باپ اور بیٹا…

جب میں نے 1965ء میں گورڈن کالج (راولپنڈی) میں قدم رکھا تب جنرل یحییٰ خان کا اکلوتا بیٹا (علی آغا)ایف اے میں تیسری بار فیل ہو چکا تھا۔ اپنے اس خستہ کن نتیجے کی اُسے کوئی خاص پروا تھی اور نہ کوئی پچھتاوا…بلکہ وہ پورے استقلال سے اب بھی گاہے بگاہے ایف اے کے اُسی بنچ پر دھونی رمائے بیٹھا نظر آتا، جس پر چلّہ کھینچتے کھینچتے اس نے کئی برس خاک میں ملا دیے تھے۔ وہ جسم کا گرانڈیل، اپنے والد کی مانند گول چہرے کا حامل، دل کا غنی مگر جیب کا دھنی تھا…البتہ پڑھائی کی جانب اس کا دل کبھی راغب نہ ہو پایا۔ کئی بار اس نے مجھے اپنی سیاہ فوجی کار میں لفٹ دے کر کالج پہنچایا۔ علی آغا زبان سے ذرا توتلا تھا۔ مارچ 1969ء میں جنرل یحییٰ خان جب اسلام آباد کے سنگھاسن پر قابض ہوئے تو علی آغابھی ’کرائون پرنس‘ کی گدی پر بیٹھ گیا۔ اس نے تعلیم کو مکمل طور پر خیر باد کہا اور اٹک آئل کمپنی (راولپنڈی) میں ایک بہت بڑا افسر لگ گیا۔ ان دِنوں لودھی صاحب اٹک آئل کمپنی کے سربراہ تھے۔ وہ اپنے زمانے کے مشہور تانتری جانے جاتے تھے۔ اِدھر اُنھوں نے ملک کے کسی سربراہ پر منتر جنتر پھونکا اور اُدھر وقت کا وہ حکمران اُن کی مُٹھی میں ’رام رام‘ ہو گیا۔ جنرل یحییٰ نے 1970ء کے انتخابات تو کروا دیے لیکن وہ اقتدار منتخبہ پارلیمنٹ کے حوالے کرنے سے گریز پا رہے۔ ان کی ناعاقبت اندیش پالیسی نے اُن کو آہستہ آہستہ گھسیٹتے ہوئے بالآخر نومبر 1971ء میں جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا۔ 20نومبر تک انڈین آرمی کی پشت پناہی سے مکتی با ہنی (بنگلہ دیش کی فوجِ آزادی) 30کلومیٹرکے لگ بھگ مشرقی پاکستان (حالیہ بنگلہ دیش) کے اندر گھس آئی تھی۔ جنرل یحییٰ کے پاس نہ کوئی جنگی پلان تھا اورنہ دنیا کا کوئی ملک انہیں اسلحہ دینے یا اقوام متحدہ میں ان کی حمایت کرنے پر آمادہ تھا۔ چنانچہ فقط چند روزہ جنگ کے بعد مشرقی پاکستان اپنی جون (اپنا وجود) بدل کر بنگلہ دیش کے نام سے نقشۂ عالم پر اُبھر آیا۔ اِدھر ہم نے اتنے بڑے نقصان کی نہ کوئی تحقیقات کی اور نہ کوئی پروا۔ ہم نے نہ کسی جرنیل کو پکڑا، نہ کسی بیوروکریٹ کی گردن ماپی اور نہ سیاستدانوں کے گروہ کو اس سانحہ کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ہم بچے کھچے مغربی پاکستان کو پورا پاکستان قرار دے کر پھر سے ڈھول ڈھمکے میں مشغول ہو گئے۔ ہم اپنے مکاتب میں بچوں کو عربوں، ترکوں اور تاجکوں کی جنگی مہمات بڑے فخر سے پڑھاتے ہیں جبکہ اپنی کوتاہیوں، اپنے ماضی کی شکستوںاور اپنی پالیسیوں کی ناکامی پر اپنا منہ بند رکھتے ہیں۔ ہماری پالیسی اس شتر مرغ کی مانند ہے جو ریت میں سر دبا کر یہ فرض کر بیٹھتا ہے کہ اب اُسے کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ برصغیر کے جس نقشے پر ہم نے دو قومی نظریے کی لکیر کھینچی تھی، ہمیں اس بات کا بھی دُکھ نہ رہا کہ وہ کہاں کہاں سے مٹ چکی ہے اور کہاں کہاں سے اکھڑ رہی ہے؟ علی آغا کا آدھا خاندان اب تک ممبئی میں آباد ہے۔ اُن کی پھوپھی بھی وہیں بیاہی ہوئی تھیں، اُن کی بہن بھی اور اب اُن کی بیٹی بھی…غالباً اُن کی بیگم بھی ممبئی سے تعلق رکھتی تھی۔ کوئی دس سال قبل جب وہ مجھے لندن کے ایک سینما ہال میں آخری بار ملا تو اس نے مجھے اپنے پاس بٹھاتے ہوئے میرے شانوں پر تین چار بار ہاتھ پھیرا۔ میں نے اس سے پوچھا‘ ’’کیا تم نے اقتدار میں کچھ مال بنا لیا تھا یا پھر یوں کے یوں ہی پھرتے رہے؟‘‘ علی آغا نے کہا، ’’کچھ نہیں بنایا۔ کیا تمہیں کسی نے یہ بات نہیں بتائی کہ پوری پاک و ہند آرمی کی لائبریری پر پندرہ دنوں تک میرے والد نے اکیلے قبضہ جمائے رکھا تاکہ فوجی اہمیت کی ایک بھی کتاب اِدھر سے اُدھر نہ ہو سکے۔ یہ ایک المیہ تھا جو بنگلہ دیش کی شکل میں ظہور پذیر ہوا اور بدبختی سے میرے والد اُس آخری نقطے پر کھڑے تھے جہاں یہ سانحہ رونما ہوا۔ لہٰذا تاریخ کا سارا ملبہ ہمارے سر پر آن پڑا۔ ‘‘ علی آغا نے بتایا، ’’میرا باپ جیسا تیسا بھی تھا…وہ کرپٹ نہیں تھا۔ انہوں نے اقتدار میں رہ کر اپنے لیے دولت کا کوئی پہاڑ کھڑا نہیں کیا۔ وہ ایک درویش صفت انسان تھا لیکن تمہارے لیڈر (بھٹو) نے ہم سے کوئی اچھا سلوک نہیں کیا۔ تمہیں یہ بات سن کر شاید غصہ توآئے لیکن تم اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکو گے کہ وہ انتہائی ناقابلِ اعتبار اور یارمار آدمی تھا۔ انہوں (بھٹو) نے اپنے پرائے کسی سے اچھا سلوک روا نہیں رکھا۔ ‘‘ میں نے کہا، ’’علی آغا! اب گئے وقت پر کیا رونا! کیا تم اس سچ سے انکار کر سکو گے کہ دوسروں پر حکمرانی کرنے کی خواہش رکھنے والوں کے دلوں کے اندر جس طرح شیطان چھلانگیں مارتا رہتا ہے، کیا آپ کے آغا جی کا دل اس خواہش سے آزاد تھا؟ اب اگر اس قصے کو جانے دو تو بہتر ہو گا کیونکہ وہ دونوں اگلے جہان میں ہیں،وہ وہاں ایک دوسرے سے نمٹ لیں گے۔ لو! تم میری طرف سے یہ ایک پیگ لو اور خمار میں زندگی کے دُکھوں کو ڈبونے کی کوشش کرو۔‘‘ میں وہاں سے چل تو دیا مگر دروازے تک اس کی گالیوں کی بوچھاڑ میرا پیچھا کرتی رہی۔ دراصل علی آغا کو اس بات کا کوئی علم نہ تھا کہ اس کے والد کے دور میں مجھے کیوں ایک سال کی سزا کاٹنا پڑی؟جنرل یحییٰ خان نے اپنی ایک تقریر میں یہ بلند بانگ دعویٰ کیا تھا کہ میں فوجی جرنیل ہوں، میں سب عوام سے انصاف کروں گا جبکہ انہی دِنوں ان کے بیٹے کی تقرری پر تنقید کرتے ہوئے میں نے یہ کہہ دیا کہ جنرل یحییٰ خان آپ تو کہتے ہو میں غیر جانبدار ہوں لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آپ کا ایف اے میں ناکام بیٹا، اٹک آئل کمپنی میں ساڑھے تین ہزار روپے تنخواہ وصول کر رہا ہے جبکہ غریبوں کے بچے ایم اے کی ڈگریاں اُٹھائے سڑکوں پر دھکے کھا رہے ہیں۔ میں نے جنرل یحییٰ خان کا انصاف دیکھنے کے لیے اپنی زندگی کا ایک سال جیل میں دُھول کر دیا۔ اس دوران کالج کے بہت سے دوست ملنے آتے رہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ علی آغا سے بات کرتے ہیں کہ تمہارے ساتھ یہ ناجائز سلوک کیوں کیا گیا تو میں نے کہا، ’’نہیں! جو کچھ میں نے کیا وہ میرا ایمان تھا…او رجو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ اُن کی طاقت ہے۔‘‘ کوئی تین سال قبل مجھے کسی نے بتایا کہ علی آغا کثرتِ شراب کے نتیجے میں بالآخر اس دنیا کو ’خدا حافظ‘ کہہ گیا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آغا کی قبر کہاں ہے؟ پاکستان میں، لندن میں یا پھر ممبئی میں…جہاں اس کا خاندان آباد ہے؟ میرا دوست کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکا کیونکہ اس کے پاس اس بارے میں کوئی ٹھوس اطلاع موجود نہ تھی۔ لیکن میں آپ کو بتاتا چلوں کہ مجھے اس کی موت کی خبر سُن کر خاصا دُکھ ہوا۔ وہ اپنے دل کی گہرائیوں سے دوسروں کے ساتھ محبت کرنے والا اور بہت ہی شفاف انسان تھا۔ جب کبھی میں اُس کے سرکاری گھر کے پاس سے گزرتا ہوں تو وہ مجھے کئی بار اپنی کالے رنگ کی فوجی کار میں، اپنے گھر سے نکل کر کالج کی جانب جاتا دکھائی دیتا ہے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں