نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی: صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ اور دیگر دھرنے میں پہنچ گئے
  • بریکنگ :- حکومتی مذاکراتی ٹیم سےبات چیت کا سلسلہ جاری رہا،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- کراچی:آج ایک مسودہ تیار کر لیا گیا ہے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- مذاکرات کئی دنوں سے چل رہے تھے،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- ہمارا کافی ایشو پر اتفاق رائے ہو گیا ہے،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- کراچی: نئے بلدیاتی قانون کےخلاف سندھ اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی کا دھرنا
Coronavirus Updates
"MIK" (space) message & send to 7575

کون ہے آپ کا دشمن؟

ہم دوستوں کی تلاش میں سرگرداں‘ دشمنوں میں گھرے رہتے ہیں۔ زندگی کو آسان بنانے کی بیشتر کوششیں ناکامی سے دوچار ہوتی ہیں۔ اِس کے بہت سے اسباب ہوسکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔ زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کی کوششوں کے ناکام ہونے کا ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ ہم جو کچھ چاہتے ہیں اُسے خواہش سے حقیقت کا روپ دینے کے معاملے میں پوری طرح سنجیدہ نہیں ہوتے۔ کسی بھی کام کے کرنے کے لیے جو اخلاص درکار ہوتا ہے اُس کا مظاہرہ ہم بالعموم نہیں کرتے۔ محض سطحی قسم کی جذباتیت اور بے ہنگم قسم کے جوش و جذبے کے ساتھ کیے جانے والے کام ایسے ہی ہوتے ہیں۔ جن معاملات میں ہمیں بھرپور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے اُن تمام معاملات کو ہم انتہائی سرسری طور پر لیتے ہیں۔ ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ یہ ''کیوں‘‘ بہت بے درد ہے، گھوم پھر کر ہماری راہ میں کھڑا ہو جاتا ہے، آئینہ دکھاتا ہے، پریشان کرتا ہے۔ مگر خیر! اِس ''کیوں‘‘ کو بھی غنیمت جانیے کیونکہ اِس کے وجود ہی سے تو ہمیں کچھ سوچنے کی تحریک ملتی ہے، ہم اپنی ناکامیوں، الجھنوں اور پریشانیوں کے بارے میں غور و خوض اور مشاورت کی منزل تک پہنچتے ہیں۔ یہ ''کیوں‘‘ جن کی زندگی میں ہوتا ہے وہ ''کیسے‘‘ کے مرحلے تک بھی پہنچتے ہیں اور خوب سوچ بچار کے بعد اپنے لیے کوئی معقول راستا چنتے ہیں۔
بات کچھ یوں ہے کہ ہم جس ماحول میں زندہ ہیں وہ بہت سی اشیا و خدمات اور عوامل سے مل کر بنا ہے۔ کبھی ہمیں تنہائی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ کبھی محفل کی رونق میں اضافے کے لیے کچھ کرنا پڑتا ہے۔ یہ سب کچھ زندگی کا حصہ ہے۔ ہم مکمل تنہائی میں بھی زندہ نہیں رہ سکتے اور بہت زیادہ مل جُل کر بھی ڈھنگ سے جی نہیں پاتے۔ ہر معاملے میں توازن یقینی بنانے ہی سے بات بن پاتی ہے۔ مگر یہ سب ایسا آسان بھی نہیں جیسا دکھائی دیتا ہے۔ زندگی ہم سے بہت سے معاملات میں مثالی نوعیت کے توازن کا تقاضا کرتی ہے۔ ہم چاہیں یا نہ چاہیں‘ زندگی کو توازن سے ہم کنار کرنے ہی پر کچھ بات بن پاتی ہے۔ اب آئیے اِس سوال کی طرف کہ آپ کا دشمن کون ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ آپ کا کوئی ایک نہیں بلکہ کئی دشمن ہیں۔ جی ہاں! دشمن بہت ہیں اور وہ بھی ایسے کہ آپ کی زندگی میں سب کچھ اُلٹ پلٹ دیں۔ تو جناب! کبھی آپ نے اندازہ لگایا کہ آپ کے دشمن کون ہیں؟
آپ سوچیں گے دشمن تو بہت سے ہوسکتے ہیں اور ہوتے ہی ہیں‘ کوئی آپ کے مال کا دشمن ہے اور کوئی آپ کی جان کا۔ کسی کو آپ کا سُکون غارت کرنے سے فرصت نہیں اور کوئی آپ کے راستے میں دیواریں کھڑی کرکے خوش ہے۔ یہ سب ٹھیک ہے مگر اس حوالے سے ذہن واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ فی زمانہ بہت کچھ ایسا ہے جو آپ کی زندگی کا توازن بگاڑنے پر تُلا رہتا ہے۔ آپ کو قدم قدم پر سنبھلنا ہے، محتاط رہنا ہے۔ بگاڑ پیدا کرنے والے بہت سے عوامل آپ کی زندگی کا تیا پانچا کرنے پر کمر بستہ رہتے ہیں۔ آپ کی نظر چُوکی اور کام بگڑا۔ آنکھیں کھلی رکھنی ہیں اور ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہے۔ وقت ہمیں بہت عجیب موڑ پر لے آیا ہے۔ ہر انسان کے لیے اب قدم قدم پر کوئی نہ کوئی چیلنج ہے۔ مسائل محض بڑھتے نہیں جارہے بلکہ اُن کی شدت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر چیلنج آپ کی شخصیت کے لیے ایک بڑی کسوٹی میں تبدیل ہوتا جارہا ہے۔ غالبؔ نے کہا تھا ع
صبح کرنا شام کا لانا ہے جُوئے شیر کا
اب ہمیں کم و بیش یومیہ بنیاد پر اِسی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا رہتا ہے۔ ایک الجھن سامنے سے ہٹتی ہے تو دوسری آ جاتی ہے۔ یہ سب کچھ تواتر سے ہو رہا ہے اور کبھی کبھی تو انتہائی غیر محسوس انداز سے ہوتا ہے اور جب تک ہمیں احساس ہو پاتا ہے تب تک پُلوں کے نیچے سے اچھا خاصا پانی گزر چکا ہوتا ہے۔ تو پھر جناب! اب کیا کیجیے؟ کچھ تو ایسا کرنا ہی ہے جو زندگی کو عدم توازن سے دوچار ہونے کی زحمت سے بچائے۔ معاملات کو طے کیے بغیر یا کماحقہٗ نمٹائے بغیر تو چھوڑا نہیں جاسکتا۔ ہمیں قدرت کی طرف سے جو بہت کچھ ملا ہے اُس میں سب سے قیمتی ہے وقت۔ وقت کا معاملہ بہت عجیب ہے۔ کبھی یہ بہت تیزی سے گزرتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور کبھی ایک ایک پل گزارنا عذاب ہوتا ہے۔ قدرت کی طرف سے ہر انسان کو جتنا وقت ملا ہے اُس میں ایک پل کا بھی اضافہ ممکن نہیں۔ دولت ہاتھ سے جاتی رہے تو کہیں زیادہ مزید حاصل کی جاسکتی ہے‘ بہت کچھ ہم دوبارہ پاسکتے ہیں مگر وقت کے معاملے میں ہماری بے بسی بہت نمایاں ہے۔ کچھ بھی کر گزریے‘ جو وقت ملا ہے اُس میں ایک پل بھی بڑھایا نہیں جاسکتا۔ ایسے میں ناگزیر ہے کہ وقت کے معاملے میں انتہائی سنجیدہ ہوا جائے۔
کیا ہم وقت کے معاملے میں کماحقہٗ سنجیدہ ہیں؟ لگتا تو نہیں۔ ہم وقت جیسی دولت کو بھی بالعموم انتہائی سرسری انداز سے لیتے ہیں۔ کیا یہ ایک دل خراش حقیقت نہیں کہ وقت کے حوالے سے ہماری بے حسی اور بے نیازی خطرناک شکل اختیار کرچکی ہے؟ اب سوچئے کہ ہمارے دُشمن کون ہیں۔ ہر وہ انسان ہمارا دشمن ہے جو ہمارا وقت ضائع کرے۔ جی ہاں! وقت کا ضیاع ہی حقیقی ضیاع ہے۔ جس نے وقت ضائع کیا اُس نے اپنے وجود کو داؤ پر لگایا۔ جو آپ کا وقت ضائع کرنے پر تُلا ہو وہ ہے آپ کا سب سے بڑا حقیقی دشمن۔ اس معاملے میں سب سے پہلے اپنا جائزہ لینا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ اپنے وقت کے دشمن کو باہر تلاش کر رہے ہوں اور وہ آپ کے اندر چھپا ہوا ہو؟ ہر انسان کو وقتاً فوقتاً اِس امر کا جائزہ لینا ہی چاہیے کہ اُس کے وقت کا سب سے بڑا دشمن کون ہے۔ اگر اپنے ہی ہاتھوں وقت ضائع ہو رہا ہو تو اِس سے بڑی حماقت اور سنگ دِلی کوئی ہو نہیں سکتی۔ آپ نے کبھی اپنے شب و روز کا جائزہ لیا ہے؟ کبھی سوچا ہے کہ آپ کے چند ایک معاملات بھی آپ کا وقت ضائع کرنے کے ذمہ دار ہوسکتے ہیں؟ انسان کو اپنی خامیاں‘ خرابیاں اور کوتاہیاں آسانی سے دکھائی نہیں دیتیں۔ کسی سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ آپ کے معمولات کا جائزہ لے کر ایسی باتوں کی نشاندہی کرے جن سے وقت ضائع ہو رہا ہے۔ جب کوئی حقیقت پسندی اور غیر جانبداری سے آپ کے معمولات کا جائزہ لے کر بتائے کہ آپ کن کن معاملات میں وقت ضائع کر رہے ہیں تب آپ خود بھی حیران رہ جائیں گے۔ حیران ہونے کی ضرورت نہیں! جب دوسرے آپ کے معاملات کا جائزہ لیتے ہیں تب ایسا ہی ہوتا ہے۔یہ تو ہوا آپ کا معاملہ جسے آپ تھوڑی بہت کوشش سے درست کرسکتے ہیں۔ اب آئیے اوروں کی طرف۔ جب وقت ہی حقیقی دولت ہے تو آپ کا حقیقی دشمن ہر وہ شخص ہے جو آپ کے وقت کو ٹھکانے لگانے کے درپے ہوں۔ ایسے لوگ آپ کے قریبی حلقے میں بھی ہوسکتے ہیں اور اُس سے باہر بھی۔ گھر میں‘ خاندان میں‘ پڑوسی‘ احباب‘ مقامِ کار کے ساتھیوں میں یا کہیں اور ایسے بہت سے لوگ پائے جاسکتے ہیں جنہیں آپ کا وقت ضائع کرنے سے خاص شغف ہو۔ سبب کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ کچھ لوگ آپ سے متنفر ہونے کی بنیاد پر آپ کا وقت ضائع کرنے کے درپے ہوسکتے ہیں۔ کچھ لوگ محض عادتاً بھی ایسا کرسکتے ہیں۔ کوئی جان بوجھ کر آپ کا وقت ضائع کرے یا نادانستہ طور پر ایسا کرے‘ ہر دو صورتوں میں آپ کو اپنے وقت کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ اِس کی ایک بہترین صورت تو یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو کسی بڑے مقصد پر متوجہ رکھیں۔ ساتھ ہی ساتھ چند چھوٹے مقاصد بھی آپ کی زندگی میں ہونے چاہئیں۔
اپنے پورے ماحول کا جائزہ لیجیے۔ جو آپ کا وقت ضائع کرنے پر تُلا ہو اُس سے تعلق سرسری سطح پر برقرار رکھیے۔ اپنے معاملات میں اُسے بے جا طور پر مخل ہونے سے روکیے۔ وقت ہی آپ کا واقعی اور اصل اثاثہ ہے۔ اِسے اثاثے پر کسی کو ڈاکا ڈالنے کی اجازت مت دیجیے۔ اور ہاں! خود آپ کو بھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں۔ اپنے وقت کا سب سے بڑا دوست کوئی ہوسکتا ہے تو وہ صرف آپ ہیں!

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں