نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- آمدمصطفیٰﷺمرحبامرحبا،چہرہ ودوھامرحبامرحبا
  • بریکنگ :- بن کےنورخدامصطفیﷺ آگئے،مرحبامرحبامصطفیﷺ آگئے
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں عیدمیلاالنبیﷺمذہبی جوش وجذبےسےمنائی جارہی ہے
  • بریکنگ :- شہرشہر،قریہ قریہ محافل کاانعقاد،فضادرودوسلام سےگونج اٹھی
  • بریکنگ :- جشن میلادالبنیؐ،تمام سرکاری اورنجی عمارتیں برقی قمقموں سےروشن
  • بریکنگ :- جشن عیدمیلاالبنیﷺ،سڑکوں ،گلیوں،کوچوں اورگھروں کو سجادیاگیا
  • بریکنگ :- عیدمیلادالنبیﷺ،وفاقی دارالحکومت میں دن کاآغاز31توپوں کی سلامی سےہوگا
  • بریکنگ :- صوبائی دارالحکومتوں میں 21-21توپوں کی سلامی سےدن کاآغازہوگا
Coronavirus Updates
"MABC" (space) message & send to 7575

یہ نام تبدیل کیجئے

استنبول میں ایک مسجد ہے جس کا نام ہے: Sanki Yedim۔ 1750ء میں تعمیر ہونے والی اس مسجد کا نام دراصل ترکی زبان کی ایک اصطلاح پر ہے جس کا اردو میں ترجمہ ہے ''یہ چیز تو میری کھائی ہوئی ہے‘‘۔ اس مسجد کی کہانی کافی سبق آموز ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ کے دارالخلافہ قسطنطنیہ یعنی استنبول کے فاتح محلے کے خیر الدین آفندی کا گزر جب بھی کسی بازار سے ہوتا اور انہیں کھانے پینے کی کوئی چیز اچھی لگتی یا کبھی کوئی پھل، گوشت یا کوئی مٹھائی وغیرہ کھانے کا ان کا دل کرتا تو وہ اپنے آپ سے کہنے لگتے ''صانکی یدم‘‘ یعنی یہ چیز تو میری کھائی ہوئی ہے۔ اس طرح وہ اپنے دل کو تسلی دیتے تھے کہ یہ چیز خریدنے کا کیا فائدہ، یہ تو میں کھا چکا ہوں۔ دراصل خیر آفندی کی ایک دیرینہ خواہش تھی اور اپنی اسی خواہش کی تکمیل میں خیر آفندی کھانے‘ پینے، پہننے‘ برتنے کی چیزوں سے متعلق یہ گمان کر لیتے تھے کہ یہ چیز تو میری کھائی ہوئی‘ میری استعمال کی ہوئی ہے۔ ترکی زبان میں اس اصطلاح کا مطلب یہ بھی ہے ''فرض کر لو کہ یہ چیز میری کھائی ہوئی ہے‘‘۔ خیر آفندی چٹ پٹے مزیدار کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھتے‘ چمکتے دمکتے پُررونق بازاروں میں گھومتے‘ دل کو للچانے والے لباس، پرفیوم اور جوتے دیکھتے، انواع و اقسام کے کھانے دیکھتے تو ان کی زبان سے فوری یہ جملہ نکلتا کہ یہ تو میں نے پہنا ہوا ہے‘ یہ تو میں نے استعمال کیا ہوا ہے‘ یہ تو میں نے کھا یا ہوا ہے اور اگر انہیں کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو بھی وہ چیزوں کو دیکھ کر یہی کہتے کہ یہ میری کھائی ہوئی ہے اور پھر ان چیزوں کی قیمت کے برابر پیسوں کو علیحدہ کرتے اور گھر جا کر ایک صندوق میں ڈال دیتے۔ کئی سالوں تک یہ شخص اپنے آپ کو دنیا کی ہر لذت سے محروم رکھ کر پیسے اکٹھے کرتا رہا اور تھوڑے تھوڑے پیسوں سے اس صندوق کو بھرتا چلا گیا حتیٰ کہ بیس سال بعد وہ دن آ پہنچا جب خیر الدین آفندی نے صندوق میں جمع کیے گئے پیسوں کو گننا شروع کیا۔ پیسے گننے کے بعد اس کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ اس کے پاس اب اتنے پیسے جمع ہو گئے تھے کہ وہ اپنی دیرینہ خواہش کو پورا کر سکے۔ خیر آفندی کی خواہش اپنے محلے میں ایک مسجد کی تعمیر تھی۔ اس نے فاتح محلے میں ایک جگہ پسند کی‘ اس کی قیمت ادا کی اور پھر مسجد کی تعمیر شروع کرا دی۔ ایک سال تک یہ مسجد تعمیر ہوتی رہی اور اس ایک سال میں بھی وہ اسی طرح ایک ایک پیسہ اپنے آپ پر خرچ کرنے کے بجائے مسجد کے اخراجات کیلئے وقف کرتا رہا۔ جب مسجد کی تعمیر مکمل ہو گئی‘ جو بہت بڑی اور شاندار تو نہ تھی‘ تو اس کی شان دیکھنے کے قابل تھی۔ اہلِ محلہ کو اس سفید پوش مگر اپنے مقصد کیلئے اس قدر خلوصِ نیت کے ساتھ جدوجہد کرنے والے شخص کا قصہ معلوم ہوا تو سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ اس مسجد کا نام خیر الدین آفندی کے نام پر رکھا جائے گا لیکن خیر آفندی نے سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس مسجد کا نام رکھنا ہی ہے تو پھر اس کا نام '' صانکی یدم‘‘ رکھ دیا جائے۔ پہلی جنگِ عظیم کے دوران 200 نمازیوں کی گنجائش والی اس مسجد کو جلا دیا گیا تھا مگر 1960ء میں اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا اور اس کا نام 'صانکی یدم‘ ہی رکھا گیا۔ یہ مسجد استنبول کے محلہ فاتح میں آج بھی موجود ہے۔
خیر الدین آفندی کی کہانی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اب ذرا اپنے ملک پر ایک نظر ڈالیں۔ سندھ اور پنجاب سمیت ملک کے مختلف حصوں میں عوام کے پیسے اور ٹیکس سے بنائے گئے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، سڑکوں، پلوں، انڈر پاسز اور ہسپتالوں کو کہیں بھٹو فیملی تو کہیں شریف خاندان، کہیں باچا فیملی تو کہیں دوسرے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے۔ یہ وہ پروجیکٹس ہیں جو عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے تعمیر کیے گئے ہیں۔ جب حکومت‘ کوئی بھی پروجیکٹ یا منصوبہ شروع کرتی ہے تو اس کی لاگت کے پیسے اپنے پلے سے ادا نہیں کرتی بلکہ ملک کے اثاثے گروی رکھ کر لیے گئے قرضوں اور بائیس کروڑ عوام سے بالواسطہ اور بلا واسطہ وصول کیے گئے ٹیکسوں سے یہ منصوبے تعمیر کیے جاتے ہیں۔ ان منصوبوں کے لیے عالمی اداروں سے لیے گئے قرض پر عوام سالہا سال تک سود دیتے رہتے ہیں مگر سیاستدان آتے ہیں، منصوبوں کا فیتہ کاٹتے ہیں، اپنے نام، کسی عزیز کے نام، کسی رشتہ دار، کسی پارٹی لیڈر کے نام سے منصوبے کو موسوم کرتے ہیں اور رخصت ہو جاتے ہیں جبکہ عوام لاتعداد ٹیکسز، سبسڈی کے خاتمے اور دیگر صورتوں میں کئی دہائیوں تک اس منصوبے کی الائشیں سمیٹتے رہتے ہیں۔ رائیونڈ میں شریف فیملی نے اپنے ذاتی پیسوں سے ایک ہسپتال بنایا‘ پھر اسے میڈیکل یونیورسٹی کا درجہ دیتے ہوئے اپنے والد میاں محمد شریف کا نام دے دیا‘ اس کا وہ پورا پورا حق رکھتے ہیں کیونکہ اس ہسپتال کی زمین اور اس پر خرچ ہونے والا سرمایہ عوامی ٹیکس کے پیسوں سے نہیں بلکہ انہوں نے اپنی جیب سے ادا کیا تھا۔
منٹگمری کو ہم نے ساہیوال اور لائل پور کو فیصل آباد بنا دیا، کیمبلپور کو اٹک کہنے لگے، یہ بات بھی کسی طور سمجھ آتی ہے کہ انگریز نے یہ شہر اپنے پلے سے آباد نہیں کیے تھے، خود انگلینڈ میں ان لوگوں کے نام پہ کتنے شہر، کتنی یونیورسٹیاں اور کتنے ہسپتال ہیں؟ یہ تو نو آبادیاتی دور کی نشانیاں ہیں مگر دوسری طرف ہر شہر اور ہر علاقے میں ایسے منصوبے نظر آ جائیں گے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو زخمی ہونے کے بعد راولپنڈی کے جس ہسپتال میں پہنچیں اس ہسپتال کا نام ان کے نام پر رکھ دیا گیا اور پھر اسلام آباد ایئر پورٹ اور نواب شاہ کا نام بھی تبدیل کر دیا گیا۔ جنوبی پنجاب سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند نوجوانوں کیلئے نواز شریف صاحب نے ایک فنی تعلیم کی یونیورسٹی ملتان میں تعمیر کرنے کا کارِ خیر انجام دیا‘ ملتان میں اپنے سرائیکی دوستوں کو جو تختِ لاہور کے تعمیراتی کاموں کا ذکر جلے کٹے انداز میں کرتے رہتے تھے‘ جب اس یونیورسٹی کے تحفے پر مبارکباد کا میسج کیا تو ملتان سے ایک دوست کا جواب آیا: یہ سارے کا سارا پیسہ تو ہمارا اور آپ کا ہے‘ اس سرمائے کو اپنا نام دینا کہاں کی دیانت ہے؟ کیا یہ منا سب لگتا ہے کہ قومی سرمائے سے بننے والے پروجیکٹس کو ذاتی نام سے موسوم کیا جائے؟ ایسا بادشاہت میں تو ہوتا ہے‘ جمہوریت میں نہیں۔سندھ میں برسر اقتدار پیپلز پارٹی حکومت تو اس سلسلے میں خاصی شہرت رکھتی ہے مگر پنجا ب میں بزدار حکومت کو کوئی خبر نہیں دے رہا کہ صرف لاہور میں لاتعداد کالجوں، سکولوں اور ہسپتالوں کو نواز شریف کا نام دے رکھا ہے۔ دروغ بر گردنِ راوی‘ادب کے ایک استاد قسم کے استاد نے لاہور اور پنڈی؍ اسلام آباد میٹرو کا نام بھی میاں نواز شریف کے نام پر رکھنے کی تجویز ہی نہیں دی بلکہ اس کی باقاعدہ ضد بھی کی تھی کیونکہ ان کے بقول سیاست کے اس جوہڑ میں صرف میاں نواز شریف ہی کنول کے پھول کی مانند نظر آتے ہیں۔ ہمارے ملک میں تاریخی مقامات اور عمارات کے نام بدلنا ایک رواج سا بنتا جا رہا ہے، شاید ہم بھول جاتے ہیں کہ نام بدل دینے سے حقیقتیں اور صداقتیں نہیں بدلا کرتیں۔ قائداعظمؒ کے پاکستان کا جو حشر ہم نے کیا ہے‘ وہ سب کے سامنے ہے لیکن اپنی ذات کیلئے‘ سیاسی شہرت کیلئے‘ کسی کو خوش کرنے کیلئے ہم نام رکھنے اور نام بدلنے میں خاصا اہتمام کرتے ہیں۔ قائداعظم کی پیدائش کے صد سالہ جشن پر اسلام آباد یونیورسٹی کا نام قائداعظم یونیورسٹی رکھا گیا تھا، اسی طرح علامہ اقبالؒ کی پیدائش کے سو سال مکمل ہونے پر اوپن یونیورسٹی کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا نام دیا گیا تھا۔ یہ تو مشاہیرِ تحریک پاکستان کا حق تھا لیکن کسی قومی منصوبے کو کسی سیاستدان کے نام سے موسوم کرتے ہوئے یہ بھی نہیں دیکھا جاتا کہ اس کے دامن پر کسی قسم کی کرپشن کے داغ تو نہیں، اس کے خلاف کسی عدالت کا کوئی فیصلہ تو نہیں آیا ہوا، اس پر اقربا پروری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام تو عائد نہیں کیا جاتا۔ دنیا میں نجانے کتنے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اربوں روپے خرچ کر کے عوامی فلاح و بہبود اور قومی تعمیرِ نو کے ادارے بنائے لیکن کبھی ان منصوبوں کو اپنا نام نہیں دیا۔ فارسی کی مشہور کہاوت ہے کہ مشک وہ ہے جو خود اپنے مشک ہونے کا اعلان کرے۔ عطار کی طرف سے جس خوشبو کو تشریح یا تحسین کی ضرورت ہو‘ اس کی حقیقت بخوبی سمجھی جا سکتی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ جن منصوبوں کا نام سیاستدانوں کے نام پر رکھا گیا ہے‘ ان کے اخراجات بھی وہ فخر الدین آفندی کی طرح اپنی جیب سے ادا کرتے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں