’یاغستان‘ …اور ڈیورنڈ لائن (آخری حصہ)

بسااوقات افغانستان کی جانب سے بھی یہ سوال اُٹھایا جاتا ہے کہ نہ 1992ء سے پہلے اور نہ اس کے بعد اِن پانچ لیز شدہ ایجنسیوں پر پاکستان کی رِٹ موجود تھی لہٰذا یہ علاقے ننانوے سال بعد آزاد ہو چکے ہیں اور وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں کیونکہ ان کا پدری ملک افغانستان ہے۔ آئیے ذرا حکومتی رِٹ کے عوامل کو دیکھتے چلیں۔ کسی بھی علاقے پر قانونی رِٹ قائم کرنے کے لیے مندرجہ ذیل عوامل کا موجود ہونا انتہائی لازم ہوتا ہے۔ 1…کسی علاقے پر حکومتی رِٹ کی بنیاد بلدیاتی ادارے، مقامی تھانے اور کچہریاں ہوا کرتے ہیں۔ ضلعی اور صوبائی حکومتیںاُسے سنبھالتی اور کنٹرول کرتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں ہی مرکزی حکومت کی رِٹ اور آئین کا نفاذ قائم ہو سکتا ہے۔ جب مرکز کے نیچے کسی ادارے کا ڈھانچہ ہی موجود نہ ہو تو پھر اس علاقے پر رِٹ کا نفاذ ایک تمسخر بن کر رہ جاتا ہے۔ 2…آج پاکستان اس حالت میں نہیں کہ وہ ان علاقوں کو بزور فتح کر کے ان پر اپنی رِٹ جبراً نافذ کر سکے۔ اگر کبھی ان علاقوں پر بزور اپنی رِٹ قائم کرنے کا موقع تھا تو وہ تیس چالیس سال قبل ضائع ہو چکا۔ آج وہاں ریفرنڈم یا ووٹ کے ذریعے ہی اُن کی رضامندی لی جا سکتی ہے۔ 3…فی الوقت یہ قبائلی علاقے پاکستان سے انتہائی ناراض ہیں۔ چنانچہ موجودہ حالات میں انہیں پاکستان میں شامل کرنے کے لیے وہاں کسی قسم کا انتخاب یا رائے لینا ممکن نظر نہیں آتا۔ 4…آج کے حالات میں سب سے بہتر یہ ہو گا کہ ان قبائلی علاقہ جات کے عوام سے وَن پوائنٹ ایجنڈے پر یہ فیصلہ لیا جائے کہ کیا وہ اپنی ایک خودمختار صوبائی حکومت بنانا چاہتے ہیں؟ وہ اپنے خودمختار صوبے میں جس طرح کا چاہیں اسلامی نظام نافذ کر لیں۔ پاکستان کو ان ایجنسیوں میں بڑی خوشدلی کے ساتھ بلدیاتی اداروں، تھانوں، کچہریوں، ضلعی حکومتوں اور صوبائی حکومتوں کو قائم کرنے کے لیے اُن کی بھرپور امداد کرنی چاہیے۔ ’خودمختار ریجن‘ کوئی خوفناک تصور نہیں…ماسکو سے صرف ایک سو کلومیٹر پرے روس کے عین قلب میں ایک خودمختار ریجن موجود ہے۔ اگر قبائلی علاقوں کو بھی ایسے ہی ایک ریجن کی شکل دے دی جائے تو وہ وہاں اپنی اپنی حکومت بنانے کے لیے اپنے قبائلی علاقوں میں ہی ووٹ مانگنے کی مہم میں مصروف ہو جائیں گے۔ یوں نہ تو ان کا کوئی گینگ یا گروہ کسی اسامہ بن لادن اور ملا عمر کی امامت میں دوسرے علاقوں میں آگ لگائے گا اور نہ کہیں بم دھماکے کرتا پھرے گا۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ’یاغستان‘ میں آباد قبائلی، پاکستان کو ایک دودھ دینے والی گائے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ اس ریجن سے آج تک پاکستان کی کوئی بھی حکومت ایک روپیہ بھی انکم ٹیکس کی مد میں وصول نہ کر سکی۔ نہ کہیں کسی زمین کے انتقال کا ٹیکس، نہ کسی دکاندار سے جنرل سیلز ٹیکس، نہ پراپرٹی ٹیکس، نہ انکم ٹیکس، نہ ایکسائز ڈیوٹی اور نہ بجلی کے بل کی ادائیگی…یعنی ان علاقوں کی بجلی کا بِل بھی خیبر پختون خوا اور پنجاب کی شہری آبادی ہی ادا کرتی ہے۔ محکمۂ بجلی کا شفاف قانون اور عوام کے ساتھ انصاف کا طریقہ یوں ہی چلا آ رہا ہے کہ بجلی کی چوری ہو یا محکمہ کسی سے بجلی مل کر کھا رہا ہو، ان سب کا خرچہ ہماری حکومتیں اُن لوگوں میں بانٹ دیتی ہیں جو بجلی کا بل ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ یعنی ہمارے بجلی کے بلوں میں ان قبائلی ایجنسیوں کی بجلی کے بل بھی شامل ہوتے ہیں اور کراچی میں کنڈا ڈالنے والوں کے بل بھی اس کا حصہ ہیں… اور بلوچستان میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی کوئی بل ادا نہیں کرتی۔ الغرض ان ایجنسیوں کو اب تک اپنے ساتھ چمٹائے رکھنے کے لیے ہماری حکومتیں کئی بلین ڈالر خرچ کر چکی ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستانی عوام کے خون پسینے کی کمائی ہم تاوان کے طور پر ان لوگوں کے پائوں پر نذر کرتے چلے آئے ہیں۔ ان ایجنسیوں میں بسنے والے بیشتر قبائلی پاکستان کو اپنے اجداد کا مفتوحہ علاقہ سمجھتے ہیں اور افغانستان کو اپنے اجداد کی اصل سرزمین! افیون، چرس اور کلاشنکوف کلچر کوپاکستان میں متعارف کرانے کا اصل سہرا بھی انھی کے سر ہے۔ اِن ایجنسیوں کا فقط یہی ایڈمنسٹریٹو علاج نہ صرف ہماری جان آج کے مسائل سے چھڑوا سکتا ہے بلکہ اس کھلے سوال کا جواب بھی دے سکتا ہے کہ پاکستان میں ضم ہونے کے بعد 1992ء میں ختم ہونے والی ڈیورنڈ لائن کی لیز بے معنی ہو چکی ہے۔ اگر حکومت ان ایجنسیوں کو انتظامی حقوق دینے پر تیار ہو جائے تو جانیے اُس نے اِن علاقوں پر اپنی رِٹ قائم کرنے کی جانب پہلا بڑا قدم اُٹھا لیا ہے۔ تب ہی وہ وقت آ سکتا ہے جب ہمارے حکمران اسلام آباد میں بیٹھ کر امریکہ سے ڈرون حملے بند کرنے کی درخواستیں کرنے کی بجائے، ان ایجنسیوں کے بہت بڑے جرگے میں کھڑے ہو کر امریکہ کو خبردار کریں کہ یہ علاقے کسی غیر کے نہیں بلکہ ہمارے اپنے وجود کا حصہ ہیںاور یہاں ہماری رِٹ موجود ہے لہٰذا ہم کسی کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ان علاقوں پر بمباری کرے۔ اگر یہاں کسی بھی ملک کے دہشت گرد موجود ہوئے تو ان کو باہر نکالنا اِس خودمختار صوبائی ریجن کی ذمہ داری ہو گی۔اگر اس کے بعد بھی ان ایجنسیوں پر کوئی ڈرون حملہ ہوا تو پاکستان بھی اور دنیا بھی اِن ایجنسیوں کے پسِ پشت کھڑی ہو گی۔ اگر صورتحال یہ ہو پھر تو ہماری بات میں کچھ اثر ہو گا…ورنہ آج ہمارے بیانات کا وزن ایک مذاق سے زائد نہیں۔ پاکستان کی مختصر تاریخ کا سفر صرف 66سال بنتا ہے لیکن اس سفر کا ہر نیا دن، ہر نیا موڑ اور ہر نیا مسئلہ ہمارے لیے ایک لاینحل معمہ بنا رہا۔ ہمیں اس اعزاز سے کوئی محروم نہیں کر سکتا کہ ہم ان 66سالوں میں ایک بھی مسئلہ حل کرنے پر قادر نہ ہو سکے۔ مشرقی پاکستان میں زبان کے نام پر شروع ہونے والی تحریک بالآخر بنگلا دیش کے رُوپ میں ڈھل کر ہمارے جسم کو دولخت کر گئی لیکن ہم اُس دور کے حقائق سمجھنے اور اُن کو حل کرنے کے بجائے نت نئے نعرے جگالنے میں مصروف رہے۔ کشمیر کے عنوان سے تین جنگیں لڑنے اور ہزاروں نوجوانوں کو جہاد کے نام پر ذبح کروانے کے بعد بھی ہم فاقدالمعانی نعروں کے اسیر ہیں۔ بلوچستان میں 1957ء میں آگ کی پہلی چنگاری بھڑکی لیکن ہم نے توپ و تفنگ کے ذریعے اُسے بجھانے کی خواہش میں اسے ایک جوالہ مُکھی بنا دیا۔ مہاجر موومنٹ کا تصور اکثریت کے خوف سے تھرتھراتی ہوئی اقلیت کے ذہن کی پیداوار ہے۔ الطاف حُسین پر ہم سو بار تنقید کریں لیکن نہ وہ مہاجر تحریک کا مصنف ہے اور نہ اس تصور کا خالق! خوف کے لمحات میں بھیڑیں بھی اپنا سر جوڑ لیتی ہیں اور یہی حشر چھوٹے مذہبی فرقوں، نسلی یا علاقائی اقلیتوں کا ہوا…ہمیں ان سب کو اپنے دل میں جگہ دینی چاہیے تاکہ ہم سب ایک دوسرے کی گردن مارے بغیر پاکستان کا سفر کامیابی سے طے کر سکیں۔ (برسبیلِ تذکرہ مسٹر مارٹی میر ڈیورنڈ (Mr. Mortimer Durand)، 1850ء میں بھوپال میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے اعلیٰ تعلیم برطانیہ سے حاصل کی اور انڈین سِول سروس میں ملازم ہو گئے۔ اُن کے والد بھی انڈین سِول سروس میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ انگریزوں کی سول سروس کے اعلیٰ معیار کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کا ایک بیوروکریٹ اس خطے کے سارے جغرافیے، اس کی سیاست اور معیشت کو مکمل طور پر جانتا بوجھتا اور سمجھتا تھا۔)

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں