نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- میجرشبیرشریف شہید(نشان حیدر)کا 50واں یوم شہادت
  • بریکنگ :- پوری قوم میجرشبیرشہید کوخراج عقیدت پیش کرتی ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- میجرشبیرشہیدکو65کی جنگ میں ستارہ جرات سےنوازاگیا،ڈی جی آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- شہیدکو71کی جنگ میں بےمثال بہادری پرنشان حیدرسےنوازاگیا،ڈی جی آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- میجرشبیرشہیدکی قربانی یاددلاتی ہےدفاع وطن سےبڑھ کرکوئی عمل نہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر
Coronavirus Updates
"MIK" (space) message & send to 7575

صرف کام کرتے رہنے سے بات نہیں بنتی

کسی بھی معاشرے میں زندگی بسر کرنے کے مختلف انداز پائے جاتے ہیں۔ ہر انسان اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے۔ یہ وہ بات ہے جو انفرادیت اور شناخت کے ساتھ ساتھ خرابیاں بھی پیدا کرتی ہے۔ جہاں سب کچھ اپنی مرضی پر منحصر ہو وہاں نظم و ضبط کا پایا جانا محال ہے۔ معاشی معاملات ہی کو لیجیے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو روزانہ دفتر یا فیکٹری تو جاتے ہیں مگر کام کرنے کے معاملے میں بہت پیچھے رہتے ہیں۔ جواب طلبی کا کوئی نظام نہ ہونے سے ایسے لوگوں کے گھر کا چولھا بھی جلتا رہتا ہے جو کسی کام کے نہیں ہوتے یا دلجمعی سے کام نہیں کرتے۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو دن رات کام کرتے رہتے ہیں اور کبھی اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ ان کی زندگی میں آرام نام کی کوئی چیز آئے گی بھی یا نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم کام کا دیوانہ یا دَھنی کہہ سکتے ہیں۔ ان کی زندگی میں کام کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ یہ بھی انتہا پسندی پر مبنی رویہ ہے۔ کام کو اپنے وجود پر یوں سوار کرنا انتہائی مضر ہے کہ دوسرے بہت سے معاملات خرابی کی نذر ہو جائیں۔
کم و بیش ایک صدی کے دوران دنیا حیرت انگیز حد تک بدلی ہے۔ بیسویں صدی کے آخری عشروں میں تبدیلی کا عمل تیز ہوگیا۔ اکیسویں صدی تیسرے عشرے میں داخل ہوچکی ہے۔ بہت کچھ پہلے جیسا نہیں رہا۔ کئی عشروں کے دوران جو کچھ دنیا میں ہوا ہے‘ وہی ہمارے یہاں بھی ہوا ہے یعنی معاشرہ ہوشربا نوعیت کی تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ کاروباری اداروں کی ساخت تبدیل ہو رہی ہے۔ بعض شعبے ناپید ہوچکے ہیں اور متعدد نئے شعبوں میں خاصے پُرکشش امکانات موجود ہیں۔ بیشتر بڑے شہروں میں کارپوریٹ کلچر عام ہوتا جارہا ہے مگر اس کے لیے جو بنیادی تیاریاں کی جانا چاہئے تھیں وہ اب تک نہیں کی گئیں، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس حوالے سے اب تک سوچا بھی نہیں گیا۔ بہت بڑی اور عمومی طور پر نظر انداز کی جانے والی خرابی یہ ہے کہ معاشرتی سطح پر تبدیلیاں لائے بغیر ترقی یافتہ دنیا کے طور طریقے اپنائے جارہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بہتری پیدا کرنے والے معاملات بھی خرابی پیدا کر رہے ہیں۔ کسی بھی ماحول میں رونما ہونے والی تبدیلیاں فرد میں بھی تبدیلیاں چاہتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ افراطِ زر کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔ اشیا و خدمات مہنگی ہوتی جاتی ہیں۔ مہنگائی کے باعث معاشرے میں بہت کچھ بدل رہا ہے۔ یہ سب کچھ آپ سے بھی تبدیلی کا طالب ہے۔ کام تو کرنا ہے مگر محض کام نہیں کرنا بلکہ معیاری کام کرنا ہے۔ آج کی اصطلاح میں کہیں تو سمارٹ کام کرنا ہے۔ مالیاتی مسائل حل کرنے کے لیے زیادہ کام کرنے کے علاوہ مہارت یا مہارتوں کا گراف بلند کرنا پڑتا ہے تاکہ کام کا معیار بلند ہو اور زیادہ اجرت ملے۔ ایسا اُسی وقت ہوسکتا ہے جب آپ بہت سوچ سمجھ کر کام کریں۔
ہمارے معاشرے میں کئی تضادات ساتھ ساتھ ہیں۔ ایک طرف تو زیادہ کام کرنے کو خوبی تصور کیا جاتا ہے اور دوسری طرف ان لوگوں کو احمق اور بے وقوف گردانا جاتا ہے جو زیادہ کام کرتے ہیں۔ آپ نے کبھی سوچا ہے کہ محنت کے چند واضح نقصانات بھی ہیں؟ جو لوگ کسی منصوبہ بندی کے بغیر کام کرتے چلے جاتے ہیں وہ بالآخر جان سے جاتے ہیں اور حاصل بھی کچھ نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ ایسی محنت کرتے ہیں جس کی پشت پر عقل اور منطق نہیں ہوتی۔ کام کی زیادتی ان کی مہارت اور صلاحیتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جب ماحول صرف کام کا ہو تو زیادہ سے زیادہ کام کی تحریک ملتی ہے، مگر ظاہر ہے کہ زیادہ کام کرنا مسائل کو حل کرنے کی مؤثر تدبیر نہیں۔ کسی بھی معاملے میں نتائج کی راہ عمل کی نوعیت سے ہموار ہوتی ہے۔ اگر عمل درست سمت میں اور معیاری ہو تو مطلوبہ نتائج آسانی سے حاصل ہوتے ہیں۔ اندھا دھند عمل کرتے رہنے سے معاملات کبھی درست نہیں ہوتے۔ ہم بالعموم کام کی زیادتی کو بہت بڑی خوبی تصور کرتے ہیں۔ لوگ ہم سے نتائج چاہتے ہیں۔ ہمارے جیسے معاشروں میں نتائج زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ لوگ جب یہ دیکھتے ہیں کہ کسی خاص کام کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا تو اُن کی رائے بدل جاتی ہے۔ یہ سراسر منطقی امر ہے اور اس کی عقلی توجیہ بھی کی جاسکتی ہے۔ آپ خواہ کچھ ہوں اور کچھ بھی کرتے ہوں، اہمیت آپ کی محنت سے پیدا ہونے والے نتائج کو دی جاتی ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ کسی بھی مقامِ کار میں چند ایسے ملازمین بھی ہوتے ہیں جو اس گمان یا خوش فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ وہ دوسروں سے زیادہ جانتے ہیں اور یہ کہ کام کا سارا بوجھ انہوں نے اٹھایا ہوا ہے۔ ایسے ملازمین زیادہ کام کرکے سمجھ لیتے ہیں کہ تمام مسائل حل ہوگئے جبکہ واقعتاً کچھ بھی نہیں ہوا ہوتا۔ کوئی بھی ادارہ اس قسم کے ملازمین کی مدد سے ترقی نہیں کرسکتا۔ ترقی کے لیے مل جل کر کام کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔ کسی ٹیم کے تمام ارکان اپنا کردار عمدگی سے ادا کر رہے ہوں تو ہی بات بنتی ہے۔ کوئی بھی شخص سارا کام نہیں کرسکتا۔ ہمارے معاشرے میں underdogs کی کمی نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس خوش فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ سارا بوجھ ان کے کاندھوں پر ہے۔ بیشتر افراد اس گمان کی دنیا میں رہتے ہیں کہ ان کے کام کا معیار بلند ہے اور یہ کہ وہی تو ہیں جنہوں نے ساری دنیا کو اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔ اس گمان کے گڑھے سے نکلے بغیر سوچ کو بلند کرنا ممکن نہیں۔ یہ نکتہ سمجھنا لازم ہے کہ جس طرح کام کرنے والوں کو اہم گردانا جاتا ہے بالکل اسی طرح دوسروں سے کام لینے کی صلاحیت بھی کم اہم نہیں سمجھی جاتی۔ کسی بھی شعبے میں قائدانہ صلاحیت کے حامل افراد کم کم ہی ہوتے ہیں۔ اداروں میں زیادہ اہمیت اس بات کو دی جاتی ہے کہ کام مقررہ وقت پر اور مطلوبہ معیار کے ساتھ مکمل کرلیا جائے۔ کام کو اس طور تقسیم کرنا چاہیے کہ سب کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موزوں موقع ملے اور وہ اپنی کارکردگی سے کوئی فرق پیدا کرنے میں کامیاب بھی ہوں۔
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ محض زیادہ کام کرنا کبھی کبھی بہتر مواقع کی راہ مسدود بھی کردیا کرتا ہے۔ زیادہ کام کرنے کی صورت میں آپ کے بارے میں یہ تاثر بھی قائم ہوسکتا ہے کہ کسی نئے اور منفرد منصوبے پر عمل کے لیے آپ کے پاس وقت نہیں۔ اس صورت میں آپ کا انچارج کوئی بھی نیا کام آپ کے حوالے کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرے گا۔ اپنی طرزِ عمل سے یہ تاثر دینا سیکھئے کہ آپ مصروف ضرور ہیں مگر پھر بھی اِتنا وقت ہے کہ کوئی نیا کام ڈھنگ سے شروع کیا جاسکے۔ ہر معاملے میں گردن ہاں میں ہلانے والے پریشانی سے دوچار رہتے ہیں۔ اپنے وقت، وسائل اور صلاحیتوں کو احسن اور تعمیری طریقے سے بروئے کار لانا آپ کا فرض ہے۔ ایسے میں ناگزیر ہے کہ آپ اپنا وقت، وسائل اور صلاحیتیں غیر اہم کاموں میں ضائع نہ کریں۔ ایسا اسی وقت ممکن ہے جب آپ انکار کرنے کی عادت کو بھی اپنے مزاج کا حصہ بنائیں۔ کام کرنا انسان کی جبلت کا حصہ ہے۔ کچھ نہ کچھ کرتے رہنا ہماری معاشی ہی نہیں، نفسیاتی اور سماجی مجبوری بھی ہے۔ فارغ بیٹھنا کسی کو اچھا نہیں لگتا مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کسی بھی دوسرے معاملات کو اہمیت نہ دی جائے۔ جو لوگ کام کے ہوکر رہ جاتے ہیں ان کی زندگی میں صرف کام رہ جاتا ہے اور ان کے احباب اور اہلِ خانہ بھی ان سے کنارہ کش ہوتے جاتے ہیں۔ جو لوگ آپ کی زندگی کا حصہ ہیں ان کے لیے بھی وقت نکالنا آپ کا فرض ہے۔ آپ زندگی بھر کام نہیں کرسکتے۔ عمر کا بیشتر حصہ آپ جن لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں ان پر توجہ دینا بھی لازم ہے۔ متوازن زندگی وہ ہے جس میں کام اور فراغت کا بہترین امتزاج پایا جائے۔ اگر آپ کی زندگی میں یہ امتزاج نہیں تو پیدا کرنے کی کوشش کیجئے۔ اِسی صورت آپ متوازن زندگی بسر کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں