افغانستان (2)

طالبان کی برق رفتار کامیابی کے پسِ پشت تین اہم عوامل کارفرما تھے۔ اول یہ کہ ان کا سامنا ان کرپٹ، بدعنوان اور پیشہ ور قسم کے خونی گروہوں سے تھا جن کو سالہا سال تک ’مجاہدین‘ کا نام دیا جاتا رہا۔ مغربی، امریکی اور پاکستانی میڈیا انہیں ’محافظینِ اسلام‘ کے علمبرداروں کے روپ میں پیش کرتا رہا۔ طالبان کو پہلی بڑی کامیابی قندھار کے ’مجاہد‘ گورنر کے خلاف حاصل ہوئی۔ وہ سر پر سہرا سجائے، بینڈ باجا اور بارات لیے ایک سترہ سالہ خوبرو لڑکے کے ساتھ باقاعدہ شادی رچانے کی خاطر اس کے گھر پر اترا ہوا تھا۔ ملا عمر نے اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس پر حملہ کر دیا۔ قندھار شہر کے عوام ملا عمر کو نجات دہندہ سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ ہو لئے۔ دوم یہ کہ طالبان نے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی خاطر یہ نعرہ بلند کیا کہ وہ خود حکومت نہیں کرنا چاہتے۔ ان کی جنگ کا واحد مقصد عوام کو جنگ سے نجات دلانا ہے۔ وہ ’مجاہدین‘ کی حکومت ختم کر کے ظاہر شاہ کو واپس تخت پر بٹھانا چاہتے ہیں۔ جنگ، کشت و خون اور چورو چپاول سے اکتائے ہوئے افغان عوام امن کی تلاش میں جوق در جوق ان کے ساتھ شامل ہوتے چلے گئے۔ مگر جوں ہی طالبان نے کابل میں قدم رکھا‘ انہوں نے قصرِ شاہی (ارگ) اشغال کر لیا۔ انہوں نے نہ صرف نجیب اللہ (سابق حکمران) کو تختہ دار پر کھینچ دیا بلکہ اپنے اس وعدے کو بھی سولی پر چڑھا دیا کہ وہ افغانستان پر حکومت نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے فی الفور نہ صرف اپنی حکومت بنا لی بلکہ ملا عمر کو ’خلیفۃ المسلمین‘ اور ’امیر المومنین‘ ایسے بھاری بھرکم خطابات کے بوجھ سے بھی لاد دیا۔ الغرض طالبان ملائیت نے اپنے اقتدار کا آغاز ہی وعدہ شکنی سے کیا۔ ایک عوامی جھوٹ کے ذریعے اقتدار پر قابض ہونا اسلامی ہے یا غیر اسلامی؟ اس کا فیصلہ ہم مفتیان دین پر چھوڑتے ہیں۔ سوم یہ کہ طالبان کے پاس نہ تو جنگی تجربہ تھا اور نہ سیاسی۔ وہ کسی سرپرستی کے بغیر اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کے بھی قابل نہیں تھے۔ شمالی اتحاد کے رہنما یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ پاکستان کا سرحدی ملیشیا طالبان کا میسرہ تھا اور القاعدہ کے پندرہ تا بیس ہزار تربیت یافتہ جنگجو ان کا میمنہ تھے۔ اسامہ بن لادن نے طالبان کی معاشی آبیاری بھی جاری رکھی اور ان کی فوجی رہنمائی بھی۔ بعض عرب حکمرانوں نے اپنے بعد دوسری اسلامی حکومت کے قیام کو کامرانی اور خوشی کی نظروں سے دیکھا۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ طالبان کا وجود پاکستان اور ایک عرب ملک کا رہین منت تھا، اس لئے صرف انہی دونوں ممالک نے ان کی مذہبی انتہا پسند حکومت کو تسلیم کیا۔ امریکہ نے طالبان کے ظہور کو اپنی قدیمی نتائج پسندی (Pragmatism) کی عینک سے دیکھا یعنی گائے کے رنگ اور نسل پر الجھنے کے بجائے گائے کے دودھ کی جانب توجہ رکھو۔ جب تک وہ دودھ دیتی ہے، اسے چارہ ڈالتے رہو۔ جب اس کے تھن خشک ہو جائیں تو اسے قصاب کے حوالے کر دو۔ امریکہ کو نہ کبھی شہنشاہیت سے پرخاش رہی اور نہ آمریت سے نفرت۔ چنانچہ دنیا بھر کے بادشاہ اور ڈکٹیٹر اسی کے سایہ عاطفت تلے پلتے رہے ہیں۔ امریکی سرمائے کا نہ تو اپنا کوئی دین دھرم ہے اور نہ انہیں کسی اور کے عقیدے ہی کی کوئی پروا ہے۔ وہ اپنی ضرورت کے مطابق جمہوریت کا راگ بھی الاپ لیتا ہے اور مذہب کا ترانہ بھی۔ طالبان کے متعلق اس نے اپنی مشہور زمانہ ’دو چہروں‘ والی پالیسی اپنائی یعنی رسمی طور پر انہیں تسلیم نہیں کیا جبکہ پس پردہ ان سے مذاکرات بھی جاری رکھے اور یو این کے ذریعے ان کی امداد بھی کرتا رہا۔ اس کی خواہش صرف اس قدر تھی کہ افغانستان میں ایک ایسی حکومت بن جائے جو تیل کی پائپ لائن کی حفاظت کر سکے۔ یہ جاننے کے باوجود کہ طالبان نے اسامہ بن لادن کو پناہ دے رکھی ہے، امریکہ نے 1999ء میں ان کے ایک اہم وفد کو امریکہ میں بلوایا اور ان سے پائپ لائن کے متعلق مذاکرات کئے۔ طالبان کے نزدیک اسلام کی سربلندی اور شرع کا نفاذ فقط سخت ترین سزائوں کے ذریعے ہی ممکن تھا۔ انہوں نے بھوکے کو روٹی اور بیروزگار کو روزگار دینے کے بجائے ان کے ہاتھ کاٹنا ضروری جانا۔ اگر سرِ راہ چلتی عورت کے پائوں کا ناخن بھی نظر آگیا تو انہوں نے اسے قمچیوں سے دھن کر رکھ دیا۔ انہوں نے برسرعام پھانسیاں دینے اور عوام کی کھال میں بھس بھرنے کو اسلام سے تعبیر کر لیا۔ وہ مردوں کی ڈاڑھیوں کی پیمائش کرتے اور اس کی طوالت کی کمی بیشی پر اسے سزا کا مستحق گردانتے۔ انہوں نے ٹی وی، ٹیپ اور ویڈیو ایسے سارے ’شیطانی چرخوں‘ پر پابندی عائد کر دی۔ اپنے عوام پر جدید علم اور ٹیکنالوجی کے دروازے بند کر دیے۔ سکولوں اور یونیورسٹیوں کے دروازوں پر قفل ڈال دیا۔ عورتوں پر تعلیم ممنوع قرار دے دی۔ حیرت یہ کہ اس سب کچھ کو وہ عین اسلام کہتے رہے اور ہم زندہ باد کے ہنکارے بھرتے پھرے۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے بین الاقوامی برادری کو ساتھ ملایا اور اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کے الزام میں افغانستان پر حملہ کر دیا۔ ملا عمر عوام کو پھانسی دینے اور انہیں کوڑے مارنے پر قادر تھا، لیکن ’کفار‘کے ساتھ مقابلے کیلئے اس کے پاس کوئی وسائل نہ تھے۔ چنانچہ امریکہ کسی تردد کے بغیر افغانستان میں در آیا اور ملا عمر اپنے رفقا کے ساتھ پہاڑوں پر روپوش ہو گئے۔ (جاری)

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں