نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نومبرمیں مہنگائی 11.5 فیصدہوگئی، ادارہ شماریات
  • بریکنگ :- اکتوبرمیں مہنگائی 9.2 فیصدتھی،ادارہ شماریات
  • بریکنگ :- نومبر2020میں مہنگائی 8.3 فیصدتھی، ادارہ شماریات
  • بریکنگ :- مہنگائی 21 ماہ کی بلندترین سطح پرپہنچ گئی، ادارہ شماریات
  • بریکنگ :- شہروں میں مہنگائی 12اوردیہات میں 10.9 فیصدرہی، دستاویز
  • بریکنگ :- نومبرمیں ماہانہ بنیادوں پرٹماٹر 131.64 فیصدمہنگے
  • بریکنگ :- گھی 10.87 اورکوکنگ آئل 9.71 فیصدمہنگا
  • بریکنگ :- سبزیاں 10.47،انڈے 10.19اورگوشت 2.63 فیصدمہنگا
  • بریکنگ :- نومبرمیں ماہانہ بنیادوں پردودھ 2.33اورچینی 1.43 فیصدمہنگی
  • بریکنگ :- نومبرمیں سالانہ بنیادوں پرگھی 58.29فیصدمہنگا
  • بریکنگ :- نومبرمیں سالانہ بنیادوں پر کوکنگ آئل 53.59 فیصدمہنگا
  • بریکنگ :- آٹا 10.26اورآلو 17.66 فیصدمہنگے
  • بریکنگ :- بجلی چارجز 47.87 ،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 40.81 فیصداضافہ
  • بریکنگ :- ادویات کی قیمتوں میں 11.76 فیصداضافہ ریکارڈ
  • بریکنگ :- نومبرمیں ماہانہ بنیادوں پرمہنگائی میں 3 فیصداضافہ ریکارڈ
  • بریکنگ :- نومبرمیں سالانہ بنیادوں پرمہنگائی میں 0.8فیصداضافہ
  • بریکنگ :- نومبرمیں شہری علاقوں میں مہنگائی 12 فیصدہوگئی
  • بریکنگ :- دیہی علاقوں میں مہنگائی 10.9 فیصدہوگئی
Coronavirus Updates
"MABC" (space) message & send to 7575

آہنی ہاتھ

مشیرِ خزانہ شوکت ترین فرماتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ سٹہ بازوں کی وجہ سے ڈالر اونچی اڑان بھر رہا ہے، ہم ان سٹے بازوں کے خلاف سخت ایکشن لیں گے۔
اگر مشیرِ خزانہ کو علم ہے کہ ملکی معیشت کا بٹھہ بٹھانے والی ڈالر کی روز بروز بلند ہونے والی شرح اور روپے کی گراوٹ بین الاقوامی مارکیٹ یا درآمدات میں اضافے کی وجہ سے نہیں بلکہ سٹے بازوں کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے (امکانِ غالب یہی ہے کہ یہ خبر انہیں ملک کے کسی ادارے نے دی ہو گی) تو میڈیا کو یہ بات بتانے سے پہلے کہ حکومت ان سٹے بازوں کا محاسبہ کرے گی‘ ان کے خلاف سخت ایکشن لے گی، ان کا محاسبہ ہو جانا چاہئے تھا کیونکہ اگر ڈالرکی تباہ کن اڑان سٹے بازوں کی وجہ سے ہے تو اس جرم کے مرتکب کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ ایسے لوگ سخت ترین سزا کے مستحق ہیں کیونکہ ان کا مقصد اس کے سوا ور کچھ نہیں کہ دشمنوں کے ساتھ مل کر ملک کی معیشت کو زوال کر شکار کر دیں اور اسے اس طرح کھوکھلا کر دیا جائے کہ ایک ہلکے سے جھونکے سے اکھڑ کر یہ زمین بوس جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسے لوگوں کی حمایت میں یا ان کو بچانے کیلئے ملک کے اندر اور باہر سے اگر کوئی شخصیت سامنے آئے تو اس کو بھی اس جرم میں دبوچ لیا جائے۔ وطن عزیز کے مفاد سے بالاتر کچھ نہیں۔ چاہئے تو یہ تھا کہ اب تک ان سٹے بازوں کو ملک و قوم کے سامنے پیش کر دیا جاتا، بلکہ بات ان تک ہی محدود نہ رکھی جاتی، ان کے پشت پناہوں، ان کے مددگاروں، سہولت کاروں سمیت تمام گروہ کو میڈیا کے سامنے لایا جاتا اور پوری قوم کو ان کا مکروہ چہرہ دکھایا جاتا تاکہ سب کو علم ہو پاتا کہ وہ کون سے نادیدہ ہاتھ اور انجانے چہرے تھے جو آئے روز ملکی معیشت کے ساتھ کھلواڑ کرتے تھے اور لاکھوں لوگوں کو ان کی جمع پونجی سے محروم کر دیتے تھے۔ کاش کہ کوئی آہنی ہاتھوں سے ان کو ایسی گرفت میں لے کہ آئندہ کسی کو بھی ایسا کرنے کی ہمت تو درکنار‘ سوچنے کی جرأت بھی نہ ہو۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے لاہور کے 17 ایس ایچ اوز کو معطل کردیا۔ پولیس ترجمان کے مطابق ایس ایچ اوز کو ناقص کارکردگی اور کرائم رجسٹرنہ کرنے پر معطل کیا گیا۔ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ رشوت ستانی قابلِ قبول نہیں، وہ لوگ جو غفلت میں ہیں‘ ایکٹو ہو جائیں۔ انہوں نے پولیس کو ہدایات دیتے ہوئے کہا پولیس کو ہر جگہ نظر آنا چاہیے، پٹرولنگ بڑھائیں، تھانوں کی حدود میں کرمنلز کی موجودگی پر ایس ایچ او ذمہ دار ہوگا، افسران نوکری اور کاروبار میں سے ایک کا انتخاب کر لیں۔ چند ماہ قبل یہ خبر بھی سننے کو ملی تھی کہ پنجاب بھر کے 61 ایس ایچ اوز کو سروس سے معطل اور عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔61 میں سے 48 کی فہرست سی پی اوز نے تیار کر کے سینئر فیلڈ پولیس افسران کو بھیجی تھی۔معطل اور برطرف ہونے والے افراد کے مجرمانہ ریکارڈ کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی۔
جب یہ خبریں پڑھیں تو یقین ہی نہ آیا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے؟یہی نہیں! آئی جی پنجاب نے ایک آدھ نہیں‘ اکٹھے چار ڈی ایس پی حضرات کو ملازمت سے برطرف کرنے کے احکامات جاری کیے تو لگا کہ آہنی ہاتھوں کا استعمال اب شروع ہو چکا ہے۔ تاہم اگر تو یہ اقدامات اسی طرح کے ہیں جیسے کسی بھی ضلع یا یا کسی بھی حیثیت سے کسی انتظامی پوسٹ پر تعینات افسران آتے ہی چند روز یا چند ہفتے اپنا احساس دلانے کیلئے، اپنا رعب و دبدبہ قائم کرنے یا اکثر و بیشتر اپنا ''ریٹ‘‘ بڑھانے کیلئے کرتے چلے آئے ہیں اور اس کے بعد پھر وہی رشتہ داری، اقربا پروری اور ٹائوٹ کلچر کا آغاز ہو جانا ہے تو یہ تما شا ہم گزشتہ سات دہائیوں سے دیکھتے چلے آ رہے ہیں لیکن اگر نو منتخب عہدیداران دل سے اور مکمل نیک نیتی سے صوبے کے کچلے ہوئے اور پولیس اور مجرمان کے باہمی کارٹل کے ظلم و ستم کا نشانہ بننے والے عوام کی داد رسی کرنا اور ان کی آواز بننا چاہتے ہیں اور راستے میں حائل رکاوٹوں سے آہنی ہاتھوں نمٹنے کا مصمم ارداہ کئے ہوئے ہیں تو یقین جانیں کہ صوبے کے بارہ کروڑ عوام ان کیلئے ہمہ وقت دعا گو ہیں۔ اگر انہوں نے تھانہ کلچر بد ل دیا‘ اگر غریب کو تھانے اور پولیس کے کسی بھی تفتیشی ادارے کے ذریعے گھر کی دہلیز پر انصاف دے دیا تو یہ اس ملک پر‘ اس کے عوام پر ایسا احسان ہو گا کہ جس کی مثالیں دی جایا کریں گی۔
آہنی ہاتھ اس وقت ہمارے وطن کی بقا کیلئے ہی ضروری نہیں بلکہ یہ اس میں بسنے والے لاچار اور غریب عوام کیلئے بھی تریاق بن چکا ہے۔ کاش یہ آہنی ہاتھ اس ملک کے ذخیرہ اندوزوں، ملاوٹ مافیا، قبضہ مافیا، منشیات مافیا، اشیائے خور و نوش کی قیمتوں کو دوگنا سے تین گنا کر کے بیچنے والوں، پیسے لے کر نقشے پاس کرنے والوں، تہہ بازاری، ایکسائز، کسٹم، ایف آئی اے اور ایف بی آر سمیت ہر محکمے میں موجود کالی بھیڑوں کی طرف بھی پوری قوت سے بڑھے۔ یقین کیجئے کہ جہاں کہیں بھی یہ آہنی ہاتھ عوام کو دکھائی دے گا ‘لوگ عقیدت اور محبت سے اس کو چومنا شروع کر دیں گے۔
آہنی ہاتھ پر مشتمل یہ دو لفظی اصطلاح ‘ ہوش سنبھالنے سے اب تک‘ مجھ سمیت آپ سب نے نجانے کتنی بار سن اور پڑھ رکھی ہو گی۔ جب کبھی کسی بھی تنظیم یا سیاسی جماعت کی جانب سے ملک میں احتجاج یا دھرنوں کی تیاری دیکھنے اور سننے کو ملتی ہے تو وزیر اعلیٰ سے وزیر داخلہ تک‘ وزرا سے حکومتی ترجمانوں اور مشیروں تک‘ سب یہی فقرہ دہراتے ہیں کہ بد امنی پھیلانے اور قومی املاک کو نقصان پہنچانے والوں سے آہنی ہاتھوں نمٹا جائے گا، کسی نے بھی اپنے مقاصد کیلئے ملک میں افرا تفری پھیلانے کی کوشش کی تو اسے آہنی ہاتھوں سے کچل دیا جائے گا لیکن افسوس کہ آج تک وہ آہنی ہاتھ کہیں بھی دیکھنے اور سننے کو نہیں ملا۔ جس آہنی ہاتھ سے محکمہ پولیس کی کالی بھیڑوں سے نمٹا جا رہا ہے‘ کاش کہ یہ ہاتھ ہر چھوٹی بڑی سڑک پر صبح کے ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کا بندو بست کرنے کیلئے ہر راہ چلتے، موٹر سائیکل سوار اور دوسرے لوگوں سے ناروا سلوک کرنے اہلکاروں تک بھی پہنچ جائے جو نہ تو کسی ریڑھی، کسی دکان سے لی جانے والی کسی شے کی قیمت دینا ضروری سمجھتے ہیں اور نہ ہی دیگر قوانین کی پاسداری کو لازم تصور کرتے ہیں، جو سرکار کی جانب سے ملنے والی وردی کا رعب جھاڑتے ہر جگہ عوام کی جیبیں خالی کرتے رہتے ہیں۔ کاش کہ یہ آہنی ہاتھ ان نچلے درجے کے اہلکاروں تک بھی پہنچنا شروع ہو جائے جن کا پولیس کو بدنام کرنے میں ساٹھ فیصد سے زائد حصہ ہے۔
اگر حکومت سمیت سی سی پی او، آر پی او یا ڈی پی او سڑکوں، ناکوں، شاہراہوں،گلیوں اور بازاروں میں کانسٹیبل حضرات کے ظلم و زیادتی پر اس علاقے کے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کو ذمہ دار قرار دینا شروع کر دیں تو صوبے کے عوام سکھ کا سانس لینا شروع کر دیں گے۔ اس و قت آئی جی صاحب نے آہنی ہاتھوں سے جس طرح آر پی او سے ڈی پی او اور ڈی ایس پی سے تھانیدار تک پنجاب بھر میں سب کی کھنچائی شروع کر رکھی ہے‘ اس سے امید کی کچھ کرنیں ابھری تو ہیں مگر عوام اب بھی انجانے خدشات کا شکار ہیں کیونکہ ایسی کئی مہمات ماضی میں بھی دیکھنے کو ملتی رہی ہیں تاہم پھر بھی ہم دعاگو ہیں کہ اﷲ تعالیٰ اس آہنی ہاتھ کو زنگ لگنے سے محفوظ رکھے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں