نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے 3 واقعات
  • بریکنگ :- کراچی:احسن آبادمیں ڈکیتی مزاحمت پرفائرنگ،ایک شخص زخمی
  • بریکنگ :- کراچی:برنس روڈ آرام باغ کےقریب فائرنگ،ایک شخص زخمی
  • بریکنگ :- کراچی:ناظم آباد میں فائرنگ سےایک شخص زخمی،اسپتال منتقل
Coronavirus Updates
"MIK" (space) message & send to 7575

سُکھ کا منبع کہاں ہے؟

ہم سب زندگی بھر سُکھ کی تلاش میں رہتے ہیں۔ سبھی کی خواہش ہے کہ ہماری زندگی میں کوئی غم نہ ہو اور ہر قدم قدم پر سُکون میسر ہو مگر ایسا ہو نہیں سکتا۔ بہت سے معاملات میں ہم مجبور بھی ہوتے ہیں۔ سُکھ کا تعلق مکمل طور پر صرف ہماری ذات سے نہیں۔ دوسروں کے افکار و اعمال بھی ہمارے اہداف کی راہ میں دیوار بن سکتے ہیں اور بنتے ہیں۔ سکھ کیا ہے؟ اس سوال کا جواب ہر شخص کے نزدیک الگ ہے۔ کسی کی نظر میں غیر معمولی مالیاتی استحکام ہی حقیقی سُکھ ہے۔ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ گھر کے تمام افراد کو ہمہ وقت خوش رکھنے کی کوشش میں سُکھ پوشیدہ ہے۔ کوئی اس خیال کا حامل ملے گا کہ اپنے ماحول میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے سکون و راحت کا اہتمام سکھ ہے۔ کسی کے نزدیک تعلیم کے حوالے سے بہت اچھی کارکردگی انسان کو زیادہ سکھی بناتی ہے۔ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ایک بھرپور کیریئر انسان کو سُکھ دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سُکھ کی کوئی ایسی جامع تعریف ممکن نہیں جس پر سب راضی ہوں اور بخوشی قبول کرلیں۔
کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص غیر معمولی آمدن رکھتا ہو اور اپنے گھر کو ہر طرح کی آسائشوں سے بھر کر یہ سمجھ لے کہ اب حقیقی سُکھ کا اہتمام ہوگیا؟ سب یہی کہیں گے کہ محض آسائشوں کے جمع کرلینے سے کوئی بھی گھر مکمل طور پر سُکھی نہیں ہوسکتا۔ بالکل درست! بالکل اِسی طور کمزور مالی حیثیت کے ساتھ اہلِ خانہ کو بہتر زندگی کی طرف لے جانا بھی ممکن نہیں ہو پاتا۔ یہ محض خواب و خیال کی باتیں ہیں کہ کوئی زیادہ نہ کمائے اور اُس کے اہلِ خانہ اُس سے خوش رہیں۔ تمام زیرِ کفالت افراد اس بات کے خواہش مند ہوتے ہیں جس کے کاندھوں پر کفالت کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے وہ زیادہ سے زیادہ کمائے اور بہتر زندگی یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کرے۔ یہ خواہش کبھی کبھی غیر متعلق اور غیر حقیقی بھی ہوسکتی ہے مگر بیشتر معاملات میں تو یہ خواہش فطری ہے۔ کسی بھی فرد سے وابستہ افراد یعنی بیوی‘ بچے‘ والدین‘ بھائی بہن یہی چاہتے ہیں کہ اُن کی زندگی سکون سے گزرے۔ بعض اوقات رشتہ دار اور احباب بھی ایسی ہی توقع رکھتے ہیں۔
کیا زندگی کا بنیادی مقصد صرف یہ ہے کہ زیرِ کفالت افراد کے لیے زیادہ سے زیادہ کمایا جائے؟ روحانی اقدار پر یقین رکھنے والے کہیں گے ایسا تو کسی بھی حال میں درست نہیں کیونکہ ہر انسان کے لیے دوسروں یعنی زیرِ کفالت افراد کے ساتھ ساتھ اپنا وجود بھی کم اہم نہیں ہوتا۔ ایسے میں توازن کس طور پیدا کیا جائے؟ یہ ہے انسان کا اصل امتحان۔ گھر میں جدید ترین سہولتوں یعنی اشیا و خدمات کا ڈھیر لگانے سے کوئی بھی اپنی اور زیرِ کفالت افراد کی زندگی کو سکھی بنانے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ محض اشیا و خدمات سے سب کچھ حاصل نہیں ہو جاتا۔ ہر انسان کے لیے گھر اور خاندان کے افراد سے قلبی تعلق بھی بہت اہم ہے۔ یہ تعلق جس قدر خالص اور مضبوط ہوگا‘ زندگی اُسی قدر کامیاب گزرے گی۔
گھر کی کامیابی اور خوش حالی کے لیے مالی آسودگی کو انتہائی بنیادی ضرورت ماننے والے اپنی بات درست ثابت کرنے کے لیے بہت سے دلائل دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جس کی آمدن اچھی ہو وہ بہت سی اچھی اشیا خرید سکتا ہے‘ معیاری خدمات حاصل کرسکتا ہے۔ ایسے لوگ اہلِ خانہ کو اچھا کھلا پلا سکتے ہیں‘ اچھا پہنا سکتے ہیں‘ موقع اور گنجائش دیکھ کر تعطیلات پر لے جاسکتے ہیں۔ اچھی آمدن والے افراد ضرورت پڑنے پر کوئی بھی چیز آسانی سے خرید اور بدل سکتے ہیں۔ لوگ بالعموم اس حقیقت پر غور نہیں کرتے کہ جن گھروں میں بہت سی اور جدید اشیا پائی جاتی ہیں اُن گھروں میں ماحول بہت پرلطف رہتا ہے مگر یہ لذت تک محدود رہتا ہے‘ سکھ کی طرف نہیں بڑھ پاتا۔ زندگی کو آسان بنانے والی اشیا ایک خاص حد تک ہی دل کو سُکون عطا کرتی ہیں۔
زیادہ آمدن اور اُس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مادّی آسودگی کتنی ہی اہم سہی‘ انسان کے لیے حقیقی سُکھ تو اہلِ خانہ اور حلقۂ احباب ہی میں پوشیدہ ہے۔ مادّی آسودگی سے بلند ہوکر جو زندگی کے اخلاقی اور روحانی پہلو پر بھی نظر رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ زندگی اگر کامیاب ہوسکتی ہے تو صرف اِس بات سے کہ جو لوگ ہماری زندگی میں ہیں وہ ہمارے لیے اہم ہوں اور ہم اُن کے لیے دل و جان سے کچھ کرنے پر یقین رکھتے ہوں۔ دولت اور رشتوں میں کسی ایک کو چننے کا مرحلہ آ جائے تو کسی کو کسی پر ترجیح نہیں دی جاسکتی۔ دونوں ہی ہمارے لیے ناگزیر ہیں۔ دولت کے بغیر ہم معیاری زندگی بسر نہیں کرسکتے اور رشتوں سے محروم ہوکر بھی ہم ادھورے رہ جاتے ہیں۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی محض رشتوں کے بل پر جیے اور جیب بالکل خالی رہ جائے ؟ یا کیا یہ ممکن ہے کہ جیب تو بھری ہوئی ہو مگر رشتوں کو بھول کر مزے سے زندگی بسر کی جائے؟ آپ کا جواب یہی ہوگا کہ دونوں صورتوں میں انسان تہی دست رہ جائے گا۔ بالکل درست! جب ہم دولت اور رشتوں کے مابین توازن برقرار رکھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تب ایسا ہی ہوتا ہے۔
زندگی کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ ہر پہلو توازن کا طالب رہتا ہے۔ اگر کسی ایک پہلو کو غیر معمولی اہمیت دیں اور باقی تمام پہلوؤں کو نظر انداز کردیں تو جی چکے۔ بہت سوں کے نزدیک اس بات کی بہت اہمیت ہوتی ہے کہ کوئی نہ کوئی واضح مقصد ذہن نشین رہے۔ کسی واضح اور بڑے مقصد کے بغیر گزاری جانے والی زندگی بہت کچھ پانے پر بھی ادھوری ہی رہ جاتی ہے۔ معاشرہ ہر انسان میں بہت کچھ تلاش کرتا رہتا ہے۔ لوگ بتائے بغیر آپ کو پرکھ رہے‘ جانچ رہے ہوتے ہیں۔ یہ بات لوگوں سے بالعموم ہضم نہیں ہوتی کہ آپ کا جھکاؤ کسی ایک معاملے پر ہو۔ لوگ توازن دیکھنا اور برتنا چاہتے ہیں۔ توازن یعنی یہ کہ آپ اپنے تمام معاملات کو مطلوب اہمیت دیں اور کسی ایک معاملے کو اہم ترین گردانتے ہوئے دیگر تمام معاملات کو نظر انداز نہ کر بیٹھیں۔ آپ کو اپنے ماحول میں ایسے بہت سے لوگ ملیں گے جو بہت کماچکے مگر ان کے گھریلو معاملات غیر متوازن ہو کر رہ گئے۔ ایسا بالعموم اُس وقت ہوتا ہے جب انسان کی ساری توجہ صرف دولت کے حصول پر مرکوز ہو اور وہ ہر وقت زیادہ سے زیادہ کمانے ہی کے بارے میں سوچتا رہے۔ جب دولت ہی سب کچھ ٹھہرے تب گھر اور رشتوں کی کچھ خاص وقعت نہیں رہ جاتی۔ ایسے میں زندگی غیر متوازن ہو رہتی ہے۔
وقت کے تقاضے کبھی نہیں بدلتے۔ ہر دور میں انسان کی بنیادی ضرورتیں وہی رہی ہیں جو آج ہیں۔ رشتوں اور تعلقات کا بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔ ہر دور کے انسان کی کوشش رہی ہے کہ زندگی میں زیادہ سے زیادہ توازن ہو اور اعتدال کی راہ پر گامزن رہتے ہوئے جیا جائے۔ یہ بات سوچنے کی حد تک تو معقول اور آسان دکھائی دیتی ہے مگر جب آگے بڑھیے یعنی عمل کی کسوٹی پر خود کو پرکھیے تو پتا چلتا ہے کہ یہ سب کچھ ایسا آسان بھی نہیں۔ زندگی مادّی اور روحانی پہلوؤں کے امتزاج اور سنگم کا نام ہے۔ ہم زندگی کے کسی ایک پہلو کو دوسرے پہلو پر اندھا دھند ترجیح نہیں دے سکتے۔ ایسا کیا جائے تو عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔ یہ عدم توازن پوری زندگی کو لے ڈوبتا ہے۔ دانش کا تقاضا ہے کہ انسان اِس طور جیے کہ کوئی ایک پہلو بھی نظر انداز نہ ہو۔ دولت کو سب کچھ گردانتے ہوئے اُس کے آغوش میں جینے والے آخر میں تہی دست رہ جاتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کے پاس بہت دولت ہوتی ہے مگر اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ بالکل اِسی طور رشتوں اور تعلقات کی بھول بھلیوں میں گم رہتے ہوئے جینے والے اگر زندگی کے معاشی پہلو کو نظر انداز کردیں تو بہت سے خرابیاں جنم لیتی ہیں۔ بعض خاندانوں کا بغور جائزہ لیجیے تو اندازہ ہوگا کہ اُن سے تعلق رکھنے والے افراد سارا وقت رشتے اور تعلقات نبھانے ہی میں لگے رہتے ہیں اور زندگی کے معاشی پہلو کو نظر انداز کر بیٹھتے ہیں۔ پھر اصلاحِ احوال میں زمانے لگتے ہیں۔ یاد رہے سکھ زندگی کے مادی اور روحانی پہلوؤں کے درمیان توازن قائم رکھنے میں پوشیدہ ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں