نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- آپ کو تاریخی جدوجہد کرنے پرمبارکباد پیش کرتا ہوں،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- کراچی:سندھ حکومت اور جماعت اسلامی نے مل کر ایک مسودہ بنایا ہے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- کراچی:صوبائی فنانس کمیشن کے قیام پر رضامندہیں،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- کراچی: بلدیاتی قانون پر جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے مذاکرات کامیاب
  • بریکنگ :- سندھ حکومت اور جماعت اسلامی کےدرمیان تحریری معاہدہ
  • بریکنگ :- پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی میئر کراچی کو بااختیار بنانےپر متفق
  • بریکنگ :- جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کےدرمیان بلدیاتی قانون میں ترمیم پر اتفاق،ناصر حسین
  • بریکنگ :- مئیر اور ٹاؤن چیئرمین کمیشن کے ممبر ہوں گے،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- سندھ حکومت تعلیمی ادارے اور اسپتال بلدیہ کو واپس کرنے پر تیار،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- آکٹرائے اور موٹر وہیکل ٹیکس میں سےبھی بلدیہ کراچی کو حصہ ملے گا،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- کراچی: مئیر کراچی واٹر بورڈ کے چیئرمین ہوں گے،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- بلدیہ کو خود مختار بنانے کیلئےمالی وسائل دینےپر سندھ حکومت تیار، ناصر حسین
  • بریکنگ :- کراچی:سندھ حکومت کا وفد مذاکرات کے بعد روانہ
  • بریکنگ :- کراچی:امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا دھرنے کے شرکا سے خطاب
Coronavirus Updates
"MABC" (space) message & send to 7575

آئندہ عام انتخابات اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں

خبر ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ نے حالیہ میٹنگ میں فیصلہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک میں ہونے والے اگلے عام انتخابات میں اگر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کو نہ اپنایا تو پھر حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا کہ وہ ان انتخابات اور الیکشن کمیشن کے اخراجات کیلئے فنڈنگ معطل کر دے۔ یہ ایک بہت بڑا فیصلہ ہے اور یہ سب اس وجہ سے سامنے آ رہا ہے کہ تحریک انصاف کے مقابل تمام جماعتیں‘ جو پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر دوبارہ اکٹھی ہو رہی ہیں‘ اس نئے طریقہ کار کے استعمال کو اپنے لیے شکست کا باعث سمجھ رہی ہیں۔
ابھی مکمل خبر اور اطلاع نہیں؛ تاہم یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ لاہور سے ہر انتخابی حلقے کی ووٹرز لسٹوں کی سکروٹنی کا عمل شروع ہو چکا ہے اور یہ بات میں پورے دعوے سے لکھ رہا ہوں۔ بتانے والوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر جن چند یونین کونسلز کی ووٹرز لسٹوں کا جائزہ لیا گیا تو وہاں پر ایک‘ دو نہیں بلکہ 36 ہزار سے زائد ووٹرز مشکوک ہی نہیں بلکہ مکمل بوگس پائے گئے۔ نادرا اس وقت یہ انتہائی ناقابل یقین مگر وڈیوز سے کہیں زیادہ تہلکہ خیز کارنامہ سر انجام دینے میں دن رات مصروف ہے۔ البتہ ایک بات طے ہے کہ جب اس سارے پروسیس کے نتائج سامنے آئیں گے تو وہ ایک ایسا کھڑاک ہو گا جس سے ملکی سیاست انتہائی دلچسپ ہو جائے گی کیونکہ جب قومی اسمبلی کے ہر حلقے سے تیس سے چالیس ہزار جعلی ووٹرز کا وجود مٹ جائے گا تو پھر الیکٹرانک مشینوں سے بوگس ووٹ کیسے کاسٹ ہوں گے؟ یہی وہ خوف ہے اور یہی وہ گھبراہٹ ہے جو سب کو بے چین کیے ہوئے ہے۔ برسوں بلکہ کئی دہائیوں کی محنت ٹیکنالوجی کے تھوڑے سے استعمال سے مٹی میں ملتی نظر آ رہی ہے۔ تحریک انصاف تو اب اقتدار میں آئی ہے‘ اس سے پہلے تک‘ صوبوں اور مرکز میں باگ ڈور سنبھالنے والی جماعتوں نے کس طرح جعلی ووٹ تیار کروائے اور کیسے تکنیکی بندوبست کیا کہ وہ تین تین دہائیوں تک بار بار ''منتخب‘‘ ہو کر اقتدار کے مزے لوٹتی اور ہر قسم کی من مانیاں کرتی رہی ہیں‘ یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔ ماضی میں الیکشن سے قبل‘ حتیٰ کہ کونسلر کے الیکشن کے لیے بھی‘ گھروں میں مشینیں لگا کر اپنے تھوڑے سے وقتی فائدے کے لیے افغان پناہ گزینوں کے جعلی شناخت کارڈ بنانے سے بھی گریز نہیں کیا گیا۔
الیکشن کمیشن نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے انتخابات کے طریقہ کار پر 37 اعتراضات اٹھا ئے ہیں۔ اگر ان اعتراضات کا جائزہ لیں تو ان میں سے کچھ اپنے اندر خاصی وقعت اور حقیقت رکھتے ہیں۔ ان میں جو سب سے بڑا اعتراض ہے‘ وہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کیلئے یہ ناممکن ہو گا کہ وہ اس بات کی گارنٹی دے سکے کہ ہر پولنگ سٹیشن پر رکھی ہوئی ووٹنگ مشین صحیح رزلٹ دے گی اور یہ کہ اس کیلئے اہلکار مکمل تربیت یافتہ ہوں گے۔ میرے خیال میں ابھی انتخابات میں لگ بھگ دو برس باقی ہیں‘ ایسے میں کم وقت کا گلہ درست نہیں۔ گو کہ یہ اعتراض اپنے اندر خاصا وزن رکھتا ہے لیکن کیا اس بنیاد پر اس نئے طریقۂ انتخاب کو سرے سے مسترد کر دینا مناسب ہے؟ الیکشن کمیشن کے اعتراضات سر آنکھوں پر‘ لیکن یہ حقیقت کون جھٹلا سکتا ہے کہ پاکستان بھر میں کتنے ہی پولنگ سٹیشن ایسے ہیں جہاں موجودہ اور مروجہ طریقۂ انتخاب کو کسی بھی صورت اطمینان بخش یا شفاف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ الیکشنز میں ڈیوٹی سر انجام دینے والا عملہ اسی معاشرے سے لیا جاتا ہے اور یہ اس کی اپنی پسندیدہ سیاسی جماعتوں کے لیے ہمدردی کو بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ ملکی تاریخ سامنے رکھیں تو سوائے 1970ء کے‘ کوئی انتخاب ایسا نہیں جس پر شفافیت کی مہرِ تصدیق ثبت کی جا سکتی ہو‘ حالانکہ دیکھا جائے تو ان انتخابات کو بھی مکمل شفاف نہیں کہا جا سکتا کیونکہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں انتظامیہ اور ووٹ کی امانت کو سنبھالنے والا عملہ‘ سب ایک ہی کشتی پر سوار تھے لہٰذا کسی دوسرے کیلئے ممکن ہی نہ تھا کہ وہ سوائے چند ایک حلقوں کے‘ اپنی مرضی کے مطابق ووٹ کا استعمال کر سکتا۔
آج زندگی کا وہ کون سا شعبہ ہے جہاں جدید طریقہ کار کو نہیں اپنایا جا رہا؟ موبائل سے ڈرون تک‘ انٹرنیٹ سے ٹیبلٹ تک نجانے کتنے ہی نئے طریقے اور نئی ایجادات انسانی زندگی میں شامل ہو کر اس کا حصہ بن چکی ہیں۔ تو کیا ہم اس لیے ان سب کو اپنانے سے بھاگ جائیں کہ اپوزیشن جماعتوں کو اس سے بدنیتی کی بو آ رہی ہے؟ یہ تو بالکل وہی بات ہے کہ کل تک لائوڈ سپیکر کو استعمال کرنے سے اس لیے منع کیا جا رہا تھا کہ کچھ لوگوں کے نزدیک اس میں شیطان بولتا تھا؟ کون جھٹلا سکتا ہے کہ ایک عرصے تک پرنٹنگ پریس کو انسانی معاشرے میں شامل ہونے سے روکا جاتا رہا، حتیٰ کہ یورپ جب پریس کے ذریعے کتابیں چھاپ کر ہر گھر میں علم کی شمع روشن کر رہا تھا‘ اس وقت بھی ہمارے ہاں کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ پریس پر مذہبی کتابیں چھاپنے سے ان کی توہین اور بے ادبی ہو گی۔ آج ہر کسی کے ہاتھ میں موبائل ہے‘ ہر کسی کا کمپیوٹر‘ لیپ ٹاپ انٹرنیٹ سے منسلک ہے مگر کوئی بھی ان کے استعمال کو اس وجہ سے رد نہیں کرتا کہ ان کے ہیک ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ جب زمانہ قیامت کی چال چل رہا ہے‘ الیکٹرانکس کی دنیا میں ہر روز انقلاب برپا ہو رہا ہے‘ زمین سے چاند اور مریخ سے سورج کی جانب محوِ سفر ہوا جا رہا ہے‘ ایسے میں اگر پاکستان میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی بنیاد رکھ دی گئی ہے تو اس میں کیا برائی ہے؟
الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اعتراض کرنے والا اپنی بائیو میٹرک تصدیق کیلئے بھی ایک مشین کا ہی سہارا لیتا ہے۔ اگر اسی قسم کی مشین کو ملکی انتخابات کیلئے استعمال کیا جانے لگے تو کیا قباحت ہے؟ اگر کسی کو یہ طریقہ مشکل نظر آتا ہے تو ان کے سامنے سب سے پہلے وہ طریقہ انتخاب آنا چاہئے جب ہر امیدوار کا الگ الگ ڈبہ ہوتا تھا جس میں اس کے نشان والا ووٹ ڈالا جاتا تھا، پھر ووٹ پر مہر لگانے کا سلسلہ شروع ہوا جس پرابتدا میں سخت تنقیدکی گئی۔ اس وقت بھی یہی کہا گیا کہ ہمارے ملک کے پچاس فیصد سے زائد ووٹرز اَن پڑھ ہیں، انہیں تو مہر کا پتا ہی نہیں چلے گا کہ یہ کیسے اور کہاں لگائی جاتی ہے، ووٹ ضائع ہو جائیں گے، وغیرہ وغیرہ۔ یقیناً ابتدا میں کچھ تکالیف کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر اب سب کے سامنے ہے کہ شہر ہو یا گائوں‘ بڑی بوڑھیاں‘ سادہ لوح اور اَن پڑھ عورتیں ووٹ والا پرچہ ملتے ہی وہیں میز پر ہی مہر لگا کر جلدی سے باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عوام کا ایک اچھا خاصا طبقہ ووٹ ڈالنے کیلئے گھر سے نکلنا پسند نہیں کرتا۔ الیکشن سے اسے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ گائوں وغیرہ میں تو یہ عالم ہے کہ ووٹ کیسے اور کس کو ڈالنا ہے‘ یہ سب کچھ اپنے بچوں یا خاندان کی مجبوری اور ضد پر کیا طے جاتا ہے۔
اس وقت جس طرح کے حالات بنائے جا رہے ہیں‘ کبھی کبھی ایسا لگنے لگتا ہے کہ حکومت یا اپوزیشن جماعتوں میں شامل کوئی جماعت اگلے عام انتخابات کا بروقت انعقاد نہیں چاہ رہی۔ اگر الیکشن کمیشن اور حکومت کے درمیان الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر کوئی اتفاقِ رائے نہیں ہوتا اور وفاقی کابینہ اپنے فیصلے کے مطابق‘ الیکشن کمیشن کی فنڈنگ روک دیتی ہے‘ پھر کیا ہو گا؟ اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ پرانے طریقہ کار کے مطابق انتخابات کرانے کیلئے چالیس‘ پچاس کروڑ کی فنڈنگ کا اہتمام ازخود کر لیا جائے۔ اگر یہ معاملہ بڑھا تو عدالتوں میں جائے گا، پھر پیشیاں، تاریخیں، بے یقینی، سراسیمگی۔ سوال یہ ہے کہ جب بائیو میٹرک تصدیق کیلئے جگہ جگہ الیکٹرانک مشینوں کا استعمال عام ہو چلا ہے اور اس کے نتائج ہمیں بتا رہے ہیں کہ 98 فیصد رزلٹس بالکل صحیح اور اطمینان بخش ہیں تو الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر اس قدر اعتراضات کیوں؟ اگر الیکشن کمیشن یا اپوزیشن کو اُن الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر ا عتراض ہے جو موجودہ حکومت‘ یعنی پاکستان تحریک انصاف کے دور میں تیار ہوں گی تو پھر وزیراعظم اور وزیر ٹیکنالوجی شبلی فراز کی یہ پیشکش قبول کر لیں کہ الیکشن کمیشن جس ملک سے چاہے‘ یہ مشینیں تیار کروا سکتا ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں