اس منصوبے پر کم و بیش 250 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ کہا جارہا ہے کہ اس منصوبے سے یومیہ تین تا پانچ لاکھ افراد مستفید ہوسکیں گے۔ یک طرفہ کرایا پچاس روپے تجویز کیا گیا ہے جبکہ مسافروں کو ہر 6 منٹ بعد ٹرین مل سکے گی۔ کے سی آر (کراچی سرکلر ریلوے) ایسا منصوبہ ہے جو مختلف ادوار میں منظرِ عام پر لایا گیا اور پھر ایک طرف ہٹادیا گیا۔ سب سے بڑا مسئلہ ریلوے ٹریک بچھانے کا رہا کیونکہ ریلوے کی متعلقہ زمین پر پختہ تعمیرات موجود ہیں۔ کراچی میں تجاوزات ہٹائے جانے کے معاملے میں جانب داری کا معاملہ بھی سامنے آتا رہا۔ بعض علاقوں میں تجاوزات ہٹانے سے واضح گریز کیا جاتا جس کے نتیجے میں بدگمانیاں پھیلیں۔ کئی علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات کو ختم کر دیا گیا؛ تاہم دوسرے بہت سے علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات اب بھی موجود ہیں اور اُن کے ہٹائے جانے کا فی الحال کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ ایسے میں کے سی آر کو کس طور مکمل کیا جائے گا‘ یہ دیکھنا اہم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام معاملات بہت احتیاط اور توازن سے نمٹائے جانے چاہئیں ورنہ شہر میں صرف خرابیاں بڑھیں گی۔ ماس ٹرانزٹ کے حوالے سے میگا سٹی میں اور بھی بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کی تجاویز کی روشنی میں پہلا کام ٹریفک کو قوانین و قواعد کا سختی سے پابند کرنا ہے۔ ٹریفک پولیس کا محکمہ ناکام ہوچکا ہے۔ اگرچہ چوڑی اور سگنل فری سڑکیں بن چکی ہیں‘ فلائی اوورز بھی بڑی تعداد میں ہیں اور انڈر پاسز بھی ضرورت کے مطابق ہیں؛ تاہم ٹریفک کو قوانین و قواعد کا پابند کرنے پر اب تک توجہ نہیں دی گئی۔ ٹریفک پولیس کو ایک نئے جذبے اور نئے وسائل کے ساتھ میدان میں لانے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو ٹریفک کے اصولوں کی خلاف ورزی پر سخت سزاؤں اور بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑے تو ہی بہتری آئے گی اور یوں موجودہ سڑکیں ہی ماس ٹرانزٹ کے حوالے سے درپیش مسائل کے حال میں معاون ثابت ہوں گی۔
کے سی آر منصوبہ بہت پُرکشش دکھائی دیتا ہے۔ یہ بات بھی سوچنی چاہیے کہ کیا اتنی خطیر رقم خرچ کرنے کی صورت میں اہلِ کراچی کو واقعی کچھ مل سکے گا؟ شہر بھر میں فلائی اوورز اور انڈر پاسز بناکر ٹریفک آسان کردی گئی ہے۔ لوگ طویل فاصلے عمدگی اور تیزی سے طے کرنے لگے ہیں۔ ایسے میں اگر موجودہ بنیادی ڈھانچے کو اَپ گریڈ کیا جائے یعنی ٹریفک پولیس کو نئے جوش و جذبے کے ساتھ میدان میں لاکر ٹریفک کی روانی بہتر بنائی جائے تو میری دانست میں زیادہ کامیابی ممکن ہوگی۔ گرین لائن بس منصوبہ بھی بہت پُرکشش دکھائی دیتا ہے مگر اِ س سے مستفید ہونے والوں کی تعداد زیادہ نہ ہوگی اور اس منصوبے پر جو کچھ خرچ ہوا ہے اُس کے مقابلے میں فوائد بہت کم ہوں گے۔
کراچی میں ماس ٹرانزٹ کا مسئلہ حل کرنے کی ایک بہتر صورت یہ بھی ہے کہ شاہراہوں اور دیگر بڑی سڑکوں پر پیسنجر رکشوں کی انٹری بند کی جائے۔ موٹر سائیکل رکشوں کی تو تمام بڑی سڑکوں پر کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ کئی برس سے کراچی میں عام چلن ہے کہ جسے کچھ نہیں آتا وہ پندرہ بیس ہزار روپے کے ایڈوانس کی بنیاد پر قسطوں کا رکشا خرید کر سڑک پر نکل آتا ہے۔ نصف سے زائد رکشوں کی روٹ رجسٹریشن تو خیر کیا ہوگی‘ نارمل رجسٹریشن بھی نہیں ہے یعنی یہ نمبر پلیٹ کے بغیر ہی شاہراہوں پر رواں دواں ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ یہ رکشے کس کھاتے میں چل رہے ہیں۔ ٹریفک پولیس کو صرف نذرانہ وصولی پر مامور کردیا گیا ہے۔ مسافر رکشوں کا یہ حال ہے کہ جیسے ہی کوئی شخص اترنے کا اشارا کرتا ہے تو ڈرائیور حضرات اچانک بریک لگا دیتے ہیں۔ اب اگر کوئی حادثہ ہوتا ہے تو اُن کی بلا سے۔
بڑے منصوبے بھی شہر کی ضرورت ہیں مگر اُن سے بہت پہلے شہر میں ٹریفک درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ پہلے اقدام کے طور پر تو مسافر رکشوں اور موٹر سائیکل رکشوں کو شاہراہوں ہی پر نہیں بلکہ دیگر بڑی سڑکوں پر چلائے جانے سے بھی روکا جائے۔ یہ رکشے مختلف علاقوں کے اندرونی حصوں کے لیے مختص کیے جاسکتے ہیں۔ شارعِ فیصل کراچی کی سب سے نمایاں سڑک ہے کیونکہ اسی شاہراہ پر ایئر پورٹ بھی واقع ہے اور حساس تنصیبات بھی۔ اس شاہراہ کا یہ حال ہے کہ فٹنس سے یکسر محروم گاڑیاں بھی یہاں چلتی دکھائی دیتی ہیں۔ کوئی ایسا میکینزم نہیں جو انتہائی خستہ حال گاڑیوں کو شارعِ فیصل اور دیگر بڑی سڑکوں پر آنے سے روکے۔ یہ خستہ حال گاڑیاں ٹریفک میں خلل تو ڈالتی ہی ہیں، حادثات کا سبب بھی بنتی ہیں۔ شہر بھر میں لائسنسنگ پوائنٹس کھول کر لوگوں کو ہاتھ کے ہاتھ ڈرائیونگ لائسنس فراہم کرنے کی سہولت فراہم کی جائے تو وہ بڑی تعداد میں لائسنس بنوائیں گے اور متعلقہ محکمے کے لیے فنڈنگ کا اچھا انتظام ہوسکے گا۔ کراچی میں لاکھوں موٹر سائیکل سوار ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر سفر کرتے ہیں۔ لائسنس بنانے کا عمل آسان کردیا جائے تو سرکار کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور ٹریفک سے متعلق نظام بہتر بنانے میں بھی خاصی مدد ملے گی۔ کراچی کی تقدیر جگانے کی کوشش کئی بار کی گئی ہے اور ہر بار بالعموم ناکامی ہی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کا ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ چھوٹی الجھنیں ختم کرنے کو ترجیح نہیں دی جاتی اور بڑے منصوبے شروع کردیے جاتے ہیں۔ دریائے لیاری پر تعمیر کی جانے والی ایکسپریس وے ایک معیاری منصوبہ ہے مگر اِس سے خاطر خواہ استفادہ اب تک نہیں کیا گیا۔ اگر معیاری بسوں کے ساتھ ماس ٹرانزٹ منصوبہ تیار کیا جائے تو لیاری ایکسپریس وے یومیہ لاکھوں افراد کو شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک لے جانے اور میں خاصی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ گرین لائن بس منصوبے ہی میں ایمبولینس لین کا بھی اضافہ کیا جاسکتا تھا۔ اس منصوبے کے روٹ پر کئی بڑے ہسپتال واقع ہیں۔ اگر ایمبولینس سروس کے لیے گنجائش پیدا کی جائے تو مریض کو محض دس منٹ میں بارہ سے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کسی بڑے ہسپتال تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ اس روٹ کی جڑ میں ہنگامی طبی امداد کے چند پوائنٹس بھی قائم کیے جاسکتے ہیں۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کراچی کے مسائل حل کرنے پر توجہ دی جارہی ہے اور بہت کچھ خرچ کرنے کی راہ بھی ہموار ہو رہی ہے مگر ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ بعض چھوٹی باتوں کو نظر انداز کرکے صرف بڑے اور پُرکشش منصوبوں پر توجہ دینے کا رجحان عام ہے۔ کراچی میں بہت سے چھوٹے مسائل اب بھی توجہ طلب ہیں۔ شہر کی صفائی ستھرائی اور طبی سہولتوں کی فراہمی بھی بنیادی چیز ہے۔ یہ سمجھ لینا کہ ماس ٹرانزٹ منصوبوں کی تکمیل سے شہرِ قائد کے تمام مسائل بخوبی حل ہو جائیں گے‘ درست نہیں ہے۔ شہر کی تقدیر حقیقی مفہوم میں جگانے کے لیے وسیع تر تناظر میں سوچنا لازم ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں