نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- 40 سال سےکم عمرافرادکی شرح اموات ایک فیصدہے،اسدعمر
  • بریکنگ :- 41 سے 50 سال عمرکی شرح اموات بڑھ کر 1.8 فیصدہوگئی،اسدعمر
  • بریکنگ :- 51 سے 60 سال عمرکی شرح اموات 3.8 فیصدہے،اسدعمر
  • بریکنگ :- 61 سے 71 سال عمرکی شرح اموات 7.2 فیصدہے،اسدعمر
  • بریکنگ :- 71 سے 80 سال عمرکی شرح اموات 11.1 فیصدہے،اسدعمر
"MAC" (space) message & send to 7575

یوم مئی‘ پاک ٹی ہاؤس میں

ہمیں یوم مئی پر سلیم شاہد یاد آ جاتے ہیں۔ جب تک وہ زندہ رہے ہر سال پاک ٹی ہائوس میں یوم مئی منایا جاتا رہا۔ ہمیں یاد نہیں کسی اور جگہ بھی ادیب اور شاعر یہ یوم مناتے ہوں۔ ہو سکتا ہے مناتے ہوں۔ لاہور میں تو یہ سلیم شاہد کی ہمت ہی تھی کہ وہ ہر سال پاک ٹی ہائوس میں ادیبوں کو جمع کر لیا کرتے تھے اور یوم مئی کے حوالے سے مزدوروں کا یہ دن منایا جاتا تھا۔ ہمیں یاد ہے کہ اس اجتماع میں لاہور کے تمام ادیب ہی شامل ہوتے تھے۔ اصل میں سلیم شاہد جہاں اچھے شاعر تھے وہاں وہ باغی طبیعت کے مالک بھی تھے۔ جب بھی عوامی مسائل سامنے آتے سلیم شاہد انہیں اجا گر کر نے کیلئے مو جود ہوتے۔ وہ نیشنل بینک کے ہیڈ آفس میں کام کرتے تھے لیکن انہوں نے کبھی اپنی نوکری کی پروا نہ کی۔ ہمیشہ وہ پاکستان کے سیاسی مسائل پر آواز اٹھانے کیلئے سب سے آگے موجود ہوتے۔ بھٹو کی پھانسی پر اردو میں جو نظمیں کہی گئیں سلیم شاہد نے انہیں جمع کر کے ان کا مجموعہ شائع کر دیا۔ انہیں عوام کیلئے کام کرنے کی ایسی لگن تھی کہ ایک بار عبدالستار ایدھی اپنے ادارے کیلئے چندہ جمع کرنے لاہور آئے تو سلیم شاہد نے ان کے ساتھ لاہور کے بڑے بازاروں میں جا کر ان کیلئے چندہ اکٹھا کیا۔ وہ زمانہ ہی ایسا تھا جب لکھنے پڑھنے والے‘ عام آدمی‘ خاص طور سے مزدور طبقے پر زیادہ توجہ دیتے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ ہمارے کچھ لکھنے پڑھنے والے‘ جنہیں ادیب اور شاعر کہا جاتا ہے‘ وہ خود بھی اس طبقے میں شامل ہو گئے جسے استحصالی طبقہ کہا جاتا ہے۔ اب ان کے طرف سے محنت کش طبقے کیلئے زبانی کلامی تو بہت کچھ کہا جاتا ہے لیکن عملی طور پر وہ اس جدوجہد میں شامل ہونے کو تیار نہیں ہیں۔
خیر یہ تو سلیم شاہد کی بات تھی اور اس لئے یہاں اس کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ سب کو معلوم ہو جائے کہ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب یوم مئی پر عوامی مسائل پر بات کرنے کیلئے پاکستان کے ادیب بھی کسی سے پیچھے نہیں رہتے تھے۔ بہرحال اس سال بھی ساری دنیا کے ساتھ پاکستان میں بھی یہ دن منایا گیا۔ اس موقع پر ہمارے صدر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خاں نے بھی حسب روایت مزدوروں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ مزدور کا معاوضہ بیس ہزار روپے مہینہ ہونا چاہئے۔ اب آپ خود ہی دیکھ لیجئے کہ ہر سال کی طرح یہ سب زبانی کلامی ہو رہا ہے۔ اصل میں مزدور کے مسائل پر غور کرنے کیلئے کوئی بھی سنجیدہ نظر نہیں آتا۔ آج سے پہلے مزدوروں کے مسائل مالکوں تک پہنچانے کیلئے ٹریڈ یونین ہوتی تھیں۔ یہ ٹریڈ یونین مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرتی تھی اور جہاں مزدوروں کے حقوق غصب کئے جاتے وہاں وہ حقوق غصب کرنے والوں کے خلاف آواز اٹھاتی تھیں۔ اور اگر آپ کو پاکستان میں ٹریڈ یونین کی تاریخ پڑھنا ہے تو اس موضوع پر ڈاکٹر سید جعفر احمد کی کتاب پڑھ لیجئے۔ آپ دیکھیں گے کہ یہ ٹریڈ یونین کتنی طاقت ور ہوتی تھیں۔ جب ٹریڈ یونین طاقت ور تھیں تو مزدوروں کے کام کے اوقات بھی مقرر تھے اور ان کا معاوضہ بھی مقرر تھا۔ لیبر قوانین دکانوں پر بھی نا فذ تھے۔ دکانوں پر جو ملازم کام کرتے تھے‘ ان کی ڈیوٹی بھی آٹھ گھنٹے ہوتی تھی۔ اس کے بعد ان کی چھٹی ہو جاتی تھی‘ اور ان کی جگہ دوسرے ملازم آ جاتے تھے۔ لیکن یہ اس زمانے کی بات ہے جب ہم لیبر قوانین کا احترام کرتے تھے۔ اب حال یہ ہے کہ نہ تو مزدوروں کے کام کے اوقات مقرر ہیں اور نہ معاوضہ مقرر ہے۔ اول تو اب کسی بھی کار خانے یا کسی بھی ادارے میں براہ راست ملازم نہیں رکھے جاتے۔ اب تھرڈ پارٹی کے ذریعے ملازم یا مزدور رکھے جاتے ہیں‘ اور مزدور یا ملازم کسی قانون کے پابند نہیں ہوتے بلکہ کہنا یہ چاہئے کہ کارخانے یا کسی بھی ادارے کے مالک کسی قانون کے پابند نہیں ہوتے۔ اس لئے کہ انہوں نے قانون سے بچنے کا طریقہ نکال لیا ہے اور ہماری حکومتیں بھی اس کی پروا نہیں کرتیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بندۂ مزدور کے حالات بہت ہی مخدوش ہیں۔ دکانوں پر ایک ہی ملازم صبح سے رات گئے تک کام کرتا ہے۔ اسی طرح دوسرے اداروں میں بھی مزدور کے کام کے اوقات مقرر نہیں ہیں۔ اب اس صورت میں ان کی تنخواہ یا ان کے اوقات کار مقرر کرنے کی بات مذاق ہی معلوم ہوتی ہے۔ اگر حکومت کو واقعی مزدوروں کے حالات بہتر بنانا ہیں تو لیبر قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرانا چاہئے‘ لیکن یہ کام آسان نہیں ہے کیونکہ جن کارخانوں اور دوسرے اداروں میں یہ مزدور کام کرتے ہیں‘ عام طور پر وہ ان مالکوں کے ہیں جن کا سیاست سے تعلق ہے‘ اور کسی نہ کسی طرح ان کا شمار حکمرانوں میں ہوتا ہے۔ اس لئے بھول جائیے مزدوروں کے حقوق کو۔ پاکستان میں لیبر قوانین موجود ہیں لیکن وہ کارخانے یا فیکٹری کے مالکوں کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ انہیں جس طرح چاہیں استعمال کریں۔
اسی لئے یوم مئی پر عام آدمی سے لے کر حکمرانوں تک کو جو مزدوروں کے حالات یاد آتے ہیں‘ یہ محض رسمی بات ہے۔ وہ بات جو سال کے سال یوم مئی پر یاد آ جاتی ہے۔ اس کے بعد ہم سب اسے بھول جاتے ہیں‘ لیکن کیا کوئی اور طریقہ بھی ہے کہ مزدوروں کے حالات بہتر بنانے‘ اور ان کے حقوق کو تحفظ دینے کا؟ اگر مزدوروں کے حقوق کا تحفط کرنا ہے تو ہمیں کارخانوں اور دوسرے اداروں میں ٹریڈ یونین کو بحال کرنا چاہئیں‘ لیکن حال یہ ہے کہ لیبر قوانین پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی ادارے بھی ہمارے حال پر توجہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ کسی زمانے میں چائلڈ لیبرکے خلاف بہت آوازیں اٹھائی جاتی تھیں‘ اور عالمی ادارے خاص طور پر ادھر توجہ کرتے تھے‘ لیکن اب آپ دیکھ لیجئے کہ کوئی بھی ادھر توجہ نہیں دے رہا ہے۔ ہر جگہ سرمایہ داروں کا قبضہ ہے۔ اب آپ خود ہی سوچئے کہ کیا تمام اداروں میں تھرڈ پارٹی سسٹم ختم کیا جا سکتا ہے؟ چونکہ یہاں تھرڈ پارٹی ٹھیکے پر ملازم رکھتی ہے اس لئے یہ ملازم اصل ادارے کے خلاف احتجاج بھی نہیں کر سکتے۔ کسی بھی حکومت نے اس طرف تو جہ نہیں دی ہے۔ اور مستقبل میں بھی ایسی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ وہ جو ہم نے عرض کیا نا‘ اس وقت اصل طاقت سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے ہاتھ میں ہے اور وہی ہمارے اوپر حکمرانی کر رہے ہیں۔
اس لئے آئیے‘ ہر سال یوم مئی مناتے رہیں‘ اور اس بہانے محنت کشوں کو یاد کرتے رہیں۔ موجودہ حالات میں ہم اس سے زیادہ اور کیا کر سکتے ہیں۔ ہمیں تو ایسی حکومت بھی نہیں ملی جو پوری دلجمعی اور سنجیدگی کے ساتھ اس طرف توجہ کر سکے۔ مثال کے طور پر موجودہ حکومت کے اقدامات پر ہی غور کر لیجئے۔ عمران خاں صاحب نے برسر اقتدار آتے ہی کروڑوں نوکریوں اور غریبوں کیلئے لاکھوں گھر بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ چلئے‘ نوکریوں کو تو بھول جائیے‘ غریبوں کیلئے جو گھر بنائے جا رہے ہیں‘ ان کیلئے جو پیشگی رقم مانگی جا رہی ہے‘ کیا وہ دہاڑی دار مزدور برداشت کر سکتا ہے؟ اسی لئے لوگ کہہ رہے ہیں کہ اگر واقعی ایسے گھر بنائے بھی گئے تو ان پر پراٹی ڈیلروں کا قبضہ ہو جائے گا۔ غریب محنت کش طبقہ ان سے محروم رہ جائے گا۔ ملازمت کے مواقع بڑھانے کیلئے ملک بھر میں کارخانوں کا پہیہ چلتا رہنا چاہئے اور یہاں کسی بھی شعبے میں وہ ترقی نظر نہیں آ رہی ہے جس سے نئی ملازمتیں نکلیں۔ وعدے تو بہت ہیں‘ لیکن اصل صورت حال بالکل ہی مختلف ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں